1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نادعلی

'شرک دعا' میں موضوعات آغاز کردہ از حرب بن شداد, ‏جنوری 16، 2013۔

  1. ‏جنوری 16، 2013 #1
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    اس حقیقت کے تعلق سے اگر کسی بھائی کے پاس کوئی معلومات ہیں تو رہنمائی فرمائی۔۔۔
    شکریہ۔۔۔
     
  2. ‏جنوری 16، 2013 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آپ اس کے متعلق کیا جاننا چاہتے ہیں، اور یہ حقیقت نہیں ہے یہ جھوٹ ہے۔ اللہ کے سوا کوئی مدد نہیں کر سکتا، حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے ہیں وہ نہ تو کسی کی پکار کو سنتے ہیں اور نہ کسی کی مدد کو آ سکتے ہیں، خیبر کے دن جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دینا تھا تو پوچھنے پر پتہ چلا کہ ان کی آنکھ میں درد ہے۔سبحان اللہ ، جو مشکل کشا ہو یا حاجت روا ہو اسے درد نہیں ہوتا اور ایسی صرف ایک ذات ہے اور وہ اللہ ہے۔ پکارنے والے اگر اس بات کو سمجھتے ہیں اور لوگوں کو نہیں بتاتے تو وہ کتمان حق کے مرتکب ہیں اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور اگر پکارنے والے اس بات کو نہیں سمجھتے تو ہماری دعا ہے کہ اللہ انہیں ہدایت عطا فرمائے آمین
    قرآن و حدیث کی غلط اور من مانی تفسیر کر کے لوگوں میں ان عقائد کو ترویج دینا سراسر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والی بات ہے۔
     
  3. ‏جنوری 16، 2013 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    قُلْ أَنَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا
    ترجمہ: کہو۔ کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ (سورۃ الانعام،آیت71)

    إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ﴿194﴾
    ترجمہ: بے شک جنہیں تم الله کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہیں پھر انہیں پکار کر دیکھو پھر چاہے کہ وہ تمہاری پکار کو قبول کریں اگر تم سچے ہو (سورۃ الاعراف،آیت 194)

    وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ﴿197﴾
    ترجمہ: اور جنہیں تم پکارتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کر سکتے اور نہ اپنی جان کی مدد کر سکتے ہیں (سورۃ الاعراف،آیت 197)

    لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَىْءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦ ۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَٰلٍۢ ﴿14﴾
    ترجمہ: اسی کو پکارنا بجا ہے اوراس کے سوا جن لوگوں کو پکارتے ہیں وہ ان کے کچھ بھی کام نہیں آتے مگر جیسا کوئی پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے کہ اس کے منہ میں آجائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک نہیں پہنچتا اور کافروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی ہے (سورۃ الرعد،آیت 14)

    قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا ﴿56﴾
    ترجمہ: کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے (سورۃ بنی اسرائیل،آیت56)

    قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍۢ وَمَا لَهُۥ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍۢ ﴿22﴾
    ترجمہ: کہہ دوالله کے سوا جن کا تمہیں گھمنڈ ہے انہیں پکارو وہ نہ تو آسمان ہی میں ذرّہ بھر اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان میں کچھ حصہ ہے اور نہ ان میں سے الله کا کوئی مددکار ہے (سورۃ سبا،آیت22)

    قرآن مجید کی ان واضح آیات سے بھی اگر کوئی عقیدہ توحید نہیں سمجھتا اور کفر کی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ پھر انتظار کرے کب اس پر اللہ کا عذاب آتا ہے۔
     
  4. ‏جنوری 16، 2013 #4
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ!۔
    دعائے سیفی جس کی نسبت شاہ ولی اﷲ نے لکھاکہ میں اپنے شیخ سے اخذ کی اور اجازت لی اسی کی ترکیب میں ملاحظہ ہوکہ جواہرخمسہ میں کیالکھاہے:
    نادعلی ہفت باریاسہ باریایکبار بخواند وآں اینست نادعلیا مظھرالعجائب تجدہ عونالک فی النوائب کل ھم وغم سینجلی بولایتک یاعلی یاعلی یاعلی۔

    نادعلی سات باریاتین باریاایک بارپڑھو اوروہ یہ ہے:
    پکارعلی کو جوعجائب کے مظہرہیں تو ان کو اپنے مصائب میں مدد گار پائے گا، ہرپریشانی اور غم ختم ہوگا آپ کی مدد سے یاعلی یاعلی یاعلی (ت)
     
  5. ‏جنوری 17، 2013 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    یہ پڑھنے سے کیا ہوا، کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ مدد کو آ گئے؟ ہرگز نہیں۔ آج تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کی مدد کو نہیں آئے، خود موحدین حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے کبھی اپنے بابا کو نہیں پکارا۔ کیونکہ وہ موحد تھے ان کو پتہ تھا کہ ہمارا مددگار اللہ کے سوا کوئی نہیں۔

    لوگوں نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بھی ایسے عقائد گھڑے تھے کہ یہ کر دیتے ہیں ، وہ کر دیتے ہیں، قبر میں فرشتوں کے ہاتھ پکڑ لیتے ہیں۔(نعوذباللہ)

    لیکن اسلام کے دشمنوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی اور شیخ جیلانی صاحب مدد کو نہیں آئے، آ بھی کیسے سکتے تھے انہیں کچھ معلوم ہی نہیں تھا، کیونکہ اب ان کی برزخی زندگی ہے جو دنیاوی زندگی سے مختلف ہے۔

    اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے کھانے کے ڈھونگ رچا رکھے ہیں، اگر وہ صحیح عقائد لوگوں کو بتا دیں تو لوگ ان سے ناطہ ختم کر کے صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا شروع کر دیں گے اور ان مولویوں کے پیٹ کا کیا بنے گا۔ اسی لیے یہ بندوں کا اللہ سے رابطہ ختم کر کے مخلوق سے رابطہ کروانا چاہتے ہیں جو بندوں کے لیے دنیا و آخرت میں خسارے کا باعث ہے۔
    اللہ ان مولویوں کو اور ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین

    آپ ان کی ان کفریہ باتوں کو نہ لکھیں اور اگر لکھنا ہے تو ان کا رد بھی ساتھ پیش کریں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 17، 2013 #6
    عاصم کمال

    عاصم کمال رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 10، 2012
    پیغامات:
    112
    موصول شکریہ جات:
    233
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    اس بات کو شاہ ولی اللہؒ کی طرف منسوب کرنا آپ ؒ پر ایک ظلم عطیم ہے،میں نے مولانا الیاس قادری صاحب کی خود ایک کتاب پڑھی تھی جس میں انہوں نے اس طرح کی باتیں شاہ ولی اللہ ؒ سے منسوب کی تھی ،جب اصل کتابیہں دیکھیں تو پتہ چلا ہے کہ بات کچھ اور تھی اور ان لوگوں نے بگاڑ کر کچھ اور بنا لیا ہے۔
     
  7. ‏جنوری 17، 2013 #7
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,979
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    اس طرح کے شرکیہ کلمات کا آغاز سب سے پہلے عبدللہ بن سبا یہودی منافق نے کیا تھا اور بعد میں یہ کسس طرح پاک -و-ہند مین رواج پا گیا اس ک لئے ایک کتاب ضررور پڑھیے نام ہے "ارمغان-
    عجم"
    مصنف عزیر احمد
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 17، 2013 #8
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    دراصل پاکستان میں جیسا کے سب دوست جانتے ہیں۔۔۔
    موبائل پیغامات کی بھرمار ہے۔۔۔ جو طرح طرح کے ہوتے ہیں۔۔۔
    مجھے یہ اس طرح پتہ چلا کے ہمارے ایک دوست نے یہ سوال کیا۔۔۔۔
    تو میں سوچا کیوں نہ اس کو یہاں پر شیئر کیا جائے تاکہ اس پر تمام اہل علم حضرات قرآن وحدیث کی روشنی میں دلائل سے بات پیش کریں۔۔۔
    لیکن اُس وقت میں نے اُن کو صرف ایک یہ بات کہی کے ۔۔۔
    علی رضی اللہ عنہ مددکیسے کریں گے۔۔۔ اگر ہم یہ سوچیں تو اُن کا مشکل کشا جورافضیوں کا عقیدہ ہے تو تسلیم کررہے ہیں۔۔۔
    اسکو یوں سمجھیں کے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت غوث الاعظم، وغیرہ جو المدد یا مشکل کشاء ہیں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ۔۔۔
    تب اُن سے پہلے کے لوگوں کی مشکل کشائی کون کرتا تھا۔۔۔ تو مشکل کشاء صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ذات پاک ہے۔۔۔
    باقی مانگنے والے تو گائے اور بندر سے بھی مانگ رہے ہیں وہ اُن کو دے رہے ہیں۔۔۔
    اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے کہ انسان جس راستے پر چلتا ہے تو پھر ہم اس میں آسانی پیدا کردیتے ہیں۔۔۔
    یعنی گمراہی کو ہم خود پسند کرتے ہیں حالانکہ علم ہمارے پاس موجود ہے۔۔۔
    اس لئے اللہ کے حضور توبہ کیجئے اور اس طرح کے عقائد سے خود بھی بچیں اور دوسروں میں اس کو پروان چڑھنے سے روکنے میں مدد فراہم کیجئے۔۔۔
    توحید کی ضد اور اللہ کی ضد یہ ہی خرافات ہیں۔۔۔
    باقی اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر رکھیں۔۔۔
    سب بھائیوں کا شکریہ۔۔۔ جنھوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر یہاں پر اپنی معلومات کو پیش کیا۔۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔
    یہ نیکیاں دنیا میں تو کام آئیں گی لیکن آخرت میں علم نافع کے طور پر ان شاء اللہ صدیقہ جاریہ بن کر ہمارے درجات کو بھی بلند فرمائیں گی۔۔۔
    والسلام علیکم۔
     
  9. ‏جنوری 18، 2013 #9
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    امام ابوحنیفہ رحمۃ سے بھی مردوں کا وسیلہ پکڑنا ثابت نہیں، بلکہ بطور الزامی دلیل عرض ہے۔۔۔
    کہ کتب فقہ حنفیہ میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ سے روایت ہے۔۔۔
    لاینبغی لاحد ان یدعو اللہ الا بہ۔
    کسی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اللہ سے غیر اللہ کے ذریعے سے دُعا مانگے۔۔۔
    (ملخصا مفہوما از درمختار جلد ٢ صفحہ ٦٣٠، التوسل والحکامہ للآلبانی صفحہ ٥٠)۔۔۔
     
  10. ‏مئی 18، 2019 #10
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,529
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    پنج تن کی اصطلاح کے علاوہ غالی فرقے نے "ناد علی" کے بھی دو شعر گھڑ کے "جاہل تفضیلیہ و صوفیوں" کے ذریعے عام مسلمانوں میں پھیلا دئیے، غیر اللہ کو مدد اور استعانت کے لیے اس حالت میں پکارنا کہ مرے ہوئے بھی اسے تیرہ برس سے زائد مدت گزر چکی ہو شرک اور کفر ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ مجھ سے مانگو میں تمھاری دعا کو قبول کروں گا۔ سورة غافر ۶۰، غالیہ نے عوام کو "ناد علی" کے ذریعہ یہ سبق پڑھایا کہ اپنی مصائب میں علیؓ کو پکارو۔

    نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ
    علی کو پکارو جو عجائبات ظاہر کرتے ہیں
    تَجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي النَّوَائِبِ
    تم ان کو مصائب میں اپنا مددگار پاو گے
    كُلُّ هَمٍّ وَ غَمٍّ سَيَنْجَلِي
    کل درد و غم جلدی دور ہوجائیں گے
    بِوَلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِی
    اے محمد آپ کی نبوت اور اے علی آپ کی ولایت کی بدولت

    آخری مصرعہ میں "ولایت" سے مراد "علی ولی اللہ" سے لی گئی ہے اور تفضیلیہ و متصوفہ اپنے سلسلہ کے مرشد اعلی سے لیتے ہیں، مگر اس ولایت کو نبی کریمﷺ کی نبوت کے مساوی قرار دے کر نادانوں کو فریب دیا ہے، اور تفضیلیہ متصوفہ کے توسط سے "ناد علی" کو ناواقف عقیدت مند "سنیوں" کے گلے میں تعویز بنوا کر ڈلوادیا اور اتنا غلو کیا کہ مرتے وقت بھی ساتھ نہ چھوڑا قبروں تک پرکندہ کرادیا۔ "ناد علی" کا ہی نتیجہ ہے کہ تفضیلیہ و متصوفہ کے حلقوں میں اٹھتے بیٹھتے "یا علی" کی آواز بلند ہوتی ہے۔ شیعہ حضرات کے نزدیک بھی "ناد علی" کے یہ "اشعار" ثابت نہیں ہے۔ بحار الأنوار میں اس "ناد علی" کی روایت کے متعلق اس کتاب کا محقق لکھتا ہے: آخری جملہ میں غربت پائی جاتی ہے اور سابقہ جملے سے کوئی میل نہیں رکھتا اور بظاھر یہ "جہلاء یا گمراہ صوفیوں" کا اضافہ لگتا ہے جن کا دعوی ہے کہ یہ جملے دعا ہیں اور اسی وجہ انھوں نے ان کو ذکر کیا ہے اور اس طرح کے بہت سے اضافے انھوں نے کئے ہیں جبکہ ان کے معنی سے غافل ہیں، اللہ تعالی بدعت اور خواہشات کی اتباع سے محفوظ رکھے۔

    جو حضرات "مستدرک الوسائل" کتاب کا حوالہ دیتے ہیں ان کو چاہے کہ وہ شیعوں کے امام معصوم سے اس کی صحت ثابت کریں، کیونکہ "مستدرک الوسائل" میں شیعوں کے امام معصوم سے کوئی روایت نہیں لی گئی۔
     
    Last edited: ‏مئی 18، 2019

اس صفحے کو مشتہر کریں