1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب کا بیان

'جغرافیہ قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏اگست 08، 2012۔

  1. ‏اگست 08، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    حدیث نمبر: 4989
    حدثنا يحيى بن بكير،‏‏‏‏ حدثنا الليث،‏‏‏‏ عن يونس،‏‏‏‏ عن ابن شهاب،‏‏‏‏ أن ابن السباق،‏‏‏‏ قال إن زيد بن ثابت قال أرسل إلى أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ قال إنك كنت تكتب الوحى لرسول الله صلى الله عليه وسلم فاتبع القرآن‏.‏ فتتبعت حتى وجدت آخر سورة التوبة آيتين مع أبي خزيمة الأنصاري لم أجدهما مع أحد غيره ‏ {‏ لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم‏}‏ إلى آخره‏.

    ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبید ابن سباق نے بیان کیا اور ان سے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہء خلافت میں مجھے بلایا اور کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قرآن لکھتے تھے۔ اس لئے اب بھی قرآن (جمع کرنے کے لئے) تم ہی تلاش کرو۔ میں نے تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری دو آیتیں مجھے حضرت خزیمہ انصاری کے پاس لکھی ہوئی ملیں، ان کے سوا اور کہیں یہ دو آیتیں نہیں مل رہی تھیں۔ وہ آیتیں یہ تھیں۔ لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم آخر تک۔


    حدیث نمبر: 4990
    حدثنا عبيد الله بن موسى،‏‏‏‏ عن إسرائيل،‏‏‏‏ عن أبي إسحاق،‏‏‏‏ عن البراء،‏‏‏‏ قال لما نزلت ‏ {‏ لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله‏}‏ قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ادع لي زيدا وليجئ باللوح والدواة والكتف ـ أو الكتف والدواة ـ ثم قال ‏"‏ اكتب لا يستوي القاعدون ‏"‏ وخلف ظهر النبي صلى الله عليه وسلم عمرو بن أم مكتوم الأعمى قال يا رسول الله فما تأمرني فإني رجل ضرير البصر فنزلت مكانها ‏ {‏ لا يستوي القاعدون من المؤمنين‏}‏ في سبيل الله ‏ {‏ غير أولي الضرر‏}‏‏"‏

    ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت ”لایستوی القاعدون من المؤمنین والمجاھدون فی سبیل اللہ“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید کو میر ے پاس بلاؤ اور ان سے کہو کہ تختی، دوات اور مونڈھے کی ہڈی (لکھنے کا سامان) لے کر آئیں، یا راوی نے اس کی بجائے ہڈی اور دوات (کہا) پھر (جب وہ آ گئے تو) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لکھو ”لایستوی القاعدون“ الخ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے عمرو ابن ام مکتوم بیٹھے ہوئے تھے جو نابینا تھے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ کا میرے بارے میں کیا حکم ہے۔ میں تو نابینا ہوں (جہاد میں نہیں جا سکتا اب مجھ کو بھی مجاہدین کا درجہ ملے گا یا نہیں) اس وقت یہ آیت یوں اتری۔ لا یستوی القاعدون من المؤمنین والمجاہدون فی سبیل اللہ غیر اولیٰ الضرر نازل ہوئی۔

    صحیح بخاری
    کتاب فضائل القرآن
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں