1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میری سرشت میں ہے پاکی و درخشانی

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از بنتِ تسنيم, ‏دسمبر 17، 2018۔

  1. ‏دسمبر 17، 2018 #1
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    29
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    ؛؛
    کھڑکی سے باہر اندھیرا چھا چکا تھا. کہیں کہیں کوئی روشنی نظر آتی تھی. کہیں کسی سواری کی، یا دور کسی آبادی میں روشنیاں،،،،، کچھ روشنیاں تیز، کچھ ہلکی،،، کچھ ٹمٹماتی قریب قریب، کچھ روشنیاں فاصلوں پر،،،،، کوئی منظر ایسا ہوتا کہ دو چراغوں جیسی روشنیاں ایک دوسرے کے قریب ہوتی، ملتیں، پھر جدا ہو جاتیں.
    اندھیرے میں روشنیاں...... غُرَباء کی طرح!
    ایاد کے لبوں پر مسکراہٹ ابھری.

    اندھیرے میں روشنیاں.... ظلمتوں میں چمکتے ہدایت کے چراغ،،،، کہیں دور دور، کہیں قریب قریب، کہیں کم، کہیں زیادہ. ایسا ہی تو ہے. ہمیشہ سے اجنبیوں کی قلیل تعداد اپنی روشنیوں کے ساتھ اللہ کی زمین پر موجود رھے ہیں. جب سے انبیاء کرام علیہم السلام کے آنے کا سلسلہ جاری ہے، پھر انبیاء کے بعد انکے وارثین.
    دنیاوی معیارات کے مطابق، بظاہر پھیکے اور غریب نظر آنے والے، اپنے ساتھ وہ نور لیے ہوتے ہیں جو ظلمات کے دور میں دوسروں کو بھی روشن راستہ دکھاتے ہیں. اور بروز قیامت اسی نور میں سرشار نظر آئیں گے.
    اور دنیاوی چکاچوندھ گلیمر..... Emporium Mall... اِیاد کا دل ایک دم پھیکا ہو گیا.
    اس نے اتنی بے حیائی، اپنی آنکھوں سے کہیں کبھی نہیں دیکھی تھی. زر، زن کا فتنہ اپنے عروج پر، ریاکاری، رنگینیوں میں خود کو چھپائے پھیکے بے نور لوگ..شَرِّ الدّوَآبّ.. اتنا گلیمر تو قیصر و کِسری کے محلات میں بھی نہ تھا. کفر و تکبر سے کھڑے ان علیشان محلوں کی عورتیں بھی باپردہ ہی ہوتی تھیں.
    مسلم و غیر مسلم معاشروں میں بے حیائی کا بیج بونے والا صلیبی ہرمن بھی ایمپوریم مال چلا جائے تو بے ہوش ہو جائے. ایک یہ دنیا تھی، جہاں کا گزر ایمان کو زمین بوس کر دیتا ہے، بظاہر چمک دمک جو آنکھوں کو چندھیا دے لیکن درحقیقت یہ بصارت و بصیرت ہی چھین لیتی ہے!

    اور ایک وہ دنیا ہے جہاں زندگی کے لیے لوگ بھاگتے پھرتے تھے. جن کی صبحیں اس حال میں ہوتی تھیں کہ اوپر بموں کا خوف اور نیچے ٹینک اور گولہ باری کا. انکو اگر روشنی نصیب بھی ہوتی تو لاشیں دیکھنے کے لیے. بھوک افلاس، حتی کہ صرف زندہ رہنے کے لیے بھاگ دوڑ .... زندگی کس قدر قیمتی ہے! آہ

    دو انتہاؤں کا موازنہ......فانی دنیا کی فانی لذتیں.... اور دوسری طرف دنیا کے فانی غموں کے بعد دائمی سکینت. سب کچھ تو واضح ہے. فانّى تُوفَكُون

    "آپ جانتے ہیں اسلام اجنبی ہو گیا ہے. اور ہمیں جب اپنے جیسا کوئی اجنبی ملتا ہے تو ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے. We get closer"
    اجنبی: "Nice Logic"

    "کوشش نہیں چھوڑنی، کوئی ساتھ دے یا نہ دے، کیا اللہ کا ساتھ کافی نہیں ہے؟ مایوسی تو کفر ہے"

    "جب انسان ٹوٹ کر جڑتا ہے تو ایک نئی شخصیت نئی طاقت بن کر ابھرتا ہے. آپ بھی جڑو گی ایک نئی شخصیت نئی طاقت بنو گی"

    "آپکو پتہ ہے سکول میں ہمیں پڑھایا جاتا تھا
    Bloom Where are you Planted! "

    " تمہاری زندگی کا aim کیا ہے وہ لکھو"
    "اتنا مشکل سوال،،، چلو میں لکھ رھی ہوں "میری زندگی کا مقصد کامل انسان بننا ہے"

    کامل انسان.....جو انسان بننے لگتے ہیں وہ اجنبی ہو جاتے ہیں. طرز زندگی کے تضادات، جب رونما ہوتے ہیں تو انسان کبھی إبراهيم کی تکلیف محسوس کرتا ہے، کبھی موسی کی، کبھی آسیہ و مریم کی، کبھی کہف والوں کی، اور کبھی پتہ چلتا ہے کہ طائف کے پتھر کھانا تو نبوی ظرف ہی ہے. جب اجنبیت کا وہ درجہ محسوس ہو کہ آپکی ایک حق بات پر باطل کا جم غفیر مقابل ہو اور آپ پر صرف اور صرف عرش والے کا سایہ ہو.
    اور باطل کے اس اندھیرے میں اجنبیت کی روشنی ٹمٹما کر ساتوں آسمانوں سے گزر کر اُسکے سامنے حاضر ہوتی ہے.

    "تم دین کے تحفظ کے لیئے لڑ رہی ھو نا، تمھارا مفاد کوئی ذاتی تو نہیں ھے نا، مطلوب تو صرف اللہ کی رضا ھی ھے، اپنے ایمان کا، دین اور توکل کا، حب الہی کا تحفظ چاھتی ھو نا، اسی تحفظ کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ چھوڑ کر ہجرت کی راہوں کو اختیار کیا، انکا مفاد بھی دین کا تحفظ تھا، ابو جندل رضی اللہ عنہ کو دیکھو تن تنہا تھے پورا جگ تھا جو مخالفت میں تھا اپنوں نے بھی پردیسی کر رکھا تھا، لیکن کتنا بلند عزم تھا کتنا مضبوط ایمان تھا کہ اپنوں کے علیحدہ کرنے کے باوجود دین نہیں چھوڑا، حوصلہ نہیں ہارا، نہ وسائل تھے نہ ساتھی تھے، نہ مکان تھا نہ مواقع تھے نہ کوئی درد بٹانے والا تھا نہ کوئی تھپکی دینے والا تھا، مجال ھے کہ جو رتی بھر بھی ایمان میں کمزوری دکھائی ھو، اپنے اللہ سے شکوہ کیا ھو،دل میں اس مالک کی محبت میں کمی ھوئی ھو، ذات الہی سے کوئی مایوسی منسلک کی ھو، ہرگز نہیں، عزم کا پہاڑ تھا جو ابو جندل کے سینے میں بسا ھوا تھا، ایسا پہاڑ کہ جس کی تسخیر عزیمت کے راہی تاقیامت کرتے نظر آئیں گے،
    آپ بھی عزیمت کی راہوں کا انتخاب چکی ھو جو خالص اللہ کی رضا سے منسلک ھے، لہذا ایسی باتوں رکاوٹوں مشکلات کو معمولی لو، کیونکہ ابھی تو نجانے اللہ نے کتنی بڑی بڑی آزمائشوں سے نبرد آزما کرنا ھے، صبر کا دامن نہیں چھوڑنا، اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹنا، اللہ کی رضا مطلوب ھے، اسکے دین کی سرفرازی مطلوب ھے، لہذا عظیم تر طلب کیساتھ عظیم تر عزم و حوصلہ پیدا کرنا ھو گا".....

    ایاد کی آنکھ سے ایک تارہ نکل کر سرعت سے آسمان کی جانب بلند ہوا اور سیاہ آسمان پر ٹمٹمانے لگا.
    آسمان پر ٹمٹماتے ستارے... بالکل ایسے ہی.... دنیا بھر میں پہاڑوں پر، غاروں میں، لق و دق صحراؤں میں،

    ظلمات میں اجنبی ملتے بچھرتے چمک دمک رھے ہیں. اور دور دور گھروں میں روشنیاں چمک رہی ہیں،،،،، اللہ کی پیاریاں،، بے بس مگر کوشاں،،، غراب اعصم! جو خلافت کا خیر مقدم کریں گی تو سب مخالفین پکار اٹھیں گے "ھاں تم حق پر تھیں"
    ٹرین اپنی منزل پر رواں دواں بھاگی جا رھی ہے.
    اور ایک گونج ہر سُو بلند....
    طوبی للغرَباء
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں