1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ تم میں جو شخص جماع کرنے کی طاقت رکھتا ہو اسے شادی کر لینی چا

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 19، 2012۔

  1. ‏مئی 19، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,946
    موصول شکریہ جات:
    5,773
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وهل يتزوج من لا أرب له في النكاح
    کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والا عمل ہے اور کیا ایسا شخص بھی نکاح کر سکتا ہے جسے اس کی ضرورت نہ ہو؟


    حدیث نمبر: 5065
    حدثنا عمر بن حفص،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا أبي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا الأعمش،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثني إبراهيم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن علقمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال كنت مع عبد الله فلقيه عثمان بمنى فقال يا أبا عبد الرحمن إن لي إليك حاجة‏.‏ فخليا فقال عثمان هل لك يا أبا عبد الرحمن في أن نزوجك بكرا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ تذكرك ما كنت تعهد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما رأى عبد الله أن ليس له حاجة إلى هذا أشار إلى فقال يا علقمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فانتهيت إليه وهو يقول أما لئن قلت ذلك لقد قال لنا النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء ‏"‏‏.‏

    ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ بن قیس نے بیان کیا کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، ان سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں ملاقات کی اور کہا اے ابوعبدالرحمن! مجھے آپ سے ایک کام ہے پھر وہ دونوں تنہائی میں چلے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ منظور کریں گے کہ ہم آپ کا نکاح کسی کنواری لڑکی سے کر دیں جو آپ کو گزرے ہوئے ایام یاد دلا دے۔ چونکہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے اس لئے انہوں نے مجھے اشارہ کیا اور کہا علقمہ! میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ کا یہ مشورہ ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا اے نوجوانو! تم میں جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ خواہش نفسانی کو توڑ دے گا۔


    کتاب النکاح صحیح بخاری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں