1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میلاد منانے والوں میں ایک بادشاہ کا واقعہ

'بدعی اعمال' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 30، 2014۔

  1. ‏جولائی 30، 2014 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    میلاد منانے والوں میں ایک بادشاہ کا واقعہ

    سعیدی: وہابیوں کے امام حافظ ابن کثیر دمشقی کی زبانی سنئے وہ لکھتے ہیں کہ ملک مظفر کو کبری نے جس انداز سے محفل میلاد کا انعقاد کیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ چنانچہ ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
    احد الاجواد والسادت الکبراء والملوک الامجاد لہ آثارٌ حسنۃٌ وکان یعمل المولد الشریف فی ربیع الاول ویحتفل احتفالاً ھائلاً وکان مع ذلک شھمًا شجاعًا فاتکًا بطلاً عالمًا عادلاً رحمہ اللہ واکرم مثواہ۔
    ترجمہ: بہت بڑا سخی بہت بڑا سردار بزرگ بادشاہ، اس کے سب کام اچھے تھے… وہ ربیع الاول میں میلاد شریف کی حیران کن محفل کا انتظام کرتا تھا، وہ بہترین حاکم بہادر تھا دلیر تھانڈر تھا دانا تھا، عالم عادل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر رحمت کے پھول برسائے اور اس نے اس کو بڑی عزت والی قبر عطا فرمائی ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج:۱۳، ص:۱۳۶)
    حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ الشیخ ابو الخطاب ابن دحیۃ رحمہ اللہ نے اس کیلئے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام تھا التنویر فی مولد البشیر النذیر بادشاہ نے اس کو ایک ہزار انعام عطا کیا تھا (ایضا) (ہم میلاد کیوں مناتے ہیں ص:۶)

    محمدی: حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اول سلطان مظفر کی تعریف کی جیسا کہ سعیدی صاحب نے ترجمہ لکھا ہے پھر اس کے اچھے کاموں کی طرف اشارہ کیا جو اس نے اپنی حکومت میں کئے۔ اس کے بعد اس کے ایک خصوصی عمل کو بیان کیا کہ وہ میلاد کی حیران کن مجلس جماتا تھا۔ وہ حیران کن اس لئے تھی کہ وہ فضول خرچی سے میلاد مناتا تھا جیسا کہ علامہ ابن خلکان نے وفیات الاعیان ص:۵۵۵میں ذکر کیا ہے اور شریعت میں فضول خرچی ممنوع ہے گویا وہ :
    ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین ۔ (فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں)
    کے حساب سے شریعت کے خلاف عمل پیرا تھا اور راگ گانے کا بھی رسیا تھا یہ کام بھی شریعت کے خلاف کیا کرتا تھا، ان کاموں پر بے انتہا ملکی خزانہ برباد کرتا تھا بادشاہ فضول خرچ ہوتے ہیں۔ اور بادشاہوں کے ایسے بے جا خرچ اور بیت المال کے بے دریغ استعمال کے متعلق علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ ابن عقیل نے فرمایا کہ ہم کو خبر پہنچی کہ حماد نے ولید بن یزید الاموی خلیفہ کی مدح میں کچھ اشعار سنائے تو اس نے خوش ہو کر بیت المال میں سے پچاس ہزار روپیہ اور دو لونڈیاں انعام کے طور پر دیں اور فرمایا ابن عقیل نے کہ عجیب بات یہ ہے کہ عوام الناس یہ بات اس کی تعریف میں بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ اس کے حق میں انتہاء کی ملامت ہے کیونکہ اس نے مسلمانوں کے بیت المال میں اس طرح بے جا تصرف سے اسراف کیا گویا اخوان الشیاطین سے بھی بڑھ گیا (تلبیس ابلیس اُردو ص:۱۸۳، ۱۸۴)
    اور یہی علامہ ابن جوزی ص:۱۸۳پر لکھتا ہے
    (وجہ ششم) ابلیس ان لوگوں کو لبھاتا ہے کہ اموال سلطنت میں جس طرح چاہو اپنے حکم سے خرچ کرو کیونکہ یہ تمہارے حکم میں داخل ہے یہ تلبیس اس طرح کھل جاتی ہے کہ جو شخص اپنے مال میں مسرف (فضول خرچ) ہو اس پر شرع کے حکم میں حجر ہے یعنی قاضی حکم دے کہ اس کے سب تصرفات مالی نافذ نہ ہوں۔ تو جب ذاتی مال میں یہ حکم ہے تو خیال کرو کہ سلطان توجمیع مسلمانوں کے اموال خزانہ کا محافظ ہے تو وہ غیروں کے مال میں کس طرح خود مختاری سے بے جا خرچ کر سکتا ہے ان اموال خزانہ سلطنت میں سے سلطان کا حق فقط اس کے کام کی اجرت کے اندازہ پر ہے ۔(تلبیس ابلیس ص:۱۸۳، اُردو)

    ہاں اس فضول خرچی، راگ گانے کی مجلس برپا کرنے اور بدعت کے عمل کے انعقاد کرنے کے باوجود، وہ بہترین حاکم بہادر دلیر نڈر، دانا بینا عادل بادشاہ تھا۔

    جس سے واضح ہوا کہ حافظ ابن کثیر نے اس کو میلاد کی محفل جمانے پر خراج تحسین پیش نہیں کیا بلکہ دیگر اچھے کاموں پر اس کو خراج تحسین پیش کیا ہے جیسا کہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کا یہ جملہ :
    وکان مع ذلک شھماً فاتکاً الخ
    سے واضح ہے یعنی اس فضول خرچی راگ گانہ کی مجلسیں برپا کرنے، بدعی مجلس میلاد کے انعقاد کے باوجود وہ بہادر دلیر بادشاہ تھا، اور یہ الفاظ بھی واضح ہیں:
    وکان یصرف علی المولد کل سنۃٍ ثلاثمأۃ الف دینار
    کہ وہ میلاد پر ہر سال تین لاکھ دینار کا خرچ کیا کرتا تھا۔ (البدایہ والنھایہ ص:۱۳۷، ج:۱۲)
     
  2. ‏جولائی 30، 2014 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    باقی رہ گئی یہ بات کہ حافظ ابن کثیر نے ابن دحیہ کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب لکھنے اور اس پر بادشاہ کی طرف سے انعام حاصل کرنے والا لکھا ہے تو یہ اس کی تعریف نہیں بلکہ ایک حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ بدعت کے کاموں میں سہارا دینے والا لالچی اور درباری مولوی تھا جو بادشاہ کو خوش کر کے اور اس کی ہاں میں ہاں ملا کر درباری لالچی مولوی کا پارٹ ادا کیا تھا اور ایک ہزار اشرفی لے کر اپنے من کو راضی کر لیا تھا جیسا کہ نواب صدیق حسن خاں علامہ ابن خلکان کا حوالہ نقل کر کے آخر میں لکھتے ہیں:
    ومحبۃ الدنیا تفعل اکثر من ہذا۔ (دلیل الطالب ص:۴۰۸)
    کہ بادشاہ نے اس کو اس تالیف پر ایک ہزار دینار حق المحنت کے طور پر دیا جیسا کہ ابن خلکان نے ذکر کیا ہے اور دنیا کی محبت اس سے زیادہ کام کروا لیتی ہے۔ ابن خلکان کے الفاظ اس طرح ہیں:
    وقدم مدینۃ اربل فی سنۃ اربع وستماۃٍ وہو متوجہ الی خراسان فرای صاحبھا الملک مظفر الدین بن زین الدین رحمہ اللہ مولعًا بعمل مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الاحتفال بہ کما ہو مذکور فی ترجمتہ فی حرف الکاف من ہذا الکتاب فعمل لہ کتابا سماہ کتاب التنویر فی مولد السراج المنیر ولما عمل ہذا الکتاب دفع لہ الملک المعظم المذکور الف دینار (وفیات الاعیان ص:۴۸۲، ج:اول)
    کہ ابن دحیہ شہر اربل میں ۶۰۴میں آیا اور وہ خراسان جانے کا ارادہ رکھتا تھا جب ابن دحیہ نے دیکھا کہ اربل شہر کا حاکم ملک مظفر عمل مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا بڑا شوقین ہے اور اس سے محبت کرنے والا ہے جیسا کہ اس کے ترجمہ میں اس کتاب کے حرف کاف میں مذکور ہے تو اس نے بادشاہ کیلئے ایک کتاب لکھی اس کا نام اس نے کتاب التنویر فی مولد السراج المنیر رکھا… جب یہ کتاب اس نے لکھ کر بادشاہ کو پیش کی تو بادشاہ نے ایک ہزار دینار انعام دیا۔
     
  3. ‏جولائی 30، 2014 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سعیدی: محفل میلا کے دشمن کاذبوں مفتریوں اور بہتان طرازوں نے ملک مظفر ابو سعید اور علامہ ابن دحیہ پر کیچڑ اچھال کر اپنا منہ کالا کیا ، ان کے کذب افترا و بہتان پر بزبان قرآن یہ کہنا مناسب ہے۔(لعنۃ اللہ علی الکاذبین) (ہم میلاد کیوں مناتے ہیں ص:۶)۔

    محمدی: ملک مظفر ابو سعید کو کبری صاحب اربل کے متعلق تاریخ ابن خلکان ص:۴۳۷طبع دوم ص:۵۵۲میں ہے)۔
    فاذا کان اول یوم صفر زین تلک القباب بانواع الزینۃ الفاخرۃ التجملة وقعد فی کل قبۃ جوقٌ من ارباب الخیال ومن اصحاب الملاھی (وایضا) فکان مظفر الدین ینزل کل یوم بعد صلوۃ العصر ویقف علی قبۃ الی آخرھا ویسمع غناھم ویتفرح علی خیالاتہم (وایضا) فاذا کان قبل المولد بیومین اخرج من الابل والبقر والغنم شیئا کثیرا زائدا عن الوصف وزفھا بجمیع ما عندہ من الطبول والمغانی والملاھی حتی یاتیھا الی المیدان ثم یشرعون فی نحرہا وینصبون القدور ویطبخون الالوان المختلفة فاذا کان لیلۃ المولد عمل السماعات بعد ان یصلی المغرب فی القلعة ۔(فتاوی رشیدیہ ص:۱۳۲، تاریخ ابن خلکان ص:۴۳۷دوسری طبع ص:۵۵۲)۔
    یعنی ملک مظفر مجلس مولود کے اہتمام میں بیس قبے لکڑی کے بڑے عالیشان بنواتا اور ہر قبہ میں پانچ پانچ طبقے ہوتے ابتداء صفر سے ان کو مزین کرتا ہر طبقہ میں ایک ایک جماعت راگ گانے والوں پٹہ خیال گانے والوں اور کھیل تماشے ناچ کود کرنے والوں کی بٹھائی جاتی اور بادشاہ مظفر خود مع اراکین و ہزارہا مخلوق قرب وجوار کے ہرروز بعد عصر ان قبوں اور طبقوں میں جا کر ناچ رنگ وغیرہ سن کر خوش ہوتا اور خود ناچتا پھر اپنے قبے میں تمام رات راگ رنگ لہو ولعب میں مشغول رہتا اور میلاد سے دو روز قبل اونٹ گائے بکریاں بیشمار طبلوں اور آلات گانے اور لہو و لعب کے ساتھ جتنے ان کے یہاں تھے نکال کر میدان میں ان کو ذبح کرا کر ہر قسم کے کھانے تیار کرا کر اہل مجالس لہو کو کھلاتا اور شب مولد مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد کثرت سے راگ قلعہ میں گواتا۔

    اسی لئے فتاویٰ ص:۱۳۲میں ہے:
    وقد صرح اہل التاریخ بانہ یجمع اصحاب الملاھی والمزامیر فی ھذا العمل ویسمع الغنا واصوات اللھو ویرقص بنفسہ ومن ہو کذالک فلا شک فی فسقہ وضلالتہ فکیف یستند بعض مثلہ ویعتمد علی قولہ۔
    یعنی اہل تاریخ نے صراحت کی ہے کہ یہ بادشاہ بھانڈوں اور گانے والوں کو جمع کرتا اور گانے کے آلات سے گانا سنتا اور خود ناچتا۔ ایسے شخص کے فسق اور گمراہی میں کوئی شک نہیں پس اس جیسے کے فعل کو کیسے روا اور اس کے قول پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
     
  4. ‏جولائی 30، 2014 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اور اب ذرا سعیدی صاحب کے علامہ ابن دحیہ کے متعلق سنئے جو اس ملک مظفر کا خوشامدی تھا۔

    لسان المیزان میں ہے قاضی واصل فرماتے ہیں کہ ابن دحیہ حدیث بیان کرنے میں بے تکی اور اٹکل پچو سے کام لیتا تھا (ص:۲۹۲، ج:۴) ابن نقطہ فرماتے ہیں :
    انہ کان یدعی اشیاء لاحقیقۃ لھا۔(لسان المیزان ج: ۴، ص:۲۹۳)
    کہ ابن دحیہ ایسی چیزوں کا دعویٰ دار تھا جس کی کوئی حقیقت نہ تھی اور حافظ ابن عساکر فرماتے ہیں کہ ابن دحیہ حدیث نبوی بیان کرنے میں کذب بیانی اور بے اصل بات کہنے میں بے باک تھا (لسان المیزان ج:۴، ص:۲۹۷) اور علامہ ابن حجر عسقلانی نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ امام علی بن حسن اصبھانی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ابن دحیہ کا ہمارے شہر سے گزرہوا اس نے اپنے آپ کو بڑا محدث فقیہ ادیب مفسر اور متقی پرہیزگار ظاہر کیا اور میرے والد صاحب نے اس کی خوب تواضع کی۔ اتنے میں ایک مصلی (جائے نماز) نکالا اور چوم کر کہا کہ حضرت! خدا کی قسم! میں اس مصلی پر بیت اللہ شریف میں ہزار سے زائد نفل نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھ چکا ہوں اور بارہا اس مصلی پر بیٹھ کر قرآن مجید ختم کیا ہے۔

    میرے والد صاحب نے وہ مصلی ابن دحیہ سے خرید لیا اسی دن اصبھان سے عصر کے بعد ایک شخص والد صاحب کے پاس آیا، اتفاق سے ابن دحیہ کا ذکر بھی چل پڑا، تو اس شخص نے کہا کہ کل ابن دحیہ نے بڑا قیمتی مصلی خریدا ہے۔ والد صاحب نے وہی مصلی پیش کر دیا جس کے متعلق ابن دحیہ نے حلفاً کہا تھا کہ میں نے اس مصلی پر ایک ہزار رکعت اور بارہا ختم قرآنِ مجید بیت اللہ شریف میں بیٹھ کر ختم کیا ہے۔ اس شخص نے مصلی کو دیکھتے ہی کہا کہ قسم بخدا یہ وہی مصلی ہے۔ والد صاحب یہ سن کر خاموش ہو گئے اور اس کی چالاکی اور کذب بیانی دیکھ کر حیران رہ گئے اور اس ابن دحیہ کو اپنی نظروں سے گرا دیا (لسان المیزان ج:۴، ص:۲۹۶)
    اور
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن دحیہ نہایت متکبر ، گستاخ ائمہ دین محدثین پر سب و شتم کرنے اور ان کی عیب جوئی میں بڑا بے باک تھا (لسان المیزان ج:۴، ص:۲۹۲)
    اور
    علامہ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن دحیہ جناب ابو جعفر صیدلانی ، ابو الفتح فراوی اور حافظ ابو الفرج ابن الجوزی سے استفادہ کرنے کے بعد مصر چلا گیا ۔ ابار کہتے ہیں کہ وہاں (مصر میں) ملک کامل کو علم ادب پڑھایا اور بے حد دولت کمائی۔ نیز تصنیف و تالیف اور تعلیم و تدریس میں مصروف رہا… فرماتے ہیں کہ اس نے مصر میں بوصیری اور اسی طبقہ کے دوسرے اہل علم سے حدیث کا سماع کیا… ابن دحیہ دعویٰ کیا کرتا تھا کہ انہوں نے پوری صحیح مسلم شریف زبانی اپنے کسی استاد کو سنائی مگر کان اس دعویٰ کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں کیونکہ وہ کثیر العلم اور مجموعہ فضائل ہونے کے باوجود اٹکل پچوبات کہنے اور لمبے چوڑے دعوے کرنے کا عادی تھا۔ حافظ ضیاء کہتے ہیں کہ شہر اصفھان میں میری ان سے ملاقات ہوئی لیکن میں نے ان سے سماع حدیث نہیں کیا کیونکہ مجھے اس کا طرز عمل پسند نہیں آیا وہ ائمہ دین کے بارے میں اکثر نازیبا کلمات استعمال کیا کرتا تھا مجھے ابراہیم سنہوری نے بتایا کہ میں ملک مغرب میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں کے مشائخ نے اس کی تضعیف کی ہے اور اس کو مجروح قرار دیا ہے۔ حافظ ضیاء لکھتے ہیں کہ میں نے اس (ابن دحیہ) سے اکثر ایسی چیزیں دیکھی ہیں جن سے علماء مغرب کی تصدیق ہوتی ہے۔ قاضی ابن واصل کہتے ہیں کہ ابو الخطاب (ابن دحیہ) وسعت علم اور قوت حافظہ کے باوجود نقل عبارت میں قابل اعتماد نہیں تھا۔ اہل علم ان پر مجازفت اور اٹکل پچو بات کہنے کی تہمت لگاتے تھے۔ ملک کامل کو اس کا پتہ چلا تو اس نے اس کو شہاب کی کتاب پر حاشیہ لکھنے کا حکم دیا۔ فرمان شاہی کی تعمیل میں اس نے کتاب مذکور پر حاشیہ لکھ دیا، جس میں اس کی اسانید پر بحث کی اور بادشاہ کی خدمت میں پیش کر دیا ، کچھ عرصہ بعد ملک کامل نے کہا کہ مجھ سے وہ کتاب مع حاشیہ گم ہو گئی ہے مجھے اس جیسا حاشیہ دوبارہ لکھ کر دو، چنانچہ اس نے دوبارہ حاشیہ لکھ کر پیش کر دیا جس میں پہلے سے متضاد باتیں بیان کیں، بادشاہ نے معلوم کیا کہ اس کے متعلق اہل علم کا جو نظریہ ہے وہ صحیح ہے اس لئے دار الحدیث سے اس کو معزول کر دیا اور اس کی جگہ اس کے بھائی امام ابوعمر لغوی کو متعین کر دیا۔

    ابن نقطہ کہتے ہیں کہ ابو الخطاب سے میری ملاقات نہیں ہوئی وہ علم و فضل میں مشہور تھے مگر ایسی باتوں کا دعویٰ کرتے تھے جن کی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ مجھے ایک قابل اعتماد عالم ابو القاسم بن عبد السلام نے بتایا کہ ایک دفعہ ابن دحیہ میرے مہمان بنے تو کہنے لگے کہ مجھے صحیح مسلم اور جامع ترمذی دونوں یاد ہیں، یہ سن کر میں نے ترمذی کی پانچ اور مسند احمد کی پانچ اور موضوعات میں سے پانچ حدیثیں لکھ کر ان کی خدمت میں پیش کیں تو وہ ان میں سے ایک حدیث بھی معلوم نہ کر سکا۔ قاضی ابن خلکان لکھتے ہیں کہ ابو الخطاب ایک دفعہ اربل آیا تو شاہ اربل کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے کتاب المولد لکھی اس میں بادشاہ کی مدح میں ایک قصیدہ درج کیا جس کا پہلا شعر یوں تھا۔ لولا الوشاۃ وہم اعداء نا وھموا۔ الخ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ پورا قصیدہ دیوانِ اسعد بن مماتی میں موجود مذکور ہے (تذکرہ الحفاظ اردو مترجم ج:۴، ص:۹۶۵، ۹۶۶طبعہ:۱۸)
     
  5. ‏جولائی 30، 2014 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اور لسان المیزان ج:۴، ص:۲۹۲میں ہے:
    قال ابو النجار رأیت الناس مجتمعین علی کذبہ وضعفہ وادعائہ سماع مالم یسمعہ ولقاء من لم یلقہ الخ۔
    کہ ابن نجار کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کا اس بات پر اجماع و اتفاق دیکھا کہ ابن دحیہ جھوٹا اور ضعیف آدمی ہے اور یہ کہ وہ ایسے لوگوں سے سماع کا دعویٰ کرتا ہے جس سے اس نے سنا نہیں اور ایسے لوگوں سے ملاقات کا دعویٰ بھی کرتا ہے جن سے اس نے ملاقات نہیں کی۔
    اور لسان المیزان میں یہ بھی ہے کہ حافظ ابو الحسن بن مفضل جو ائمہ دین میں سے ہیں کہتے ہیں کہ ہم مجلس عام میں سلطان کے پاس بیٹھے تھے وہاں ابن دحیہ بھی موجود تھا۔ سلطان نے مجھ سے ایک حدیث کی سند کے بارے میں پوچھا میں نے اس کو بیان کر دیا بادشاہ نے کہا اس کو کس نے بیان کیا تو مجھے اس کی سند فی الوقت یاد نہ تھی چپ ہو گیا، پھر ہم اٹھ کر چلے گئے تو ابن دحیہ نے مجھے راستہ میں کہا کہ تجھے کیا ڈر تھا کہ جب بادشاہ نے تجھ سے اس حدیث کی سند کا سوال کیا تو اس کے سامنے کوئی بھی سند جو مرضی آتی پڑھ دیتے، تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ یہ تو بادشاہ اور بھری مجلس کے سامنے بڑی بات (لا علمی) محسوس ہوئی ہے، امام ابو الحسن فرماتے ہیں کہ میں نے جانا کہ ابن دحیہ متھاون اور جھوٹ بولنے کا عادی ہے (دوسروں کو بھی جھوٹ بولنے کا شوق دلانے والا ہے)۔

    ان حوالہ جات، عبارات، بیانات اور شہادات سے واضح ہے کہ سعیدی صاحب کا علامہ ابن دحیہ جس نے میلاد کے جواز کا اول اول فتویٰ دیتے ہوئے کتاب لکھ کر بادشاہ کے سامنے پیش کی اور ایک ہزار دینار نذرانہ وصول کیا اور درباری ملا بن کر بادشاہ کی فضول خرچیوں کیلئے سند جواز پیش کر دی وہ غضب کا پیٹ پرست خوشامدی، درباری، لالچی، فریبی، کذاب وضاع، خبیث اللسان اور محدثین عظام کا دشمن اور گستاخ تھا۔

    تو کیا ان محدثین نے تمہارے علامہ وغیرہ پر کیچڑ اچھال کر اپنا منہ کالا کیا ہے ۔نعوذ باللہ۔ یا ایک فریبی اور مکار و عیار کی مکاری اور فریب کاری ظاہر کر کے سعیدی صاحب جیسے مداح کے منہ پر تھپڑ رسید کیا ہے۔

    نیز مجھے سعیدی صاحب کی زبانی کہنے دیجئے کہ جب ابن دحیہ جھوٹ پر جھوٹ بنا کر مصلی بیچ کر ایک جلیل القدر محدث سے دھوکا کر گیا تھا اور پھر دست بدست اس کا جھوٹ ظاہر ہو گیا تھا اور جھوٹی روایات بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا عادی تھا اور دوسرے پاکباز صدق لسان لوگوں کو اپنی طرح کذب بیانی پر ابھارتا تھا تو جو آیت آپ نے پیش کی ہے اس کے مطابق تمہارا علامہ کیسا ہو گا؟ بتائیے شرمائیے نہیں اگر ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔

    ہم میلاد کیوں نہیں مناتے؟
     
  6. ‏نومبر 09، 2017 #6
    عبدالعزيز

    عبدالعزيز مبتدی
    جگہ:
    الله کے رحمت کے سائے تلے ان شاء الله
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 24، 2017
    پیغامات:
    169
    موصول شکریہ جات:
    78
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    جزاک اللہ خیر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں