1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی کریمﷺ کے افعال کی تشریعی حیثیت

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عمران اسلم, ‏جنوری 03، 2013۔

  1. ‏جنوری 03، 2013 #1
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    نبی کریمﷺ کے بطور دین کیے جانے والے اعمال امت کے لیے حجت اور قابل عمل ہیں سوائے ان اعمال کے جن کی آپﷺ کے ساتھ خصوصیت کی دلیل مل جائے۔ جس فعل کے بارے یہ ثابت ہو جائے کہ وہ آپﷺ کی ذات سے خاص ہے ‘ اس میں آپﷺ کی اقتداء نہ ہو گی۔
    صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہم نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے افعال ميں آپ كى اقتدا اور پيروى كرتے تھے، اور وہ آپ سے دريافت نہیں كرتے تھے كہ آيا يہ فعل رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ مخصوص ہے يا نہيں۔
    ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز پڑھائى اور دوران نماز ہى اپنے جوتے اتار ديے تو لوگوں نے بھى اپنے جوتے اتار ديے اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:
    ’’ تم نے اپنے جوتے كيوں اتارے ؟‘‘
    تو صحابہ نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہم نے آپ كو اپنے جوتے اتارتے ديكھا تو ہم نے بھى اتار ديے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    ’’ميرے پاس جبريل امين آئے اور انہوں نے مجھے بتايا كہ اس كے ساتھ گندگى لگى ہوئى ہے، اس ليے جب تم ميں سے كوئى شخص مسجد آئے تو وہ اپنا جوتا پلٹ كر ديكھے اگر اسے كوئى گندگى نظر آئے تو وہ اسے زمين كے ساتھ پونچھ دے اور پھر اس ميں نماز ادا كر لے۔‘‘
    (مسند احمد 17 / 242- 243 )
    اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ کے افعال قابل اقتدا ہیں ، الا يہ كہ جسے كوئى دليل آپ صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ مخصوص كر دے۔
    امام ابن حزمؒ کہتے ہیں:
    ’’ کسی بھى فعل كے متعلق جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كيا ہو اسے بغير كسى نص كے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ خاص كرنا جائز نہيں؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ ايسا كہنے والے شخص پر ناراض ہوئے تھے، اور جو چيز بھى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو غضبناك كرے وہ حرام ہے۔‘‘
    (الإحكام فى اصول الاحكام 4 / 433)
     
  2. ‏جنوری 04، 2013 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,212
    موصول شکریہ جات:
    8,204
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جزاكم الله -
    دكتور محمد بن سليمان الأشقر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے :

    أفعال الرسول و دلالتها على الأحكام الشرعية

    دکتوراہ ( پی ایچ ڈی ) کا رسالہ ہے جامعہ ازہر مصر میں پیش کیا گیا تھا ۔
    ٣٠٠ کے قریب صفحات پر مشتمل یہ کتاب تمہید و خاتمہ کے علاوہ تین أبواب پر مشتمل ہے
    باب أول : افعال صریحہ
    باب ثانی : افعال غیر صریحہ
    باب ثالث : تعارض و ترجیح کے سے تعلق سے مباحث
    ہر باب کے تحت سات آٹھ فصول ہیں ۔
    آخر میں حافظ صلاح الدین العلائی رحمہ اللہ کے رسالہ تفصیل الإجمال فی تعارض الأقوال و الأفعال کا بھی اہم حصہ مخطوطے سے نقل کردیا گیا ہے ۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ دکتور أشقر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تدریس کرتے رہے ہیں اور اس وقت اپنے ساتھیوں میں ناصر الدین الألبانی ، عبد الغفار حسن وغیرہما رحمہم اللہ جمیعا کا نام بتاتے ہیں ۔

    تنبیہ : ایک اور أشقر کثرۃ تصانیف کی نسبت سے مشہور ہیں وہ ان کے چھوٹے بھائی عمر سلیمان الأشقر ہیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں