1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”اہل کتاب سے دین کی کوئی بات نہ پوچھو“

'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏ستمبر 16، 2012۔

  1. ‏ستمبر 16، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    حدیث نمبر: 7361
    وقال أبو اليمان أخبرنا شعيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرني حميد بن عبد الرحمن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ سمع معاوية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يحدث رهطا من قريش بالمدينة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وذكر كعب الأحبار فقال إن كان من أصدق هؤلاء المحدثين الذين يحدثون عن أهل الكتاب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن كنا مع ذلك لنبلو عليه الكذب‏.‏


    ابو الیمان امام بخاری کے شیخ نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ‘ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مدینے میں قریش کی ایک جماعت سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کا ذکر کیا اور فرمایا جتنے لوگ اہل کتاب سے احادیث نقل کرتے ہیں ان سب میں کعب احبار بہت سچے تھے اور باوجود اس کے کبھی کبھی ان کی بات جھوٹ نکلتی تھی۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ کعب احبار جھوٹ بولتے تھے۔


    حدیث نمبر: 7362
    حدثني محمد بن بشار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا عثمان بن عمر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا علي بن المبارك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن يحيى بن أبي كثير،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي سلمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي هريرة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال كان أهل الكتاب يقرءون التوراة بالعبرانية ويفسرونها بالعربية لأهل الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا تصدقوا أهل الكتاب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولا تكذبوهم وقولوا ‏ {‏ آمنا بالله وما أنزل إلينا وما أنزل إليكم‏}‏ ‏"‏‏.‏ ال
    آية‏.‏

    مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کوعلی بن المبارک نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی میں کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو کیونکہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل ہو ااور جو ہم سے پہلے تم پر ناز ل ہوا آخر آیت تک جو سورۃ البقرہ میں ہے۔


    حدیث نمبر: 7363
    حدثنا موسى بن إسماعيل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا إبراهيم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا ابن شهاب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عبيد الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال كيف تسألون أهل الكتاب عن شىء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكتابكم الذي أنزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدث،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ تقرءونه محضا لم يشب وقد حدثكم أن أهل الكتاب بدلوا كتاب الله وغيروه وكتبوا بأيديهم الكتاب وقالوا هو من عند الله‏.‏ ليشتروا به ثمنا قليلا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ألا ينهاكم ما جاءكم من العلم عن مسألتهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا والله ما رأينا منهم رجلا يسألكم عن الذي أنزل عليكم‏.


    ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جب کہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور اسے اپنے ہاتھ سے از خود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں۔ تمہارے پاس (قرآن و حدیث کا) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے۔ واللہ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے بارے میں پوچھتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہو۔

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں