1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نفس پر سب سے زیادہ بوجھل صبر

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏اپریل 30، 2020۔

  1. ‏اپریل 30، 2020 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,957
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    نفس پر سب سے زیادہ بوجھل صبر

    صبر کی مشقت فعل کے داعی کے قوی اور معمولی ہونے کے موافق ہوتی ہے۔ جب فعل میں دونوں چیزیں شامل ہو جائیں تو صبر کرنے والے کے لیے صبر اتنا ہی زیادہ دشوار ہو جاتا ہے۔ اگر دونوں چیزیں نہ ہوں تو صبر کرنا آسان ہو جاتا ہے اور اگر ایک چیز پائی جائے اور دوسری نہ پائی جائے تو ایک اعتبار سے صبر آسان اور دوسرے اعتبار سے مشکل ہو جاتا ہے۔
    جیسے کسی شخص کے لیے قتل، چوری یا شراب نوشی کا کوئی داعی نہ ہو تو یہ اس پر صبر کرنا بہت آسان ہوگا اور جس کے لئے اس کا داعی موجود ہو تو فعل کا ارتکاب اس کے لیے آسان ہو گا تو اس کے لئے صبر کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ اسی وجہ سے بادشاہ کا ظلم سے باز رہنے کا، نوجوان کا بدکاری سے بچنے اور مال دار کا لذتوں اور خواہشات سے بچنے کا اللہ کے ہاں بڑا مقام ہے۔
    اللہ تبارک وتعالیٰ سات لوگوں کو ان کے کمال صبر اور مشقت اٹھانے کی وجہ سے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائیں گے۔ کیونکہ امام کا اپنی تقسیم میں انصاف کرنا اور اپنی رضامندی اور ناراضگی کے باوجود صبر کرنا بڑا دشوار اور مشکل ہے۔ اسی طرح نوجوان کا اپنی خواہشات کا گلا دبا کر اللہ کی عبادت پر ڈٹ جانا اور آدمی کا مسجد کے لزوم پر صبر کرنا، صدقہ کرنے والے کا صدقہ کو پوشیدہ رکھنا، بدکاری کی طرف دعوت ملنے والے شخص کا جبکہ دعوت دینے والی عمدہ حسب و نسب اور حسن کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہو، صبر کرنا اور دو ملنے والوں کے ملنے اور جدائی کا صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے ہونا اور لوگوں پر اظہار کئے بغیر تنہائی میں اللہ کے خوف سے آنسو بہانا انتہائی دشوار اور مشقت والا صبر ہے۔
    اسی لیے شادی شدہ زانی، جھوٹے بادشاہ، متکبر فقیر کی سزا اللہ کے ہاں انتہائی سخت ہے کیونکہ ان کے پاس حرام کاری سے بچنے کے لیے متبادل سہولت موجود تھی اور ان کے پاس ان کاموں کے لیے داعی کمزور تھا، اس کے باوجود انھوں نے ان کاموں کا ارتکاب کیا جو کہ ان کی سرکشی پر دلالت کرتا ہے۔
    ایسے ہی زبان اور شرم گاہ کی نافرمانی سے پرہیز پر صبر کرنا صبر کی سب سے زیادہ مشکل اور دشوار صورتوں میں سے ایک ہے۔ کیونکہ اس کے داعی کی شدت زیادہ ہے اور اس کام کا ارتکاب انتہائی آسان ہے، زبان کی نافرمانی انسان کے لیے حلوے کی مانند ہے۔ جیسے چغلی، غیبت، جھوٹ، لوگوں کے واقعات بیان کرنا، جو شخص اچھا نہیں لگتا اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا اور جو اچھا لگتا ہے اس کی تعریف میں زبان کو تر رکھنا، اس میں داعی مضبوط اور کام انتہائی آسان ہوتا ہے اس لیے یہ صبر سب سے مشکل ہے، اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ’’اپنی زبان کو کنٹرول کرو! معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا…! کیا جو ہم بولتے ہیں اس پر بھی ہمارا مواخذہ کیا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:زبانوں کی کرتوت ہی کی وجہ سے تولوگوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔(ترمذی۔3973)
    خصوصاً جب زبان کا گناہ انسان کی عادت بن جائے تو اس پر صبر انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ آدمی بڑا نمازی، پرہیز گار، راتوں میں قیام کرنے والا ہو گا لیکن ایک لمحے میں دیکھو گے کہ کسی کی غیبت اور چغلی میں مصروف ہو گا اور کسی پر تہمت اور عزت کے بارے میں زبان درازی کرتا نظر آئے گا، خصوصاً نیک لوگوں(علماء اور بسا اوقات جہالت میں اللہ) کے بارے میں ایسی باتیں کرتا نظر آئے گا جنھیں وہ جانتا نہیں۔
    بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص حرام کاری سے بڑا پرہیز کرتا نظر آئے گا، شراب کے ایک قطرے اور ذرا برابر نجاست سے بچتا ہو گا لیکن زنا کرنے کی پرواہ نہیں کرتا…! جیسا کہ ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص کسی عورت سے زنا کرنے لگا تو اسے کہنے لگا اپنا چہرا مجھ سے چھپا لے اجنبی کی طرف دیکھنا حرام ہے۔
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے ایک آدمی مچھر مارنے کے بارے میں فتویٰ مانگا تو ابن عمر رضی اللہ عنھمانے فرمایا:
    ’’ دیکھو! ’’یہ مچھر مارنے کا پوچھتا ہے حالانکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو قتل کرچکے ہیں۔‘‘
    میرے ساتھ بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا… احرام کی حالت میں کچھ لوگ میرے پاس آئے جو ڈکیتی اور قتل و غارت میں مشہور تھے۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ احرام کی حالت میں کھٹمل کو مارا جا سکتا ہے…؟ میں نے کہا: کتنے تعجب کی بات ہے، تم قتل و غارت گری کرتے ہو جسے اللہ نے حرام کیا ہے اور مجھ سے احرام میں کھٹمل کو مارنے کا سوال کرتے ہو۔
    مقصود یہ ہے کہ معصیت کی اقسام میں صبر کا شدید اور دشوار ہونا نافرمانی کے داعی کے قوی اور ضعیف ہونے کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ علی رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ صبر تین ہیں:
    1۔مصیبت پر صبر
    2۔اطاعت پر صبر
    3۔نافرمانی سے پرہیز پر صبر
    (بشکریہ۔صبرجمیل کتاب سے ماخوذ)​




     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں