1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبیوں کا نبیﷺَ ۔تفسیر السراج۔ پارہ:3

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏جولائی 15، 2013۔

  1. ‏جولائی 15، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    وَلَا يَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰۗىِٕكَۃَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا۝۰ۭ اَيَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۝۸۰ۧ وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَۃٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ۝۰ۭ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ۝۰ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا۝۰ۭ قَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰہِدِيْنَ۝۸۱
    ۱؎ تمام نبیوں کا دائرۂ تبلیغ عام انسانوں تک ہے اور وہ صرف اس حدتک مکلف ہیں کہ وظیفۂ رشدوہدایت کو مفروضہ قوم کے لیے جاری رکھیں۔ یعنی سب کے مخاطب عام انسان ہیں جن کو ان پر ایمان لانا ضروری ہے مگر پیغمبر کون، خواجۂ عالم وعالمیان ﷺکی نبوت عام انسانوں سے گزر کر انبیاء علیہم لسلام کے لیے بھی ضروری ہے ۔ اس آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ جب انبیاء کو عالم برزخ میں پیدا کیا گیا تو ان سے کہا گیا کہ باوجود اس کتاب وحکمت کے جو تمھیں دی گئی ہے ، تم پر لازم ہے کہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام منصہ شہود پر آئیں تو ان پر ایمان لاؤ اور ان کی نصرت میں اقدام کرو۔ سب نے کہا۔ منظور ہے اور ہم اس حقیقت نیرہ کے شاہد وگواہ ہیں۔ گویا آپ ﷺکی نبوت کے لیے سب سے عہد لیا گیا اور سب نے مل کر آپﷺ کی نبوت کو مانا جس کے معنی یہ ہیں کہ آپﷺ پیغمبروں کے پیغمبر اور نبیوں کے نبی ﷺہیں اور آپ ﷺکا پیغام تمام صداقتوں کا حامل اور آپﷺ کی نبوت تمام انبیاء کی مصدقہ ہے ۔بات یہ ہے کہ آپ ﷺسے پہلے جس قدر انجم فلک کائنات پر جلوہ گرہوئے،وہ آپﷺ کی آمد کا اعلان تھے اور اس کتاب ہدیٰ کا مقدمہ یاد یباچہ تھے جو حضرت انسان کوعنایت ہونے والی تھی۔ جس طرح سپیدئہ سحری صبح جان نواز کا پیش خیمہ ہوتی ہے ، اسی طرح سابقہ نبوتیں، پہلے پیغام، سب اس نبی اکبرﷺاورخاتم پیغمبران کی تمہید سمجھیے یاسرنامۂ خط۔

    وہ جو مقصود حاصل ہے ، وہ حضورﷺ کی ذات بالشمائل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تمام سابقہ کتابوں میں اس محبوب اصل کے خدوخال کا ذکر پایا جاتا ہے ۔ کہیں اسے ''سرخ وسفید'' کہا گیا ہے ۔ کہیں '' فارقلیط'' کے لفظ سے تعبیر کیا گیا۔ کہیں ''آتشیں شریعت کا پیش کرنے والا'' کہا گیا۔ کہیں صاف صاف '' محمد یم'' کہہ کر ہرشبہ کو اڑادیاگیا اور ہرپردہ کو چاک کر دیامگر باوجود اس وضاحت اور صراحت کے بعض طبیعتیں ایسی ہیں جو بجز انکار اور سرکشی کے کسی چیز پر قانع نہیں ہوتیں۔ فرمایا۔ وہ لو گ جو آفتاب عقل کی درخشانی کے بعد بھی آپﷺ کو ماننے میں متامل ہیں، ان سے زیادہ بدقسمت اورفاسق کون ہے ؟
    {اَقْرَرْتُمْ}مصدر اقرار بمعنی ماننا۔ اعتراف کرنا اور قبول کرلینا{ اِصْرٌ} عہد ۔قول۔
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں