1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نحو و صرف سیکهنے کے لیے کتاب اور معلم کی ضرورت

'عربی سیکھیں' میں موضوعات آغاز کردہ از malik747, ‏اکتوبر 08، 2015۔

  1. ‏جنوری 09، 2016 #11
    malik747

    malik747 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 12، 2014
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    بهای مینے استاذ کا بهی ذکر کیا هے.
    اس طرف مہربانی کرکے توجہ دے
    کوی آنلائن پڑهانے والا کسی کے دهیان میں هو
    آنلائن استاذ بلکل نا ملے یہ الگ بات هے لیکن کسی کے علم میں نا هو تو یہ ممکن هے.
     
  2. ‏جنوری 10، 2016 #12
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

    اسکی دلیل بتادیں میرے شیخ بھی یہی کہتے ہیں کہ :مصدر بھی اسم کی ہی ایک قسم ہے
    مثلا اطاعۃرسول اب اطاعۃ تو افالۃ کے وزن پر ہے ۔جبکہ مرکب اضافی میں دو اسم ہوتے ہیں ۔اس لیے مصدر اسم ہی کہ ایک قسم ہے ۔
     
  3. ‏جنوری 11، 2016 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,439
    موصول شکریہ جات:
    2,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    شیخ صاحب میں نے خود اس کتاب کو نہ پڑھا نہ پڑھایا ، بلکہ ایک طالب علم کے مطابق یہ مختصر اور آسان کتاب ہے ،جو استاد کے بغیر گرائمر پڑھنے والوں کیلئے مفید ہے،
    اس لئے اس کے بیان کے مطابق اس کے پڑھنے کا مشورہ دیا تھا ۔
    اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے آپ نے نشاندہی فرمائی۔
     
    Last edited: ‏جنوری 11، 2016
  4. ‏جنوری 12، 2016 #14
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    محترم مولانا اسحاق صاحب سلفی ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ مصنف کتاب نے جوش جنون میں آکر کلمہ کی بحث ہی کو چھوڑ دیا اور اسم سے شروع کردیا جبکہ کلمہ اصل ہے ۔ اس سے بہتر بغیر استاذ کیلئے معلم الانشاء اچھی کتاب ہے اس میں سمجھانے کا انداز نرالا ہے ۔ کوئی بات دل میں نہ رکھئے گا آپ ماشاءاللہ میرے نزدیک محترم ہیں آپکی تحقیقات عمدہ ہیں باقی انسان بہرحال انسان ہے اور کمال صرف اللہ کے لئے ہے اللہ آپکو صحت و توانائی دے اور زیادہ سے زیادہ احقاق حق اور ابطال باطل کی توفیق عنایت کرے آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 12، 2016 #15
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    مصدر اسماء عاملہ کی ایک قسم ہے یہ آپکو نحو کی کتابوں میں ملے گا اسی لئے نہ اسکی تصغیر آتی ہے اور نہ یہ منسوب ہوتا ہے ۔ یہ مطلق اسم کی قسم نہیں ہے جب نحو کے متعلق بحث کریں گے تو نحوی اصول و قواعد سامنے رکھکر بحث کریں گے کیونکہ ہر فن کے اپنے قواعد ہوتے ہیں ۔
     
  6. ‏اپریل 04، 2016 #16
    چاندعلی

    چاندعلی مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 31، 2016
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    مولانا جوش صاحب! آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ مصدر اسم کی تین قسموں میں سے ایک ہے،اور یہ بات تو صاف ہے کہ قسیم اپس میں متعایرہوتےہیں،لیکن قسیم اور مقسم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ ہی وجہ ہے کہ قسیم پر مقسم کااطلاق ہوتا ہے۔ یعنی مصدر کو اسم کہا جاتا ہے۔
    اورآپ جس اسم کی بات کررہے ہیں کہ اسم صرف اسم ہوتا ہے وہ دراصل علم ہے،
    نوٹ ؛ اسم فاعل، اسم مفعول وغیرہ اسم ہی تو جو فعل کی طرح عمل کرتے ہیں۔
    لھذا آپ سے گزارش ہیکہ پہلے خود سمجھنے کی کوشش کریں۔ نہ کہ بات نہ سمجھ آنے پر دوسروں کی تنقید ۔۔۔۔۔
     
  7. ‏اپریل 05، 2016 #17
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    چاند میاں ! کس نحوی نے مصدر کو اسم کا قسم بتایا ہے ذراحوالہ دیکر بات کیجئے گا اور کس نحوی نے یہ کہا ہے کہ اسم صرف علم ہوتا ہے اس کے لیے بھی حوالہ مطلوب ہے۔ آپ نے لکہا ہے کہ مصدر اسم کی تین قسموں میں سے ایک ہے تو اسم کی تین قسموں میں اسم ،فعل ، اور حرف آتاہے مصدر تو اس میں شامل نہیں ۔ جب آپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ مصدر اور اسم میں کیا فرق ہے تو خواہ مخواہ نحوی بحث کیوں چھیڑتے ہو ابھی جاکرنحو سیکھو اس کے بعد بحث کرنا ۔
     
  8. ‏اپریل 05، 2016 #18
    چاندعلی

    چاندعلی مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 31، 2016
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    بات تو اس طرح کررہے ہیں جیسے علم نحو کے تمام قواعد آپ کے دماغ شریف میں ہر آن مستحضر رہتے ہوں،ذرا یہ تو بتائے کہ اسم،فعل،اور حرف کلمہ کے اقسام ہیں یا اسم کے،
    علم نحو سےشغف رکھنے والے ہر مبتدی ومنتہی کو اچھی طرح معلوم ہیکہ یہ کلمہ کے اقسام ہیں نہ کہ اسم کے۔
    اورہاں علم نحو سے متعلق مجھے جتنی بھی جانکاری ہے آپ سے بحث کررنے کیلئے کافی وافی ہے۔۔۔۔۔
     
  9. ‏نومبر 15، 2017 #19
    ظفر مصطفوی

    ظفر مصطفوی مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 15، 2017
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    بھائی جی ایک ویب سائٹ ہے lisaan ul quran اس میں مکمل عربی گرائمر کے کورس کی ویڈیو لیکچر ہیں ڈونلوڈ کر لو انشاءلله عربی کی سمجھ آ جاۓ گی
     
  10. ‏دسمبر 27، 2017 #20
    RashidRaja

    RashidRaja مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 27، 2017
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    آپ کی کوشش اچھی ھے عربی سیکھ سکتے ھیں بہت آسانی سے اور آپ تو جلد سیکھ جائیں گے کہ آپکو تھوڑی بہت آتی بھی ھے جیساکہ آپ نے حوالہ دیاھے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں