1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور علم غیب

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 23، 2017۔

  1. ‏جنوری 23، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور علم غیب


    تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری
    علم غیب اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ یہ اہل سنت و الجماعت کا اتفاقی و اجماعی عقیدہ ہے۔ اس اجماعی عقیدے کے خلاف نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے کے نظریے کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔

    نصاریٰ اور روافض کا نظریہ :

    انبیا کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ اسلاف امت میں کسی سے بھی ثابت نہیں ، بلکہ یہ نصاریٰ اور روافض سے ماخوذ ہے، جیسا کہ:

    علامہ ، عبدالرحمن بن عبداللہ ، سہیلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    فَلِذٰلكَ كَانَ الْمسِيحُ عندھم يعلم الغيب، ويخبر بما فى غد، فلما كان ھٰذَا منْ مذھب النصاري الكذبة على الله، المدعين المحال

    ”اسی لیے نصاریٰ کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام عالم الغیب تھے اور آئندہ کی باتوں کی خبر دیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور ناممکنات کا دعویٰ کرنے والے نصاریٰ کا یہ حال تھا، تو۔۔۔“

    (الروض الأنف : 404/2، عمدة القاري للعيني الحنفي : 55/1)


    قرآنی دلیل :

    اب اس عقیدے کے متعلق قرآنی دلیل ملاحظہ فرمائیں :

    ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

    قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ (6-الأنعام : 50)

    ”آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں، نہ ہی میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔“

    سیدنا نوح علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب اللہ تعالیٰ نے یوں نقل فرمایا ہے :

    وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ (11-هود : 31)

    ”میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں، نہ ہی میں فرشتہ ہوں۔“

    اس آیت کی تفسیر میں امام ابوجعفر نحاس (م : 338 ھ) لکھتے ہیں :

    وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ، أَخْبَرَ بِتَوَاضُعِه وَتَذَلُّلِهٖ لله جلَّ وَ عَزَّ، وانه لا يدعي ما ليس له ؛ من خزائن الله جل و عز، وھي إنعامه عليٰ مَنْ يشاءُ من عباده، انه لا يعلم الغيب ؛ لان الغيب لا يعلمه إلا الله جل و عز.

    وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ ”میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔“ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنی عاجزی اور بے بسی کا اظہار کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے آپ کے پاس نہیں ہیں، آپ ایسا کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا انعام ہوتا ہے، جس بندے پر چاہے کرے۔ یہ بھی بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے، کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔“ (إعراب القرآن : 167/2)

    علامہ ابواسحاق ابراہیم بن سری، زجاج رحمہ اللہ (241-311ھ) فرماتے ہیں :

    فأعلمهم النبي – صلى الله عليه وسلم – أنه لا يملك خزائِنَ الله التِي بِهَا يَرزُق وُيعْطِي، وأنه لا يعلم الْغَيْبَ فيخبِرَهُمْ بِمَا غَابَ عَنْه مِمَّا مضَى، وما سَيَكُونُ إلا بِوَحْيٍ من اللَّهِ جلَّ وعزَّ.

    ”نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (مشرکین) کو بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رزق و بخشش والے خزانوں کے مالک نہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ وحی کے بغیر انہیں ان واقعات کی خبر دیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی میں پیش آچکے تھے یا آئندہ رونما ہونے والے تھے۔“ (معاني القرآن و إعرابه : 250/2)

    مشہور مفسر ، علامہ ، ابوعبداللہ ، محمد بن احمد ، قرطبی رحمہ فرماتے ہیں:

    وَلا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ (أَخْبَرَ بِتَذَلُّلِهِ وَتَوَاضُعِهِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَّهُ لَا يَدَّعِي مَا لَيْسَ لَهُ مِنْ خَزَائِنِ اللَّهِ، وهي إنعامه على من يشاء مِنْ عِبَادِهِ، وَأَنَّهُ لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ، لِأَنَّ الْغَيْبَ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) .

    وَلا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ ”ميں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔“ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور بے بسی کا تذکرہ کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا دعویٰ بھی نہیں کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا انعام ہوتا ہے، جس بندے پر چاہے کرے۔ یہ بھی بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے، کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔“ (الجامع لأحکام القرآن : 27، 26/9)

    معلوم ہوا کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پر جو یہ فرمایا تھا :

    أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومَنَّ أَحَدٌ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ

    ”خبردار ! آج رات سخت آندھی چلے گی، لہٰذا کوئی بھی کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو، اسے باندھ لے۔“ (صحيح البخاري : 1481، صحيح مسلم : 1392)

    یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی باخبر کر دیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آندھی آنے سے قبل ہی اس کی خبر مل گئی تھی، لیکن کوئی بھی اس خبر ملنے کی بنا پر صحابہ کرام کو عالم الغیب ثابت نہیں کرتا، تو نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ملنے پر عالم الغیب ثابت کرنا کیسے درست ہے ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اور خود نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرامین میں جابجا اس بات کی صراحت فرمادی ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے، اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا !

    احاديثِ نبويه :

    آئیے اس حوالے سے کچھ احادیث بھی ملاحظہ فرمالیں :

    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    وَلَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ

    ”کل کیا ہونے والا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ ( صحيح البخاري : 7379)

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے :

    حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نَا أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنِسَاءٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي عُرْسٍ لَهُنَّ يُغَنِّينَ : … وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ

    ”نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کی کچھ عورتوں کے پاس سے ہوا، جو اپنی ایک شادی میں یہ گنگنارہی تھیں۔۔۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی بات کو جانتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کل کی بات کو سواے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔“ (المعجم الأوسط للطبراني : 3401، المعجم الصغیر للطبرانی : 343، المستدرك على الصحيحين للحاكم : 185/2، السنن الكبريٰ للبيھقي : 289/7، و سندہٗ حسنٌ)

    اس حدیث و امام حاکم رحمہ اللہ نے ”امام مسلم کی شرط پر صحیح“ قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

    حافظ ہیثمی کہتے ہیں :

    (وَرِجَالُهٗ رِجَالُ الصَّحِيحِ) ۔اس حدیث کے راوی صحیح بخاری والے ہیں۔“ ( مجمع الزوائد : 290/4)

    سیدنا جبرئیل علیہ السلام نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کہ قیامت کب ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    ” سبحان الله في خمس من الغيب لا يعلمهن إلا هو ﴿إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ (31-لقمان : 34)

    ”سبحان اللہ ! قیامت کا علم تو ان پانچ چیزوں میں شامل ہے، جو غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ٱیت کریمہ تلاوت فرمائی : ) ﴿إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ ( بلاشبہ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ارحام میں جو کچھ ہے، وہی اسے جانتا ہے۔ کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کو کیا کرے گی اور کسی کو معلوم نہیں کہ کسی زمین میں اسے موت آئے گی۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی خوب علم والا، خبر رکھنے والا ہے ) “ (مسند الإمام أحمد : 318/1، وسندہٗ حسنٌ)۔

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ :

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو ساری کائنات سے بڑھ کر پیکر نبوت و رسالت کی واقفیت رکھتے تھے، ان کا بھی یہی عقیدہ و نظریہ تھا کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے۔

    ٭ مؤمنوں کی ماں، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

    وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ
    ”جو آپ کو یہ بتائے کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کل ہونے والے واقعات کو جانتے تھے، اس نے جھوٹ بولا: ہے۔“ (صحیح بخاری : 4855)۔

    صحیح مسلم (177) کے یہ الفاظ ہیں :

    وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ، وَاللهُ يَقُولُ : قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ(النمل : 65)۔

    ”جس کا یہ دعویٰ ہو کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ ہونے والی باتوں کی خبر دیتے تھے، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ (النمل : 65) ( اے نبی ! آپ کہہ دیجئے کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی ہستی، سوائے اللہ تعالیٰ کے، غیب نہیں جانتی)۔

    مشہور صوفی ابومحمد ابن ابوحمزہ (م : 699 ھ) لکھتے ہیں :

    وَفِي قَوْلِهِ وَلَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ إِشَارَةٌ إِلَى أَنْوَاعِ الزَّمَانِ وَمَا فِيهَا مِنَ الْحَوَادِثِ وَعَبَّرَ بِلَفْظِ غَدٍ لِتَكُونَ حَقِيقَتُهُ أَقْرَبَ الْأَزْمِنَةِ وَإِذَا كَانَ مَعَ قُرْبِهِ لَا يَعْلَمُ حَقِيقَةَ مَا يَقَعُ فِيهِ مَعَ إِمْكَانِ الْأَمَارَةِ وَالْعَلَامَةِ فَمَا بَعُدَ عَنْهُ أَوْلَى وَفِي قَوْلِهِ وَلَا يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا اللَّهُ إِشَارَةٌ إِلَى عُلُومِ الْآخِرَةِ فَإِنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوَّلُهَا وَإِذَا نَفَى عِلْمَ الْأَقْرَبِ انْتَفَى عِلْمُ مَا بَعْدِهِ فَجَمَعَتِ الْآيَةُ أَنْوَاعَ الْغُيُوبِ وَأَزَالَتْ جَمِيعَ الدَّعَاوِي الْفَاسِدَةِ

    ”نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں کہ (کل کی بات کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ) مختلف زمانوں اور ان میں پیش آنے والے واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی نفی کو کل کے لفظ سے تعبیر کیا ہے تاکہ اس کا اثبات قریب ترین زمانہ میں ہو۔ جب کل کے قریب ہونے اور اس میں ہونے والے واقعات کی علامات بھی موجود ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں نہیں جانتے تھے، تو دور والے واقعات کا علم تو بالاولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں تھا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ (قیامت کب قائم ہوگی، سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا) میں علوم آخرت کی طرف اشارہ ہے۔ قیامت کا دن آخرت کا آغاز ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلی چیز کے علم کی نفی کردی، تو اس کے بعد والے حالات کے علم کی نفی خود بخود ہوگئی۔ اس آیت کریمہ نے غیب کی تمام اقسام کو جمع کردیا ہے اور تمام غلط دعویٰ جات کی نفی کردی ہے۔“ (بھجة النفوس و تحلّيھا بمعرفة ما لھا وما عليھا : 272/4، ملخضا، فتح الباري لابن حجر : 365/13)

    الحاصل :

    علم غیب اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ مخلوق میں سے کوئی بھی علم الغیب نہیں۔ قرآن کریم، احادیث نبویہ، فتایٔ صحابہ اور ائمہ مسلمین کا یہی فیصلہ ہے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحی آتی تھی اور اس بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ کی کئی خبریں اپنی امت کو بتائیں۔ اگر اسے علم غیب کا نام دیا جائے، تو دنیا کا ہر شخص علم الغیب قرار پائے گا۔

     
  2. ‏مارچ 16، 2018 #2
    مصبور صدیقی

    مصبور صدیقی مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2018
    پیغامات:
    36
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    12

    اس آیت میں صرف اتنا حکم ہوا کہ فرما دیجئے کہ میں نہیں کہتا. میں علم غیب جانتا ہی نہیں یہ نبی صلی الله تعالی عليه وآله وسلم نے کب کہا؟
    میں آپ سے یہ نہیں کہتا ہے کہ مجھے پڑھنا آتا ہے اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ مجھے پڑھنا نہیں آتا.
    کیوں کیا ہر انسان پر وحی آتی ہے؟ تم غلط سمجھے ہمارے نبی کو نہ صرف علم غیب بتایا گیا ہے بلکہ سکھایا بھی گیا ہے.

    وعلمك مالم تکن تعلم، وکان فضل الله علیك عظیما
    اور آپ کو وہ علم سکھا دیا جو تم نہ جانتے تھے اور اے نبی کریم الله کا آپ پر بڑا فضل ہے. (سورۃ النساء، 113)
    اس آیت کے تحت تفسیر جلالین میں امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں،
    من الحکام والغیب، یعنی احکام اور غیب
    جناب دنیا کا ہر انسان علم غیب کیسے جان سکتا ہے؟ علم غیب حسی اعضاء سے معلوم کئے جانے والے علم کا نام نہیں
    اور الله کی ذات اور الله کی وحی خود ایک غیب ہیں جسے ہمارے حضور سمجھتے ہیں ہر انسان کے بس کی بات نہیں، عوام کو تو یہی نہیں معلوم کے فلاں شخص جبریل ہیں یا کوئی دیہاتی
    وحی آنے کی دلیل کیا ہے؟ اور وحی کو کس علم کے لئے جانا جاتا ہے؟ جناب وحی خود ایک غیب جس ذریعے سے وحی نازل ہو رہی ہے وہ خود غیب، غیب بتانے والی الله عزوجل بھی غیب، جب وحی کو جان سکتے ہیں تو اور کیا غیب بچا جو نہ جان سکیں؟

    اس آیت اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کا علم غیب ذاتی نہیں تھا بلکہ سکھایا ہوا تھا، حضرت عائشہ رضی الله تعالى عنه نے یہ اس لئے فرمایا کیونکہ کفار مکہ کاہنوں کے لئے ذاتی علم غیب کا عقیدہ رکھتے تھے.

    تفسیر کبیر میں ہے :
    قولہ ولا اعلم الغیب یدل علی اعترافہ بانہ غیر عالم بکل المعلومات
    یعنی آیت میں جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ کو ارشاد ہوا تم فرمادو میں غیب نہیں جانتا، اس کے یہ معنی ہیں کہ میرا علم جمیع معلومات الہٰیہ کو حاوی نہیں۔ (مفاتح الغیب)

    تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے :
    وعندہ مفاتیح الغیب وجہ اختصا صھا بہ تعالٰی انہ لایعلمھا کما ھی ابتداءً الاّ ھو
    یہ جو آیت میں فرمایا کہ غیب کی کنجیاں ﷲ ہی کے پاس ہیں اُس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا اس خصوصیت کے یہ معنی ہیں کہ ابتداء ً بغیر بتائے ان کی حقیقت دوسرے پر نہیں کھلتی۔ (عنایۃ القاضی علٰی تفسیر البیضاوی ،تحت آیتہ ۶ /۵۸، ۴ /۷۳)

    ذکرناہ فی الاٰیۃ صرح بہ النووی رحمۃ ﷲ تعالٰی فی فتاواہ فقال معناھا لایعلم ذٰلک استقلا لاً وعلم احاطۃ بکل المعلومات الاّ ﷲ تعالی
    یعنی ہم نے جو آیاتِ کی تفسیر کی امام نووی رحمۃ ﷲ تعالٰی نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تصریح کی، فرماتے ہیں آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ غیب کا ایسا علم صرف خدا کو ہے جو بذاتِ خود ہو اور جمیع معلومات کو محیط ہو۔ ( فتاوٰی حدیثیہ ابن حجر مکی ،مطلب فی حکم مااذا.. الخ، ص ۲۲۸)

    تفسیر علامہ نیشاپوری میں ہے
    ( قل لا اقول لکم ) لم یقل لیس عندی خزائن ﷲ لیعلم ان خزائن ﷲ وھی العلم بحقائق الاشیاء وما ھیاتھا عندہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باستجابۃ دعاء ہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی قولہ ارنا الا شیاء کما ھی ولکنہ یکلم الناس علٰی قدر عقولھم (ولا اعلم الغیب) ای لا اقول لکم ھذا مع انہ قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علمت ماکان وما سیکون
    یعنی ارشاد ہوا کہ اے نبی ! فرمادو کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالٰی کے خزانے ہیں، یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کے خزانے میرے پاس نہیں۔ بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس ہیں، تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے خزانے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس ہیں مگر حضور لوگوں سے انکی سمجھ کے قابل باتیں فرماتے ہیں، اور وہ خزانے کیا ہیں، تمام اشیاء کی حقیقت و ماہیت کا علم حضور نے اسی کے ملنے کی دعا کی اور اللہ عزوجل نے قبول فرمائی پھر فرمایا : میں نہیں جانتا یعنی تم سے نہیں کہتا کہ مجھے غیب کا علم ہے، ورنہ حضور تو خود فرماتےہیں مجھے ماکان و مایکون کا علم ملا یعنی جو کچھ ہو گزرا اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے
    (غرائب القرآن تحت آلایۃ ۶ /۵۰، ۷ /۱۱۲)

    ہم اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ قرآن کا نزول مکمل ہونے کے بعد اللہ عزوجل نے ہمارے نبی کریم صلی الله تعالی عليه وآله وسلم کو جو ہوچکا اور جو کچھ ہونے والا ہے اس کا علم بلکہ اس سے زائد علم عطا فرمایا.

    ابن حجر قسطلانی فرماتے ہیں،
    ولا شک ان ﷲ تعالٰی قد اطلعہ علٰی اَزْیَدَمن ذٰلک والقٰی علیہ علم الاوّلین والاخرین
    اور کچھ شک نہیں کہ ﷲ تعالٰی نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اس سے زیادہ علم دیا اور تمام اگلے پچھلوں کا علم حضور پر القاء کیا
    (المواہب اللدنیہ المقصدالثامن الفصل مااخبربہ صلی اللہ علیہ وسلم من الغیب ۳ /۵۶۰)

    شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ شرح مشکوۃ میں حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
    پس دانستم ہر چہ در آسمانہا وہرچہ در زمین ہا بود عبارت است از حصولِ تمامہ علوم جزوی و کلّی واحاطہ آں

    چنانچہ میں (حضور ﷺ) نے جان لیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے یہ تعبیر ہے تمام علوم کے حصول اور ان کے احاطہ سے چاہے وہ علوم جزوی ہوں یا کلُی
    (اشعۃ اللمعات کتاب الصلوۃ باب المساجد و مواضع الصلوۃ ۱ /۳۳۳)

    امام نیسابوری رحمة الله تعالى علیه :
    ای لا اقول لکم ھذا مع انہ قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علمت ماکان وما سیکون
    یعنی تم سے نہیں کہتا کہ مجھے غیب کا علم ہے، ورنہ حضور تو خود فرماتے ہیں مجھے ماکان و مایکون کا علم ملا یعنی جو کچھ ہو گزرا اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے.
    (غرائب القرآن، تحت آلایة ۶ /۵۰، ۷ /۱۱۲)
     
  3. ‏مارچ 16، 2018 #3
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,092
    موصول شکریہ جات:
    315
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ﴿١٥١﴾
    جس طرح (تمہیں اِس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ) میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے، جو تم نہ جانتے تھے۔
    قرآن، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 151
    اس آیت مبارکہ کے تحت پھر تو اُمت بھی عالم غیب ہوئی لہذااس کو بھی ماننا چاہیے !
     
  4. ‏مارچ 16، 2018 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    پہلے تو اپنا لہجہ درست کریں۔ اسکے بعد اس طرح کی نادانی (بلکہ جہالت) کے نمونے دکھائیے گا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں