1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر تشہد میں درود پڑھنے کا حکم

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اکتوبر 29، 2019۔

  1. ‏اکتوبر 29، 2019 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر تشہد میں درود پڑھنے کا حکم

    سوال :

    نماز تراویح کے دوران امام انتہائی تیز رفتاری سے سلام پھیر دیتا ہے اور میں نماز میں صرف پہلا تشہد ہی پڑھ پاتا ہوں، لیکن امام درود ابراہیمی پڑھنے کا موقع ہی نہیں دیتا اور سلام پھیر دیتا ہے، تو کیا میرے لیے درود ابراہیمی پڑھے بغیر نماز ختم کرنا جائز ہے، یا یہ کہ درود ابراہیمی پڑھنا لازمی ہوتا ہے؟


    جواب کا متن

    الحمد للہ:


    اول:


    علمائے کرام کا نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نماز میں درود پڑھنے کے بارے میں اختلاف ہے، اس بارے میں متعدد اقوال ہیں، تو کچھ یہ کہتے ہیں کہ درود پڑھنا نماز کا رکن ہے اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوگی، جبکہ کچھ کہتے ہیں درود پڑھنا واجب ہے، اور تیسرا قول یہ ہے کہ درود پڑھنا سنت اور مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔

    الشیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ نے اسی تیسرے قول کو راجح قرار دیا ہے، چنانچہ انہوں نے زاد المستقنع کی شرح میں لکھا ہے کہ:

    "مؤلف کہتے ہیں کہ: "نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود پڑھنا" یعنی آخری تشہد میں درود، یہ نماز کا بارہواں رکن ہے۔

    اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے صحابہ کرام نے فرمایا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر سلام پڑھنا تو سکھایا گیا ہے تو آپ پر درود کیسے پڑھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم کہو: اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ... یہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم درود ابراہیمی پڑھنے کو واجب قرار دینے کا تقاضا کرتا ہے، وجوب میں اصل یہی ہے کہ واجب عمل فرض ہوتا ہے، اور جب اسے ترک کیا جائے تو عبادت باطل ہو جاتی ہے، فقہائے کرام نے اس مسئلے کی دلیل اسی طرح سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

    لیکن جب آپ اس حدیث پر غور و فکر کریں تو اس سے یہ کشید نہیں ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود پڑھنا نماز کا رکن ہے؛ کیونکہ صحابہ کرام نے درود پڑھنے کی کیفیت کے بارے میں پوچھا کہ ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ان الفاظ کی رہنمائی کی ، اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ: اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان: "تم کہو" وجوب کے لئے نہیں ہے بلکہ رہنمائی اور تعلیم کے لئے ہے، لہذا اس کے علاوہ اگر کوئی اور دلیل مل جائے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نماز میں درود پڑھنے کا حکم ہو تو وہی دلیل معتبر ہو گی، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور دلیل نہیں پائی جاتی تو یہ مسئلہ وجوب کی دلیل بنتا ہی نہیں ہے چہ جائیکہ درود ابراہیمی کے رکن ہونے کی دلیل بنے، یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام کے اس مسئلے میں اختلاف کی وجہ سے متعدد اقوال ہیں:

    پہلا قول:

    نماز میں درود پڑھنا رکن ہے، یہی حنبلی فقہی مذہب میں مشہور موقف ہے، اس لیے درود کے نماز صحیح نہیں ہوگی۔

    دوسرا قول:

    نماز میں درود پڑھنا واجب ہے، رکن نہیں ہے، لہذا بھول جانے کی صورت میں سجدہ سہو سے کمی پوری ہو سکتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان: "تم کہو: اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ... یہ وجوب کا احتمال بھی رکھتا ہے اور محض رہنمائی کا بھی، اور ممکن نہیں ہے کہ ہم اس احتمال کے ہوتے ہوئے اسے رکن قرار دے دیں کہ اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔

    تیسرا قول:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر درود پڑھنا سنت ہے، یہ واجب اور رکن نہیں ہے، یہی موقف امام احمد سے ایک اور قول کے مطابق منقول ہے، چنانچہ اگر کوئی انسان جان بوجھ کر درود چھوڑ بھی دے تو اس کی نماز صحیح ہے؛ کیونکہ جن دلائل کی بنیاد پر انہوں نے اس کو واجب یا رکن قرار دیا ہے وہ درود کے وجوب یا رکن ہونے پر واضح انداز میں دلالت نہیں کرتے، اور براءت اصلیہ بنیادی اصول ہے۔

    تو اگر فقہائے کرام کی مذکورہ دلیل کے علاوہ کوئی اور دلیل نہ ہو تو یہی قول تمام اقوال میں سے راجح ترین محسوس ہوتا ہے؛ کیونکہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ ایسی دلیل کی بنیاد پر کسی کی عبادت کو باطل قرار دے دیں جو وجوب یا رہنمائی [استحباب] کا احتمال رکھتی ہو۔" ختم شد
    " الشرح الممتع " ( 3 / 310 – 312 )

    تو اس بنا پر درود کے بغیر بھی نماز صحیح ہے۔

    دوم:

    سوال میں مذکور امام اور دیگر ایسے تمام ائمہ کو نصیحت کرنی چاہیے جو نماز تراویح بہت زیادہ تیزی کے ساتھ پڑھاتے ہیں اور ان کی تیز رفتاری کے باعث مقتدی اپنی نماز ہی پوری نہیں کر پاتے۔

    علمائے کرام نے یہ صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ امام کو نماز آرام سے پڑھانی چاہیے تا کہ مقتدی نماز کے تمام واجبات اور کچھ سنتیں بھی آرام سے ادا کر سکیں، تو اتنی تیزی کے ساتھ نماز پڑھانا مکروہ ہے کہ جس سے مقتدی حضرات مذکورہ اعمال بجا نہ لا سکیں۔

    امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ایسی احادیث جن میں امام کو ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی مختصر نماز پڑھانی ہے جس سے نماز کی سنتوں اور مقاصد میں خلل پیدا نہ ہو۔"

    اسی طرح الموسوعة الفقهية (14/243) میں ہے کہ:

    "نماز مختصر پڑھانے سے مراد یہ ہے کہ کمال درجے کی نماز کا سب سے کم تر درجے کے مطابق نماز پڑھائے؛ اس کے لئے واجبات اور سنتیں ادا کرے، چنانچہ نماز کی کم تر کیفیت پر ہی اکتفا مت کرے، اور نہ ہی سب سے کامل ترین انداز میں نماز پڑھانے کی کوشش کرے۔ "

    ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ہر امام مختصر نماز پڑھا سکتا ہے اس پر سب کا اجماع ہے اور علمائے کرام کے ہاں اچھا عمل بھی ہے؛ تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ کم سے کم کامل انداز میں نماز پڑھائی جائے، مختصر نماز کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ نماز میں کمی کر دی جائے یا کچھ افعال کو ختم کر دیا جائے۔۔۔ [اس کے بعد مزید لکھتے ہیں کہ] ہم نے کم سے کم کامل انداز میں نماز پڑھانے کی جو شرط لگائی ہے ایسی مختصر نماز پڑھانے کے متعلق مجھے کسی اہل علم کے اختلافی موقف کا علم نہیں ہے۔"

    علامہ ابن قدامہ اپنی کتاب: "المغني" (1/323) میں لکھتے ہیں کہ:

    "امام کے لئے اس قدر ٹھہر ٹھہر کے قراءت ، تسبیح اور تشہد پڑھنا مستحب ہے کہ مقتدیوں میں سے اگر کوئی موٹی زبان والا بھی ہے تو وہ بھی یہ سب کچھ پڑھ لے، نیز اس انداز کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرے کہ مقتدیوں میں سے بوڑھے، چھوٹے ، اور بھاری بھرکم لوگ بھی رکوع اور سجدہ کر لیں۔ تاہم اگر امام ایسے نہیں کرتا اور جس انداز سے اس پر نماز پڑھنا واجب ہے صرف اسی انداز سے نماز پڑھاتا ہے تو یہ مکروہ عمل ہے، تاہم اس کی نماز ہو جائے گی۔"

    اسی طرح الموسوعة الفقهية (6/213) میں ہے کہ:

    "جلد بازی میں نماز پڑھانا مکروہ ہے، [جلد بازی] اس طرح کہ مقتدی مسنون اعمال ادا ہی نہ کر پائے، مثلاً: رکوع اور سجدے میں تین تین بار تسبیح پڑھنا، آخری تشہد کے مسنون اعمال کو مکمل کرنا وغیرہ"

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ احکام صیام، زکاۃ اور تراویح سے متعلق اپنے رسالے میں کہتےہیں:

    "کچھ لوگ بہت زیادہ جلد بازی کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں تو یہ شرعی طریقے سے متصادم طریقہ ہے، اگر اس جلد بازی کی وجہ سے کسی واجب یا رکن کی ادائیگی میں خلل واقع ہوتا ہے تو یہ نماز کو باطل کر دے گا۔

    بہت سے ائمہ نماز تراویح میں خیال نہیں کرتے اور یہ ان کی غلطی ہے؛ کیونکہ امام صرف اکیلا ہی نماز نہیں پڑھتا بلکہ دوسروں کو بھی پڑھا رہا ہوتا ہے، تو امام کا مقام ولی جیسا ہے کہ جس طرح ولی کے ذمے زیادہ بہتر پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے اسی طرح امام پر بھی، کچھ اہل علم نے امام کو جلد بازی کے ساتھ نماز پڑھانا مکروہ قرار دیا ہے کہ اتنی تیزی کے ساتھ نماز پڑھائے کہ مقتدی واجب کام بھی نہ کر سکے" ختم شد

    واللہ اعلم

    ماخذ: الاسلام سوال و جواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں