1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ناقدین جدیدیت کو ایک نصیحت

'جدیدیت' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏ستمبر 10، 2019۔

  1. ‏ستمبر 10، 2019 #1
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    مغربی یلغار کے سامنے کھڑے افراد میں ایک سوچ محسوس کی. وہ یہ کہ ہمارے یہ بھائی سیکولرزم کے مقابلے میں معاشرے میں موجود ہر قسم کی مذھبیت کو غنیمت جانتے ہیں....بعض افراد تو اس پر رد کو خلاف حکمت سمجھتے ہیں کہ جدیدیت کو فائدہ ہوتا ہے (وہ اس طرح کہ ان کے مطابق لوگوں کا مذھب سے رشتہ ان رسم و رواج کے ذریعہ جڑا ہوا ہے جس کو "موحدین" ختم کرلیتے ہیں).

    میں سمجھتا ہوں یہ اپروچ درست نہی ہے....سیکولرزم اور مغربی یلغار جتنی بڑی آفت ہے شرک و بدعت (بالخصوص بدعتی منھج) اپنی عاقبت کے اعتبار سے اس سے کم نہی.

    لوگوں کو دین سے منسلک رکھنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ وہ آخرت کی فلاح پا جائیں. اور یہ شرک و بدعات فلاح کے بجائے خسران عظیم کی طرف لے جانے والے اعمال ہیں.

    اس دور میں باطل کا حقیقی رد اور دین کی صحیح حمایت وہی کرسکے گا جو شیخ الاسلام بن تیمیہ رحمہ اللہ کے منھج پر کام کرے گا
    جنہوں نے یونانی گمراہیوں کا جہاں زبردست قسم کا رد کیا وہیں امت میں موجود گمراہیوں کو بھی نہ چھوڑا.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں