1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نئے چاند کو دیکھ کر دعاء والی حدیث اور اس کے راویوں کے حالات

'اسماء ورجال' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اگست 25، 2017۔

  1. ‏اگست 25، 2017 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی حفظہ اللہ

    ایک بھائی نے درخواست کی ہے:
    محدث فورم پے کسی محقق سے پوچھ دیں اس حدیث کے دو راویوں کے بارے۔
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنِي بِلالُ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلاَلَ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَالإِسْلاَمِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ
    1-سلیمان بن سفیان المدینی المشہور سلیمان بن سفیان القرشیی۔
    2-بلال بن یحی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 25، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,683
    موصول شکریہ جات:
    2,243
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بندہ کوئی محقق تو نہیں ، تاہم حسب توفیق معلومات پیش ہیں ؛
    یہ حدیث جس کے دو راویوں کے متعلق آپ نے پوچھا ہے یہ حدیث :
    (( سنن الترمذی ، مسند احمد 1397 ، سنن الدارمی 1730 ،امام طبرانیؒ نے الدعاء 903 ،امام ابوبکر ابن السنی ؒ نے عمل الیوم واللیلۃ میں روایت کی ہے ))

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنِي بِلالُ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلاَلَ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَالإِسْلاَمِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ
    طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تھے تو کہتے تھے: ”اے اللہ! مبارک کر ہمیں یہ چاند، برکت اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، (اے چاند!) میرا اور تمہارا رب اللہ ہے“۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
    سنن الترمذي (3451 )
    شیخ الالبانیؒ کے نزدیک یہ حدیث شواہد کے سبب صحیح ہے ، اور شیخ زبیر علی زئیؒ کے نزدیک ضعیف ہے ، جیساکہ انوارالصحیفہ میں انہوں نے لکھا ہے
    قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
    (3451) إسناده ضعيف ¤ سليمان بن سفيان: ضعيف (تقدم:2167) وبلال بن يحيحي: لين (تق:8780) وللحديث شواهد ضعيفة عند ابن حبان (2374) والطبراني (الأوسط:6237) وغيرهما

    قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1816) ، الكلم الطيب (161 / 114)

    وقال الشیخ حسين سليم أسد الداراني
    "إسناده ضعيف لضعف سليمان بن سفيان" یعنی سنن دارمی کی تحقیق میں علامہ حسین سلیم اسد حفظہ اللہ اسے سلیمان کے سبب ضعیف کہتے ہیں "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور عصر حاضر کے نامور محقق ابو اسامہ عید بن سلیم الھلالی ( عمل الیوم واللیلۃ ) کی تخریج میں اس حدیث کے ذیل میں بہترین تخریج کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    (جس کا خلاصہ یہ ہے کہ : اس کے مجموعی طرق سے یہ حدیث حسن ہے ، )

    إسناده ضعيف؛ (وهو حسن)؛ أخرجه أبو يعلى في "مسنده" (2/ 25 - 26/ 661 و 662) -وعنه ابن عدي في "الكامل في الضعفاء" (3/ 112)، والضياء المقدسي في "الأحاديث المختارة" (3/ 22/ 820) - بسنده سواء.
    لكن الضياء رواه من طريق أبي يعلى عن هارون بن عبد الله وحده ولم يقرن معه موسى بن محمد.
    وأخرجه الطبراني في "الدعاء" (2/ 1223/ 903) عن موسى بن هارون بن عبد الله الحمال عن أبيه به.
    وأخرجه الترمذي (5/ 504/ 3451)، وأحمد في "مسنده" (1/ 162) -ومن طريقه الضياء المقدسي في "الأحاديث المختارة" (3/ 22 - 23/ 821)، والطبراني في "الدعاء" (2/ 1223/ 903) -، وعبد بن حميد في "مسنده" (1/ 153/ 103 - منتخب)، وإسحاق بن راهويه في "مسنده"، كما في "الأحاديث المختارة" (3/ 23)، و"الفتوحات الربانية" (4/ 329) -وعنه الدارمي في "سننه" (7/ 255/ 1811 - فتح المنان)، والبخاري في "التاريخ الكبير" (2/ 109)، والطبراني في "الدعاء" (2/ 1223/ 903) -، وابن أبي عاصم في "السُّنة" (1/ 165/ 376)، والبخاري في "التاريخ الكبير" (2/ 109)، والدارمي في "سننه" (7/ 255/ 1811)، والبزار في "البحر الزخار" (3/ 161 - 162/ 947)، والعقيلي في "الضعفاء الكبير" (2/ 136)، والحاكم (4/ 285)، والخطيب في "تاريخ بغداد" (14/ 324 - 325)، والبغوي في "شرح السُّنة" (5/ 128/ 1335)، والبيهقي في "الدعوات الكبير" (2/ 242/ 467) بطرق كثيرة عن أبي عامر العقدي به.
    قال الترمذي: "هذا حديث حسن غريب".
    وقال الحافظ ابن حجر؛ كما في "الفتوحات الربانية" (4/ 329) -: "هذا حديث حسن؛ أخرجه أحمد وإسحاق في "مسنديهما"، وأخرجه الترمذي وقال: "حديث حسن غريب".
    وأخرجه الحاكم، وقال: "صحيح الإسناد! "، وغلط في ذلك، فإن سليمان ضعفوه، وإنما حسنه الترمذي؛ لشواهده.
    وقوله: "غريب"، أي: بهذا السند" أ. هـ.
    قلت: الذي رأيته في "مطبوع المستدرك": أن الحاكم سكت عليه هو والذهبي؛ فلعله سقط من المطبوع.
    وقال شيخنا العلامة الألباني - رحمه الله - في "ظلال الجنة" (1/ 165): "حديث حسن، وإسناده ضعيف من أجل سليمان بن سفيان وبلال بن يحيى؛ فإنهما ضعيفان، لكن له شاهد من حديث ابن عمر صححه ابن حبان".
    قلت: وهو كما قال، ونحوه في "الصحيحة" (4/ 431).
    وله شاهد من حديث ابن عمر - رضي الله عنهما - وهو الذي أشار إليه شيخنا - رحمه الله - آنفًا: أخرجه الدارمي في "سننه" (7/ 254/ 1810 - فتح المنان)، والطبراني في "المعجم الكبير" (12/ 273/ 13330)، وابن حبان في "صحيحه" (2374 - موارد) من طريق عبد الرحمن بن عثمان بن إبراهيم: حدثني أبي عن أبيه وعمه عن ابن عمر به.
    قلت: هذا إسناد ضعيف؛ فإن عبد الرحمن وأباه ضعيفان.
    قال الهيثمي في "مجمع الزوائد" (10/ 139): "وعثمان بن إبراهيم الحاطبي فيه ضعف، وبقية رجاله ثقات!! ".
    وتعقبه شيخنا العلامة الألباني - رحمه الله - في "الصحيحة" (4/ 431) بقوله: "كذا قال، وعبد الرحمن بن عثمان، قال الذهبي: "مُقِلّ، ضعّفه أبو حاتم الرازي"، وأما ابن حبان فذكره في "الثقات"" أ. هـ.
    وبالجملة، فالحديث بمجموعهما حسن - إن شاء الله -.



    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور اس کے دو راویوں ( سلیمان اور بلال ) کا ترجمہ یعنی جرح و تعدیل میں درجہ اور حالت درج ذیل ہے :

    امام ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں :
    سليمان بن سفيان، [ت] أبو سفيان المدني.
    عن عبد الله بن دينار، وبلال بن يحيى.
    قال ابن معين: ليس بشئ.
    وقال - مرة: ليس بثقة.
    وكذا قال النسائي.
    وقال أبو حاتم والدارقطني: ضعيف.
    العقدى، حدثنا سليمان بن سفيان، حدثنا بلال بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله، عن أبيه، عن جده - أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا رأى الهلال قال: اللهم أهله علينا بالامن والايمان والإسلام، ربى وربك الله.

    یعنی سلیمان بن سفیان جن کی کنیت ابوسفیان ہے اور مدنی ہیں ، وہ عبداللہ بن دینار اور بلال بن یحیٰ سے روایت کرتے ہیں ،
    امام ابن معین فرماتے ہیں کہ سلیمان بن سفیان (کوئی شئی نہیں ) اور فرماتے ہیں کہ وہ ثقہ نہیں ،امام نسائی بھی یہی کہتے ہیں ،امام ابو حاتمؒ اور امام دارقطنی بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں ؛
    آگے امام ذھبیؒ نے ان کی چاند دیکھ پڑھی جانے والی دعاء کی روایت لکھی ہے ،
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور علامہ ابن حجر تہذیب التہذیب میں لکھتے ہیں:

    سليمان" بن سفيان التيمي أبو سفيان المدني مولى آل طلحة بن عبيد الله روى عن بلال بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله وعبد الله بن دينار وعنه سليمان التيمي وابنه معتمر بن سليمان وأبو داود الطيالسي قال الدوري عن ابن معين روى عنه أبو عامر العقدي حديث الهلال وليس بثقة وقال ابن أبي خيثمة عن ابن معين ليس بشيء وقال ابن المديني روى أحاديث منكرة وقال أبو حاتم ضعيف الحديث يروي عن الثقات أحاديث مناكير وقال أبو زرعة منكر الحديث روى عن عبد الله بن دينار ثلاثة أحاديث كلها يعني مناكير قال وإذا روى المجهول المنكر عن المعروفين فهو كذا كلمة ذكرها وقال الدولابي ليس بثقة وذكره ابن حبان في الثقات وقال كان يخطىء قلت وقال يعقوب بن شيبة له أحاديث مناكير وقال الترمذي في العلل المفرد عن البخاري منكر الحديث وقال النسائي ليس بثقة وقال الدارقطني ضعيف.
    حافظ ابن حجرؒ ان کا ابتدائی تعارف کروانے کے بعد لکھتے ہیں :
    سلیمان بن سفیان سے ابو عامر العقدی نے رؤیت ھلال (کی دعاء والی ) روایت نقل کی ہے لیکن وہ ثقہ نہیں ، اور ابن معین کا دوسرا قول ان کے متعلق یہ ہے کہ سلیمان (لیس بشئی )
    اور ابوزرعہ ؒ فرماتے ہیں :یہ منکر الحدیث ہیں ،اس نے عبداللہ بن دینار سے تین احادیث روایت کی ہیں جو سب منکر ہیں ، اور فرماتے ہیں کہ جب مجہول معروفین سے روایت کرتا ہے تو وہ ایسی ہوتی ہیں ، دولابی بھی ان کے متعلق کہتے ہیں وہ ثقہ نہیں ، امام ابن حبان نے ثقات میں ذکر فرمایا ہے اور کہا ہے کہ وہ خطا کرتے ہیں ،
    اور یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں : اس کی کچھ منکر احادیث ہیں ، امام ترمذی علل الکبیر میں امام بخاریؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ سلیمان منکر الحدیث ہے اور نسائی کہتے ہیں کہ ثقہ نہیں ،اور امام دارقطنی ؒ فرماتے ہیں کہ ضعیف ہیں " تھذیب التھذیب

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  3. ‏اگست 25، 2017 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    جزاکم اللہ خیرا کثیرا یا شیخ!

    بھائی نے آپ کا شکریہ ادا کیا ہے اور مزید استفسار کیا ہے:

    اسکو حسن بولا گیا ہے کیا یہ حسن لذاتہ ہے یا حسن لغیرہ۔۔۔
    تفصیل سے گمان یہ نکل رہا ہے کہ
    ۔
    ضعیف + ضعیف + ضعیف = حسن لغیرہ۔
     
  4. ‏اگست 25، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,683
    موصول شکریہ جات:
    2,243
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تقریب میں ان کے متعلق لکھتے ہیں :
    بلال ابن يحيى ابن طلحة ابن عبيد الله التيمي المدني لين من السابعة ت
    "یعنی بلال بن یحی کمزور ، ضعیف راوی ہیں ، اور ساتویں رتبہ سے تعلق رکھتے ہیں ، ترمذی کے رواۃ میں سے ہیں "
    اور حافظ صاحب تقریب کے مقدمہ میں ساتویں رتبہ کی تشریح میں لکھتے ہیں :
    من روى اكثر من واحد ولم يوثق و اليه الاشارة بلفظ :مستور، مجهول الحال"
    کہ ساتویں طبقہ میں وہ راوی ہیں جن کی کسی نے توثیق نہیں کی ، اور اسی درجہ کے راوی کیلئے "مستور اور مجہول الحال " کے الفاظ سے اشارہ ہے "
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    لیکن تقریب التھذیب کی تحریر میں ڈاکٹر بشار عواد اور شیخ شعیب ارناؤط نے بلال بن یحی کے ترجمہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ :
    " بل مجهول، تفرد سليمان بن سفيان المديني-- وهو ضعيف -- بالرواية عنه،ولم يوثقه سوى ابن حبان ،وحديثه الواحد الذي اخرجه الترمذي ضعيف "
    یعنی بلال بن یحی (صرف کمزور نہیں ) بلکہ مجہول ہے ،کیونکہ اس سے سوائے سلیمان بن سفیان کے ۔۔ جو خود ضعیف ہے ۔۔اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ، اور ابن حبان کے علاوہ کسی نے اسکی توثیق نہیں کی ، اس کی ترمذی میں اکیلی منقول روایت ضعیف ہے "
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 25، 2017 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,683
    موصول شکریہ جات:
    2,243
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    یہ آخر والا گمان درست ہے ، اسکے تمام طرق ضعف سے خالی نہیں ،
    امام ابو جعفر العقیلی " الضعفاء الکبیر " میں لکھتے ہیں :
    " وفي الدعاء لرؤية الهلال أحاديث كان هذا عندي من أصلحها إسنادا، وكلها لينة الأسانيد "
    کہ رؤیت ہلال کی دعاء میں منقول تمام احادیث میں یہی (سلیمان بن سفیان ) والی کچھ بہتر اسناد کی تھی ، ویسے اس کے تمام طرق کمزور اسانید پر مبنی ہیں "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 25، 2017 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    جزاکم اللہ خیرا کثیرا
    بارک اللہ فی علمک وعملک ومالک واھلک
     
  7. ‏اگست 25، 2017 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,269
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    نیا چاند یا (عام) چاند؟؟؟؟
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 26، 2017 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,683
    موصول شکریہ جات:
    2,243
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    عام چاند نہیں صرف نیا چاند
    کیونکہ اس دعاء میں ( كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلاَلَ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ )
    آپ ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تو یہ دعاء پڑھتے ۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب آپ پوچھیں گے کہ اس میں نیا چاند کس لفظ کا ترجمہ ہے ،تو امام عبدالرحمن مبارکپوریؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :
    قوله (كان إذا رأى الهلال) وهو يكون من الليلة الأولى والثانية والثالثة ثم هو قمر " (تحفہ الاحوذی )
    کہ اس حدیث میں جو کہا کہ : جب آپ ﷺ ( ھلال دیکھتے ) تو واضح رہے کہ صرف پہلی ، دوسری اور تیسری رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں ، اس کے بعد وہ قمر کہلاتا ہے "
     
    Last edited: ‏اگست 26، 2017
  9. ‏اگست 26، 2017 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,269
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاکم اللہ خیرا محترم شیخ!
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 26، 2017 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,683
    موصول شکریہ جات:
    2,243
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    استاد قمر جلالوی
    نے اپنے تخلص کا بڑا خوبصورت استعمال کیا ہے۔ اس لیئے سوچا یہ بھی متعلق ہی ہے۔


    مجھی پہ ختم سب اپنے کمال کر دو گے
    یہی ستم ہیں تو کیا میرا حال کر دو گے
    بڑھا بڑھا کے جفائیں جھکا ہی دو گے کمر
    گھٹا گھٹا کے قمر کو ہلال کر دو گے​
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں