1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میزان بنک کے "Islamic Mutual funds" کی کیا حیثیت ہے؟

'معاشی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن طاھر, ‏جولائی 10، 2017۔

  1. ‏جولائی 10، 2017 #1
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    139
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    میزان بنک پاکستان میں ایک آفر کرتا ہے جسے "المیزان میوچل فنڈ" کہا جاتا ہے.
    بنک والوں کا دعوی ہے کہ یہ آفر مکمل طور پر "اسلامی بنکنگ" ہے. اگر کوئی بھائی اس کی حیثیت پر رہنمائی کر سکیں کہ آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
    جزاک الله خیرا
     
  2. ‏جولائی 10، 2017 #2
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    139
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

  3. ‏فروری 09، 2018 #3
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    139
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    رہنمائی درکار ہے. شکریہ
     
  4. ‏جون 20، 2018 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,252
    موصول شکریہ جات:
    8,210
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    شیخ فیض شاید مصروف ہیں۔
    مجھے انگلش نہیں آتی، لنک وزٹ کیا، لیکن تفصیلات سمجھ نہیں آئیں۔
     
  5. ‏جون 20، 2018 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,252
    موصول شکریہ جات:
    8,210
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ابھی معلومات ملی ہیں کہ بنوری ٹاؤن دار الافتاء سے اس کے ناجائز ہونے کا فتوی صادر ہوا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ’’اہل فقہ وفتوی کی ایک بڑی تعداد کی رائے کے مطابق میزان میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری جائز نہیں ہے، اس لیے اس سرمایہ کاری کی صورت میں حاصل ہونے والی منافع کی رقم بلانیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔ فقط واللہ اعلم۔‘‘
     
  6. ‏جون 20، 2018 #6
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,490
    موصول شکریہ جات:
    6,011
    تمغے کے پوائنٹ:
    407

    جزاک اللہ خیرا شیخ صاحب
    اگر مزید وضاحت ہوجائے تو بہتر ہوگا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں