1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نئے سال / نئے چاند کی دعا کے بارے میں

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از حسن محمود221177, ‏اکتوبر 02، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 02، 2017 #1
    حسن محمود221177

    حسن محمود221177 رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 23، 2014
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    نئے سال / نئے چاند کی دعا کے بارے میں:
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ قَالَ: نا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ قَالَ: نا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عُقَيْلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَعَلَّمُونَ هَذَا الدُّعَاءَ إِذَا دَخَلْتِ السَّنَةُ أَوِ الشَّهْرُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ، وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ، وَالْإِسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ، وَجَوَازٍ مِنَ الشَّيْطَانِ۔
    ۔۔۔ترجمہ: جب نیا سال یا نیا مہینہ شروع ہوتا تو صحابہ کرام ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے ۔اے اللہ ! اس کو (نیا سال یا نیا چاند) ہم پر امن و ایمان ، سلامتی اور اسلام کے ساتھ رحمن کی خوشنودی اور شیطان سے حفاظت کے ساتھ لائیے۔

    یہ حدیث ’ المعجم الأوسط‘ میں مذکور ہے جو رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ کی وجہ سے ضعيف ہے جس کا ذکر مسند الإمام أحمد بن حنبل میں ان الفاظ کے ساتھ ہے۔ قال نور الدين الهيثمي في " مجمع الزوائد ومنبع الفوائد " 10/139: رواه الطبراني في " المعجم الأوسط " واسناده حسن، وتعقبه الحافظ ابن حجر في حاشية النسخة، فقال: فيه رِشدين بن سعد وهو ضعيف۔
    رشدين بن سعد کے بار ے میں کلام:
    اس کا نام
    رشدين بْن سعد، وَهو بن أبي رشدين، وأَبُو رشدين اسمه سعد، يُكَنَّى أبا الحجاج المِهْري مصري کے القاب سے مشہور ہے۔
    أسماء الرجال کی کتب میں رشدین بن سعد کی احادیث کو ضعیف مانا گیا ہے۔ جیسا کہ کتاب ’
    الكامل في ضعفاء الرجال‘ میں ہے ۔
    سمعت أحمد بن مُحَمد بن حرب جرجاني يقول: سَمعتُ يَحْيى بْن مَعِين يقول رشدينين ليسا برشيدين رِشْدِين بْن كُرَيْب ورشدين بْن سعد.
    حَدَّثَنَا مُحَمد بْن علي، قَال: حَدَّثَنا عثمان بن سَعِيد، قلتُ ليحيى بْن مَعِين: فرشدين بْن سعد قَالَ لَيْسَ بشَيْءٍ.
    حَدَّثَنَا ابْنُ حماد، حَدَّثَنا معاوية، عَن يَحْيى، قال: رشدين بْن سعد ضعيف.
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَطِيرِيُّ، حَدَّثَنا عَبد اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بن الدورقي قال يَحْيى بن مَعِين رشدين بْن سعد ليس بشَيْءٍ
    ۔
    سمعتُ ابْن حماد يقول: قال السعدي رشدين عنده معاضيل ومناكير كثيرة.
    سمعتُ ابْن حماد يقول: قال السعدي سمعتُ ابْن أبي مريم يثني على رشدين في دينه.


    اس کے علاوہ کتاب ’ الجرح والتعديل ‘ میں بھی ان کے بارے میں ذکر ہے۔
    حدثنا عبد الرحمن سمعت أبي يقول: رشدين بن سعد منكر الحديث وفيه غفلة، ويحدث بالمناكير عن الثقات، ضعيف الحديث، ما أقربه من داود بن المحبر، وابن لهيعة استر، ورشدين أضعف.
    حدثنا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن رشدين بن سعد فقال: ضعيف الحديث.


    جب کہ دوسری حدیث جو اس ضمن میں ہے۔
    · حدثني إبراهيم بن هانىء بن أصبغ قال: أخبرني ابن وهب عن حيوة عن أبي عقيل عن جده عبد الله بن هشام قال: كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعلمون هذا الدعاء كما يتعلمون القرآن إذا دخل الشهر أو السنة: " اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام وجوار من الشيطان ورضوان من الرحمن.
    ترجمہ: جب نیا سال یا نیا مہینہ شروع ہوتا تو صحابہ کرام ایک دوسرے کو یہ دعا ایسے سکھایا کرتے تھے جیسے وہ قرآن ایک دوسرے کو سکھاتے تھے ۔اے اللہ ! اس کو (نیا سال یا نیا چاند) ہم پر امن و ایمان ، سلامتی اور اسلام کے ساتھ رحمن کی خوشنودی اور شیطان سے حفاظت کے ساتھ لائیے۔

    یہ حدیث " معجم الصحابة"میں ہے جس میں مذکورہ بالا حدیث جو رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ کی وجہ سے ضعيف تھی وہ راوی اس حدیث میں نہیں ہیں۔
    سند کا مدار
    أَبِي عُقَيْلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ.[1] پر ہے جس کی وجہ سے امام ابن حجر نے وهذا موقوف على شرط الصحيح کا حکم لگایا ہے اور عُقَيْلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ کی وجہ سے رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ والی سند کو بھی تقویت ملتی ہے۔۔
    عُقَيْلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ کے بار ے میں کلام:
    کتاب موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله میں ہے وقال صالح بن أحمد بن حنبل: قال أبي: أبو عقيل زهرة بن معبد، ثقة، جده من أصحاب النبي - صلى الله عليه وسلم
    اور تهذيب التهذيب میں ہے
    معبد" بن عبد الله بن هشام بن زهرة بن عثمان بن عمرو بن كعب بن سعد بن تيم بن مرة التيمي القرشي روى عن أبي هريرة في فضل الرباط وعنه ابنه أبو عقيل زهرة بن معبد ذكره بن حبان في الثقات.
    یعنی أبو عقيل زهرة بن معبد کو ثقة قرار دیا ہے۔

    امام ابن حجر کی کتاب الإصابة في تمييز الصحابة میں ہے:
    ۔ ۔ ۔ حديثا آخر رواه عن الصحابة، ولفظه: كان أصحاب رسول اللَّه صلى اللَّه عليه وسلّم يتعلّمون الدعاء كما يتعلمون القرآن إذا دخل الشّهر أو السنة: اللَّهمّ أدخله علينا بالأمن والايمان، والسّلامة والإسلام، وجواز من الشّيطان، ورضوان من الرّحمن
    وهذا موقوف على شرط الصحيح.
    امام ابن حجر نے حدیث کے بارے میں فرمایا ہے ۔
    اس پتا چلا کہ یہ دعا
    اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام وجوار من الشيطان ورضوان من الرحمن نئے چاند اور نئے سال دونوں مواقع پر پڑھی جا سکتی ہے۔

    [1] الكتاب: التاريخ الكبير
    المؤلف: محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله

    زُهرَة بْن مَعبد، أَبو عَقِيل، القُرَشِيّ.
    سَمِعَ جَدَّه عَبد اللهِ بْن هِشام، وأباه، وابْن المُسَيَّب.
    رَوَى عَنه: حَيوَة.س
    قَالَ قُتَيبة: عَنِ اللَّيث، عَنْ زُهرَة بْن مَعبد، قَالَ لي عُمر بْن عَبد العزيز: أين تسكن من مِصر؟ قلتُ: الفسطاط.
    وسَمِعَ منه سَعِيد بْن أَبي أَيوب، وأَبُو مَعن
     
  2. ‏اکتوبر 03، 2017 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  3. ‏اکتوبر 03، 2017 #3
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    جزاک اللہ خیر شیخ صاحب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں