1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نظر بد سے بچنے کے لۓ ٹیکہ لگوانا

'علاج و دم' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏اگست 17، 2016۔

  1. ‏اگست 17، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,269
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ.

    محترم شیوخ!
    میرا ایک سوال ہیکہ نظر بد سے بچنے کے لۓ ٹیکہ لگوانا کیسا ہے؟؟؟
    اس سلسلے میں زاد المعاد میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ایک روایت ذکر کی ہے:
    أن عثمان رضي الله عنه رأى صبيا مليحا فقال: دسموا نونته ؛ لئلا تصيبه العين

    براہ کرم اسکی وضاحت کر دیں.
    جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏اگست 17، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,269
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

  3. ‏اگست 18، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,685
    موصول شکریہ جات:
    2,244
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ ٹیکہ یا کاجل یا بندیا چہرے کے حسن کو کم کرنے کیلئے تھا ، جیسے چاند پر سیاہ داغ ہو،
    علامہ ابن قیمؒ اس ٹیکہ کی مذکورہ روایت لکھنے سے قبل لکھتے ہیں :
    ومن علاج ذلك أيضا والاحتراز منه ستر محاسن من يخاف عليه العين بما يردها عنه،
    یعنی نظر لگنے سے بچنے کیلئے ان محاسن کو ان طریقوں سے چھپانا جن کے اظہار سے نظر لگنے کا خطرہ ہو ،
    آگے انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان کی روایت لکھی ہے :
    كما ذكر البغوي في كتاب " شرح السنة ": أن عثمان رضي الله عنه رأى صبيا مليحا فقال: ( «دسموا نونته؛ لئلا تصيبه العين» )
    کہ امام بغویؒ نے ’’ شرح السنہ ‘‘ میں لکھا ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے ایک خوبصورت لڑکے دیکھا ، تو فرمایا : اس کی ٹھوڑی پر کالا رنگ لگا دو ، تاکہ اسے نظر نہ لگے ، (آگے ’’ دسموا نونتہ ‘‘ کا معنی بتاتے ہیں :)
    ثم قال في تفسيره ومعنى: دسموا نونته أي: سودوا نونته، والنونة: النقرة التي تكون في ذقن الصبي الصغير.
    کہ اس کی تفسیر میں فرمایا :’’ دسموا نونتہ ‘‘ کا مطلب ہے کہ اس کی ٹھوڑی پر کالک لگا دو ، اور ۔۔ نونۃ ۔۔ بچے کی ٹھوڑی میں جو ہلکا سا گڑھا ہوت ہے اس کو کہویں ہیں ،
    132604022.gif
     
    Last edited: ‏اکتوبر 22، 2018
    • علمی علمی x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 18، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,269
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاک اللہ خیرا یا شیخ.
    اللہ آپکے علم وعمل میں برکت عطا فرماۓ.
    آمین
     
  5. ‏اگست 18، 2016 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,685
    موصول شکریہ جات:
    2,244
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    نظر لگنا حق ہے
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ((العین حق)) نظر (کا لگنا) حق ہے ۔
    (الصحیفۃ الصحیحۃ تصنیف ہمام بن منبہ: ۱۳۱، صحیح بخاری: ۵۴۷۰ و صحیح مسلم: ۲۱۸۷ (۵۷۰۱)، مصنف عبدالرزاق ۱۸/۱۱ ح ۲۹۷۷۸ ، مسند احمد ۳۱۹/۲ ح ۸۲۴۵ و سندہ صحیح ولہ طریق آخر عند ابن ماجہ: ۳۵۰۷ و سندہ صحیح و رواہ احمد ۴۸۷/۲)
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    ((العین حق)) نظر (لگنا) حق ہے ۔ (صحیح مسلم :۲۱۸۸ ۵۷۰۲/)
    سیدنا حابس التمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ((والعین حق)) اور نظر برحق ہے ۔ (سنن الترمذی: ۲۰۶۱ و سندہ حسن، مسند احمد ۶۷/۴ حیۃ بن حابس صدوق وثقہ ابن حبان و ابن خزیمہ کما یظھر من اتحاف المھرۃ ۹۷/۴ وروی عنہ یحییٰ بن ابی کثیر وھولایروی إلاعن ثقۃ عندہ)
    سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بنو جعفر (طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بچوں) کو نظر لگ جاتی ہے تو کیامیں ان کو دم کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ((نعم ولو کان شئ یسبق القدر لسبقتہ العین.)) جی ہاں !اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی۔ (السنن الکبریٰ ۳۴۸/۹ وسندہ صحیح، سنن الترمذی: ۲۰۵۹ وقال: “حسن صحیح” و للحدیث شاھد صحیح فی صحیح مسلم ۲۱۹۸ (۵۷۲۶))
    سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (مجھے) حکم دیا کہ نظر کا دم کرو۔
    (صحیح بخاری: ۵۷۳۸ و صحیح مسلم : ۲۱۹۵ (۵۷۲۰۔ ۵۷۲۲))

    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نظر کے (علاج کے ) لئے دم کی اجازت دی ہے ۔
    (صحیح مسلم : ۲۱۹۶ (۵۷۲۴))
    سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک لڑکی کے بارے میں فرمایا:
    ((استرقوا لھا فإن بھا النظرۃ)) اسے دم کرواؤ کیونکہ اسے نظر لگی ہے ۔ (صحیح بخاری: ۵۷۳۹ و صحیح مسلم: ۲۱۹۷ (۵۷۲۵))
    سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیان کردہ ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نظر لگ جانے پر دم کی اجازت دی ہے ۔ (دیکھئے صحیح مسلم : ۲۱۹۸ (۵۷۲۶))
    سیدنا بریدہ بن الحصیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دم صرف نظر یا ڈسے جانے کے لئے ہے ۔ (صحیح مسلم: ۲۲۰ (۵۲۷))
    سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    ((لا رقیۃ إلا من عین أوحمۃ.)) دم صرف نظر اور ڈسے ہوئے (کے علاج) کے لئے ہے۔ (سنن ابی داود : ۳۸۸۴ و سندہ صحیح، ورواہ البخاری: ۵۷۰۵ موقوفاً و سندہ صحیح و المرفوع و الموقوف صحیحان والحمدللہ)
    سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد سہل بن حنیف (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے غسل کیا تو عامر بن ربیعہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انہیں دیکھ لیا اور کہا: میں نے کسی کنواری کو بھی اتنی خوبصورت جلد والی نہیں دیکھا۔ سہل بن حنیف (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) شدید بیمار ہوگئے ۔ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائیوں کو کیوں قتل کرنا چاہتے ہو؟تم نے برکت کی دعا کیوں نہیں کی ؟ ((إن العین حق)) بے شک نظر حق ہے ۔ (موطأ امام مالک ۹۳۸/۲ ح ۱۸۰۱ و سندہ صحیح و صححہ ابن حبان، الموارد: ۱۴۲۴)

    ان روایات سے معلوم ہوا کہ نظر لگنے کا برحق ہونا متواتر احادیث سے ثابت ہے ۔ سورۂ یوسف کی آیت نمبر ۶۷سے بھی نظر کا برحق ہونا اشارتاً ثابت ہوتا ہے ۔
    نظر کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ نظر لگانے والے کے وضو (یا غسل) کے بچے ہوئے پانی سے اسے نہلایا جائے جسے نظر لگی ہے ۔ دیکھئے موطأ امام مالک (۹۳۸/۲ ح ۱۸۱۰ و سندہ صحیح)
    یا درج ذیل دعا پڑھیں:
    ((أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّۃِ، مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّامَّۃٍ))
    اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ اس کی پناہ چاہتا ہوں ہر ایک شیطان اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے ۔ (صحیح بخاری: ۳۳۷۱)
    مضمون کا لنک
     
  6. ‏اپریل 23، 2017 #6
    شانف بیگ

    شانف بیگ رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2016
    پیغامات:
    202
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    شیخ محترم @اسحاق سلفی صاحب کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو دلیل بنا کر عمل گیا جا سکتا ہے. اور کیا یہ حدیث صحیح ہے.
     
  7. ‏اپریل 28، 2017 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,685
    موصول شکریہ جات:
    2,244
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اس روایت کی اسناد مجھے نہیں مل سکی ،
    میرے علم میں سب سے قدیم حوالہ جس میں یہ روایت منقول ہے وہ ہے
    امام أبو سليمان الخطابي (المتوفى: 388 ھ) کی غریب الحدیث ۔۔۔ اسکے بعد امام بغوی (حسین بن مسعود الفراء البغوی (المتوفى: 516 ھ)
    جنہوں نے اسے ان الفاظ سے نقل کیا ہے :
    وروي أن عثمان رأى صبيا مليحا، فقال: دسموا نونته كيلا تصيبه العين.
    یعنی روایت کیا گیا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک خوبصورت بچے کو دیکھا تو فرمایا ۔۔۔
    مطلب یہ کہ ان دو قدیم مصنفوں نے اس کی اسناد نقل نہیں کی ،
    ان کے علاوہ کسی اور نے اسکی سند بیان کی ہو فی الحال میرے علم میں نہیں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ ابن قیم ،امام خطابیؒ سمیت کئی قدیم و ہم عصر علماء نے اس پر عمل کو جائز کہا ہے
    اور اسکی حیثیت صرف اتنی ہی ہے جیسے دھوپ کی تپش سے بچنے کیلئے سر پر کپڑا رکھ لیا جاتا ہے ،
    اسلئے اگر کوئی نظر بد کے اثرات سے بچنے کیلئے یہ عمل کرنا چاہے تو علمائے سلف کی تصدیق کی روشنی میں ایسا کرنا جائز ہے
    واللہ اعلم
     
  8. ‏جولائی 12، 2017 #8
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    بیشک نظر لگنا حق یے
     
  9. ‏اکتوبر 22، 2018 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,685
    موصول شکریہ جات:
    2,244
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    صحیح بخاری کے قدیم شارح امام أبو الحسن علي بن خلف ابن بطالؒ (المتوفى: 449ھ)
    "في شرح ابن بطال: ومنه حديث عثمان بن عفان، أنه مر ببعض طرقات المدينة فرأى صبيًا ومعه حشمة فقال: دسموا نونته لكى لا تصيبه العين، معناه دسموا ذلك الموضع ليرد العين، والنونة: النقبة التى تكون فى ذقن الصبى الصغير،...)
    (شرح ابن بطالؒ ،باب مَنْ قَالَ فِي الْخُطْبَةِ بَعْدَ الثَّنَاءِ أَمَّا بَعْدُ )
    منقول ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں ایک رستہ سے گزرتے ہوئے ایک (خوبصورت ) بچہ دیکھا ،اس کے اس کا قریبی رشتہ دار بھی تھا ، تو آپ نے فرمایا :اس کی ٹھوڑی پر کالا رنگ لگا دو ، تاکہ اسے نظر نہ لگے ،
    (آگے ’’ دسموا نونتہ ‘‘ کا معنی بتاتے ہیں :)

    کہ اس کا معنی ہے : کہ اس کی ٹھوڑی پر کالک لگا دو ، اور ۔۔ نونۃ ۔۔ بچے کی ٹھوڑی میں جو ہلکا سا گڑھا ہوت ہے اس کو کہویں ہیں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں