1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میرے اعمال کا کون ذمہ دار؟

'یونیکوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از sknizamudin, ‏مارچ 05، 2018۔

  1. ‏مارچ 08، 2018 #11
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,097
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    آپ نے اپنی زندگی کا کیا مقصد مقرر کیا ہے ؟ آپ کی زندگی کا کیا محور ہے ؟ آپ کس چیز میں دل چسپی لیتے ہیں؟
     
  2. ‏مارچ 09، 2018 #12
    sknizamudin

    sknizamudin مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2018
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    8

    بہت سارے ہیں مجھے لگ رہا ہے بچوں کا مستقبل پہلے مگر میں اپنا مستقبل بھی بنانا چاہتا ہوں مگر طے نہیں کر پا رہا ہوں

    Sent from my Redmi Note 4 using Tapatalk
     
  3. ‏مارچ 10، 2018 #13
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,097
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    آپ کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے دینی معاملات میں عدم دلچسپی کا شکار ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو اس کا حل تو یہی ہے کہ آپ حتی المقدور مشکلات سے لڑنے کے لیے پُر خلوص جدو جہد جاری رکھیں اورنتائج کو اللہ تعالٰی کی ذات پر چھوڑ دیں۔ اللہ تعالٰی اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کرتا ہے تاکہ وہ دعویِٰ ایمان و اسلام کو سچا یا جھوٹا ثابت کردے اور اسی آزمائش میں ابلیس بھی وقتی مشکلات و حوادث کے پیش ِ نظر اپنا حصہ ڈالتا ہے تاکہ انسانوں کو اللہ تعالٰی کی بندگی سے بے زار کیا جائے ۔بس ایک مسلم اور غیر مسلم میں یہی بنیادی فرق ہے کہ ایک مسلم ان آزمائش کے سمندر کو دل جمعی ،صبراور تحمل سے عبور کر لیتا ہے اور غیر مسلم اس آزمائش کی طلاطم خیز موجوں سے شکست کھا کر اس میں غرق ہو جاتا ہے ۔

    کسی بھی دینی و دنیاوی مقصد کے حصول کے لیے خلوص ِ نیت ، محنت اور دعا کے عناصر موجود ہونا نہایت ضروری ہیں ان تینوں میں سے کسی ایک کی غیر موجودگی مقصد کے حصول کو نا ممکن بنا دیتی ہے اور میں نے اس امر کا متعدد بار تجربہ کیا ہے ۔ ایک اہم بات ذہن نشین رہے کہ محض ایمان و اسلام کا دعویٰ دنیاوی و دینی نجات کی دلیل نہیں بلکہ ایمان و اسلا م کے دعویٰ کرنےکے بعد مرحلہ ٔ آزمائش میں کامیاب ہونا نجات کی دلیل ہے اور اس میں کسی کو استثناء حاصل نہیں ۔قرآن مجید کسی انسان کو اسلام قبو ل کرنے پر جبر نہیں کرتا بلکہ وہ ایمان و اسلام کو عقلی ،نقلی اور مشاہداتی دلائل سے ثابت کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اسکے تقاضے بھی پوری تفصیل و تشریح سے بیان کرتا چلا جاتا ہے ۔ پھر اگر کوئی انسان اس کے بیان کردہ دلائل سے پوری طرح مطمئن ہوتا ہے تو اس سے اللہ تعالٰی کی بندگی میں غفلت اور لا پرواہی غیر ممکن ہو جاتی ہے ۔آسان الفاظ میں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایمان جس قدر مضبوط ہوگا اسی قدر اسلام کی مضبوطی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اسلام کے تقاضوں کوادا کرنے میں سستی و غفلت، ایمان میں نقص کی علامت تصور کی جائے گی۔

    اللہ تعالٰی مجھے ، آپ کو اور تمام مسلمانوں کو اسلام کو سمجھنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، آمین یا رب العالمین !
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں