1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں حیات کا مسئلہ

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد صادق تیمی, ‏فروری 17، 2020۔

  1. ‏فروری 17، 2020 #1
    محمد صادق تیمی

    محمد صادق تیمی مبتدی
    جگہ:
    بہار ،انڈیا
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2018
    پیغامات:
    24
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    عن عائشۃ رضی اللہ تعالی عنہا قالت: کنت أسمع أنہ لا یموت نبيّ حتی یخیر بین الدنیا و الآخرۃ،،(راوہ البخاري:۵۳۴۴،و مسلم:۴۴۴۲)

    ترجمہ: عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے کہ کوئی نبی وفات نہیں پاتا یہاں تک کہ اسے دنیا و آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے،،

    تشریح:مذکورہ حدیث میں انبیاے کرام کی وفات اور دنیا سے ان کے رخصت ہونے کے سلسلے میں ام المومنین،فقیہہِ امت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، نے صراحت کے ساتھ بیان کیا کہ کسی بھی نبی کی وفات کے وقت انہیں اختیار دیا جاتا ہے دنیا و آخرت میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کا تو اس سلسلے میں آپ ﷺ نے دنیا کے بدلے میں آخرت کو اختیار کیا یعنی آپ ﷺ کی وفات ہوگئی،اب آپﷺ کی زندگی اخروی زندگی ہے جسے بعض ائمہ نے برزخی زندگی کہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں اور آپ برزخی زندگی بسر کر رہے ہیں جیسا کہ قرآن میں آپ کی وفات واضح طور پرموجود ہے ”إنک میت و إنہم میتون،،تم وفات پانے والے ہو اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں،،(الزمر: ۰۳) خاتم النبین،سید المرسلین محمد ﷺ جب اس دنیا سے رخصت ہو ئے تو آپ کے اصحاب کو یقین نہیں ہو رہاتھا کہ ہمارے آقا ﷺ ہمارے بیج میں نہیں رہے۔سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں ننگی تلو ار لیے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ جو شخص کہے گا کہ نبی اکرم ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے ، میں اس کا اس بے نیام تلوار سے سر قلم کر دوں گا۔اس نازک گھڑی میں خلیفہ اول ،یار ِغار رسول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کے بیج کھڑے ہوئے اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ ”ألا من کان یعبد محمداً فان محمداً قد مات،،یعنی سن لو! جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کر رہا تھا محمد کا انتقا ل ہو چکا ہے،،اور اس موقع سے آپ نے یہ آیت تلاوت فرما ئی”و ما محمد إلا رسول قد خلت من قبلہ الرسل،،صحابہ کر ام بھی آ پ سے سن کر اس آیت کی تلاوت کرنے لگے اور انہیں یقین ہو گیا کہ نبی انتقال فرماچکے ہیں۔خود سیدہ عائشہ نے ”وقد مات النبی ﷺ،،اور سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے ”خرج رسو ل اللہ من الدنیا،،کہہ کر نبی ﷺ کی وفات کی یقین دہانی کرائی۔(بخاری: ۴۱۴۵)

    تاہم بعض احادیث میں نبی اکرم ﷺ کی حیات کی بات جو وارد ہے وہ اخروی برزخی حیات ہے۔بعض نے اس سے مراد یہ لیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ دنیوی زندگی کی طرح برزخ میں بھی زندہ ہیں،لیکن یہ غلط ہے۔نبی اکرم ﷺ وفات کے بعد جنت میں زندہ ہیں جیسا کہ سیدنا سمرہ بن جندب کی حدیث ہے جس میں (جبرائیل و مکائیل) نے آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ کی عمر باقی ہے جب آپ اسے پوری کر لیں گے تو آپ اپنے محل (جنت) میں آجائیں گے ”إنہ بقی لک عمر لم تستکملہ فلو استکملت أتیت منزلک،،(صحیح البخاری: ۶۸۳۱) امام بیہقی انبیاے کرام کی برزخی حیات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”فہم أحیاء عند ربہم کالشہداء،،کہ انبیا اپنے رب کے پاس شہدا کی طرح زندہ ہیں اور آپ ﷺ نے شہدا کے بارے میں فرمایا کہ”أرواحہم فی جوف طیر خضر لہا قنادیل معلقۃ بالعرش تسرح من الجنۃ حیث شاءت ثم تأوی إلی تلک القنادل،،یعنی ان کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں،ان کے لیے عرش کے نیچے قندیلیں لٹکی ہوتی ہیں،وہ جنت میں جہاں چاہے سیر کرتی ہیں، پھر واپس قندیلوں میں آجاتی ہیں۔تو اس سے معلوم ہوا کہ جب شہدا کی روحیں جنت میں زندہ ہیں تو ان سے کہیں بدرجہ اولی انبیاے کرام کی روحیں ہیں جن کا مقام جنت کے اعلی مقامات و محلات ہیں ۔اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی زندگی دنیا کی طرح نہیں ہوتی ہے بلکہ ان کی یہ برزخی زندگی ہے۔اس سے صاف ہوگیا کہ نبی ﷺ وفات پا چکے ہیں اور ان کی روح جنت میں زندہ ہے لیکن اس کی کیفیت دنیا جیسی نہیں ہے۔جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ”لأنہ بعد موتہ و إن کان حیا فہی حیاۃأخرویۃ لا تشبہ الحیاۃ الدنیا،و اللہ أعلم ”نبی ﷺ اپنی وفات کے بعد اگر چہ زندہ ہیں لیکن یہ اخروی زندگی ہے جو دنیوی زندگی کی طرح نہیں ہے،،(فتح الباری:۷/۹۴۳)

    اس سلسلے میں فرقہ دیوبند یہ کے بانی شیخ محمد قاسم نانوتوی (۷۹۲۱ھ)لکھتے ہیں کہ ”ارواح انبیاے کرام کا اخراج نہیں ہوتا فقط مثل نور چراغ اطراف وجوانب سے قبض کر لیتے ہیں اور سوائے ان کے اوروں کی ارواح کو خارج کر دیتے ہیں....(جمال قاسمی:۵۱) نانوتوی صاحب اپنی دوسری کتاب ”آب حیات،،صفحہ نمبر ۷۲ کے اندر رقمطراز ہیں کہ ”انبیاے کرام بدستور زندہ ہیں،،نانوتوی یا اس جیسے نظریات خود ساختہ اور سنت نبویہ کے خلاف ہیں۔خود نیلوی دیوبندی نے نانوتوی کی مخالفت کی ہے اور محمد عباس بریلوی نے لکھا کہ انبیاے کرام کی ارواح کے بارے میں خود احمد رضا صاحب کا اس طرح کا نظریہ نہیں تھا۔اس طرح کے نظریے رکھنے والے کے سلسلے میں سعودی عرب کے عالم جلیل شیخ صالح فوزان فرماتے ہیں کہ ”الذی یقول: إن حیاتہ فی البرزخ مثل حیاتہ فی الدنیا کاذب وہذہ مقالۃ الخرافین،،یعنی جو یہ کہتا ہے کہ آپ ﷺ کی برزخی زندگی دنیا کی طرح ہے تو یہ نظریہ من گھڑت اور بدعتیوں کا ہے،،(التعلیق المختصر علی العقیدۃ النبوےۃ،،۲/۴۸۶)

    بعض لوگ نبی ﷺ کی حیات برزخی کے بارے میں بطور دلیل ایک حدیث پیش کرتے ہیں ”من صلی علیّ عند قبری سمعتہ،،یعنی نبی ﷺ اپنی قبر مبارک میں، ہر پڑھا ہوا درود اور سلام بنفس نفیس سنتے ہیں،،لیکن یہ روایت حد درجہ ضعیف اور مردود ہے۔اس میں محمد بن مروان سدی متروک الحدیث ہے،اس پر امام بخاری اور امام نسائی نے سخت جر ح کی ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے ”کتاب الموضوعات لابن الجوزی:۱/۳۰۳،کتاب الضعفاء للبخاری: ۵۳،،۔یہ حدیث ایسے بھی ”إن للہ فی الأرض ملائکۃ سیاحین یبلغونی من أمتی السلام،،کہ فرشتے زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں اور وہ مجھے میری امت کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں،،کے خلاف ہے۔(رواہ النسائی: ۳/۳۴)

    احادیث اور اہل سنت و الجماعت کے موقف کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ نبی اکرم ﷺ فوت ہو چکے ہیں۔وفات کے بعد آپﷺ جنت میں زندہ ہیں اور یہ زندگی آپ کی اخروی زندگی ہے،دنیاوی زندگی سے کسی بھی اعتبار سے مشابہ نہیں ہے۔

    و اللہ اعلم بالصواب۔
     
  2. ‏فروری 17، 2020 #2
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    591
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین پر حرام ہے کہ وہ انبیاء کے اجساد کو کھائے۔
    برزخی زندگی تمام مکلفین کو حاصل ہوتی ہے (خواہ مسلم ہو یا کافر)۔
    انبیاء کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کے اجساد محفوظ رہتے ہیں۔
    باقیوں کے لئے یہ لازم نہیں مگر انبیاء کے لئے لازم۔
    انبیاء کی برزخی حیات کی مثال سونے والے سے دی جاسکتی ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ» (سنن أبي داود )
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں