1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میراث الانبیاء

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از Israr Hussain Niyargar, ‏مئی 10، 2019۔

Tags:
  1. ‏مئی 10، 2019 #11
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar رکن
    جگہ:
    الهند
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    كلمہ کے اقرار کے صحیح ہونے کی شرائط:

    اہلِ سنت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ
    شہادتین
    (لا اله الا اللہ محمد رسول الله)
    کے اقرار کے سوا کوئی چیز انسان کو
    اسلام میں داخل کرنے کا موجب نہیں بنتی
    لہذا
    جس کسی نے
    اس کلمہ کا اقرار نہ کیا ہو
    اس کو مسلمان کہنے کا حق کسی کو حاصل نہیں
    اسی طرح یہ بھی
    کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ
    اس کلمہ کے اقرار کرنے والے کو کافر کہے یا سمجھے
    جب تک کہ
    کلمہ پڑھنے والا
    اس کلمہ کے تقاضوں یا
    اس کے کسی ایک جز کے منافی عمل نہ کر لے
    اس لئے کہ
    اس کلمہ کے ایک جز کا اقرار
    اسلام میں داخل ہونے کے لئے کافی نہیں ہے
    بلکہ
    توحید و رسالت دونوں کا اقرار ضروری ہے
    اگرچہ
    ایک حدیث میں صرف
    شہادۃ ان لا اله الا اللہ کا ذکر ہے
    مگر
    اس کا مطلب بھی پورا کلمہ ہی ہے
    جس طرح کہ
    دیگر احادیث سے اس کی صراحت ہو جاتی ہے
    (شرح نووی، صحیح مسلم، ج ا صفحہ 149 تا 219 ملاحظہ کریں)

    علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ
    شہادتین کا اقرار اور دل سے
    اس کے مفہوم کی تصدیق اس وقت فائدہ نہیں دے گی
    جب ان دونوں یا ایک شہادت کے منافی کام کئے جائیں
    نہ ہی ایسا اقرار اسلام میں داخل کرے گا
    اور
    نہ جہنم میں ہمیشہ رہنے سے بچا سکے گا
    ایسے شخص کو مؤمن نہیں کہا جاسکتا
    جو
    لا اله الا اللہ محمد رسول الله کا اقرار کرے
    مگر زکوٰۃ یا حج کے وجوب کا انکار کرے،
    یا زنا، سود، قتل وغیرہ کی حرمت، یا دیگر ایسے احکام کا انکاری ہو
    جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں
    اور
    ہر مسلمان ان کو جانتا پہچانتا ہے
    اس طرح
    اگر کوئی شخص
    محمد رسول الله صلی الله عليه وسلم کی رسالت کا اقرار کرے اور
    پھر کہے کہ
    یہ رسالت صرف
    آپ صلی الله عليه وسلم کے دور تک یا
    کسی خاص قوم تک محدود و مخصوص تھی تو
    ایسا شخص بھی مؤمن اور مسلمان نہیں کہلائے گا
    یا
    اگر کوئی شخص شہادتین کا اقرار کرے
    مگر ان کی ایسی تفسیر کرے
    جس سے
    الله کی صفاتی توحید کا انکار پیدا ہوتا ہو تو
    ایسا شخص بھی مؤمن نہیں کہلا سکتا
    اگر کوئی شخص شہادتین کا اقرار کرتا ہو
    مگر
    قرآن کے کسی حصہ،
    آیت یا ایک حرف تک کا انکار کرتا ہو تو
    ایسے شخص کو شہادتین کا اقرار کوئی فائدہ نہیں دے گا
    اس لئے کہ
    ایک طرف تو
    اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ عليه وسلم کا اقرار کرتا ہے
    مگر ساتھ ہی
    ان دونوں کی شریعت کا انکار کرتا ہے

    اگر کوئی شخص کسی ایسے مذہب سے تعلق رکھتا ہے
    جس کی بنیاد شہادتین کے مفہوم کے منافی ہے
    تو
    جب تک وہ اُس مذہب کو چھوڑ نہ دے
    اس وقت تک شہادتین کا اقرار کوئی فائدہ نہیں دے گا
    اسی طرح
    اگر کوئی شخص توحید کا اقرار کرتا ہو اور
    محمد صلی الله عليه وسلم کو رسول بھی مانتا ہو
    مگر
    کسی ایک زمانے یا قوم کے لئے مانتا ہو تو
    جب تک یہ شخص
    آپ صلی الله عليه وسلم کو تمام
    دنیا (اور ہر زمانے) کے لئے رسول تسلیم نہ کر لے
    اس وقت تک مؤمن نہیں بن سکتا

    *** انسان کو کب مؤمن کہا جائے؟

    اس مسئلہ کے بارے میں کچھ علماء نے ایک قاعدہ مقرر کیا ہے
    وہ قاعدہ یہ ہے کہ
    کسی شخص کو اس وقت تک مسلمان تسلیم نہ کیا جائے
    جب تک کہ
    وہ شہادتین کا اقرار نہ کرلے اور
    یہ اقرار اس طرح ہو کہ
    اس سے پہلے والے تمام باطل عقائد ختم ہو جائیں
    اگر اقرار اس طرح کا نہیں ہے تو پھر
    شہادتین زبان سے ادا کرے
    اور
    عقائدِ باطلہ سے برات کا اعلان کرے
    وہ عقائد جو صرف اقرارِ شہادتین سے باطل نہیں ٹھہرے تھے
    (تفسیرِ کبیر)

    اس مقام پر یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ
    کلمہ لا اله الا اللہ ان تمام باطل تصورات کو ختم کر دیتا ہے
    جو خالق یا اس کی ربوبیت و الوہیت سے متعلق ہوتے ہیں
    اسی طرح
    الله کی ذات، اس کی صفات، اسماء و افعال اور
    الله کو ہر عیب سے پاک سمجھنے میں اس کلمہ کا اقرار کفایت کرتا ہے
    جو شخص اس کلمہ کا اقرار کر لیتا ہے تو
    وہ گویا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ
    میں ان تمام باطل اعتقادات سے براءت کا اظہار کرتا ہوں
    جو الله کے بارے میں پہلے موجود تھے
    جبکہ
    دوسری شہادت
    یعنی
    (محمد رسول الله)
    ان تمام باطل تصورات کو ختم کر دیتی ہے
    جو نبی صلی الله عليه وسلم کے بارے میں یا
    آپ صلی الله عليه وسلم کی لائی ہوئی شریعت سے متعلق یا
    آپ صلی الله عليه وسلم کی حیثیت و مرتبہ کے بارے میں ہوں
    اگر کوئی بھی غلط تصور باقی رہا
    جیسا کہ بعض لوگ
    آپ صلی الله عليه وسلم کی
    شریعت کو ایک قوم تک محدود سمجھتے ہیں
    تو پھر یہ گواہی فائدہ نہیں دے گی
    یہ سب شرائط و تفصیلات ان لوگوں کے لئے ہیں
    جو پہلے کافر تھے اور اب اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں

    جہاں تک مرتد کا تعلق ہے تو
    وہ اس وقت تک مسلمان تسلیم نہیں کیا جائے گا
    جب تک ان باتوں کا اقرار نہ کر لے
    جن کا انکار کر کے وہ مرتد ہوا تھا اور
    اس کے ساتھ ساتھ
    لا اله الا اللہ محمد رسول الله کا اقرار بھی کرنا ہو گا
    اگر
    اس نے صرف اللہ کی وحدانیت یا
    محمد صلی الله عليه وسلم کی رسالت کا انکار کیا تھا
    تو شہادتین کا اقرار اس کے لئے کافی ہے اور
    اگر
    اسلام کے کسی اور رکن یا مسئلہ کا بھی انکاری تھا
    تو اس کا اقرار بھی کرنا ہوگا
    مثلاً
    اگر کوئی شخص زکوٰۃ کی فرضیت یا
    حرمتِ زنا یا حرمتِ سود کا انکار کرتا ہے
    تو وہ مرتد ہوگا
    اور دوبارہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ
    وہ
    لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ
    کا اقرار کرے اور
    پھر زکٰوۃ کی فرضیت، زنا و سود کی حرمت کا اقرار کرے
    غرض جس حکم کا بھی انکار کیا تھا اس دوبارہ تسلیم کرلے

    اس مقام پر
    اگر ایک اور بات کی وضاحت کی جائے تو بہت مفید ہوگا
    وہ یہ کہ
    علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ
    شہادتین کے اقرار سے انسان ظاہری مسلمان بن جاتا ہے اور
    اس پر وہ تمام احکام لاگو ہوتے ہیں
    البتہ خلود فی النار (ہمیشہ جہنم میں رہنے) سے بچنے کے لئے
    صرف زبانی اقرار کافی نہیں
    جب کہ
    دل کی تصدیق بھی اس کے ساتھ شامل نہ ہو جائے
    لہذا اب
    جو شخص شہادتین کا اقرار کر لے گا
    اس کے ساتھ دنیا میں وہی برتاؤ کیا جائے گا
    جو مسلمان کے ساتھ ہوتا ہے
    اگرچہ
    حقیقت میں وہ منافق ہی کیوں نہ ہو
    اس لئےکہ
    ہم دنیا میں ظاہری اعمال کے لحاظ سے معاملہ کرنے کے پابند ہیں اور
    ہمیں انہی کی بنیاد پر
    کسی کے مسلمان و کافر ہونے کا فیصلہ کرنے کا حکم ہے
    باطن کا معاملہ
    الله کے سپرد ہے اس لئے کہ باطن کا علم صرف اللہ کے پاس ہے
    جیسا کہ
    حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ
    اسامہ رضی الله عنه نے
    ایک شخص کے ظاہری اقرار کو تسلیم نہیں کیا کہ
    وہ تو جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھ رہا ہے اور اسے قتل کر دیا
    (جنگ کے دوران)
    تو
    آپ صلی الله عليه وسلم نے اس بات پر سرزنش کی
    (کہ تم کو باطن میں جھانکنے کا کس نے کہا ہے؟)

    *** ایمان کے منافی امور کون سے ہیں؟
    *** مومن کب کافر ہوتا ہے؟

    اللہ کے دین میں داخل ہونے والوں کی اقسام

    سب سے پہلے تو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ
    اسلام میں داخل ہونے کے بعد کچھ لوگ تو
    اپنے اقرار پر قائم رہتے ہیں اور انکا خاتمہ ایمان پر ہو جاتا ہے اور
    بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مرتد ہو جاتے ہیں

    پہلی قسم کے جو لوگ ہیں
    (یعنی ایمان پر قائم رہنے والے)
    ان کی کئی اقسام ہیں:
    1- بہت زیادہ نیکوکار
    2- متوسط درجے کے نیکوکار
    3- ایمان کے ساتھ ساتھ کچھ گناہ کرنے والے
    4- بغیر حساب کے جنت میں جانے والے
    5- آسان حساب لئے جانے والے
    6- کچھ عرصہ تک حساب بھگتنے والے،
    یہاں تک کہ
    اللہ اپنے فضل و کرم سے انہیں عذاب سے نجات دے دے

    جہاں تک ان اسباب کا تعلق ہے
    جن کی وجہ سے کوئی شخص
    اسلام لانے کے بعد مرتد ہوتا ہے تو
    اس بارے میں ہم ایسا قاعدہ کلیہ ذکر کرتے ہیں
    جس پر اہلِ سنت کا اتفاق ہے
    اس کے بعد ہم
    اسے تفصیل سے بیان کریں گے

    قاعدہ:

    جس قاعدے کی رو سے
    ان اعتقادات اور افعال و اقوال کی وضاحت ہوتی ہے
    جن کے اپنانے سے انسان کافر ہوتا ہے
    وہ قاعدہ ہم
    امام طحاوی رحمہ الله کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں
    فرماتے ہیں
    "ہم اہلِ قبلہ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور انہیں مؤمن تسلیم کرتے ہیں
    جب تک وہ
    محمد صلی الله عليه وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے اقراری ہوں اور
    آپ صلی الله عليه وسلم کی ہر بات کی تصدیق کرتے ہوں
    ہم
    اہلِ قبلہ میں سے کسی کو کسی گناہ کے سرزد ہونے پر کافر نہیں کہتے
    جب تک کہ وہ کسی گناہ کو جائز نہ سمجھے
    ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ
    ایمان کسی گناہ کی وجہ سے ختم نہیں ہوتا
    ایمان سے انسان اس وقت نکلتا ہے
    جب وہ اس اقرار کا انکار کر دے
    جس کی وجہ سے وہ اسلام میں داخل ہوا تھا
    (العقیدۃ الطحاویة مع شرح، صفحہ 350 تا 351 اور 371)

    تفصیل اس قاعدہ کی اس طرح ہے کہ
    شارع نے ایمان و اسلام میں داخل ہونے کے لئے ایک دروازہ مقرر کیا ہے
    جسے شہادتین کا اقرار اور اُس کی تصدیق کہا جاتا ہے
    اب جو شخص
    اس دروازہ سے اسلام و ایمان میں داخل ہو گیا
    وہ باہر تب نکلے گا
    جب
    اس سے کوئی قول، عمل یا اعتقادی کام ایسا سرزد ہو جائے
    جو اس اقرار و تصدیق کے منافی ہو
    آپ کے سامنے
    ہم یہ صراحت کر چکے ہیں کہ
    لا اله الا اللہ کی شہادت کا مقصد ہے
    اللہ کی ربوبیت، اسماء و صفات اور افعال میں وحدانیت کا اقرار
    اور
    توحید الوہیت کو قائم کرنا اور
    عبادت میں اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف توجہ نہ کرنا

    محمد صلی الله عليه وسلم کی شہادت کا مطلب ہے
    اس بات کا اقرار اور تصدیق کہ
    محمد صلی الله عليه وسلم جو شریعت ہمیں دے گئے ہیں
    وہ برحق اور واجب الاتباع ہے
    اور
    جو خبریں ہمیں
    آپ صلی الله عليه وسلم نے (سابقہ یا آئندہ) غیب کی دی ہیں
    انہیں سچا ماننا اور انہیں الله کی طرف سے ہونے کا یقین کرنا
    اسی طرح یہ اعتراف کرنا کہ تمام نبوی اخلاق و صفات
    آپ صلی الله عليه وسلم میں بدرجہ اتم موجود تھیں اور
    آپ صلی الله عليه وسلم امین، دیانتدار ، عقلمند، پاکدامن اور
    الله کے احکام کو کماحقہ پہنچانے والے تھے
    اب اس کے بعد
    اگر کوئی شخص کوئی ایسی بات کرتا ہے یا ایسا کوئی فعل کرتا ہے
    جو مذکورہ امور میں سے کسی ایک کے انکار پر دلالت کرتا ہو تو
    یہ قول یا فعل
    اس کے اس اقرار کو ختم کردے گا اور
    یوں ایسا شخص دینِ اسلام سے خارج شمار ہوگا
    اگر
    اس کی نیت اور عقیدہ بھی اس قول یا فعل کے موافق ہو تو
    یہ شخص دنیا و آخرت دونوں میں کافر شمار ہوگا
    اور
    اس کے ساتھ دنیا میں وہی سلوک و معاملہ کیا جائے گا
    جو کافروں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے
    اور
    اس پر مرتد کے احکام لاگو ہوں گے
    یعنی سب سے پہلے
    اس سے توبہ کروائی جائے، اگر نہ کرے تو قتل کر دیا جائے
    اگر اسی حالت پر اسے موت آجائے تو ہمیشہ جہنم میں رہے گا

    البتہ جب کوئی مومن گناہ کرتا ہے
    یا
    ایسا کوئی قول یا فعل اس سے سرزد ہوتا ہے
    جو اللہ کی معصیت میں شمار ہوتا ہو تو
    اس کا قول یا فعل اسے دین اسلام سے خارج نہیں کرتا،
    اگرچہ وہ توبہ بھی نہ کرے
    البتہ گناہ ایسا نہ ہو کہ
    جو
    شہادتین یا ان میں سے کسی ایک کے منافی و نقیض ہو
    ایسے شخص کی سزا و جزا اور بخشش کا معاملہ
    اللہ کی مشیئت پر ہے
    اگر وہ چاہے تو
    اسکے
    گناہ و معصیت (نافرمانی) کی سزا کے طور پر جہنم میں ڈال دے
    اور
    سزا بھگتنے کے بعد جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دے

    اس بارے میں بہت سی صحیح احادیث ہیں کہ
    جہنم سے ہر وہ شخص نکال لیا جائے گا
    جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا
    اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو
    ایسے مؤمن گناہ گار کو معاف کر دے اور
    بغیر عذاب دئیے ہی جنت میں داخل کر دے
    جیسا کہ
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    {اِنَّ اللہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ}
    "الله تعالیٰ
    اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے
    اس کے علاوہ
    جس گناہ کو چاہے معاف کر دے"
    (النسآء ۔ 116)

    اسلام کی اس صفت کو جان لینا نہایت ضروری ہے
    اللہ تعالیٰ ہمیں آگ کی سختی سے بچائے؛
    ایک طرف تو ہم کہیں کہ
    اسلام کے بغیر انسان لاکھوں کروڑوں سال آگ میں جلے گا
    دوسری طرف ہمارا یہ خیال ہو کہ
    اسلام میں آنے اور مسلمان رہنے کے لئے کوئی قاعدہ قانون ہی نہیں؟
    عقل کا تقاضا ہے کہ
    اللہ کی رحمت ایسی انمول چیز ہو تو سب کے لیے مگر ہو
    کسی وصف merit کی بنیاد پر
    کوئی اس کو پائے تو کسی معقول بنیاد پر پائے
    اور
    اگر کوئی اس کو کھوئے تو اس کی بھی کوئی معقول بنیاد ہو
    اب
    جہاں تک اس نعمت کو پانے کا تعلق ہے
    تو
    اس کا اصول یہ ہے کہ
    انسان
    لا اله الا اللہ کی دعوت کو قبول کرے
    یعنی
    اس کو سمجھے، دل میں بٹھائے اور
    اس پر چلنے کا عہد کرے
    بالفاظِ دیگر:
    شروطِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ کو پورا کرے
    یعنی:
    تمام باطل خداؤں کا انکار کرے،
    اللہ تعالیٰ کے سوا
    عبادت کی جانے اور پوجی جانے والی ہستیوں کا کفر کرے
    اور
    بندگی اور عبادت کو
    الله وحدہ لا شریک کے لیے خالص کر لے
    نیز
    محمد رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کو اپنے لئے ہدایت کا منبع،
    قانون کا مصدر، حق کا معیار اور
    زندگی کا اسوہ و نمونہ مان لے۔۔۔
    پورے
    علم اور وثوق کے ساتھ، صدق اور اخلاص کے ساتھ،
    گرویدہ ہوکر اور ظاہر و باطن میں
    اس کی پابندی قبول کرتے ہوئے
    اور
    جہاں تک اِس نعمت کا چھن جانا ہے
    تو وہ یہ کہ
    انسان کوئی ایسا قول یا فعل یا اعتقاد یا رویہ اختیار کر لے
    جو لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ کو توڑ دینے والا ہو
    ایسے خطرناک اقوال، افعال، اعتقادات اور رویے
    جو انسان کے عہد
    لَا اِلٰهَ اِلَّا الله کو توڑ دینے والے ہیں،
    علمائے عقیدہ کی اصطلاح میں نواقض اسلام و توحید کہلاتے ہیں

    خلاصہ یہ کہ:
    1-- شروطِ لَا اِلٰهَ اِلَّا الله
    ادا ہوں تو انسان "کلمہ گو" بنتا ہے

    2-- نوقضِ اسلام (اسلام ختم کرنے)
    ایسی کوئی شے کا ارتکاب ہو تو
    "کلمہ گو" نہیں رہتا

    شروطِ لا اله الا اللہ و شروطِ توحید
    ہم پہلے بیان کر آئیں ہیں
    اب
    ہم نواقضِ اسلام کے بارے میں بیان کریں گے
    ان شاءالله

    عربی میں
    "نواقض" کا مطلب ہے:
    توڑ دینے والی چیزیں

    "نواقضِ اسلام"
    یعنی:
    اسلام کو توڑ یا ختم کر دینے والی باتیں یا اعمال
    وہ اعمال یا اشیاء
    جن کی زد سیدھی "کلمہ" پر پڑتی ہے

    جس طرح فقہ میں:
    وضوء کو توڑ دینے والے اعمال کو "نواقض وضوء" کہتے ہیں،
    مثلاََ
    ہوا خارج ہونا، قضائے حاجت وغیرہ۔۔۔
    اور
    جس طرح نماز کو توڑ دینے والے اعمال "نواقض صلوٰۃ" کہلاتے ہیں،
    مثلاََ
    نماز میں گفتگو یا وضوء ٹوٹنا وغیرہ۔۔۔
    اور
    جس طرح روزہ کو توڑ دینے والے اعمال "نواقض صوم" کہلاتے ہیں،
    مثلاََ
    جان بوجھ کر کھانا پینا، قےء کر لینا یا ہم بستری وغیرہ۔۔۔۔۔۔

    اسی طرح عقیدہ میں:
    وہ اعمال جو انسان کے کلمہ کو توڑ دیں،
    مثلاََ
    عبادت میں اللہ کے ساتھ شرک کرنا،
    وسیلے اور واسطے گھڑنا اور
    الله کے ساتھ ان کو پکارنے لگنا، جادو اور عملیات کرنا،
    محمد صلی الله عليه وسلم کی لائی ہوئی
    شریعت پر کسی آئین یا ضابطے یا قانون کو ترجیح دینا وغیرہ وغیرہ۔۔۔
    نوقض اسلام کہلاتے ہیں
    پس
    "نواقض اسلام"
    گناہوں کی وہ خطرناک قسم ہے
    جو زنا سے بھی زیادہ گھناؤنی ہے اور چوری سے بھی

    "نواقض اسلام"
    کبائر کی وہ قسم ہے
    جو شرابی ہونے سے بھی سنگین تر ہے
    اور
    قاتل اور ڈکیت ہونے سے بھی
    راشی، کرپٹ، سود خور یا بھتہ خور ہونے سے بھی

    "نواقضِ اسلام"
    کچھ ایسے گھناؤنے کبائر ہیں
    جو کفر اور شرک کے باب سے ہیں اور
    جن کے ارتکاب سے
    انسان کا الله تعالیٰ کے ساتھ کیا ہوا بندگی اور عبادت کا وہ عہد
    جسے "اسلام" کہا جاتا ہے سرے سے کالعدم ہو جاتا ہے،

    یہ گناہوں کی وہ قسم ہے
    جس کو الله معاف کرتا ہی نہیں
    الا یہ کہ
    انسان نے زندگی ہی میں اللہ سے اس کی معافی مانگ لی ہو
    اور
    اس سے تائب ہو گیا ہو،

    انسان نے جانتے بوجھتے ہوئے
    "نواقضِ اسلام" قبیل کا کوئی گناہ کر لیا ہو اور
    اسی حالت میں اُس کی موت واقع ہو گئی ہو،
    تو
    دوزخ سے نکلنے کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے

    ایسے انسان کے اعمال تُلنے کی نوبت ہی نہ آئے گی

    "نواقضِ اسلام"
    اُس مصیبت کا نام ہے
    جو انسان کی سب سے بڑی نیکی
    یعنی
    "ایمان" یا "توحید" کو ختم کر دیتی ہے،
    جبکہ
    "توحید" باقی نیکیوں کے قبول ہونے کے لیے شرط ہے
    انسان کی نیکیاں اور برائیاں دونوں ترازو میں رکھ دی جائیں اور
    پھر یہ دیکھا جائے کہ
    کونسا پلڑا جھک گیا،
    یہ امکان اُسی شخص کے حق میں ہے
    جس کی توحید سلامت تھی؛
    باقی
    کیسی ہی برائیاں اُس کے اعمال نامے میں کیوں نہ پائی گئی ہوں
    البتہ
    شرک اور کفر ایسی برائیوں سے اُس کا دامن پاک ہو

    فتنوں کا ایک ایسا دور
    جس میں
    صبح کا مومن شام پڑنے تک کافر ہو چکا ہو
    یا
    شام کو مومن ہو تو صبح چڑھنے تک کافر ہوا ہو ۔۔۔۔۔۔
    اس کی پیشگوئی حدیث میں ہوئی ہے:

    عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ
    انَّ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم قال:

    [بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَناً کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ
    یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِناً وَیُمْسِیْ کَافِراً
    اوْیُمْسِیْ مُؤْمِناً وَ یَصْبِحُ کَافِراً یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا]
    "نیک اعمال کی جلدی کر لو
    اس سے پہلے کہ کچھ ایسے فتنے آئیں
    جو رات کے سیاہ پردوں کی طرح (چھا جانے والے) ہوں
    انسان صبح کو مومن ہوگا تو شام کو کافر ہوا ہوگا
    یا
    شام کے وقت مومن ہوگا تو صبح تک کافر بنا ہوگا
    دنیا کے کسی لالچ کے عوض انسان اپنا دین بیچ دیا کرے گا"
    (رواہ مسلم)

    فتنوں کے ایسے دور میں جہاں
    لا اله الا اللہ کی حدیں توڑی جارہی ہوں،

    دائرہ اسلام پامال ہوتا ہو،

    جہالت نہ صرف عام ہو
    بلکہ
    منصوبہ بندی کے ساتھ پھیلائی جارہی ہو،

    تاویل اور تحریف کے جھکڑ چل رہے ہوں،

    حق غربت (اجنبیت) کا شکار ہو
    اور
    اسلام کے نام پر جعلسازیاں ہوں۔۔۔

    نتیجتاً
    لوگوں کے ہاتھوں سے "اسلام" کا دامن ہی چھوٹتا جا رہا ہو،
    یہاں تک کہ
    حدیث کی مذکورہ بالا پیشگوئی
    پوری ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہو۔۔۔
    ضروری ہوجاتا ہے کہ
    انسان کو نہ صرف
    اسلام میں داخلے کے راستے معلوم ہوں بلکہ
    اسلام سے خارج کر دینے والی راہوں کی بھی نشاندہی ہو

    جہاں اسلام کی سب سے بڑی بنیاد خطرے میں ہو
    یعنی
    لا اله الا اللہ ،
    وہاں
    اسلام کے درد مندوں پر لازم ہو جاتا ہے
    کہ
    سب سے بڑھ کر اِسی کی دہائی مچائیں؛
    اِس (لا اله الا اللہ) کو منوانے کے حوالے سے بھی
    اور
    اس کو توڑنے سے خبردار کرنے کے حوالے سے بھی

    مسلمان بھائیو!

    اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ
    اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تمام انسانوں پر دینِ اسلام میں داخل ہونا،
    اس پر مضبوطی سے قائم رہنا،
    اس کی منافی و مخالف چیزوں سے بچنا اور دور رہنا واجب کر دیا ہے

    اسی بات کی دعوت دینے کے لئے
    اللہ تعالیٰ نے اپنے
    آخری نبی صلی الله عليه وسلم کو مبعوث فرمایا ہے
    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر بتلا دیا کہ
    جس نے
    آپ صلی الله عليه وسلم کی نافرمانی کی اور منہ موڑا تو وہ گمراہ ہوگیا
    الله تعالیٰ نے بہت سی آیات میں
    اِرتداد کے اسباب اور کفر و شرک کی تمام انواع و اقسام سے ڈرایا اور
    آگاہ فرمایا ہے
    علمائے کرام نے
    کتبِ فقہ میں مرتد کے احکام کے ضمن میں ذکر کیا ہے کہ
    اسلام کے نواقض منافی بہت سے ایسے امور ہیں
    جن کا ارتکاب کر کے ایک مسلمان دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہو جاتا ہے اور اس کے جان و مال کی حرمت ختم ہو جاتی ہے
    ان نواقض اسلام میں
    سب سے زیادہ خطرناک اور کثرت سے واقع ہونے والے اعمال کو
    اختصار اور کچھ ضروری وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے
    تاکہ تمام مسلمان ان نواقض سے خود بھی بچیں اور
    دوسروں کو بھی ان سے بچنے کی تلقین کرتے رہیں

    ہم ان کے ارتکاب سے
    الله کی پناہ چاہتے ہیں اور اس سے عافیت اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔
     
  2. ‏مئی 10، 2019 #12
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar رکن
    جگہ:
    الهند
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    ایمان کو ضائع کر دینے والے امور کی اقسام:

    جو امور ایمان سے خروج کا سبب بنتے ہیں
    ان کی کئی اقسام ہیں
    اور
    سب کی بنیاد اسی قاعدہ کلیہ پر ہے
    جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں
    پھر ہر ایک قسم کی بہت سی صورتیں اور تفصیلات ہیں
    جن کا شمار بہت مشکل ہے

    مختصراً
    ان تفصیلات کو چار قسموں میں سمونے کی کوشش کرتے ہیں

    1--- الله تعالیٰ کی ربوبیت کا اانکار یا اس پر اعتراض و اشکال

    2--- الله تعالیٰ کے اسماء و صفات پر اعتراضات و اشکالات

    3--- اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر اعتراضات و اشکالات

    4--- رسالت کا انکار یا صاحبِ رسالت صلی الله عليه وسلم کی تنقیص

    یہ چار بڑی اقسام ہیں
    پھر ان میں سے ہر قسم کی،
    افعال، اقوال و اعتقادات کے لحاظ سے بہت سی صورتیں بنتی ہیں
    اور
    ہر صورت کا لازمی نتیجہ شہادتین سے خروج ہے
    جس سے انسان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے

    ان صورتوں میں سے
    ہر ایک کی تفصیل اور مثالوں کے ساتھ وضاحت پیش کی جاتی ہے:

    پہلی قسم:

    اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا انکار یا اس پر اعتراض و اشکال

    جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ
    توحید کی تمام اقسام میں پہلی قسم توحیدِ رَبوبیت ہے
    یعنی یہ عقیدہ رکھنا
    کہ
    الله تعالیٰ اکیلا ہی تمام کائنات کا ربّ و مالک ہے
    وہی ہر چیز کا خالق و رازق ہے
    ان تمام چیزوں میں تغیر و تبدیلی کے اختیارات صرف اللہ کے پاس ہیں
    یہ تمام تغیرات الله کی مشئیت، حکمت اور علم کے مطابق ہوتے ہیں
    اور
    ہر وہ عقیدہ یا قول جس سے الله تعالیٰ کی یہ مذکورہ خصوصیات
    یا
    ان میں سے چند خصوصیات کا انکار لازم آتا ہو
    وہ قول و اعتقاد، کفر و ارتداد ہے اور خالق کا انکار ہے
    کسی چیز کو اللہ تعالیٰ سے مقدم ماننا
    یعنی
    یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی چیز ایسی بھی ہے
    جو اللہ نے پیدا نہیں کی اور وہ الله سے بھی پہلے موجود تھی،
    یا
    اللہ کے علاوہ کسی اور کو خالق
    یا
    کائنات میں تصرف و تدبیر کرنے والا ماننا،
    یا
    اللہ کی ملکیت کو عام و مکمل نہ سمجھنا،
    یہ عقیدہ رکھنا کہ
    الله نے ہر چیز پیدا تو کر دی ہے
    مگر اب انہیں
    (یا ان میں سے کسی کو)
    بیکار چھوڑ رکھا ہے اور ان میں اب تصرف نہیں کر رہا
    نہ ان کی حفاظت کر رہا ہے نہ ان کی تدبیر کر رہا ہے
    یا اور کوئی
    اس طرح کا عقیدہ
    جس سے الله کی ربوبیت کی خصوصیات پر حرف آتا ہو،
    ارتداد شمار ہوگا

    اس طرح کفر و ارتداد اس کو بھی کہیں گے کہ
    کوئی شخص ان خصوصیات میں سے کسی ایک
    یا
    کئی خصوصیات کا اپنے آپ میں ہونے کا دعویٰ کرے،

    جیسا کہ

    فرعون نے کہا تھا:
    {اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی}
    (النازعات : 24)
    "میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں"
    یا
    خود کو مالک، رازق یا تدبیرِ عالم میں سے کسی تدبیر کے سر انجام دینے کا دعویٰ کرے
    ایسا شخص خود بھی کافر ہے اور
    اس کو اس دعویٰ میں سچا ماننے والا بھی کافر و مرتد ہے

    دوسری قسم:

    اللہ کے اسماء و صفات پر اعتراضات و اشکالات

    اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے
    کچھ اسماء و صفات ثابت کی ہیں اور کچھ کی نفی کی ہے
    اب اگر کوئی شخص
    ثابت شدہ اسماء و صفات کی نفی کرے
    یا
    نفی کردہ صفات کو ثابت مانے تو یہ بھی کفر شمار ہوگا

    اس کو ہم دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں
    1-کفرِ نفی
    2-کفرِ اثبات

    کفرِ نفی:
    کفرِ نفی میں یہ باتیں شامل ہیں:

    الله کی صفات میں سے کسی کی نفی کرنا
    مثلاً
    اللہ تعالیٰ کے کامل علم یا قدرت، زندگی، قیومیت، سماعت، بصارت،
    استواء علی العرش، کلام، رحمت، کبریائی وغیرہ میں سے
    جو بھی کتاب و سنت سے ثابت ہے
    ان میں سے کسی کا انکار کرنا
    یا تاویل کرنا
    یا
    اللہ تعالیٰ کی
    کسی صفت کو محدود یا ناقص و نامکمل سمجھنا،
    جیسے ایک شخص اللہ تعالیٰ کے علم کا اقرار کرتا ہے
    مگر اس کے علم کو اجمالی قرار دیتا ہے
    اور
    کہتا ہے کہ
    جزئیات و تفصیلات تک الله کا علم نہیں ہے
    یا
    کوئی شخص
    اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ قرار دیتا
    کہ
    اللہ تعالیٰ کا سننا اور دیکھنا ایسا ہی ہے
    جیسے
    انسانوں کا دیکھنا و سننا، وغیرہ

    کفرِ اثبات:
    کفرِ اثبات میں یہ باتیں شامل ہیں:

    کسی ایسی صفت کو
    اللہ تعالیٰ کے لئے
    بیٹے یا بیٹیاں یا بیوی یا نیند،
    غفلت، موت یا کسی بھی ایسے نقص کو
    اللہ تعالیٰ میں موجود ماننا جو کہ
    انسانوں میں پائے جاتے ہیں
    اسی طرح
    وہ شخص بھی کافر شمار ہوگا
    جو الله کی صفات میں سے کسی صفت کو اپنے لئے
    یا
    مخلوق میں سے کسی کے لئے ثابت کرتا ہو
    ایسے شخص کے اس دعوے کی تصدیق کرنے والا بھی کافر ہوگا
    مثلاََ
    کوئی شخص یہ کہے کہ
    میں بھی ایسا ہی عالم ہوں جس طرح اللہ تعالیٰ عالم ہے
    یا
    فلاں شخص کے پاس ایسی ہی حکمت ہے
    جس طرح اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
    ایسا شخص اور اس کی تصدیق کرنے والا دونوں کافر ہیں
    اس لئے کہ
    ًالله تعالیٰ کی صفات میں شریک کرنا
    اللہ تعالیٰ کی صفات کی تنقیص ہے
    اگر
    جو شخص بھی
    اللہ تعالیٰ کی صفات کو ناقص مانتا ہے
    وہ کافر و مرتد ہے

    تیسری قسم:

    اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر اعتراضات و اشکالات

    ہر وہ قول، فعل یا عقیدہ جو توحید کی قسم ثالث
    یعنی
    توحید الوہیت میں طعن یا تنقیص کا سبب ہو،
    نواقض الایمان کی تیسری قسم میں شمار ہوتا ہے
    توحید الوہیت کا مقصد ہے
    الله تعالیٰ کو اکیلا معبودِ برحق ماننا اور یہ عقیدہ رکھنا
    کہ
    الله تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی چیز عبادت کے لائق نہیں ہے
    اب
    اگر کوئی شخص اِسکے مخالف عقیدہ رکھے،
    یا
    اسکا کوئی قول یا فعل اس اقرار کے منافی ہو
    یا
    ان میں سے کسی بھی چیز میں تنقیص کا سبب ہو،
    یا
    اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان صفات میں کسی اور کو شریک مانتا ہو،
    تو
    ایسا شخص کافر و مرتد شمار ہوگا
    زیادہ تر
    لوگوں کے کافر یا مرتد ہونے کا تعلق بھی
    اسی قسم کی توحید کے ساتھ ہے
    اکثر لوگ
    الله کے وجود، اس کے خالق، رازق، قادر، محی و ممیت
    (زندہ کرنے والا اور مارنے والا)
    ہونے کے پہلے بھی قائل تھے اور اب بھی ہیں

    جیسا کہ
    اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے بارے میں فرمایا:

    {وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللہُ}
    "اگر آپ صلی الله عليه وسلم
    ان (کُفّارِ مکہ) سے پوچھیں کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے
    تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے"
    (زخرف : 87)

    اسی طرح فرمایا:

    {وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَلْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَھُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ}
    "اگر آپ ان سے پوچھیں کہ
    آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہ یہی کہیں گے
    کہ الله نے
    جو غالب اور عالم ہے"
    (زخرف : 9)

    اس اقرار کے باوجود اکثر کو کافر اس بنیاد پر کہا گیا کہ
    وہ الله تعالیٰ کو اکیلا عبادت کا مستحق نہیں سمجھتے تھے
    اور
    الله تعالیٰ کے اس (تنہا معبود ہونے کے) استحقاق کا انکار کرتے تھے
    یہ انکار بھی
    قولی، فعلی یا اعتقادی میں سے کسی قسم کا ہوتا تھا
    اور چونکہ
    دوسروں کو بھی الله تعالیٰ کے اس حق میں شریک سمجھتے تھے
    اس لئے انہیں کافر قرار دیا گیا
    یہ شرک بھی
    خواہ قولی ہو یا فعلی یا اعتقادی، کفر و ارتداد کا سبب تھا اور ہوگا
    اس لئے کہ
    جو شخص یہ مانتا ہو کہ
    اللہ تعالیٰ خالق ہے،
    مالک ہے،
    ہر چیز کی تدبیر کرنے والا ہے اسی طرح
    الله تعالیٰ کی تمام جلالی و کمالی صفات کا معترف ہو

    تو اس اعتراف کا تقاضا یہ ہے
    کہ
    وہ الوہیت میں بھی الله تعالیٰ کو اکیلا ہی سمجھے
    اور
    عبودیت کا مستحق بھی صرف اسی اکیلے اللہ تعالیٰ کو سمجھے
    اگر وہ اس کا انکار کرتا ہے اور الله تعالیٰ کے ساتھ
    یا
    اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرتا ہے
    تو اس کا یہ اعتراف
    (یعنی الله کی ربوبیت کا)
    باطل ہے
    اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے

    جیسا کہ

    صنعانی رحمہ اللہ نے
    اپنی کتاب تطہیر الاعتقاد میں لکھا ہے:

    "جو شخص
    اللہ تعالیٰ کی توحید ربوبیت کا اعتراف کرتا ہے
    تو اس کو چاہئے کہ
    اللہ تعالیٰ کو عبادت میں بھی اکیلا سمجھے
    اگر اس طرح نہیں کرے گا تو اس کا پہلا اقرار بھی باطل ہے"

    یہی وجہ ہے کہ
    دنیا میں
    الله تعالیٰ نے بندوں کے امتحان کا ذریعہ توحید الوہیت کو بنایا ہے

    الله تعالیٰ فرماتا ہے:
    {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ}
    "میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے"
    (الذاریات : 56)

    یہاں ایک اور بات کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے کہ
    لا اله الا اللہ کے منافی دو امور ہیں:

    (1) خالق کے حق کی نفی کی جائے
    یعنی
    کسی بھی قسم کی عبادت ہو الله تعالیٰ کو اس کا مستحق نہ مانا جائے

    (2) یہ حق کسی اور کے لئے ثابت کیا جائے
    یعنی
    مخلوق میں سے کسی کو عبادت کا مستحق مانا جائے

    اب ہر قول یا عمل یا اعتقاد
    جس میں ان دو امور میں سے کوئی امر پایا جائے
    وہ عمل، اعتقاد یا قول
    کفر میں داخل کرنے کا سبب ہوگا اور
    ایسا قول، عمل یا اعتقاد رکھنے والا مرتد شمار ہوگا

    جو امور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہیں
    وہ یہ ہیں:
    عاجزی، انکساری، اطاعت، جھکنا، محبت، ڈرنا، مدد طلب کرنا،
    بھروسہ کرنا، امید رکھنا، رکوع، سجدہ، روزہ، ذبح، طواف وغیرہ

    جو شخص اپنے
    قول یا عمل یا اعتقاد کے ذریعہ سے
    ان امور میں سے
    کسی ایک کی بھی الله تعالیٰ کے لئے نفی کرے گا
    تو یہ قول، عمل یا اعتقاد کفر ہے
    مثلاً
    ایک شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ
    اللہ سے ڈرنا نہیں چاہئے
    یا
    اس سے دعا نہیں کرنی چاہئے
    یا
    اس سے مدد نہیں مانگنی چاہئے
    یا
    اس کے سامنے رکوع نہیں کرنا چاہئے
    (یا مذکورہ اعمال
    یا اُن میں سے کوئی بھی ایک الله کے لئے کرنا ضروری نہیں)،
    یا
    ان اعمال میں سے
    کسی عمل کے کرنے والے کا مذاق اڑائے،
    یا
    رکوع، سجود، روزہ، حج وغیرہ
    یا
    کسی بھی ایسے قول یا عمل کا مذاق اڑائے
    جسے شریعت نے عبادت کا درجہ دیا ہو
    تو یہ بھی کفر و ارتداد ہے
    اس لئے کہ
    ان اعمال کا یا ان کے کرنے والے کا مذاق اڑانا
    اس بات کی دلیل ہے کہ
    یہ شخص
    اللہ کو ان عبادات کا مستحق نہیں سمجھتا

    اسی طرح وہ شخص بھی کافر شمار ہو گا
    جو اللہ تعالیٰ کو اور اس کے احکام کو قابلِ اطاعت نہیں سمجھتا
    یا
    اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا ضروری نہیں سمجھتا
    اس لئے کہ
    اللہ تعالیٰ کی ایک شریعت (قانون) ہے
    جو اس کی کتاب میں موجود ہے
    اور
    اس نے اپنے رسول صلی الله عليه وسلم کو عطا کی ہے
    اب جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ
    اللہ تعالیٰ کی شریعت میں سے کوئی حکم ماننا ضروری نہیں ہے
    یا
    اس دور میں ان احکام پر عمل نہیں ہوسکتا
    یا
    اس جیسی کوئی بات کرتا ہے تو وہ شخص کافر شمار ہوگا
    اس لئے کہ
    الوہیت کی خاصیت یہ ہے کہ
    اللہ تعالیٰ حکم کرے اور شریعت بنائے

    (اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ للہِ)
    "حکم کرنا صرف الله کا استحقاق ہے"
    (یوسف:40)
    اور
    عبودیت کی خاصیت یہ ہے کہ انسان اطاعت و فرمانبرداری کرے

    اسی طرح وہ شخص بھی کافر کہلائے گا
    جو ان عبادات میں سے کسی عبادت کو غیر الله کے لئے ثابت مانے
    یا
    جو شخص خود کو عبادت کا مستحق سمجھ کر
    لوگوں کو اپنی عبادت بجالانے کا حکم کرے
    ایسے شخص کی تصدیق کرنے والا بھی کافر ہوگا
    اور
    اس کی عبادت بجالانے والا بھی

    وہ شخص بھی کافر ہے
    جو یہ پسند کرے کہ
    ان عبادات میں سے کوئی عبادت اس کے لئے بجا لائی جائے
    اگرچہ
    کسی کو ایسا کرنے کا حکم نہ بھی کرے
    جیسے کہ
    کوئی شخص یہ پسند کرتا ہو کہ
    اس سے مدد مانگی جائے
    اس پر بھروسہ کیا جائے،
    اس سے ڈرا جائے
    یا
    اس سے امید رکھی جائے

    (ایسا خوف اور امید
    جس طرح اللہ سے رکھی جاتی ہے جو انسان کی قدرت سے باہر ہو،

    انسان کے اختیار میں جو قوت و غلبہ ہے
    اگر اس سے کوئی شخص ڈرتا ہے یا امید رکھتا ہے تو یہ کفر نہیں ہے)

    یا
    کوئی شخص یہ حکم کرے
    یا
    چاہت رکھے کہ
    اسے سجدہ کیا جائے
    یا
    اس کے سامنے جھکا جائے
    یا
    ایسا کوئی بھی کام
    جو صرف الله تعالیٰ کے لئے کیا جانا خاص ہو
    وہ اپنے لئے کرنے کا حکم کرے
    یا
    خواہش کرے تو یہ کفر کے زمرے میں شامل ہوگا

    اسی طرح وہ شخص بھی کافر کہلائے گا
    جو یہ دعویٰ کرے کہ
    مجھے قانون و شریعت بنانے کا حق ہے
    اگرچہ
    الله تعالیٰ کے احکام کے مخالف ہی کیوں نہ ہو
    یا
    یہ کہے کہ
    کیونکہ
    اُس کے پاس حکومت یا فیصلے کے اختیارات ہیں
    اس لئے اب اسے یہ حق حاصل ہے کہ
    حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرار دے
    مثلاََ
    کوئی حکمران ایسے احکامات جاری کرے
    یا
    قوانین وضع کرے
    جن سے زنا، سود، شراب، بےپردگی کا جواز پیدا ہوتا ہو
    یا
    اللہ تعالیٰ اور رسول صلی الله عليه وسلم کی
    مقرر کردہ حدود و سزاؤں میں تغیّر لازم آتا ہو
    یا
    زکوٰۃ کے لئے شریعت کے مقرر کردہ نصاب میں
    یا
    میراث، کفارہ اور عبادات وغیرہ
    میں تبدیلی آتی ہو تو
    اس طرح کے قوانین بنانے والا
    اور
    اس کو صحیح تسلیم کرنے والا دونوں کافر شمار ہوں گے
    اس لئے کہ
    یہ غیر الله کی الوہیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے

    الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    {وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ}
    "ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا
    (جو انھیں یہ حکم کرتا تھا کہ)
    اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو"
    (نحل : 36)

    دوسرے مقام پر فرمایا:

    {فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی
    لَاانْفِصَامَ لَہَا وَاللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ}
    "جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور
    الله پر ایمان لے آئے تو اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا
    جو ٹوٹنے والا نہیں اور
    اللہ سننے والا جاننے والا ہے"
    (بقرۃ : 256)

    مضبوط کڑے سے مراد
    لا اله الا اللہ کی شہادت ہے
    جس کا مطلب یہ ہے کہ
    ہر قسم کی عبادات کی غیر الله سے نفی کی جائے اور
    تمام عبادات کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ کو مانا جائے

    اب اگر کوئی حکمران اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ
    مجھے یہ حق حاصل ہے کہ
    میں کتاب و سنت سے ثابت شدہ قوانین کے معارض قوانین بنا سکتا ہوں
    جن میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیا جاتا ہو تو
    ایسا حکمران کافر و مرتد ہے
    اس لئے کہ
    اس کا عقیدہ یہ بن چکا ہے
    کہ
    اس کے پاس اتنے اختیارات ہیں
    کہ
    وہ الله تعالیٰ کی شریعت کی بجائے
    اپنی شریعت اپنے قوانین بنا سکتا ہے
    ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے
    (بلکہ یہی شخص طاغوت ہے)
    البتہ
    اس سے وہ قانون سازی مستثنیٰ ہے
    جس میں
    قرآن و سنت کی نصوص واضح نہیں ہیں
    یعنی
    قرآن و سنت میں کوئی قانون نہ ہو
    یا
    مجتہدین نے کسی مسئلہ میں اختلاف کیا ہو تو
    اس میں حکومت کو قانون سازی کا اختیار ہے
    بشرطیکہ
    قرآن و سنت کے معارض و مخالف نہ ہو
    لہذا
    جو شخص ایسا کوئی قانون بنائے
    جس سے زنا، سود
    یا
    ہر وہ چیز یا عمل
    جسے
    اللہ اور اس کے رسول صلی الله عليه وسلم
    نے حرام قرار دیا ہو
    اس کا جواز پیدا ہو رہا ہو تو ایسا قانون ساز بھی کافر ہے
    اور
    اس کے ساتھ اس عمل میں حصہ لینے والے بھی کافر ہیں
    البتہ
    ایسا شخص جو
    لوگوں کے کردار کو بہتر کرنے کے لئے قانون بناتا ہو
    یا
    اشیاء کی قیمتیں مقرر کی جاتی ہوں
    تو یہ جائز ہے
    کیونکہ
    یہ قرآن و سُنَّت کے مخالف نہیں ہے
    اگرچہ
    بعض علماء نے اس سے بھی منع کیا ہے
    وہ کہتے ہیں کہ
    حکومت کے لئے اشیاء کی قیمتیں مقرر کرنا جائز نہیں ہے
    مگر
    ان علماء کی بات صحیح نہیں ہے
    اس لئے کہ
    قیمتیں مقرر کرنا اجتہادی مسئلہ ہے
    اور
    بعض فقہاء نے اسے جائز قرار دیا ہے

    اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ
    حکمرانوں کو خلافِ قرآن و سنت قانون سازی کا اختیار حاصل ہے
    تو
    ایسا شخص بھی کافر ہے
    اور
    وہ شخص بھی کافر ہے
    جو خلافِ شرع فیصلے کرنے والوں سے اپنے فیصلے کرواتا ہے

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    {اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ
    اَنْ یَّتَحَاکَمُوْا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِه وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ
    اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلَالًا بَعِیْدًا}
    "کیا آپ صلی الله عليه وسلم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا
    جن کا یہ حال ہے کہ
    وہ آپ پر اور آپ سے قبل نازل کردہ (کتب و شرائع) پر ایمان لائے ہیں
    مگر وہ چاہتے ہیں کہ
    اپنے فیصلے طاغوت سے کروائیں
    حالانکہ
    انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت سے کفر کریں
    شیطان چاہتا ہے کہ
    انہیں بہت بڑی گمراہی میں مبتلا کردے"
    (النسآء : 60)

    دوسری جگہ ارشاد ہے:

    {اَمْ لَھُمْ شُرَکَآءُ شَرَ عُوْا لَھُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَالَمْ یَاْذَنْ بِهِ اللہُ}
    کیا ان کے ایسے بھی شریک ہیں
    جنہوں نے ان کے لئے دین میں وہ قوانین بنا دئیے ہیں
    جن کی اجازت اللہ نے نہیں دی"
    (شورٰی : 21)

    چوتھی قسم:

    رِسالَت یا صاحبِ رِسالَت صلی الله عليه وسلم کی تنقیص

    ہر وہ قول، عمل یا عقیدہ
    جو رسالت یا صاحبِ رسالت صلی الله عليه وسلم میں
    عیب و نقص پیدا کرنے یا اعتراض کا سبب ہو،
    انسان کے اسلام سے خارج کر دینے کا سبب بنتا ہے
    اس لئے کہ
    ایسا فعل، قول یا اعتقاد
    مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کی شہادت کے منافی ہے
    اس شہادت کا مقصود یہ ہے کہ
    جو کچھ
    محمد صلی الله عليه وسلم سے ثابت ہے وہ حق سچ ہے
    اور
    الله تعالیٰ نے
    محمد صلی الله عليه وسلم کو
    ان تمام صلاحیتوں اور صفات سے نوازا تھا
    جو رسالت کو مکمل طور پر پہنچانے کے لئے ضروری تھیں

    اب اس شہادت کو ختم کرنے والے امور دو ہیں:

    (1) رسول الله صلی الله عليه وسلم پر عیب لگانا

    (2) آپ صلی الله عليه وسلم کی بتائی ہوئی
    باتوں میں سے کسی بات کا انکار کرنا یا اُس پر اعتراض کرنا

    پہلے امر میں یہ بات بھی شامل ہے کہ
    آپ صلی الله عليه وسلم کی طرف
    اگر کوئی بھی عیب والی بات منسوب کر دی گئی تو
    یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ
    گویا (نعوذ باللہ)
    اللہ تعالیٰ نے
    آپ صلی الله عليه وسلم کو رسالت کے لئے منتخب کر کے غلطی کی ہے
    لہذا
    ہر وہ شخص کافر ہے
    جو نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی صداقت و دیانت
    یا
    آپ صلی الله عليه وسلم کی
    عفت و صلاحیت اور عقل پر اعتراض
    یا
    اُس کا انکار کرتا ہے

    وہ شخص بھی کافر کہلائے گا
    جو رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہو
    یا
    آپ صلی الله عليه وسلم کا مذاق اڑائے
    یا
    آپ صلی الله عليه وسلم کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کرے

    دوسرا امر میں یہ بھی شامل ہے کہ
    آپ صلی الله عليه وسلم نے جن باتوں کی خبر دی ہے
    ان میں سے کسی کا انکار کیا جائے
    مثلاََ
    بعثت (قیامت کے دن اٹھایا جانا)،
    میزان، حساب، پُل صراط، جنت، جہنم وغیرہ
    جو شخص
    قرآن کی کسی آیت یا حکم کا انکار کرتا ہے وہ بھی کافر ہے
    اس لئے کہ یہ سب الله کا کلام ہے
    اب جو شخص بھی ان میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے تو
    وہ نبی صلی الله عليه وسلم کو جھٹلاتا ہے
    اسی طرح
    قرآن و سنت سے ثابت شدہ کسی حکم کا انکار بھی کفر ہے
    مثلاً
    کوئی شخص نماز یا زکوٰۃ کی فرضیت
    یا
    زنا و چوری کی حرمت کا انکار کرے
    یا
    کسی نماز میں رکعات کے اضافہ کا دعویٰ کرے
    یا
    بغیر وضو کے نماز کو جائز قرار دے تو ایسا شخص کافر کہلائے گا
    البتہ
    کوئی شخص اگر ایسے حکم یا مسئلے کا انکار کرتا ہے
    جو زیادہ مشہور نہیں ہے اور
    صرف چند علماء کو اس کا پتہ ہے تو ایسا شخص کافر نہیں ہوگا
    اسی طرح
    وہ شخص بھی کافر شمار نہیں ہوگا
    جو ایسے مسئلے کا انکار کرتا ہے جس میں مجتہدین کا اختلاف ہو
    اور
    اس پر اجماع نہ ہوا ہو

    امام نووی شارح صحیح مسلم فرماتے ہیں:
    "اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی ایسے مسئلے کا انکار کرتا ہے
    جس پر امت کا اجماع ہے
    اور
    وہ مشہور بھی ہے
    جیسے
    پانچ نمازیں، رمضان کے روزے، جنابت کا غسل،
    شراب اور زنا کی حرمت وغیرہ
    (تو ایسا شخص کافر ہے)
    ہاں اگر ایسا شخص نیا نیا مسلمان ہوا ہے
    اور
    وہ اسلام کی مکمل معلومات نہیں رکھتا
    اگر وہ لاعلمی کی بنیاد پر انکار کرتا ہے
    تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا
    اگر مسئلہ ایسا ہو کہ
    اجماع تو اس پر ہوچکا ہے مگر یہ خواص کو (یعنی علماء کو) معلوم ہے
    جیسی
    چچی، بھتیجی
    یا
    خالہ، بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا
    یا
    قتلِ عمد کا مرتکب وراثت سے محروم ہوتا ہے
    یا
    دادی کے لئے میراث میں چھٹا حصہ ہے
    یا
    دیگر اس جیسے
    احکام میں سے کسی کے انکار پر کافر قرار نہیں دیا جاسکتا
    اس لئے کہ اس کو علم نہیں اور
    یہ مسئلے عوام میں مشہور بھی نہیں ہیں"
    (شرح صحیح مسلم، ج ا، صفحہ 205)

    وہ شخص بھی کافر شمار ہوگا
    جو قرآن کی کسی آیت
    یا
    قرآن کی غیب سے متعلق دی ہوئی
    کسی خبر کا انکار کرے
    چاہے وہ خبر ماضی سے متعلق ہو
    یا
    مستقبل سے
    اسی طرح
    وہ شخص بھی کافر کہلائے گا
    جو
    محمد صلی الله عليه وسلم سے قبل بھیجے گئے
    رسولوں میں سے کسی کی رسالت کا انکار کرتا ہے
    یا
    ان کی اقوام کے بارے میں جو قصے اور واقعات مذکور ہیں
    ان میں سے کسی کا انکار کرتا ہے
    اسی طرح
    اللہ نے مخلوق کی ابتداء کی جو کیفیت ذکر کی ہے
    اسکا انکار کرے
    یا
    اپنی طرف سے کسی اور کیفیت کو بیان کرے
    جو قرآن کے بیان کے مخالف و متضاد ہو،
    یا
    کرسی، عرش، لوح، قلم، جنات، شیاطین وغیرہ
    یا
    قرآن نے کسی تاریخی شخصیت کا تذکرہ کیا ہو
    یا
    کسی کو رسول شمار کیا ہو
    ان میں سے کسی کا بھی انکار کرے وہ کافر کہلائے گا
    یا
    کسی رسول کے بارے میں یہ اعتراض اٹھائے
    کہ
    یہ رسول بنائے جانے کا مستحق نہیں تھا
    یا
    یہ بات کرے کہ
    جن رسولوں کے نام قرآن میں ذکر ہیں
    ان کے علاوہ اور کوئی
    رسول یا نبی الله تعالیٰ نے نہیں بھیجا
    اسی طرح
    وہ شخص بھی کافر کہلائے گا
    جو
    قرآن کے اعجاز (معجزہ ہونے) کا انکار کرے
    اس لئے کہ
    قرآن کا معجزہ ہونا
    اللہ کے کلام اور تاریخی واقعات سے ثابت ہے
    اسی طرح
    محمد صلی الله عليه وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا
    اور
    اس دعوے دار کی تصدیق کرنے والا دونوں کافر و مرتد ہیں
    اس لئے کہ
    قرآن نے
    محمد صلی الله عليه وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا ہے۔
     
  3. ‏مئی 10، 2019 #13
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar رکن
    جگہ:
    الهند
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    ایمان کو ضائع کر دینے والے امور:

    رِسالَت یا صاحبِ رِسالَت صلی الله عليه وسلم کی تنقیص

    ہر وہ قول، عمل یا عقیدہ
    جو رسالت یا صاحبِ رسالت صلی الله عليه وسلم میں
    عیب و نقص پیدا کرنے یا اعتراض کا سبب ہو،
    انسان کے اسلام سے خارج کر دینے کا سبب بنتا ہے
    اس لئے کہ
    ایسا فعل، قول یا اعتقاد
    مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کی شہادت کے منافی ہے
    اس شہادت کا مقصود یہ ہے کہ
    جو کچھ
    محمد صلی الله عليه وسلم سے ثابت ہے وہ حق سچ ہے
    اور
    الله تعالیٰ نے
    محمد صلی الله عليه وسلم کو
    ان تمام صلاحیتوں اور صفات سے نوازا تھا
    جو رسالت کو مکمل طور پر پہنچانے کے لئے ضروری تھیں

    اب اس شہادت کو ختم کرنے والے امور دو ہیں:

    (1) رسول الله صلی الله عليه وسلم پر عیب لگانا

    (2) آپ صلی الله عليه وسلم کی بتائی ہوئی
    باتوں میں سے کسی بات کا انکار کرنا یا اُس پر اعتراض کرنا

    پہلے امر میں یہ بات بھی شامل ہے کہ
    آپ صلی الله عليه وسلم کی طرف
    اگر کوئی بھی عیب والی بات منسوب کر دی گئی تو
    یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ
    گویا (نعوذ باللہ)
    اللہ تعالیٰ نے
    آپ صلی الله عليه وسلم کو رسالت کے لئے منتخب کر کے غلطی کی ہے
    لہذا
    ہر وہ شخص کافر ہے
    جو
    نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی صداقت و دیانت
    یا
    آپ صلی الله عليه وسلم کی
    عفت و صلاحیت اور عقل پر اعتراض
    یا
    اُس کا انکار کرتا ہے

    وہ شخص بھی کافر کہلائے گا
    جو
    رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہو
    یا
    آپ صلی الله عليه وسلم کا مذاق اڑائے
    یا
    آپ صلی الله عليه وسلم کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کرے

    دوسرا امر میں یہ بھی شامل ہے کہ
    آپ صلی الله عليه وسلم نے جن باتوں کی خبر دی ہے
    ان میں سے کسی کا انکار کیا جائے
    مثلاََ
    بعثت (قیامت کے دن اٹھایا جانا)،
    میزان، حساب، پُل صراط، جنت، جہنم وغیرہ
    جو شخص
    قرآن کی کسی آیت یا حکم کا انکار کرتا ہے وہ بھی کافر ہے
    اس لئے کہ یہ سب الله تعالیٰ کا کلام ہے
    اب جو شخص بھی ان میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے تو
    وہ نبی صلی الله عليه وسلم کو جھٹلاتا ہے
    اسی طرح
    قرآن و سنت سے ثابت شدہ کسی حکم کا انکار بھی کفر ہے
    مثلاً
    کوئی شخص نماز یا زکوٰۃ کی فرضیت
    یا
    زنا و چوری کی حرمت کا انکار کرے
    یا
    کسی نماز میں رکعات کے اضافہ کا دعویٰ کرے
    یا
    بغیر وضو کے نماز کو جائز قرار دے تو ایسا شخص کافر کہلائے گا
    البتہ
    کوئی شخص اگر ایسے حکم یا مسئلے کا انکار کرتا ہے
    جو زیادہ مشہور نہیں ہے اور
    صرف چند علماء کو اس کا پتہ ہے تو ایسا شخص کافر نہیں ہوگا
    اسی طرح
    وہ شخص بھی کافر شمار نہیں ہوگا
    جو ایسے مسئلے کا انکار کرتا ہے جس میں مجتہدین کا اختلاف ہو
    اور
    اس پر اجماع نہ ہوا ہو

    امام نووی شارح صحیح مسلم فرماتے ہیں:
    "اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی ایسے مسئلے کا انکار کرتا ہے
    جس پر امت کا اجماع ہے
    اور
    وہ مشہور بھی ہے
    جیسے
    پانچ نمازیں، رمضان کے روزے، جنابت کا غسل،
    شراب اور زنا کی حرمت وغیرہ
    (تو ایسا شخص کافر ہے)
    ہاں اگر ایسا شخص نیا نیا مسلمان ہوا ہے
    اور
    وہ اسلام کی مکمل معلومات نہیں رکھتا
    اگر وہ لاعلمی کی بنیاد پر انکار کرتا ہے
    تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا
    اگر مسئلہ ایسا ہو کہ
    اجماع تو اس پر ہوچکا ہے مگر یہ خواص کو (یعنی علماء کو) معلوم ہے
    جیسے
    چچی، بھتیجی
    یا
    خالہ، بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا
    یا
    قتلِ عمد کا مرتکب وراثت سے محروم ہوتا ہے
    یا
    دادی کے لئے میراث میں چھٹا حصہ ہے
    یا
    دیگر اس جیسے
    احکام میں سے کسی کے انکار پر کافر قرار نہیں دیا جاسکتا
    اس لئے کہ اس کو علم نہیں اور
    یہ مسئلے عوام میں مشہور بھی نہیں ہیں"
    (شرح صحیح مسلم، ج ا، صفحہ 205)

    وہ شخص بھی کافر شمار ہوگا
    جو قرآن کی کسی آیت
    یا
    قرآن کی غیب سے متعلق دی ہوئی کسی خبر کا انکار کرے
    چاہے وہ خبر
    ماضی سے متعلق ہو
    یا
    مستقبل سے متعلق ہو

    اسی طرح
    وہ شخص بھی کافر کہلائے گا
    جو
    محمد صلی الله عليه وسلم سے قبل بھیجے گئے
    رسولوں میں سے کسی کی رسالت کا انکار کرتا ہے
    یا
    ان کی اقوام کے بارے میں جو قصے اور واقعات مذکور ہیں
    ان میں سے کسی کا انکار کرتا ہے
    اسی طرح
    اللہ نے مخلوق کی ابتداء کی جو کیفیت ذکر کی ہے
    اسکا انکار کرے
    یا
    اپنی طرف سے کسی اور کیفیت کو بیان کرے
    جو قرآن کے بیان کے مخالف و متضاد ہو،
    یا
    کرسی، عرش، لوح، قلم، جنات، شیاطین وغیرہ
    یا
    قرآن نے کسی تاریخی شخصیت کا تذکرہ کیا ہو
    یا
    کسی کو رسول شمار کیا ہو
    ان میں سے کسی کا بھی انکار کرے وہ کافر کہلائے گا
    یا
    کسی رسول کے بارے میں یہ اعتراض اٹھائے
    کہ
    یہ رسول بنائے جانے کا مستحق نہیں تھا
    یا
    یہ بات کرے کہ
    جن رسولوں کے نام قرآن میں ذکر ہیں
    ان کے علاوہ اور کوئی
    رسول یا نبی الله تعالیٰ نے نہیں بھیجا
    اسی طرح
    وہ شخص بھی کافر کہلائے گا
    جو
    قرآن کے اعجاز (معجزہ ہونے) کا انکار کرے
    اس لئے کہ
    قرآن کا معجزہ ہونا
    اللہ کے کلام اور تاریخی واقعات سے ثابت ہے
    اسی طرح
    محمد صلی الله عليه وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا
    اور
    اس دعوے دار کی تصدیق کرنے والا دونوں کافر و مرتد ہیں
    اس لئے کہ
    قرآن نے
    محمد صلی الله عليه وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا ہے۔

    (حصہ 13)
     
  4. ‏مئی 10، 2019 #14
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar رکن
    جگہ:
    الهند
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    کفر پر راضی رہنا اور اسلام سے راضی نہ رہنا بھی کفر ہے:

    گزشتہ دو میسج (ایمان کو ضائع کر دینے والے امور کی اقسام) میں
    جو کچھ بیان ہوا وہ صرف چند مثالیں تھیں
    جن کا مقصد شہادتین کے ابطال کی صورتیں بتانا تھا
    یعنی وہ صورتیں جن سے کلمہ کا اقرار نا قابلِ اعتبار ٹھہرتا ہے
    جبکہ
    ان کے علاوہ بھی کفر و ارتداد کی صورتیں موجود ہیں
    جن سے شہادتین کی نفی ہوتی ہے
    اور
    توحید و رسالت کا انکار لازم آتا ہے
    ان میں سے ایک صورت ہے
    کفر پہ رضا مندی اور اسلام سے غیر رضامندی

    مثلاً
    اگر کوئی شخص کلمہ شہادت کہنے والے کو کہے کہ
    تو نے جھوٹ بولا
    اور
    جو شخص کلمہ شہادت کا انکار کرے
    اس سے کہے کہ تو صحیح کہہ رہا ہے
    تو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے

    اس طرح اور بہت سے الفاظ یا انداز ہیں تصدیق و تکذیب کے
    ان میں سے کسی بھی لفظ یا طریقے سے
    اگر کسی نے شہادتین کی تکذیب اور اس کے منکر کی تصدیق کی
    تو
    وہ شخص خارج عن الاسلام شمار ہوگا

    ان طریقوں میں سے چند ہم ذکر کئے دیتے ہیں:

    کفر پر رضامندی کی مختلف صورتیں

    (1)--- کافر، ملحد، مرتد، مشرک کو کافر نہ سمجھنا
    یا
    ان کے کفر میں شک کرنا
    یا
    کسی بھی کفریہ مذہب یا طریقے کو صحیح سمجھنا

    اگر کوئی شخص کسی مذہب، جماعت، فرقہ، گروہ، پارٹی میں سے
    کسی میں بھی واضح کفر (قرآن و سنت کی دلیل سے) دیکھتا ہے
    اور
    پھر بھی انہیں کافر نہیں سمجھتا
    یا
    ان کے بارے میں یہ کہے کہ
    ان کی بعض باتیں صحیح ہیں
    تو ایسا شخص بھی ان لوگوں کے کفر میں داخل اور
    ان جیسا شمار ہوگا

    اگرچہ عمومی قاعدہ تو یہی ہے
    جو ہم نے ذکر کیا
    مگر اس کی مذید وضاحت ضروری ہے
    تاکہ
    اچھی طرح چھان بین کے بعد کسی پر ارتداد یا کفر کا فتوٰی لگایا جائے
    مذکورہ قاعدے کی رو سے
    کسی کو کافر گروہ میں شمار کرنا اور
    اس پر کفر و ارتداد کا فتوٰی لگانا اس وقت درست ہوگا
    جو
    ایسا شخص یا جماعت یا گروہ کے
    کفریہ عقائد یا اعمال سے واقف ہو چکا ہو اور
    پھر بھی ان کا کفر(انکار) یا تکذیب نہیں کرتا
    اگر کسی گروہ کے
    عقائد و اعمال کے بارے میں واضح طور پر معلوم نہ ہو کہ
    یہ کفریہ ہیں یا نہیں
    اور
    ان کو کوئی شخص صحیح سمجھتا ہے یا انہیں غلط نہیں کہتا
    اور ان کی تکذیب نہیں کرتا تو ایسا شخص کافر شمار نہیں ہوگا
    بلکہ
    ایسے شخص کے سامنے
    اس مذہب، جماعت یا گروہ کے کفریہ عقائد و اعمال کی
    ایسی وضاحت کی جائے کہ
    وہ ہر طرح مطمئن ہو جائے
    اور
    اس کے دل میں
    اس مذہب، جماعت یا گروہ کے کفر کے بارے میں کوئی شک باقی نہ رہے
    اب اس وضاحت و اطمینان کے بعد بھی
    اگر وہ ان کی تکذیب یا تردید نہیں کرتا تو اسے کافر قرار دیا جائے گا
    اس لئے کہ
    اس کا عدم انکار و تردید اس بات کا ثبوت ہے کہ
    یہ انہیں صحیح سمجھ رہا ہے
    اسی طرح بعض مذاہب ایسے ہیں جن کا کفر مشہور و معروف ہے
    ہر شخص ان سے آگاہ ہے
    جیسے یہود، عیسائی، مجوسی، ہندو وغیرہ
    اب
    اگر کوئی شخص ان مذاہب والوں کو کافر نہیں سمجھتا تو
    یہ شخص کافر شمار ہوگا

    اس کے برعکس
    وہ گروہ اور مذاہب جن کا کفر عام لوگوں میں مشہور نہیں ہے تو
    ایسے مذاہب کی تردید نہ کرنے والے شخص پر
    کفر کا فتویٰ لگانے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے
    جب تک کہ پوری تحقیق و اطمینان نہ کر لیا جائے اور
    ان مذاہب کے کفریہ اعمال یا عقائد کو طشت ازبام نہ کر لیا جائے
    خصوصاً
    ایسے گروہوں اور جماعتوں کے بارے میں تو
    بہت ہی احتیاط و تحقیق کی ضرورت ہے
    جو خود کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اور
    عوام الناس کے سامنے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ
    ان کا کوئی بھی مسئلہ یا عمل و عقیدہ اسلام کے خلاف نہیں ہے
    اور
    عوام کے سامنے ایسا کوئی کام نہیں کرتے
    جس کی وجہ سے وہ ان سے متنفر ہو جائیں اور
    ان کے کفریہ نظریات سے واقف ہوجائیں

    اسی طرح کفر کا فتوٰی کسی شخص پر اس وقت لگایا جائے گا
    جب وہ کسی ایسے کام، قول یا عقیدے کا مرتکب و حامل ہو
    جس کے کفر ہونے پر قرآن و سنت کی دلیل اور اتفاق و اجماع ہے

    معتبر علماء کے ہاں کسی قول، عمل یا عقیدے کے کفر ہونے
    یا
    نہ ہونے میں اختلاف ہو،
    بعض علماء اسے کفر سمجھتے ہوں اور بعض نہیں،
    تو ایسے عمل کے مرتکب کو
    کافر نہ سمجھنے والے کو کافر نہیں کہنا چاہئے
    جیسے خوارج یا اس جیسے اور فرقے
    جن کے کفر و ارتداد پر اتفاق نہیں ہے

    اسی طرح
    اگر کوئی شخص عمداً نماذ چھوڑنے والے کو کافر نہیں سمجھتا تو
    ایسے کو بھی کافر نہیں کہا جائے گا
    بشرطیکہ تارکِ نماز، نماز کی فرضیت کا منکر نہ ہو
    (وجوب نماز کا انکار کرتے ہوئے اسےچھوڑنے والا بالاتفاق کافر ہے
    جبکہ اس کے وجوب کے اعتقاد کے ساتھ
    سستی و کاہلی سے چھوڑنے والے کے شرعی حکم میں
    فقہائے امت کا اختلاف ہے)
    راجح موقف یہی ہے کہ
    جان بوجھ کر دائمی طور پر نماز چھوڑ دینے والا ہی کافر ہے۔

    جب یہ تمام شرائط مکمل ہو جائیں اور
    پھر کوئی مسلمان کسی کافر یا مشرک کو کافر نہ سمجھے یا
    ان کے عقائد و نظریات اور اعمال کو صحیح سمجھے
    تو یہ بھی انہی میں شمار ہوگا
    گویا یہ بھی ان کی باتوں کا قائل اور معتقد ہے اور
    اب یہ ان عقائد کی وجہ سے شہادتین کی نفی کرنے والا شمار ہوگا
    بالفاظ
    دیگر یہ شخص ان دلائل کا منکر ہے
    جن کی وجہ سے وہ جماعت کافر قرار دی گئی ہے
    لہذا
    ان دلائل (قرآن و سنت) کے انکار کی وجہ سے کافر کہلائے گا۔
     
  5. ‏مئی 10، 2019 #15
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar رکن
    جگہ:
    الهند
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    کفر پر راضی رہنا اور اسلام سے راضی نہ رہنا بھی کفر ہے:

    کفر پر رضامندی کی مختلف صورتیں

    2--- کفار سے دوستی اور ان کے دین پر ان کی موافقت کرنا:

    آپ اس بات سے اچھی طرح واقف ہو چکے ہیں کہ
    لا اله الا اللہ کی شہادت کا مقصد ہے
    غیر اللہ سے استحقاقِ عبادت کی نفی کرنا اور
    عبادت کا مستحق صرف اللہ عزوجل کو سمجھنا
    یہی مقصد
    قرآن کی اس آیت میں بیان ہوا ہے:
    {اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ}
    "اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو"
    (النحل : 36)
    لہذا
    اس کلمہ کی شہادت صرف اس بات کا تقاضا نہیں کرتی کہ
    عبادت کا مستحق اللہ کو مانا جائے
    بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ
    غیر اللہ سے عبادت کی نفی کی جائے اور
    یہ نفی بایں طور ہو کہ
    مخلوق میں سے
    کسی کو بھی کسی قسم کی عبادت کا استحقاق نہ دیا جائے
    اس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہے
    جبکہ
    کفار اللہ کی عبادت کو تو عبادت کا کماحقہ مستحق سمجھتے نہیں
    اور
    اس کے ساتھ شریک بھی کرتے ہیں
    اس پر مستزاد یہ کہ
    محمد صلی الله عليه وسلم کی رسالت کا انکار کرتے ہیں اور
    ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور
    بہت سے ایسے کام کرتے ہیں جو شہادتین کے منافی ہیں
    یہ بھی ایسی بات ہے
    جس میں کسی مسلمان کو شک یا اختلاف نہیں ہے
    جب یہ دو باتیں مسلَّم ہیں تو
    پھر ہر کلمہ گو مسلمان کو ان حدود کا علم ہونا چاہئے
    جو ایک
    کافر، مرتد، مشرک کے ساتھ تعلقات رکھنے میں ملحوظ رکھی جاتی ہیں
    اور
    جن سے تجاوز کرنا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے
    تاکہ
    اس طرح وہ اپنے
    ایمان، دین، معاملات و تعلقات کو صحیح حدود پر رکھ سکے اور
    وہ یہ ہیں کہ
    مسلمان کسی مشرک، مرتد، کافر کے دین کی موافقت نہ کرے اور
    اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار نہ کرے
    بلکہ اس سے نفرت کرے
    جب کوئی مسلمان ان حدود کو پھلانگ جائے اور
    کفار کی اطاعت میں داخل ہو کر ان کے باطل دین کی موافقت کرے،
    ان کے ساتھ مالی یا دیگر قسم کا تعاون کرے،
    ان سے دوستی رکھے اور
    مسلمانوں سے تعلقات منقطع کر دے اور
    کفار کے ساتھ تعلقات کو مسلمانوں کے ساتھ تعلقات پر ترجیح دے اور مسلمانوں کی دوستی کو کفار کے ساتھ دوستی پر قربان کر دے تو
    ایسا شخص کفار میں سے شمار ہوگا اور
    مرتد کہلائے گا
    یہ ایسا کافر شمار ہوگا
    جو اللہ اور رسول صلی الله عليه وسلم کا سخت ترین دشمن ہے
    البتہ
    اس حکم میں مجبور شخص شامل نہیں ہے
    مجبور سے مراد وہ شخص ہے
    جو کفار کے ملک میں ان کی حکومت کے ماتحت رہتا ہے اور
    کفار اسے اپنے باطل دین یا
    اپنے غلط احکامات کی پابندی پر مجبور کر دیں،
    مخالفت کرنے پر اسے قتل کی دھمکیاں دیں اور کوئی سزا دیں
    تو ایسے میں اس شخص کے لئے جائز ہے کہ
    صرف زبانی طور پر ان لوگوں کی ہاں میں ہاں ملائے اور
    دل اپنے صحیح دین پر ہی مطمئن رکھے

    اسی طرح قرآنی آیات سے
    یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ
    شہادتین کے اقرار کرنے والے پر لازم ہے کہ
    کفار سے دوستی نہ کرے اور دینی امور میں ان سے دشمن کا برتاؤ رکھے
    اسی طرح قرآن کی بہت سی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ
    ایسا نہ کرنے والا شخص مرتد ہے
    اب آپ اگر شہادتین کے معنی کو ان آیات کے مطالب کے ساتھ ملائیں
    تو یہ بات واضح ہوگی کہ
    یہ (ارتداد و کفر) حقیقی ہے
    اس میں تاویل کی گنجائش نہیں ہے
    (یعنی ایسے شخص کے کفر میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے)
    اس بارے میں قرآن مجید میں بہت ساری آیات ہیں
    جن میں سے چند پیش کر رہے ہیں
    فرمایا:

    {لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُؤنَ الْکَافِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذَالِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللہِ فِیْ شَیْئٍ اِلَّا اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقَاۃً}
    "مسلمان مسلمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور
    جو کوئی ایسا کرے تو
    اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں،
    مگر اس حالت میں کہ تم بچاؤ کرنا چاہو"
    (اٰل عمران : 28)

    اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو کفار کی دوستی،
    ان سے محبت و مؤدت رکھنے سے منع کیا ہے
    مسلمانوں کو چھوڑ کر
    (یعنی مسلمانوں کی دوستی قربان کرکے)
    کفار سے دوستی کرنے سے منع کیا ہے

    اس آیت کی تفسیر میں ابنِ جریر کہتے ہیں کہ
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
    "اے مؤمنو، کفار کو اپنا مددگار، اپنا سہارا نہ بناؤ کہ
    تم ان کے دین کے مددگار بن کر مسلمانوں پر انہیں غالب کرتے ہو
    اور
    مؤمنین کی مخالفت مول لیتے ہو
    مؤمنین کے راز اُن کافروں تک پہنچاتے ہو
    ایسا کرنے والے کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے
    یعنی
    اللہ اس کے ارتداد و کفر کی وجہ سے اس سے بری و بیزار و لاتعلق ہے"
    (طبری، ج 6)

    اس آیت میں جو فرمایا ہے
    {اِلَّا اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقَاۃً}
    یعنی
    "سوائے اسکے کہ تم ان سے بچائو کرنا چاہو"
    تو اس کا معنی و مطلب وہی ہے
    جو دوسری آیت میں
    {اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ} کا ہے
    یعنی
    "مگر جو شخص مجبور کر دیا جائے
    (کفریہ کلمات یا کفار کی حمایت پر)
    اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو
    (تو وہ شخص مرتد و کافر نہیں ہے)"
    یعنی اگر کوئی مسلمان مجبور ہو،
    کفار سے دشمنی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو
    (اور ان کے ساتھ رہنے پر بھی مجبور ہو)
    تو وہ ظاہری دوستی و تعلقات رکھے
    مگر دل ایمان باللہ پر مطمئن رکھے اور
    دل میں ان کفار سے بغض و عداوت رکھے اور کفر سے نفرت کرے
    ابنِ جریر فرماتے ہیں کہ
    (ایسی حالت میں)
    تم ان کی دشمنی ان پر ظاہر نہ کرو
    البتہ
    ان کے ساتھ ایسی کوئی مدد نہ کرو
    جس کی وجہ سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو

    دوسری آیت جس میں کفار کی دوستی سے ممانعت کی گئی ہے

    وہ اللہ کا یہ فرمان ہے:
    {یَآ اَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَ الْنَّصَارٰی اَوْلِیَآءُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءَ بَعْضٍ
    وَّمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِنْکُمْ فَاِنَّهُ مِنْھُمْ اِنَّ اللہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ
    فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قَلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْھِمْ
    یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَۃٌ فَعَسَی اللہُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہ فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ نَادِمِیْنَ}
    "اے ایمان والو!
    یہود و نصارٰی کو دوست مت بناؤ
    یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں
    اب جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا تو
    وہ انہی میں سے ہوگا
    بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا
    اب تو دیکھے گا ان کا جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ
    دوڑ کر آتے ہیں ان کے پاس
    کہتے ہیں کہ ہم کو ڈر ہے کہ ہم پر کوئی مصیبت نہ آجائے
    قریب ہے کہ
    اللہ تعالیٰ فتح لے آئے یا
    کوئی حکم اپنے پاس سے بھیج دے تو
    یہ لوگ اپنے جی کی چھپی بات پر پچھتانے لگیں"
    (المآئدۃ : 52-51)

    اس آیت میں
    اللہ تعالیٰ نے یہود و نصارٰی کی دوستی سے منع کیا ہے اور
    یہ بھی بتا دیا ہے کہ
    جو اِن سے دوستی کرے گا
    وہ انہی میں شمار ہوگا
    جس نے یہود سے دوستی کی
    وہ یہودی
    اور
    جس نے نصرانی سے دوستی کی
    وہ نصرانی کہلائے گا
    اسی طرح
    جس کافر سے بھی دوستی کرے گا تو کفر میں اسی کی طرح ہوگا
    اس لئے کہ
    یہ شخص اس کے اعمال و عقائد پر راضی ہے
    لہذا کفر میں اسی کی طرح ہے

    ابن ابی حاتم نے محمد بن سرین سے روایت کیا ہے
    وہ کہتے ہیں
    عبداللہ بن عتبہ نے کہا کہ
    تم میں سے ہر شخص کو اس بات سے محتاط رہنا چاہئے کہ
    کہیں وہ انجانے میں یہودی یا نصرانی نہ ہو جائے
    تو ہم سمجھ گئے کہ
    ان کی مراد اس مذکورہ آیت سے ہے
    جس میں یہودی و نصارٰی سے دوستی کرنے والے کو بھی
    انہی میں شمار کیا گیا ہے
    یہ لوگ یہود و نصارٰی سے دوستی کو مجبوری خیال کرتے ہیں
    اس لئے کہ
    ان کو یہود و نصارٰی کی طاقت،
    ان کے مال اور دنیاوی جاہ و حشمت کا خوف ہے
    یہ مجبوری اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی
    اگر آپ ان لوگوں کی اس دلیل پر غور کریں گے تو
    آپ پر خود ہی واضح ہو جائے گا کہ
    کون سی بات مجبوری ہے اور
    کونسی نہیں ہے
    یعنی یہ کوئی عذر یا مجبوری نہیں ہے کہ
    (یہود و نصارٰی کے پاس طاقت، مال، دولت، حکومت ہے
    اس لئے ان سے دوستی رکھنا ضرورت یا مجبوری ہے)

    {تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْھُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَبِئسَ مَا قَدَّمَتْ لَھُمْ اَنْفُسُھُمْ اَنْ سَخِطَ اللہُ علَیْہِمْ وَفِی الْعَذَابِ ہُمْ خَالِدُوْنَ، وَلَوْ کَانُوْا یُؤمِنُوْنَ بِاللہِ وَ النَّبِیِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِیَآءَ وَلٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فَاسِقُوْنَ}
    "آپ دیکھتے ہیں کہ
    ان میں سے بہت سے لوگ ان کافروں سے دوستی کرتے ہیں
    کیا ہی بُرا سامان بھیجا ہے
    انہوں نے اپنے لئے وہ یہ کہ
    اللہ کا غضب ہوا ان پر اور
    وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں
    اگر وہ یقین رکھتے
    اللہ پر اور نبی پر اور جو نبی پر اترا،
    تو کافروں کو دوست نہ بناتے
    لیکن ان میں بہت سے لوگ نافرمان ہیں"
    (المآئدۃ : 81-80)

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کیا کہ
    اللہ اور اس کے نبی پر ایمان
    کافروں کی دشمنی سے وابستہ اور مربوط ہے
    ان سے دوستی عدمِ ایمان کی نشانی ہے
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ
    کافروں سے دوستی رکھنے والے
    اللہ تعالیٰ کے غضب اور مستقل عذاب کے مستحق ہوں گے
    یہ بھی بتایا کہ
    کافروں سے مؤمن کبھی دوستی نہیں کرتا
    بلکہ اہلِ ایمان تو ان سے دشمنی کیا کرتے ہیں
    ان آیات میں غور کرنے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ
    اللہ تعالیٰ نے کفار سے دوستی نہ کرنے کو
    شہادتین کے معنی میں داخل رکھا ہے اور
    آیت میں اللہ اور نبی اور
    ان پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان کا جو ذکر ہے
    اس سے مراد یہی شہادتین ہیں

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

    {بَشِّرِ الْمُنَافِقِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
    الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکَافِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ
    فَاِنَّ الْعِزَّۃَ ِللہِ جَمِیْعًا}
    "منافقین کو بتا دو کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے،
    جو لوگ مؤمنوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرتے ہیں کیا
    یہ ان کے پاس عزت تلاش کررہے ہیں؟
    (تو جان رکھو کہ)
    عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے"
    (النسآء : 139-138)

    اس آیت میں
    اللہ تعالیٰ نے کافروں سے دوستی کو منافقوں کی
    اہم خصوصیت قرار دیا ہے

    ارشاد ربّانی ہے:

    {لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرَ یُوَادُّنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَرَسُوْلَهُ
    وَلَوْ کَانُوْا اٰبَآئَ ھُمْ اَوْ اَبْنَآءَھُمْ اَوْ اِخْوَانَھُمْ اَوْ عَشِیْرَتَھُمْ}
    "آپ کسی ایسی قوم کو نہیں پائیں گے
    جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو
    جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرتے ہیں
    چاہے وہ (اللہ ، رسول کے دشمن)
    ان (مؤمنوں) کے باپ ہوں، بیٹے ہوں، بھائی ہوں یا (دیگر) رشتہ دار ہوں"
    (مجادلہ : 22)

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ
    کوئی بھی مؤمن کسی کافر سے دوستی کرتا ہوا نہیں ملتا
    لہذا جو کافروں سے دوستی کرتا ہے وہ مؤمن نہیں ہوتا
    دوسری بات اس آیت سے یہ واضح ہوتی ہے کہ
    جب اپنے کافر (کفر و شرک کرنے والے)
    باپ، بیٹے، بھائی، رشتہ دار سے دوستی کسی مؤمن کے لئے روا نہیں ہے
    تو پھر
    دیگر کفار سے دوستی کرنے والا تو بدرجہ اولٰی کافر ہے

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

    {اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِھِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ الْھُدَی الشَّیْطَانُ سَوَّلَ لَھُمْ وَ اَمْلٰی لَھُمْ،
    ذَالِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِہُوْا مَانَزَّلَ اللہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ وَاللہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَھُمْ،
    فَکَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْھُمْ الْمَلَآئِکَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَ اَدْبَارَھُمْ،
    ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ اتَّبَعُوْا مَا اَسْخَطَ اللہُ وَکَرِہُوْا رِضْوَانَهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَھُمْ}

    "جو لوگ پیٹھ کے بل پھر گئے
    اس کے بعد کہ
    ان پر سیدھی راہ واضح ہو چکی
    شیطان نے ان کو خوبصورت باتیں بتائیں اور دیر کے وعدے کئے،
    یہ اس واسطے کہ انہوں نے کہا
    ان لوگوں سے جو بیزار ہیں
    اللہ کی اتاری ہوئی کتاب سے کہ
    ہم بعض کاموں میں تمہاری بات بھی مانیں گے
    اللہ خوب جانتا ہے ان کی پوشیدہ باتیں،
    پھر کیسا حال ہوگا
    جب فرشتے ان کی جانیں نکالیں گے
    ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے جائیں گے،
    یہ اس لئے کہ وہ چلے اس راہ پر
    جس سے اللہ بیزار ہے اور
    انہوں نے ناپسند کی اس (اللہ) کی خوشی تو
    اس نے ان کے اعمال اکارت کر دئیے"
    (محمد : 28-25)

    اس آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ
    ان کے مرتد و کافر ہونے کا سبب ان کا یہ قول ہے
    جو انہوں نے کافروں سے کہا تھا کہ
    ہم بعض کاموں میں تمہاری بات بھی مانیں گے
    لہذا
    جو ہدایت انہوں نے حاصل کی تھی اس نے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا
    جب انہوں نے اسلام سے نفرت کرنے والے
    اللہ کے دشمن کافروں سے ان کی بات ماننے کا وعدہ کیا

    [وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الْکِتَابِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیَاتِ اللہِ یُکْفَرُ بِھَا وَیُسْتَہْزَءُ بِہَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہِ اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ}
    "تم پر کتاب میں یہ بات نازل کر دی گئی ہے (تمہیں حکم دیا گیا ہے) کہ
    جب تم سنو کہ
    اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے یا
    ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو
    ان کے ساتھ مت بیٹھو
    جب تک کہ
    وہ دوسری باتیں نہ شروع کردیں
    (اگر تم پھر بھی بیٹھے رہے) تو تم انہی جیسے ہوگے"
    (النسآء : 140)]

    اس آیت میں
    اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ
    مؤمن اس جگہ نہیں بیٹھتے
    جہاں اللہ کی آیات و احکام کا انکار کیا جاتا ہو
    یا
    ان کا مذاق اڑایا جاتا ہو
    اگر کوئی شخص ایسے کافروں یا مذاق کرنے والوں کے ساتھ بیٹھے گا
    تو وہ بھی ان جیسا ہوگا
    حالانکہ یہ حکم اس وقت تھا
    جب شروع اسلام میں شہر بھی کافروں کا تھا اور
    مسلمان وہاں رہنے پر مجبور تھے
    اب تو اپنے شہر اور علاقے ہیں،
    ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور دوستی کی مجبوری بھی نہیں تو
    اب کافروں کو اپنے شہروں میں بلانے،
    ان سے محبت و دوستی کی پینگیں بڑھانے،
    (جب کہ وہ اپنے کفریہ نظریات پر قائم ہیں اور
    اللہ تعالیٰ کے احکامات کے ساتھ استہزاء بھی کررہے ہیں)
    اور ان کے طور طریقے اپنانے سے
    کیا کافر نہیں کہلائیں گے؟
    حالانکہ
    ان کے اس طرزِ عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ
    کفر اور کفار کو پسند کرتے ہیں
    اس طرح کا طرزِ عمل
    ان کو ایمان سے دور اور کفر میں داخل کر دیتا ہے
    اس لئے کہ
    کفار کی مجلس میں خاموشی ان کی موافقت کی دلیل ہے

    لہذا ہر مؤمن پر واجب ہے کہ
    ایسے ہر عمل سے اسی طرح محتاط رہے
    جس طرح کہ کفرِ صریح سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور
    اس طرح کی مجالس سے دور رہے تاکہ اللہ کے عذاب سے محفوظ رہ سکے

    دنیاوی مال دولت یا دیگر اغراض کو اس بارے میں رکاوٹ نہ بننے دے۔
     
  6. ‏مئی 10، 2019 #16
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar رکن
    جگہ:
    الهند
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    ایمان کو ضائع کر دینے والے اُمور:-

    کفار سے دوستی کا معنی

    پچھلے میسج میں تو چند آیات بیان کی تھیں
    جو کفار و مشرکین سے
    دوستی کرنے کے رد میں بطور نمونہ پیش کی گئیں
    جبکہ
    ان کے علاوہ بھی بہت سی آیات ہیں
    جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ
    کفار و مشرکین سے دوستی شہادتین کے مقاصد کے منافی ہے
    اب اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ
    دوستی کا مفہوم تو بہت وسیع ہے
    اس میں بہت سے ایسے امور بھی آجاتے ہیں
    جن کے بغیر رہا نہیں جاسکتا اور
    مجبوراً کفار سے تعلق رکھنا پڑتا ہے
    لہذا
    کفار سے دوستی کی
    ایسی کوئی تعریف ہونی چاہئے کہ
    جسے ہم ایک معیار قرار دے دیں اور
    جس کی بنیاد پر ہم کسی کو کافر و مسلم قرار دے سکیں
    اس لئے کہ
    اسلام میں کسی مبہم و غیر واضح عمل یا قول پر
    کسی کو کافر قرار نہیں دیا جاتا
    اسی طرح
    اللّٰه تعالٰی کسی مبہم چیز سے منع نہیں کرتا
    بلکہ باقاعدہ وضاحت کرتا ہے
    تعریف، شرائط، حدود بیان کرنے کے بعد حرام قرار دیتا ہے
    اگر بغیر تعریف اور وضاحتِ امر کے
    اللّٰه تعالیٰ کسی چیز کا حکم کرے یا منع کرے تو
    اس حکم پر عمل کرنا مشکل ہوگا اور
    اللّٰه تعالیٰ کا ایسا حکم بے فائدہ رہے گا
    کیونکہ
    اس کی اطاعت ممکن نہیں ہو گی
    جبکہ
    (اللّٰه تعالیٰ کا ہر حکم ایسے عیوب سے پاک ہے)

    لہذا ضروری ہے کہ
    تعلقات اور دوستی کی جامع مانع تعریف کرلی جائے اور
    پھر اس سے منع کیا جائے

    عربی میں دوستی اور تعلقات کے لئے
    لفظ مَوَالَاۃٌ استعمال ہوتا ہے
    جو کہ وِلَآءٌ سے مشتق (ماخوذ) ہے
    جس کا معنی نزدیکی و قربت ہے
    لفظ ولایۃ، عداوت (دشمنی) کی ضد ہے
    وَلِیْ ، عَدُوٌّ کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے
    وَلِیْ کا معنی دوست ہے،
    عَدُوٌّ کا معنی دشمنی ہے
    اس معنی کی رو سے
    مؤمن اللّٰه تعالیٰ کے دوست ہیں
    اور
    کافر شیطان کے دوست ہیں
    اس لئے کہ
    مؤمن اللّٰه تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کر کے
    اس کا قرب حاصل کرتے ہیں
    جبکہ
    کافر شیطان کی اطاعت کر کے اس کے قریب اور
    الله سے دور ہوجاتے ہیں
    اس لئے کہ شیطان کی اطاعت میں
    الله تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے اور
    اس کے احکام کی مخالفت ہوتی ہے

    اس تشریح سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ
    "کفار کے ساتھ مَوَالَاۃ"
    سے کفار کا قرب اور ان سے محبت و دوستی کا اظہار مراد ہے
    چاہے کسی عمل سے ہو یا قول سے

    اسی طرح کفار سے دوسرے کے زمرے میں جو امور آتے ہیں
    ان کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے
    مثلاً :

    1-:----- کفار کی خواہشات کی پیروی:

    {وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰهِ ہُوَ الْھُدٰی وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآءَ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَکَ مِنَ الْعِلْمِ مَالَکَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٌ}
    "یہود و نصارٰی آپ سے کبھی راضی نہ ہوں گے
    جب تک کہ
    آپ ان کے دین کی اتباع نہ کرلیں اور
    اگر آپ نے علم آجانے کے بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کی تو
    اللّٰه کی طرف سے نہ آپ کا کوئی دوست ہوگا اور
    نہ کوئی مدد گار و حمایتی"
    (البقرة : 120)

    یہود و نصارٰی کی اطاعت سے مراد ہے
    ان کے حکم و مشوروں پر عمل کرنا

    اللّٰه تعالیٰ کا فرمان ہے:

    {یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تُطِیْعُو الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خَاسِرِیْنَ}
    "اے ایمان والو
    اگر تم کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تمہیں الٹے پاؤں پھیر دیں گے
    پھر جا پڑو گے تم نقصان میں"
    (اٰل عمران : 149)

    اور فرمایا:

    {وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِکْرِنَا}
    "اس کا کہا مت مان
    جس کا دل ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے"
    (الکہف : 28)

    فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

    {وَ اِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ لَیُوۡحُوۡنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوۡکُمۡ ۚ
    وَ اِنۡ اَطَعۡتُمُوۡہُمۡ اِنَّکُمۡ لَمُشۡرِکُوۡنَ}
    "اور شیاطین اپنے رفیقوں کے دل میں بات ڈالتے ہیں
    تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں
    اور
    اگر تم نے ان کا کہا مانا تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے"
    (الانعام : 121)

    2-:----- ان کی طرف جھکاؤ، میلان رکھنا:

    {وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ}
    "ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ تمہیں آگ آلگے گی"
    (ہود : 113)

    جھکاؤ سے مراد ہے
    ان کی باتوں پر راضی ہونا
    ان کی باتوں یا اعمال کی تائید یا تحسین کرنا،
    دین کے معاملات میں ان کے سامنے سستی کا مظاہرہ کرنا

    {وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡہِنُ فَیُدۡہِنُوۡنَ}
    "وہ چاہتے ہیں کہ
    "آپ کچھ ڈھیلے پڑ جائیں تو وہ بھی لچک کا مظاہرہ کریں گے"
    (القلم : 9)

    3-:----- ان سے محبت کا اظہار کرنا:

    {لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ
    وَ رَسُوْلَهُ}
    "آپ کوئی ایسی قوم نہیں پائیں گے
    جو اللّٰه اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور
    پھر وہ اللّٰه اور رسول کے دشمنوں سے محبت بھی کرتی ہو"
    (مجادله : 22)

    اسی طرح کفار کی عزت کرنا،
    ان کا قرب حاصل کرنا،
    مسلمان بھائیوں کے خلاف کفار سے مدد لینا،
    ان کے ظالمانہ کاموں میں ان کی مدد و حمایت کرنا،
    ان کے اعمال کی مشابہت یعنی ان کی نقالی کرنا،
    ان کے نظام، قوانین و دیگر احکامات کو (عارضی طور پر بھی)
    امت کی اصلاح و تربیت کے لئے اپنانا،
    اسلامی حکومت کے اہم ملکی و حکومتی یا
    نجی معاملات میں ان سے مشورے لینا،
    ان کے اختیار کردہ فیشن اپنانا،
    ان کے کھانے پینے، رہن سہن کے طور طریقے اختیار کرنا،
    یہ سب کفار کی دوستی و محبت میں شمار ہوں گے

    ----- کفار کی مدد میں یہ امور داخل ہیں:

    ان کی تنظیموں میں شامل ہونا،
    ان کے ساتھ مل کر یا ان کی فوج میں شامل ہوکر جنگ کرنا،
    ان کو امانت دار سمجھنا
    (ان کے بنکوں کو قابل بھروسہ سمجھ کر ان میں اپنا پیسہ رکھنا)
    جبکہ
    اللّٰه تعالیٰ نے انہیں خائن کہا ہے،
    ان کے خفیہ اداروں میں شامل ہوکر جاسوسی کرنا
    خصوصاً
    مسلمانوں کی خفیہ معلومات ان تک پہنچنے کا ذریعہ بننا،
    اسلامی حکومت کے اہم مراکز،
    اداروں کی سربراہی کسی کافر و مشرک، غیر مسلم کو دینا،
    یا
    اہم عہدوں پر کفار کو تعینات کرنا
    یا
    اہم اداروں میں ان کو بھرتی کرنا
    اسی طرح
    اس دوستی و محبت میں یہ بھی داخل ہے کہ
    ان کے افکار و آراء ،
    ان کے معمولاتِ زندگی کو بہترین سمجھنا اور
    دوسروں کو ان معمولات کو اپنانے کی ترغیب دینا
    ان کے ماہرین کو مسلم ماہرین پر ترجیح دینا
    اب
    جس شخص یا قوم میں یہ تمام مذکورہ باتیں
    یا
    ان میں سے کچھ پائی جائیں اور
    ان کو اپنی عادت بنا لے تو
    یہ اس بات کی دلیل ہے کہ
    یہ شخص یا قوم کافروں کے کفریہ اعمال پر راضی و خوش ہے
    لہذا
    یہ شخص ان کی طرح بلکہ ان میں سے شمار ہوگا
    اور جب تک اپنے ایمان کی تجدید نہ کرلے
    اور ان امور سے چھٹکارا حاصل نہ کرلے
    اس وقت تک وہ انہی میں سے کہلائے گا۔
     
  7. ‏مئی 10، 2019 #17
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar رکن
    جگہ:
    الهند
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    ایمان کو ضائع کر دینے والے اُمور:-

    *** اس بارےمیں کون سا عذر قابلِ قبول ہے؟ ***

    کفار سے دوستی و تعلق رکھنے والے
    بعض لوگ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ
    ہمیں اپنے ملک یا جان و مال کا ان کفار سے خطرہ لاحق ہے
    اس لئے مجبوراً ان سے اچھے تعلقات رکھنے پڑ رہے ہیں
    یہ ایسا عذر ہے
    جو الله کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہے
    یہ صرف شیطان کا بہکاؤا اور مال و دولت کی محبت ہے
    اس لئے کہ
    اللہ تعالیٰ نے کفار سے دوستی،
    ان کے دین کی موافقت اور
    ان کی پیروی کے سلسلے میں صرف ایک عذر قبول کیا ہے
    جسے اِکْرَاہ (جبر کی حالت) کہتے ہیں
    جیسا کہ
    اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

    {(مَنۡ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنۡ اُکۡرِہَ وَ قَلۡبُہٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ وَ لٰکِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡکُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ
    ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ)}

    "جس نے ایمان لانے کے بعد
    الله سے کفر کیا
    سوائے اس کے جس پر زبردستی کی گئی اور
    اس کا دل ایمان پر برقرار ہے
    (یہ تو مستثنٰی ہے)
    لیکن جو کوئی دل کھول کر منکر ہوا تو
    ان پر الله کا غضب ہے اور
    ان کے لئے بڑا عذاب ہے"
    "یہ اس لئے کہ
    انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر عزیز رکھا
    اور
    بیشک الله کافر قوم کو ہدایت نہیں کرتا"
    (النحل : 106۔107)

    دوسری جگہ ارشاد ہے:

    {(لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ
    وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً)}

    "مؤمن کافروں کو دوست نہ بنائیں
    مومنین کو چھوڑ کر اور جو کوئی ایسا کام کرے تو
    الله سے اس کا کوئی تعلق نہیں
    مگر اس حالت میں کہ تم اُن سے بچاؤ کرنا چاہو"

    (اٰل عمران : 28)

    ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ
    اِکْرَاہ اس وقت تسلیم و معتبر نہیں ہے
    جب اس میں دل کی رضامندی،
    کفار کی طرف باطنی میلان
    یعنی کوئی خفیہ تعلق یا کوئی غرض ہو
    اس طرح کی کیفیت پر اِکْرَاہ کا اطلاق ہی نہیں ہوتا
    کیونکہ
    الله نے اکراہ کے لئے وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ
    کی شرط لگائی ہے
    اس لئے کہ
    جسم پر زبردستی کی جاسکتی ہے،
    اسے مجبور کیا جاسکتا ہے
    مگر کسی کے دل کو
    کسی بات پر آمادہ کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا
    اِکراہ (زبردستی، جبر)
    صرف زبان اور جسمانی افعال تک ہی ہے
    لہذا جو شخص (خواہ اِکراہ کی حالت میں)
    دلی طور پر کفار سے دوستی کرتا ہے یا
    ان کی طرف مائل ہے تو
    ایسا شخص کافر شمار ہوگا
    ایسے شخص کی زبان یا عمل سے
    اگر کفار کی دوستی ظاہر ہوتی ہے تو
    دنیا میں
    اس کے ساتھ کفار والا معاملہ کیا جائے گا
    اور
    آخرت میں ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہے گا
    اور
    اگر زبان یا عمل سے کفار سے دوستی کا اظہار نہ کرے،
    بظاہر مسلمان بن کر رہے تو
    اس کا مال اور خون مسلمانوں کی طرح محفوظ رہے گا
    مگر
    منافق ہونے کی بنا پر جہنم کے سب سے نچلے درجے میں رہے گا

    *** اکراہ کی معتبر صورت ***

    اس مقام پر اکراہ کی وہ صورت بیان کرنا ضروری ہے
    جسے شریعت میں معتبر سمجھا جاتا ہے
    اس بارے میں
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہُ الله تعالیٰ فرماتے ہیں:
    "میں نے مذاہب میں غوروفکر کیا تو
    اکراہ کی صورتوں میں اختلاف پایا اور
    یہ اختلاف مجبور کرنے کی وجہ سے ہے
    مثلاً
    کلمۂ کفر کہنے میں وہ اکراہ معتبر نہیں ہے
    جو ہبہ وغیرہ میں معتبر ہے"

    امام احمد بن حنبل رحمہ الله نے
    کئی مقامات پر بیان کیا کہ
    کفر پر اکراہ صرف وہی معتبر ہے
    جو سزا کے ذریعہ سے ہو
    صرف زبانی طور پر کسی کو مجبور کر کے
    کلمۂ کفر نہیں کہلوایا جاسکتا
    اگر کسی نے
    ایسی مجبوری کی وجہ سے کفریہ کلمہ کہا
    تو یہ معتبر نہ ہوگا
    کلمۂ کفر اس صورت میں کہے گا
    جب اسے قید یا قتل یا
    اس جیسی اور کوئی دھمکی دی گئی ہو
    (جس پر عملدرآمد ہونے کا پورا امکان ہو)
    اس فرق کی وضاحت اس طرح ہوتی ہے کہ
    اگر ایک عورت نے اپنا مہر
    اپنے شوہر کو ہبہ(معاف) کر دیا
    مگر پھر اس نے اپنی بات سے مکرنا چاہا
    مگر یہ سوچ کر چپ رہی کہ
    کہیں مہر طلب کرنے پر شوہر طلاق نہ دے دے
    یا
    اس کی زندگی تلخ نہ بنا دے تو
    یہ بھی اکراہ اور مجبوری ہے اور
    ایسے معاملات میں معتبر ہے
    مگر
    کفر کرنے کے لئے ایسی مجبوری کافی نہیں ہے
    مثلاً
    اگر کوئی قیدی اس بات سے ڈرتا ہو کہ
    اگر میں نے کفر نہ کیا تو
    یہ لوگ میری شادی نہیں ہونے دیں گے یا
    میرے اور میری بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں گے تو
    اس بنیاد پر
    اسے کفر کرنے کی اجازت نہیں ہے،
    خواہ اس کی شادی رکتی ہو یا بیوی سے علیحدگی ہوتی ہو

    امام احمد بن حنبل رحمہ الله کی یہ رائے ہے
    جس کی تائید و حمایت
    امام ابن تیمیہ رحمہ الله نے بھی کی ہے کہ
    مجبور آدمی کلمۂ کفر اس وقت کہے گا
    جب اتنا مجبور کر دیا جائے کہ
    اسے مارا پیٹا جائے یا قتل کرنے کے درپے ہوں
    اس سے کم کوئی معاملہ ہو
    مثلاً
    نوکری جانے، عہدے سے معزولی یا
    دیگر مالی نقصان ہو یا ملک یا بال بچوں کا معاملہ ہو تو
    یہ مجبوری قابلِ قبول نہیں ہے

    ان دونوں ائمہ رحمہم الله کی رائے کی تائید
    سابقہ دلائل سے بھی ہوتی ہے
    جن میں کفار کی دوستی سے منع کیا گیا ہے
    اور
    اس دوستی کو کفر و ارتداد کا سبب قرار دیا گیا ہے
    ایک اور آیت ہم یہاں پیش کر رہے ہیں
    جس میں الله تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ

    دنیا کی محبت و منافع کے لئے کفار سے دوستی کرنے والے کو
    الله کے ہاں کسی کی کوئی سفارش فائدہ نہیں دے گی
    اگر یہ دوستی
    اس کو کفر کے زمرے میں لانے یا کفریہ عمل کرنے کا سبب بنتی ہو
    ارشاد ہے:
    {(ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ)}
    "یہ (کفار سے دوستی) اس لئے ہے کہ ان لوگوں نے
    دنیا کو آخرت کے مقابلے میں پسند کر لیا ہے
    بے شک الله کافر قوم کو ہدایت نہیں کرتا"
    (النحل : 107)

    دوسری آیت میں
    الله تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے
    جو الله کے مقابلے پر اپنے باپ بھائیوں کو دوست بناتے ہیں

    {(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَکُمۡ وَ اِخۡوَانَکُمۡ اَوۡلِیَآءَ اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡکُفۡرَ عَلَی الۡاِیۡمَانِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ)}
    "ایمان والو، اپنے باپ اور بھائیوں کو دوست مت بناؤ
    اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے ہوں
    جس نے بھی تم میں سے انہیں دوست بنایا،
    تو (جان رکھو کہ) ایسے ہی لوگ ظالم ہیں"
    (التوبة : 23)

    اس آیت میں الله تعالیٰ نے رشتہ داروں، قربت داروں سے تعلقات رکھنے کو بھی عذر تسلیم نہیں کیا
    بلکہ اس کی نفی کر دی ہے کہ
    کوئی شخص یہ مجبوری پیش نہ کرسکے کہ
    کفر کو پسند کرنے والے سے تعلق اس لئے رکھنا پڑ رہا ہے کہ
    وہ میرا باپ ہے یا بھائی ہے
    جب باپ، بھائی، بیٹے کی محبت کو عذر و مجبوری تسلیم نہیں کیا گیا تو
    پھر
    دنیاوی مال و متاع کو کیسے عذر مانا جائے

    بلکہ
    اللہ تعالیٰ نے ان آٹھ قسم کے عذر کو بھی
    بیکار و بے فائدہ قرار دیا ہے
    جو عموماََ لوگوں کے ہاں تسلیم شدہ ہیں اور
    جن کی بنا پر
    الله و رسول کی محبت و اطاعت میں کمی و سستی کی جاتی ہے
    فرمایا
    {(قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ)}
    "آپ صلی الله عليه وسلم کہہ دیجئے
    اگر تمہارے باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں، برادری اور مال
    جو تم نے کمایا اور تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور
    حویلیاں جن کو تم پسند کرتے ہو،
    تم کو زیادہ محبوب ہیں
    الله اور اس کے رسول صلی الله عليه وسلم سے
    اور
    الله کی راہ میں جہاد کرنے سے، تو انتظار کرو
    یہاں تک کہ بھیج دے
    الله تعالیٰ اپنا حکم (عذاب)
    اور
    الله تعالیٰ راستہ نہیں دکھاتا نافرمان لوگوں کو"
    (التوبة : 24)

    اسی طرح
    جن لوگوں نے کسی مصیبت و پریشانی اور
    یہود و نصارٰی کی کسی سازش کے ڈر سے
    ان سے دوستی کرنے کو مجبوری کہا تو
    الله نے ان کا یہ عذر بھی قبول نہ کیا
    فرمایا

    {(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘ ؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ
    فَتَرَی الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوۡنَ فِیۡہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰۤی اَنۡ تُصِیۡبَنَا دَآئِرَۃٌ)}
    "ایمان والو!
    یہود و نصارٰی کو دوست مت بناؤ
    یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں جو ان سے دوستی کرے گا
    وہ انہی میں سے ہوگا
    بے شک
    الله ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا
    آپ دیکھیں گے
    ان لوگوں کو جن کے دلوں میں بیماری (نفاق)
    ہے کہ
    ان (یہود و عیسائیوں) کی طرف دوڑ دوڑ کے
    (دوستی کے لئے) جاتے ہیں
    کہتے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ
    کہیں ہم کسی گردش میں نہ آجائیں"
    (المآئدۃ : 51۔52)

    موجودہ دور میں یہی حال
    اکثر مرتدین کا ہے
    انہیں بھی یہودیوں کی سازشوں کا ڈر ہے
    اس لئے ان سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں
    سابقہ اور موجودہ دونوں قسم کے
    مرتدین کا عذد بھی ایک جیسا ہے
    یہ بھی وہی عذر پیش کر رہے ہیں
    جو پہلے کے لوگ کر رہے تھے
    یہ بھی سازش سے ڈرتے ہیں وہ بھی ڈرتے تھے
    کہتے ہیں کہ
    ہم ان سے دوستی کیوں نہ کریں
    ان کے پاس طاقت ہے بلکہ سپر طاقت ہے
    ہم ان کی دشمنی مول لے کر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے
    (اگرچہ اس دوستی کے لئے
    انہیں دین و عقیدہ قربان کرنا پڑے)

    کبھی کہتے ہیں
    ہم اس سپر پاور کی ترجیحات سے کیسے لا تعلق رہیں
    جس کی طاقت و عظمت کی پوری دنیا قائل ہے
    اگرچہ
    اس طاقت کی ترجیحات میں
    ان کو توحید و دین اسلام سے دور کرنا
    ایمان والوں کا قتل، ان کے اتحاد کو ختم کرنا،
    ان کے اخلاق بگاڑنا،
    انہیں اپنے علاقوں، گھروں سے نکالنا سرِفہرست ہو
    پھر بھی ان سے دوستی کی جائے؟
    کبھی کہتے ہیں
    ہم اس جگہ ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتے
    جہاں اس طاقت کی حکمرانی یا عمل دخل ہے
    اگر ہم انکی حمایت نہ کریں
    اس لئے کہ
    ان کی مخالفت کر کے
    ہم اپنے گھروں کو قربان نہیں کرسکتے،
    اپنے علاقے نہیں چھوڑ سکتے
    حالآنکہ
    یہ خوف کسی سپر پاور سے نہیں
    بلکہ
    اللہ تعالیٰ سے رکھنا چاہئے
    اگر کوئی شخص
    اس طرح کا خوف غیر اللہ سے رکھے تو
    یہ کفر کہلائے گا
    اس طرح یہ لوگ دو دفعہ کافر بنتے ہیں
    ایک تو کفار سے دوستی کر کے اور
    دوسرے ان کی عبادت کر کے
    یعنی
    وہ خوف اور ڈر
    جو صرف اللہ تعالیٰ سے رکھنا چاہئے
    وہ ان کفار سے رکھ کے
    ان کی عبادت کے مرتکب ہوئے

    مذکورہ دلائل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ
    الله تعالیٰ کے ہاں
    کفار سے دوستی کرنے والے کا کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہے
    سوائے
    اس شخص کے جس کا حال
    عمار بن یاسر رضی الله عنه جیسا ہو
    جن کے بارے میں
    الله تعالیٰ نے فرمایا:
    {اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ}
    "جسے مجبور کر دیا گیا (کلمہ کفر کہنے پر) اور
    اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو"

    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
    مجبور شخص کفار کے قبضہ و طاقت میں ہو
    اور وہ لوگ اس پر مکمل اختیار رکھتے ہوں
    تو ایسے میں اگر اسے مجبور کر دیا جائے
    تو اسے رخصت ہے کہ
    خلافِ ایمان و اسلام عمل یا قول
    اس سے سرزد ہو
    مگر جب کفار کی سزا اور تسلط ختم ہو جائے
    تو پھر مجبوری بھی ختم ہو جائے گی
    اگر وہ لوگ دوبارہ سزا دیں
    تو پھر رخصت بھی دوبارہ مل جائے گی
    آپ صلی الله عليه وسلم نے
    عمار رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے کہا تھا
    ((فَاِنْ عَادُوْا فَعُدْ))
    "اگر وہ پھر ایسا کریں تو تم بھی ویسا ہی کرنا"

    ابنِ قدامہ کہتے ہیں:
    "جب یہ ثابت ہوا کہ
    مجبور شخص کو کافر نہیں کہا جائے گا
    تو جب بھی اس کی مجبوری ختم ہو گی
    وہ اپنے اسلام (توحید و ایمان) کا اظہار کرے گا
    جب وہ اسلام کا اظہار کر لے گا تو
    وہ اسلام (خالص توحید و ایمان) پر باقی رہے گا
    اور
    اگر مجبوری ختم ہونے کے بعد بھی
    اس نے کفر کا اظہار کیا تو
    وہ کافر شمار ہوگا
    اس لئے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ
    اس نے مجبور ہو کر نہیں
    بلکہ
    دلی اطمینان کے ساتھ کفر اختیار کیا ہے"
    (المغنی، ج9، صفحہ 24)

    البتہ
    اگر کوئی شخص مجبور کئے جانے کے باوجود بھی
    کلمہ کفر نہیں کہتا،
    نہ کفار سے دوستی کرتا ہے،
    نہ ان کے دین کی موافقت کرتا ہے
    یہاں تک کہ
    اس کی جان چلی جاتی ہے تو
    اس شخص کو فضیلت حاصل ہے
    بنسبت
    اس کے جو مجبور ہو کر کفریہ الفاظ کہتا ہے
    یا
    عمل کرتا ہے
    جیسا کہ
    محمد صلی الله عليه وسلم نے فرمایا

    [{(قَدْ کَانَ مِنْ قَبْلِکُمْ یُوْخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْضَرُ لَهُ فِی الْاَرْضِ فَیُجْعَلُ فِیْہَا ثُمَّ یُؤْتٰی بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَاْسِه فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ وَ یُمْشَطُ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ لَحْمِه وَ عَظْمِه مَا یَصُدُّہ ذَالِکَ عَنْ دِیْنِه)}]

    "تم سے پہلے جو لوگ (مسلمان) تھے
    ان میں کسی آدمی کو پکڑ لیا جاتا تھا
    پھر زمین میں گڑھا کھود کر
    اس میں (آدھا) دبا دیا جاتا
    پھر اس کے سر پر آری رکھ کر درمیان سے
    دو حصوں میں کاٹ دیا جاتا تھا اور
    (ایمان والے کو) لوہے کی کنگھی سے چھیلا جاتا تھا
    یہاں تک کہ
    گوشت چھل جاتا، ہڈیاں ظاہر ہو جاتیں
    مگر یہ سختیاں
    اسے اپنے دین سے نہیں پھیر سکتی تھیں"
    (بخاری)

    اس کی تائید
    اصحاب الاخدود کے واقعہ سے بھی ہوتی ہے
    جس کا تذکرہ احادیث میں موجود ہے
    کہ
    خندقیں کھود کر اس میں آگ جلائی گئی اور
    پھر مؤمنوں کو اس میں ڈال کر جلا دیا گیا
    مگر وہ بھڑکتی ہوئی آگ سے بھری خندقیں
    ان مؤمنین کو اپنے دین سے نہ ہٹا سکیں اور
    اس طرح انہوں نے
    اپنی جانوں کی قربانی دے دی
    مگر دین پر ثابت قدم رہے

    قرآن مجید میں اس کا تذکرہ
    ان الفاظ میں موجود ہے:

    {(قُتِلَ اَصۡحٰبُ الۡاُخۡدُوۡدِ ۙ
    النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِ ۙ
    اِذۡ ہُمۡ عَلَیۡہَا قُعُوۡدٌ ۙ
    وَّ ہُمۡ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ شُہُوۡدٌ )}

    "مارے گئے کھائیاں کھودنے والے
    آگ تھی بہت ایندھن والی
    جب وہ اس پر بیٹھے
    اور جو کچھ وہ مؤمنوں کے ساتھ کر رہے تھے
    اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے"

    (البروج : 4۔7)

    امام قرطبی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ
    علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ
    اگر کسی شخص کو مجبور کر دیا جائے اور
    وہ موت کو ترجیح دے تو
    اس کا اجر
    رخصت پر عمل کرنے والے سے بڑھ کر ہے۔

    (تفسیر قرطبی، ج ا، صفحہ 188)

    (حصہ 17)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں