1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی کریمﷺ کا کسی عورت کے چہرے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرنے والا واقعہ

'تبلیغی جماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از گڈمسلم, ‏اپریل 13، 2013۔

  1. ‏دسمبر 23، 2013 #21
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    شاکر بھائی اس شعر کا مطلب کیا ہے جس کے لیے آپ نے اتفاق کا اظہار کیا ہے ذرا لب کشائی کریں گے جزاک اللہ خیرا
     
  2. ‏دسمبر 23، 2013 #22
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    میرے ناقص علم کے مطابق اس شعر کا ظاہری معنی یہ بنتا ہے :
    میری طرف سے ملاں اور صوفی منش لوگوں پر سلام ہو جنھوں نے اللہ تعالی کے پیغام کو ہم تک پہنچایا
    لیکن ان کی تفسیر نے تو اللہ جبریل اور مصطفی کو حیرانی میں ڈال دیا ہے
    لیکن شعر کا اصل معنی تو شاعر ہی جانتا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اقبال صاحب ابتدا میں صوفی تھے لیکن بعد میں انھوں نے تصوف کو ترک کردیا تھا اللہ اعلم بالصواب
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 24، 2013 #23
    عبدالمجید بلتستانی

    عبدالمجید بلتستانی رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 22، 2013
    پیغامات:
    146
    موصول شکریہ جات:
    105
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    لیکن بات توبالکل واضح ہے اورآج کے نام نہاد ملاؤں کی حقیقیت کوبیان کیاہے
     
  4. ‏دسمبر 24، 2013 #24
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جزاکم اللہ خیرا
     
  5. ‏اپریل 05، 2014 #25
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069


    اللہ سبحان و تعالیٰ ھم سب کو اندھی تقلید سے محفوظ رکھیں - آمین
     
  6. ‏جولائی 24، 2019 #26
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,356
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ایسی کتب کے نئے نسخے بصد اہتمام شائع ہوئے جا رہے ہیں !
     
  7. ‏جولائی 25، 2019 #27
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar رکن
    جگہ:
    الهند
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    یہ تو جهوٹ اور خباثت کی انتہا ہے اس پاگل مولوی زکریا کی جهوٹے قصے اور کہانیوں پر مبنی اس کتاب کا نام فضائل اعمال نہیں بالکہ فضول اعمال ہونا چاہئے اس خبیث کو اتنا بڑا جهوٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرتے ہوئے زرا بهی شرم نہ آئی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقیات و اوصاف جو احادیث صحیح میں بیان ہوئے ہیں ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرم و حیا کا تو یہ عالم تها کہ آپ ایک باحیا پردہ نشین کنواری لڑکی سے بهی زیادہ شرم و حیا والے تهے

    امام بخاری رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب صحیح البخاری کے" بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ ﷺ" میں ایک حدیث لائے ہیں جس میں فرمایا :

    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا
    " حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے اورحیادار تھے۔"
    (صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ حدیث ۳۵٦۲)

    اور مولوی زکریا نے الزام لگایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی ماں کے منہ اور پیٹ پر ہاتھ پهیرا ! أستغفر الله ! جبکہ احادیث سے ہمیں یہ بات پتا چلتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبهی کسی غیر محرم کو ہاتھ تک نہیں لگایا

    حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ} [الممتحنة: 12] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ، فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ، قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْطَلِقْنَ، فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ» وَلَا وَاللهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلَامِ قَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللهِ، مَا أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ قَطُّ إِلَّا بِمَا أَمَرَهُ اللهُ تَعَالَى، وَمَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ، وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ: «قَدْ بَايَعْتُكُنَّ» كَلَامًا
    " یونس بن یزید نے کہا: ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نبی ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے کہا: مسلمان عورتیں جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آتیں تو اللہ کے اس فرمان کے مطابق ان کا امتحان لیا جاتا: "اے نبی! جب آپ کے پاس مسلمان عورتیں آئیں، آپ سے اس پر بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گی، نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی" آیت کے آخر تک۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا: مومن عورتوں میں سے جو عورت ان باتوں کا اقرار کر لیتی، وہ امتحان کے ذریعے سے اقرار کرتی (مثلا: ان سے سوال کیا جاتا: کیا تم شرک نہیں کرو گی؟ تو اگر وہ کہتیں: نہیں کریں گی، تو یہی ان کا اقرار ہوتا، آیت کے آخری حصے تک اسی طرح امتحان اور اقرار ہوتا۔) اور جب وہ ان باتوں کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ ﷺ ان سے فرماتے: "جاؤ، میں تم سے بیعت لے چکا ہوں۔" اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا بلکہ نبی ﷺ ان کے ساتھ بات کر کے بیعت کرتے تھے۔ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے ان سے ان باتوں کے علاوہ کسی چیز کا عہد نہیں لیا جن کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا اور رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی کبھی کسی عورت کی ہتھیلی سے مَس نہیں ہوئی، آپ جب ان سے بیعت لیتے تو زبانی فر دیتے: "میں نے تم سے بیعت لے لی۔"
    (صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النِّسَاءِ حدیث ۱۸٦٦)

    اور یہ جو بکواس ہے کہ تہامہ سے ایک ابر آیا اور اس سے ایک آدمی ظاہر ہوا... اور فرمایا کہ میں تیرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں. یہ بهی ایک گپ کے سوا کچھ نہیں

    لہذا فضائل اعمال میں یہ جو جهوٹے کہانی قصے بیان کیے ہیں وہ قرآن اور صحیح احادیث کے بهی خلاف ہیں اور کچھ جاہل لوگوں نے فضائل اعمال جو کہ حقیقت میں فضول اعمال ہے اسے نصاب بنایا ہوا ہے اور اس کی تبلیغ کر رہے ہیں-
    اللہ ان مشرکین کو ہدایت عطا فرمائے
    آمین
     
  8. ‏جولائی 30، 2019 #28
    shad_saf

    shad_saf رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2014
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    مولانا زکریا نے کتاب کی تمہید میں ہی اپنے پاگل ہو جانے کا اقرار کیا ہے اور اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ اس پاگل پن میں ہی انہوں نے یہ کتاب فضائل اعمال لکھی۔[​IMG]

    Sent from my VCR-I0 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں