1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میرا شجرہ نسب توآدم علیہ السلام سے ملتا ہے اور تم ابھی

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو حسن, ‏اپریل 16، 2018۔

  1. ‏اپریل 16، 2018 #1
    ابو حسن

    ابو حسن رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2018
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    محمد بھائی نے آکر سلام کیا اور کہنے لگا ابو حسن میرے ساتھ چلیں کسی سے بات کرنی ہے میں نے کہا بھائی ہوا کیا ؟ اتنی جلدی میں کیوں ہو ؟ پہلے آرام سے بیٹھو اور بتاؤ کہ معاملہ کیا ہے ؟

    رمضان المبارک کےبابرکت ایام تھے اور آخری عشرہ شروع ہونے والا تھا میں ( ابو حسن ) نے مسجد نبوی میں اعتکاف کرنے کا ارادہ کیا اور پھر ریاض شہر سے مدینہ منورہ کیلئے رخت سفر باندھا اور مسجد نبوی پہنچ گیا اللہ کے فضل سے ، مسجد کے دروازے پر بیٹھے خدام سے سلام و دعا کےبعد اپنا مختصر سامان دیکھایا اور نام و شہریت اندارج کروا کر اندر داخل ہوگیا ،

    کچھ دوست جو کہ پہلے ہی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں وہ بھی مل گئے جن میں عبداللہ، صابر اور محمد، پھر میں نے ایک جگہ اپنا سامان رکھا اور سامان رکھنے کی الماری کا نمبر یاد کرلیا ،ہمارے دائیں طرف کچھ سعودی نوجوان بھی اعتکاف میں تھے تو انکے ساتھ بھی دوستی ہوگئی جن میں کچھ جدہ،حائل اور ریاض شہر سے تھے اور یہ دوستی ایسی محبت میں تبدیل ہوئی کہ جب کبھی ان شہروں میں جانا ہوا تو ان سے رابطہ کرتا کہ میں دو یا تین دن کیلئے آپ کے شہر میں آرہا ہوں کام کے سلسلہ میں ،تو یہ مجھے گھر پر آنے کی دعوت دیتے اور پھر بیٹھ کر کچھ دین کی باتیں ہوتیں اور پھر واپسی کا سفر اور جو دوست ریاض میں رہتا تھا اس کے گھر متعدد بار جانا ہوا اس کے بھائیوں اور والد سے بھی ملاقات ہوئی اور اس کے والد سے مل کر بہت اچھا لگا وہ یہاں فوج میں تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میں کچھ 3 سال پاکستان میں بھی رہا ہوں اور میں نے اس دوران اردو زبان سیکھنے کی کوشش بھی کی ہے اور کچھ حد تک کامیاب بھی رہا ہوں، اور ابھی ایک بیٹا ٹریننگ کے سلسلہ میں کراچی میں مقیم ہے ،بہرحال موضوع کی طرف آتا ہوں

    محمد بتانے لگا اور ہم سب اسکی طرف متوجہ ہوگئے اور یہ وقت تراویح کے بعد کا تھا، کہنے لگا میری ملاقات ایک پیر صاحب سے ہوئی ہے اور وہ ایک رسالہ بھی ساتھ میں لایا ہے جو کہ بقول پیر صاحب یہ نعتوں پر مشتمل رسالہ ہے پر اس کے اندر شرکیہ کلام اور گھٹیا باتیں بھی ہیں تو آپ میرے ساتھ چلیں اور اس سے بات کریں میں نے کہا محمد تم کسی طریقے سے اس سے وہ رسالہ کچھ وقت کیلئے مانگ کر لے آؤ تو بہت اچھا ہوگا تاکہ میں خود اسکو پڑھ لوں اور تسلی کرلوں آیا کہ وہی بات اس میں درج ہے جو تم بتا رہے ہو ، محمد چلا گیا اور آدھے گھنٹے کے بعد تمتاتے چہرے کس ساتھ لوٹا اس کے ہاتھ میں وہ رسالہ تھا جس کا ذکر اس نے مجھ سے کیا ، رسالے کو پڑھا اور واقعتا اس میں وہی باتیں تھی جن کا ذکر محمد نے کیا ،

    ابو حسن : پیر صاحب کہاں پر ہیں ؟

    محمد : ریاض الجنہ کے پیچھے دوسرے صحن میں جہانپر چھتریاں ہیں

    ابو حسن : ٹھیک ہے تم ایسا کرو کہ اسکے پاس بیٹھو اور میں گھوم کر دوسری طرف سے آتا ہوں اور تمہیں دیکھوں گا تو تمہارے پاس آکر تمہیں اس انداز میں مخاطب کروں گا جیسے کافی عرصہ بعد ابھی مل رہے اور پھر تم مجھے بیٹھنے کا کہنا اور بتانا کہ حضرت سے ملو حضرت پاکستان سے آئے ہیں پھر اسکے پاس بیٹھ کر اسکی باتیں سنیں گے اور پھر اس سے بات کروں گا ، ہم دونوں میں یہ طے پایہ اور محمد اٹھ کر چلا گیا

    کچھ دیر کے بعد میں بھی گھوم کر اسی طرح پیر صاحب کے پاس پہنچا جو ہم میں طے پایہ تھا ،میں نےاچانک آواز دی محمد !اور وہ بھی جلدی سے کھڑا ہوا اور گرم جوشی سے گلے ملا اور پھر پیر صاحب سے تعارف کروایا اور بیٹھنے کو کہا ،میں دو زانو التحیات کی شکل میں پیر صاحب کے سامنے بیٹھ گیا پیر صاحب نے علیک وسلیک کی اور اپنے مرید کے ساتھ باتوں میں لگ گئے جو کہ پہلے سے ہورہی تھیں ،میں بھی اسکی باتیں توجہ سے سننے لگا

    پیر صاحب : انکو تو میں دیکھ لوں گا وہ سب تو ہیں ہی نیچ اور گھٹیا لوگ

    مرید : جی شاہ جی آپ سیّد زادےہیں اور یہ سب اپنی آخرت برباد کرنے پر تلے ہیں

    پیر صاحب : یہ مجھے صحیح سے جانتے نہیں میں تو اپنا "شجرہ نسب " چھپوانے والا ہوں اور اب واپس جاکر جو کمی بیشی رہ گئی ہے اسکو پورا کر کے پرنٹنگ کا کہہ دونگا اور تونے دیکھا یہ میرے کلام کا رسالہ ؟ اسکی "دس ہزار " کاپیاں چھپوائی ہیں میں نے اور انگلینڈ ، امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں بھی میں نے بھیجی ہیں ( یہ ہم پر اپنی دھاک بٹھانے کیلئے بتا رہا تھا اور اسی وقت میں نے اس سے وہ رسالہ دیکھنے کیلئے مانگ کر اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا)

    مرید : جی شاہ جی یہ تو بہت اچھی خوش خبری سنائی آپ نے

    پیر صاحب : تمہیں پتہ ہے میرا شجرہ نسب کس سے جاکر ملتا ہے ؟

    مرید : نہ شاہ جی

    پیر صاحب : میرا شجرہ نسب " ابراہیم علیہ السلام " تک پہنچتا ہے

    مرید : خوشی اور حیرانگی کے ساتھ "جیوے میرے " شاہ جی

    پیر صاحب : یہ لوگ جو میرے خلاف بکواس کرتے پھرتے ہیں گاؤں میں ان سب کے منہ بند ہوجائیں گے اور تجھے پتہ ہے " پیران پیر " عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ تو اگر اپنے پیر کو زنا کرتا ہوا بھی دیکھے تو اپنے پیر کو برا نہ کہو ،کیونکہ تم نے جو دیکھا وہ پیر کے اندر نہیں بلکہ تمہاری آنکھوں کا فتور ( یہ بہت بڑا بہتان شیخ عبدالقادر جیلانی پر اس نام نہاد پیر نے لگایا ) اس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں جو کچھ مرضی کروں کسی کو مجھ پر اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،

    اسی بات نے مجھے مضطرب کردیا اور میں نے پیر کےگھٹنہ پر ہاتھ رکھ زور سے دبایا اور کہا خاموش اس سے آگے ایک لفظ بھی نہ بولنا ، تم کیا بکے جارہے ہو ؟ اور تمہیں بتادوں میرا تعلق یہاں کے ادارے " هيئة الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر" سے ہے

    پیر صاحب : کیا ہوا جناب ؟

    ابو حسن : تم اپنی فضول بکواس کو شیخ عبدالقادر جیلانی کے ساتھ جوڑ رہے اور پوچھ رہے ہو کہ کیا ہوا ؟ تم نے عمرہ کیا ہے ؟

    مرید : جناب آپ شاہ جی کی لٹیں دیکھ کر پوچھ رہے ہیں ؟ شاہ جی نے تو حج پر بھی یہ نہیں کاٹی تھیں

    ابو حسن : اتباع رسول صلى الله عليه وسلم نہیں تو نسب کام نہیں آئے گا حشر کے دن ، اور تمہار ا شجرہ نسب ابھی "ابراہیم علیہ السلام " تک پہنچا ہے اور جانتے ہو میرا شجرہ نسب کس سے ملتا ہے ؟

    پیر صاحب : نہیں حضرت

    ابو حسن : میرا شجرہ نسب " آدم علیہ السلام " سے جا ملتا ہے ، پیر صاحب ہونقوں کی طرح مجھے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ کہاں پھنس گیا ہوں ؟ اور یہ تو آسان سی بات ہے کہ بے شک ہم سب " آدم علیہ السلام " کی اولاد ہیں اور ہمارا شجرہ نسب انہی سے ملتا ہے پر پیر صاحب کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور وہ سمجھ رہے تھے کہ جو شجرہ نسب میں نے اپنا انکو بتایا ہے وہ اعلی درجہ ہے ، اور پیر صاحب کا تعلق پنجاب کے کسی دیہات سے تھا اور بڑی بڑی مونچھیں جن میں ہونٹ دیکھائی بھی نہیں دیتے تھے عجیب داڑھی اور زلفیں تقریبا بالشت لمبی کمر پر لٹک رہی تھیں اور یہ ظاہری حلیہ ایسا تھا جیسے کوئی چھٹا ہوا بدمعاش ہو،

    پیر صاحب : حضرت آپ ناراض نہ ہوں

    ابو حسن : یہ نعتیہ اشعار کی کتاب میں تم نے کیا گھٹیا باتیں ؟ اشعار کچھ یوں تھے "

    عجب نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے یہاں روضہ رسول پر

    درمیاں وہابی ،نجدی کتوں کے اور سنیوں کے

    تمہیں پتہ بھی ہے نعت کسے کہتے ہیں ؟ نعت یعنی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تعریف اور وہ بھی صحیح تعریف نہ کہ اس میں غلو کیا جائے اور تم نے کیا لکھا ہے اس میں گالیاں ؟ (چونکہ اور بھی بہت کچھ تھا جس کو یہانپر لکھنا ادب اور اخلاق سے گرنے کی بات ہے ) میں ابھی فون کرتا ہوں اور تمہیں ابھی پولیس والے ساتھ لے جائیں گے اور ڈرنے کی ذرا بھی ضرورت نہیں ایک ہلکا سا جھٹکا لگے گا اور تمہارا سر دھڑ سے الگ ہو جائے گا اور جلاد زیادہ زور سے تلوار گردن پر نہیں مارتا ویسے بھی تلوار بہت زیادہ تیز کی ہوئی ہوتی ہے اور میں اس انداز سے بتا رہا تھا جیسے کیک کاٹنے کی بات ہورہی ہے اور پیر صاحب کا چہرہ زردی مائل ہوگیا اور انہوں نے جلدی سے میرے گھٹنے تھام لئے

    پیر صاحب : حضرت آپ مجھے معاف کردیں یہ جو غلطی ہوگئی آئندہ کبھی نہیں ہوگی اور میں نعتوں میں ایسی باتیں اب کبھی نہیں لکھوں گا آپ مجھےاپنا ایڈریس دے دیں میں پہلی کاپی آپکو بھیجوں گا پھر دیکھنا اس میں کوئی غلطی تو نہیں ، وہ ڈر ہی اتنا گیا تھا جس طرح اس نے میرے گھٹنے پکڑے ہوئے تھے اور معافیاں مانگ رہا تھا اب یوں لگ رہا تھا کہ میں پیر ہوں اسکا اور وہ میرا مرید ،

    ابو حسن : ٹھیک یہ نیت کرو کہ ایسا گھٹیا کام پھر سے نہیں کرو گے اور اللہ تعالی سے معافی مانگو اپنی غلطیوں جب بھی دعا کرو ،

    پیر صاحب : جی جی حضرت ایسا ہی کروں گا

    میں نے رسالہ ہاتھ میں لیا اور سلام کیا اور اپنے قیام کی طرف سوچتا ہواچل پڑا کہ اس نے کتنے لوگوں کو اپنے جال میں پھانسا ہو گا اور کتنو کے عقیدوں کو تہس نہس کیا ہوگا اور ساتھ ہی یہ فرمان رسول صلى الله عليه وسلم ذہن میں آیا ،

    جو شخص مدینہ منورہ میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو وہ اپنے آپ کو شدید وعید کا حق دار بناتا ہے، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: عیر سے لیکر ثور پہاڑ تک مدینہ حرم ہے، چنانچہ جو شخص بھی اس میں کوئی بدعت ایجاد کرتا ہے یا کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے تو اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالی اس سے قیامت کے دن کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں فرمائے گا (متفق علیہ)

    بےشک مدینہ منورہ خیر و برکت سے ہمیشہ نہال رہا، یہ پاکیزہ اور پیارا شہر ہے ، اللہ تعالی نے اسے اسلام کا آفاقی پیغام پھیلنے کا مرکز بنایا، یہاں پر اپنی وحی نازل فرمائی، اپنے مجتبیٰ اور مصطفیٰ نبی صلى الله عليه وسلم کی دعوت یہیں سے پھیلائی -آپ پر روزِ قیامت تک ڈھیروں دورد و سلام ہوں-، یہ شہر قلعۂ ہدایت ہے، یہ جارحیت کے سامنے ٹھوس چٹان ہے، یہ شہر منارۂ اسلام، ایمان کیلئے جائے پناہ، عقیدے کا نشیمن، مرکز تہذیب، اور عالم اسلامی کیلئے سربراہی، سروری اور رہبری کا ماخذ ہے۔
     
    Last edited: ‏اپریل 16، 2018
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں