1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی کریم ﷺ کا اونٹنی کا پیشاب پلوانا اور جدید میڈیکل سائنس

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از جاءالحق, ‏مارچ 29، 2011۔

  1. ‏جولائی 10، 2015 #31
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,364
    موصول شکریہ جات:
    2,655
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میاں جی ! آپ کے سوال کاجواب دیا گیا تھا! آپ اگر نسیان کا شکار ہیں تو علاج کروائیں!!
    یہ آپ کی خام خیالی ہے کہ یہ جرح فی الحدیث ہے!! اسی لئے تو کہا تھا کہ اگر جب اختلاف استدلال کو انکار حدیث سمجھا جائے تو کیا کیا جا سکتا ہے!!
     
  2. ‏جولائی 10، 2015 #32
    وقار احمد

    وقار احمد مبتدی
    جگہ:
    کراچی ۔ پاکستان
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2015
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    اس کے فوراً بعد ہی وضاحت پیش کی گئی
    وہ اٹیچمنٹ ؟

    میرےمحترم بھائی

    ‏میری پہلے کی پوسٹ کے ساتھ
    ‏١٤ مرویاتِ سیّدہ اپنے دعوے کے اثبات میں منسللک کی گئی تھیں ۔ ۔ ۔ اس فورم پر موجود
    ‏کسی قاری کے لئے ان تک رسائی کیسے ممکن ھے؟
     
  3. ‏جولائی 10، 2015 #33
    وقار احمد

    وقار احمد مبتدی
    جگہ:
    کراچی ۔ پاکستان
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2015
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    جناب ان معروضات کو دوبارہ غور سے پڑھئے اور دوسروں کو بھی پڑھنے کا موقع دیجئے
    خلاف قرآن روایات_1.jpg خلاف عقل و قیاس روایات_1.jpg خلاف قرآن روایات_1.jpg خلاف عقل و قیاس روایات_1.jpg ضبط حدیث_1.jpg خلاف عادت روایات_1.jpg خلاف قرآن روایات_1.jpg خلاف عقل و قیاس روایات_1.jpg ضبط حدیث_1.jpg خلاف عادت روایات_1.jpg
     
  4. ‏جولائی 10، 2015 #34
    وقار احمد

    وقار احمد مبتدی
    جگہ:
    کراچی ۔ پاکستان
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2015
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    میں اس وقت علمِ حدیث پر کسی نئی بحث کا متحمل نہیں بس سوال وہی ہے


    ‏سوال پھر دھراتا ہوں کیا

    ‏ جِس جانور کا گوشت کھانا حلال ہے اُس جانور کے منہ ُ کا لُعاب اور پیشاب نجس یعنی پلید نہیں ہوتا ؟

    ‏تو پھر کیا خرونوش کے لئے بھی اسکی حرمت ساقط ہو جائے گی ؟
     
  5. ‏جولائی 10، 2015 #35
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اللہ سبحانہ و تعالى نے مومنوں پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى كلام اور ان كى حديث اور حكم كو مكمل تسليم كرنے كا حكم ديا ہے، حتى كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنى قسم اٹھا كر كہا ہے كہ جس نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى كلام سنى اور پھر اسے قبول نہ كيا بلكہ رد كر ديا تو اس ميں ايمان كى رتى بھى نہيں ہے.

    اللہ تعالى كا ارشاد ہے:

    { تيرے رب كى قسم يہ اس وقت تك مومن ہى نہيں ہو سكتے جب تك كہ وہ آپس كے تمام اختلافات ميں آپ كو حاكم تسليم نہ كر ليں، پھر آپ جو ان ميں فيصلہ كر ديں اس كے متعلق اپنے دل ميں كسى طرح كى تنگى اور ناخوشى نہ پائيں اور فرمانبردارى كے ساتھ قبول كر ليں }النساء ( 65 ).

    اسى ليے اہل علم كے مابين اس پر اتفاق ہے كہ جس نے بھى عمومى شكل ميں حجيت حديث كا انكار كيا، يا پھر اسے علم ہو كہ يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى كلام ہے اسے جھٹلا ديا تو وہ شخص كافر ہے، اس ميں ادنى سے درجہ كا اسلام اور اللہ اور اس كے رسول كے اطاعت نہيں.
     
  6. ‏جولائی 10، 2015 #36
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,364
    موصول شکریہ جات:
    2,655
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اپنی ایک ایک دلیل پیش کریں اور اس پر گفتگو کرتے ہیں:
    اپنی دلیل کا ثبوت اور اپنا استدلال یونی کوڈ میں تحریر فرمائیں! یکے بعد دیگر!!
     
  7. ‏جولائی 10، 2015 #37
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے رب سے جو بيان كيا ہے اس پر ايمان ركھنا واجب ہے، چاہے ہم اس كا معنى جانتے ہوں يا نہ جانيں؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم صادق المصدوق ہيں، اس ليے جو بھى كتاب و سنت ميں آيا ہے ہر مومن شخص كے ليے اس پر ايمان ركھنا واجب ہے، چاہے وہ اس كا معنى نہ بھى سمجھتا ہو " انتہى

    ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 3 / 41 ).
     
  8. ‏جولائی 10، 2015 #38
    وقار احمد

    وقار احمد مبتدی
    جگہ:
    کراچی ۔ پاکستان
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2015
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    جہاں حدثنا فلاں اور حدیثِ رسول کا فرق بھی بھلا دیا گیا ہو ۔ ۔ ۔ اور محض جزبات کی شاعری کی جائے تو قرآنی ہدایت پر اتباعِ عملِ رسول میں
    اقولُکم ‛ سلاما ‛
     
  9. ‏جولائی 10، 2015 #39
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    کسی شے کا حکم ثابت کرنے کیلئے صرف متواتر ؍ متفق علیہ حدیث کیوں ضروری ہے؟؟؟

    کیا اخبار آحاد وحی نہیں؟ کہ ان سے کسی شے کا جواز، سنیت اور فرضیت (حکم تکلیفی) کا علم ہو سکے؟ عہد نبوی میں تو اخبارِ آحاد سے عقائد، حلال وحرام سب کا ثبوت ہوتا تھا۔ آج کیوں نہیں ہو سکتا؟؟

    یہ سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہر معقول شے وحی ؍ حجت ہوتی ہے؟؟؟ کہ اس سے تو کسی شے کا حکم ثابت ہو سکتا ہے لیکن حدیث (خبر واحد) سے نہیں؟؟؟

    کیا عقل کی اہمیت وحی سے بڑھ کر ہے؟؟؟
     
  10. ‏جولائی 10، 2015 #40
    وقار احمد

    وقار احمد مبتدی
    جگہ:
    کراچی ۔ پاکستان
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2015
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    بریلی فتؤوں کا سستا ھے بھاؤ
    کہ ملتے ھیں کوڑی کے اب تین تین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں