1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نعمان بن ابی الجوان کے نکاح پر اّعتراض کا جواب

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏جون 29، 2015۔

  1. ‏جون 29، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    اعتراض: آبادی سے دور کھجور کے باغ میں جونیہ نامی عورت لائی گئی تھی جسے رسول نے کہا کہ ہبی نفسک لی تو خود کو میرے حوالے کر دے تو اس عورت نے جواب میں کہا کہ وہل تہب الملکۃ نفسہا لسوقۃ ؟ یعنی کیا کوئی شہزادی اپنے آپ کو کسی بازاری شخص کے حوالے کر سکتی ہے؟(حوالہ کتاب بخاری ، کتاب الطلاق کے چوتھے نمبر والی حدیث) ہم اپنی طرف سے اس حدیث پر کوئی تبصرہ نہیں کر رہے۔

    تجزیہ :وہ عورت کون تھی اور نبی کریم ﷺ کا اس سے کیا تعلق تھا ؟ تو اس کا جواب طبقات ابن سعد میں ہے کہ نعمان بن ابی الجون الکندی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اسلام کی حالت میں کہا یارسول اللہ ﷺ میں عرب کی بہت خوبصورت بیوہ سے آپ کی شادی نہ کردوں جو اپنے چچا زاد کی بیوی تھی اور وہ فوت ہوگیا تو وہ آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہے (وہ بیوہ نعمان کی بیٹی تھی )نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں تو اس نے کہا کہ کسی کو بھیج دیجئے اسے لانے کے لئے ۔ تو نبی کریم ﷺ نے ابو اسید رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا (جو اس حدیث کے راوی ہیں ۔)یعنی کہ وہ عورت نبی کریم ﷺ کی بیوی بن چکی تھی اسلئے کہ اس کے باپ نے اسے نبی ﷺ کو اس کی رغبت کی بناء پر پیش کیا اور نبی کریم ﷺ نے قبول کیا ۔

    نبی کریم ﷺ نے یہ کیوں کہا کہ (اپنا نفس مجھے ہبہ کردے ) تو یہ صرف تالیف قلبی کے لئے کہا ۔

    اس حدیث میں یقینا دوسرا اعتراض انہی الفاظ پر ہے جنہیں ہم نشان زدہ کر چکے ہیں۔ یہ اعتراض ترجمے کی غلطی سے پیدا ہوا ہے ۔ سُوقَۃ کا ترجمہ ''بازاری'' کرنا عربی زبان سے مطلق جہالت کا کرشمہ ہے۔ صحیح معنیٰ کے مطابق اس سے مراد وہ شخص ہے جو بادشاہ نہ ہو۔عربی زبان کی معروف اور معتبر لغت ''لسان العرب''میںاس حدیث کا معنیٰ یوں مرقوم ہے :
    فقال لہا : (( ھبی لی نفسک )) ، فقالت : ہل تھب الملکۃ نفسہا للسوقۃ ؟ السُوقۃ من الناس الرعیّۃ ومن دون الملک ۔
    ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا : تو اپنے نفس کو میرے لیے ہبہ کر دے۔ اس نے کہا: کیا کوئی شہزادی کسی غیربادشاہ کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ سُوقہ سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا شمار رعایا میں ہوتا ہو اور وہ جو بادشاہ نہ ہوں۔''
    نیز جو غلطی معترض صاحب نے کی ہے ، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
    وکثیر من الناس یظنّون أنّ السُوقۃ أہل الأسواق ، والسُوقۃ من الناس من لم یکن ذا سلطان ۔ ''بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ سُوقہ بازاری لوگوں کو کہا جاتا ہے حالانکہ لوگوں میں سے وہ افراد سُوقہ کہلاتے ہیں جن کے پاس بادشاہت نہیں ہوتی۔''
    (لسان العرب لابن منظور : ١٠/١٦٦، طبع دار صادر بیروت)
    لغت عرب کی ایک اور معروف کتاب ''تاج العروس ''میں ہے :
    والسوقۃ بالضمّ خلاف الملک ، وہم الرعیّۃ التی تسوسہا الملک ۔
    ''سُوقہ کا لفظ بادشاہ کا متضاد ہے، یعنی وہ رعایا جن پر بادشاہ حکومت کرتے ہیں۔''
    (تاج العروس لمرتضی الزبیدی : ٢٥/٤٧٩، طبع دار الہدایۃ)
    بازاری شخص کے لیے عربی میں سُوقِیّ کا لفظ مستعمل ہے۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ اسی حدیث کے تحت لکھتے ہیں : وأمّا أہل السوق فالواحد منہم سُوقیّ ، قال ابن المنیر : ہذا من بقیّۃ ما فیہا من الجاہلیّۃ ، والسوقۃ عندہم من لیس بملک کائنا من کان ، فکأنّ استبعدت أن یتزوّج الملکۃ من لیس بملک ۔
    ''رہے بازاری لوگ تو ان میں سے واحد کو سُوقِی کہتے ہیں۔ابن منیر کا کہنا ہے کہ(یہ عورت نئی نئی مسلمان ہوئی تھی اور) یہ روش اس میں موجود جاہلیت کی باقی ماندہ باتوں میں سے ایک تھی۔ عربوں کے ہاں سُوقہ اس شخص کو کہا جاتا تھا جو بادشاہ نہ ہو ، چاہے وہ جو بھی ہو۔اس عورت نے بعید سمجھا کہ ایک شہزادی ایسے شخص سے شادی کرے جو بادشاہ نہیں۔''
    (فتح الباری : ٩/٣٥٨، طبع دار المعرفۃ، بیروت)
    اب منکر حدیث خود ہی اندازہ کر لیں کہ ان کا اعتراض علم حدیث پر ہے یا علم لغت سے اپنی ہی ناواقفیت پر؟ صدیوں پہلے عربی لغت دان ، محدثین کرام اور شارحین حدیث اس بات کی بخوبی وضاحت کر چکے ہیں لیکن آج بھی منکرین حدیث ان سب باتوں سے غافل انکار حدیث کی دھن میں مست ہیں۔

    یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عورت نے ایسا کیوں کہا اور اس کے بعد یہ بھی کہا (اعوذباللہ منک ) میں تم سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں ۔ اس لئے کہ وہ عورت نبی کریم ﷺ کونہیں جانتی تھی ۔۔
    نبی کریم ﷺ کے دور میں ایسے لوگ موجود تھے جو نبی کریم ﷺ کو نہیں جانتے تھے جیساکہ وہ عورت جسے نبی کریم ﷺ نے صبر کی تلقین کی اور اس نے جھڑک دیا لیکن پتہ چلنے پر کہ نبی کریم ﷺ تھے معذرت کرنے چلی آئی ۔ (صحیح بخاری کتاب الاحکام باب ماذکر ان النبی ﷺ لم یکن لہ بواب رقم الحدیث 7154)
    اس عورت کانبی کریم ﷺ کو نہ جاننے کی دلیل بھی صحیح بخاری میں ہی موجود ہے کہ اس عورت سے کہا گیا کہ تم جانتی ہو کہ یہ کون ہیں ؟تو اس نے کہا :نہیں ۔ اور پھر افصوص کا اظہار کیا ۔
    (کتاب الاشربۃ باب الشرب من قدح النبی ﷺ وآنیتہ رقم الحدیث5637)
    AntiMunkireHadith
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں