1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"نقصان اللہ کی جانب یا انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے نازل ہوتا ہے؟" قرآن پر اعتراض (عمر اعوان )

'دہریت والحاد' میں موضوعات آغاز کردہ از آفاق احمد, ‏مارچ 10، 2015۔

  1. ‏مارچ 10، 2015 #1
    آفاق احمد

    آفاق احمد مبتدی
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2013
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    جہاں کہیں بھی تم ہو، موت تمہیں آ ہی لے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں محفوظ ہوجاؤ۔ اور اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچے تو کہتے ہیں کہ ''یہ اللہ کی طرف سے پہنچا ہے'' اور اگر کوئی مصیبت پڑ جائے تو کہتے ہیں کہ: یہ تمہاری وجہ سے پہنچی ہے'' آپ (ان سے) کہئے کہ :''سب کچھ ہی اللہ کی طرف سے ہوتا ہے'' آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے (سورہ النساء :78)


    اگر تجھے کوئی فائدہ پہنچے تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور کوئی مصیبت آئے تو وہ تیرے اپنے اعمال کی بدولت ہوتی ہے اور ہم نے آپ کو سب لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس بات پر اللہ کی گواہی ہی کافی ہے۔(سورہ النساء : 79)


    ان دو آیات میں بعض لوگ تعارض محسوس کرتے ہے کہ ان دونوں آیات میں ٹکراو ہے پہلی ایت میں فرمایا گیا کہ نفع ہو یا نقصان سب اللہ کی طرف منسوب ہے جبکہ دوسری آیت میں فرمایا گیا کہ نفع تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے جبکہ نقصان تمہارے اپنے عمال کی وجہ سے ۔


    دراصل نفع یا نقصان اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو نا ہی خیر پہنچ سکتی ہے اور نا ہی مصیبت لیکن خیر تو محض اللہ کا فضل و کرم ہوتا ہے لیکن نقصان کس کے سبب بندہ پر نازل ہوتا ہے ؟ تو اس کا سبب اس کے اپنے ہی اعمال ہے ۔

    اس بات کو آسان مثال سے سمجھئے مثال کے طور اگر بجلی پاور سٹیشن سے پہنچ رھی ہے اور کوئی انسان جہان بجلی پہنچ رھی ہے وہاں کہی کسی ننگی وائر (wire) کو ہاتھ لگاتا ہے اس کے سبب بندہ تو نقصان اٹھاتا ہے لیکن اس نقصان کا ذمہ دار کون جب کہ بجلی تو پاور سٹیشن مہیا کر رھا ہے ؟ تو کیا اس کا ذمہ دار بجلی کو مہیا کرنے والا ہے یا وہ انسان جس نے بجلی کا غلط استعمال کیا ؟تو اس کا جواب یہی ہے کہ گو کہ بجلی پاور سٹیشن ہی مہیا کر رھا ہے مگر نقصان اس کے اپنے ہی عمل کی وجہ سے ہوا اور انسان اس کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے غلط استعمال کیا ۔۔


    ایک مزید مثال لی جئے گھر کا سربراہ مرد ہوتا ہے تمام گھر کے اخرابات یہی مہیا کرتا ہے اب یہی مرد اپنے بیٹے کو پیسے دیتا ہے اس کی ضروریات کے لئے لیکن بچہ اس کا غلط استعمال کرتا ہے سگرٹ نوشی اور غلط چیزیں خریدتا ہے تو بتائے ذمہ دار کون یہ بچہ یا وہ مرد جس نے تمام اخراجات مہیا کئے ۔۔ پس آپ کہے گے تمام اخراجات تو پاب نے ہی مہیا کئے مگر اس کا غلط استعمال کرنے سے بچہ نقصان اٹھا سکتا ہے نقصان جو ہونگا وہ بچہ کے اپنے ہی اعمال کی وجہ سے ہونگا اس میں اخراجات مہیا کرنے والے کا قصور نہیں !



    خلاصہ : بندہ کو جو بھی نفع و نقصان پہنچتا ہے اللہ کی جانب سے اور اللہ ہی کی مرضی و ازن سے پہنچتا ہے مگر نفع و نقصان کا سبب کیا ہے تو اس کا سبب اگر بندہ کو خیر پہنچے تو یہ اللہ کا خاص فضل ہے اور اگر نقصان پہنچے تو یہ بندہ ہی کے اعمال ہی کے سبب پہنچتا ہے ۔۔ تو یہ ایت ان دونوں آیات نفع و نقصان اللہ ہی کی جانب اور نفع نقصان کا سبب اللہ کا فضل اور انسان کے اپنے ہی اعمال ان دونوں آیات میں ٹکراو نہیں بلکہ دوسری ایت پہلے ایات کی مزید تفسیر ہے ہے نفع نقصان کا سبب کیا ہے ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 11، 2015 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اس دفعہ کی ملاقات میں قارئین کی خدمت میں ایک انتہائی اہم مسئلے کے حوالے لکھے گئے دو ای میل پیش ہیں ۔ یہ ای میل جرمنی میں مقیم ایک دوست کے ای میلز کے جواب میں لکھے گئے ۔ یہ دوست موجودہ دور کی الحادی فکر پر کافی کام کر رہے ہیں ۔ میں نے ان ای میلزمیں ان سوالات کے کچھ جوابات دیے ہیں جن کو بنیاد بنا کر وجود باری تعالیٰ کا انکار کیا جاتا ہے ۔یہ ای میل آپ کی خدمت میں پیش ہیں ۔اس خط و کتابت میں میں صرف اپنے خطوط نقل کر رہا ہوں ان کے نہیں ۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان کے آخری ای میل کا ایک جز یہاں نقل کر دوں ۔ یہ جز یہ بتاتا ہے کہ آج کا نوجوان کیسی ذہنی الجھن کا شکار ہوجاتا ہے ۔ میں زندگی میں خود اس مرحلے سے گزر چکا ہوں ۔ اور جانتا ہوں کہ ان سوالات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو الحادی سوچ کس طرح انسان کی زندگی اور اس کے ایمان کو ہلا کر رکھ دیتی ہے ۔اب آپ پہلے ان کے آخری خط کا ایک جز ملاحظہ فرمائیے اور اس کے بعد میرے ای میل ملاحظہ فرمائیں ۔

    our discussion has been extremely useful for me. Struggling alone with this problem, I was getting desperate. I wasn[L:146]t able to sleep at nights, couldn[L:146]t concentrate on daily life activities and even in prayers. It was hurting so much as if somebody had told me, with evidence in his hand, that my father was a merciless killer.
    ترجمہ: ’’ہماری یہ گفتگو میرے لیے بہت مفید ثابت ہوئی ہے ۔میں اس مسئلے کو حل کرنے کی جدوجہد میں مایوس ہورہا تھا۔راتوں کو سو نہیں سکتا تھا۔ روزمرہ امور اور نماز کی ادائیگی میں بھی یکسوئی باقی نہیں رہی تھی۔میں اس شخص کی طرح اذیت میں تھا جسے واضح ثبوت کے ساتھ یہ بتایا جائے کہ اس کا باپ ایک بے رحم قاتل ہے ۔
    ‘‘
    اب آپ میرے خطوط ملاحظہ کیجیے جو اس بنیادی سوال کا جواب دیتے ہیں کہ دنیا میں مصائب کیوں ہیں ۔ایسا کیوں ہے کہ آزمائش کی جو دنیا انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے وہاں آلام و مصائب کی آگ انسانوں کو ہی نہیں آزماتی بلکہ بے زبان جانوروں کی بھی جھلسادیتی ہے ۔

    میرا پہلا ای میل
    ’’برادر عزیز

    آپ کا اٹھایا ہوا سوال ایک اہم سوال ہے اوران جیسے متعدد سوالات اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے وجود کے خلاف استدلال کرنا ایک عام ملحدانہ رویہ ہے جو بہت مقبول بھی ہے ۔ میں اپنی کتاب کا دوسرا حصہ تحریر کر رہا ہوں جس کا ایک مقصد انہی تمام سوالات کا جواب دینا ہے ۔
    اس کتاب میں تین بنیادی سوالات کو ایڈریس کیا گیا ہے :
    پہلا یہ کہ جو شر انسان پیدا کرتے ہیں ، ان کا ذمہ دار بہرحال خدا ہی ہے کہ وہ مداخلت کر کے اس شر کو جب رونما ہونے سے روک سکتا ہے ، مگر نہیں روکتا۔ ظلم پر خا موش رہنے والا یہ خدا عقل و فطرت بظاہر قبول نہیں کرتی۔

    دوسرا سوال وہی ہے جو آپ نے اٹھایا اور جس کے لیے اصلاً پرابلم آف ایول کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ۔

    تیسرا سوال یہ ہے کہ خدا کی موجودگی کے دلائل کم وبیش اسی سطح کے ہیں جس سطح کے جواب مخالفین کے پاس موجود ہوتے ہیں ۔ خدا نے ایسا کیوں نہیں کیا کہ اپنی موجودگی کا ایسا استدلال پیش کرتا کہ اچھے اور معقول لوگ تو گمراہ ہونے سے بچ ہی جاتے ۔وجود باری تعالیٰ کی بحث ، کم از کم صالح فطرت لوگوں کے لیے بحث کے دائرے سے نکل کر واقعہ کے دائرے میں داخل ہوجاتی۔

    ان تین بنیادی سوالات کے ذیل میں پھر وہ تمام سوالا ت آئیں گے جو ماڈرن ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم کے کم و بیش تمام فلسفی اٹھاتے ہیں ۔

    ا ن میں سے ایک سوال یہ بھی ہو گا جو آپ بیان فرما رہے ہیں ، (مکتوب نگار کا سوال یہ تھا کہ حال ہی میں ایک ہرنی کا بچہ جنگل کی آگ میں جھلس گیا اور بعد میں تڑ پ تڑ پ کر مرا۔ اس ظلم کی بظاہر ذمے داری اسی ہستی پر عائد نہیں ہوتی ہے جو اس کائنات کا نظام چلا رہا ہے ؟)۔ تاہم ناول میں میرا اندازقرآنی واقعاتی استدلال کا ہو گا نہ کہ فلسفیانہ انداز کا۔ تاہم آپ کے اس سوال کے مختصر جواب میں عرض ہے کہ یہ سوال صرف ایک ہرنی کے بچے ہی تک محدود نہیں ، اس دنیا میں جگہ جگہ ایسے واقعات ہورہے ہیں جن کے بارے میں ٹھیک یہی سوال اٹھایا جا سکتا ہے ۔

    اس خاکسار کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ جان بوجھ کر کر رہے ہیں اور اس کی بہت سی حکمتیں ہیں ۔ ان حکمتو ں میں سے ایک بنیادی حکمت یہ ہے کہ انسانی فطرت کی تشکیل جس اصول پر ہوئی ہے اس میں تکلیف انسان کے اندر خیر اعلیٰ کو پیدا کرنے اور اسے حاصل کرنے کا بنیادی محرک ہے ۔ مجھے کہنے دیجیے کہ آزمائش کی اس دنیا میں انسانیت کی بقا تکلیف کی بقا کے ساتھ ہی وابستہ ہے ۔ ٹوائن بی نے اس کو چیلنج اینڈ ریسپونس کے نام سے پورے فلسفیانہ اور تہذیبی نظام کے طور پر ثابت کر دیا ہے ۔

    ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اس اصول پر تو نہیں بنا سکتے کہ تکلیف ہرنی کے بچے سے تو ختم کر دی جائے لیکن باقی جگہوں پر وہ موجود رہے ۔ تکلیف رہے گی تو ہر سطح پر رہے گی۔ میرا بچہ بیمار ہو گا اور بخار سے جلے یہ تو مجھے قبول نہ ہو، لیکن چیلنج اور ریسپونس کو میں ٹھیک سمجھوں ، اللہ کی دنیا میں اس طرح کے مذاق گوارا نہیں کئے جاتے ۔ان کی آزمائش ہر پہلو سے مکمل ہوتی ہے ۔ یہاں انسان کینسر سے تڑ پ تڑ پ کر بھی مریں گے اور زلزلے بھی آئیں گے ۔ یہ دنیا اسی اصول پر بنائی گئی ہے ۔ اور اسی بات کو ٹوائن بی نے سمجھ لیا تھا۔ اسی حقیقت کو جو معقول انسان مانتا ہے وہ زندگی میں بہتری لاتا چلا جاتا ہے ۔

    اللہ کا اصل مقصود یہ ہے کہ عقلمند لوگ اس حقیقت کو سمجھیں اور کائنات کی سب سے بڑ ی تکلیف یعنی جہنم سے بچنے اور سب سے بڑ ے خیر یعنی جنت کی طلب کریں ۔ جو لوگ دنیا اور آخرت کی بہتری کے یہ دونوں کام کرنے کے بجائے اعتراضات کرتے ہیں ان کے اعتراضات کا اصل ہدف عیسائیوں کا خدا ہوتا ہے جہاں نہ جہنم کی ہولناکی کا وہ تصور ہے نہ دنیا کے آزمائش ہونے کی بات بیان ہوئی ہے ۔ جہاں خدا کو صرف ایک رحیم ہستی کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے ۔ یہی وہ سوالات تھے جو ساری زندگی مدر ٹریسا کو گھیرے رہے اور وہ ایک متشکک کے روپ میں دنیا سے رخصت ہوئیں ۔

    میں آج کل قدیم فلسفے ، جدید فلسفے ، اور ملحدانہ نظریات کے اہل علم کا مطالعہ اسی پس منظر میں کر رہا ہوں ۔ میرا تاثر یہ ہے کہ ہمارے فرقہ پرستو ں کی طرح ان کے پاس بھی الفاظ ختم نہیں ہوتے ۔ بہرحال اس مرض کا علاج رسولوں کے پاس بھی نہیں تھا۔ میں بھی نہیں کرسکوں گا ۔لیکن پروردگار کا اصل مقصد ہدایت کو کھول کر واضح کرنا ہوتا ہے لوگوں سے منوانا نہیں ۔ یہی کوشش قرآن کریم کی ہے اور یہی میں اپنے نئے ناول میں کروں گا۔ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو آسان فرمادے ۔

    آخر میں یہ بات بھی واضح کر دو ں کہ اہل ایمان کو اپنے متعلق غلط فہمی سے بچانے کے لیے وہ قرآن مجید میں بار بار اپنے بارے میں واضح کرتے ہیں کہ وہ رائی کے دانے کے برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔ اس میں مزید وہ سارے بیانات بھی شامل ہیں جو آپ نے نقل فرمائے ہیں ۔
    والسلام
    ریحان‘‘
    دوسرا ای میل
    ٍ میرا درج بالا ای میل ، جیسا کہ اسے آپ نے ملاحظہ کیا اشارات پر مبنی تھا۔مکتوب نگار نے دوبارہ کچھ چیزیں تفصیل کے ساتھ اٹھادیں ۔ جس کے بعد میں نے ایک تفصیلی ای میل لکھا۔ یہ ای میل درج ذیل ہے ۔
    ’’برادر عزیز
    السلام علیکم
    آپ کے تفصیلی ای میل کا شکریہ۔ مجھے اس مسئلے کا عرصے سے ادراک ہے جس کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے ۔ میں اسے مغرب کی دوسری یلغار کہتا ہوں ۔ انیسویں صدی کی پہلی یلغار کے برعکس جو سیاسی نوعیت کی تھی اور جس کا براہ راست نشانہ ہماری ایلیٹ اور مقتدر طبقات تھے ، یہ تہذیبی ، فکری اور ثقافتی نوعیت کی یلغار ہے جس کا نشانہ ہماری مڈل کلاس بنے گی۔یہ دوسری یلغار اکیسویں صدی کے ربع اول میں ہمارے لیے سب سے بڑ ا چیلنج ہو گا۔

    آپ نے جو پہلو اٹھائے ہیں وہ اس یلغار کا فکری پہلو ہے ۔ میں نے اس حوالے سے اپنا نقطہ نظر عرض کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر شاید میں اپنا استدلا ل واضح نہیں کرسکا۔

    میرا استدلال یہ تھا کہ اس دنیا میں امتحان تو بلاشبہ انسان ہی کا ہورہا ہے لیکن یہ اسی کرہ عرض پر لیا جا رہا ہے جہاں دیگر تمام مخلوقات بھی آباد ہیں ۔پھر یہ انسان انہی مادی عناصر اور انہی حیوانی اجزا، قویٰ اور جبلتوں سے بنا ہے جو دیگر حیوانات کو دیے گئے ہیں ۔ ایسے میں یہ ممکن نہیں کہ انسانوں کے جسمانی مصائب کی نوعیت جو بہرحال امتحان ہوتے ہیں مختلف ہو اور دیگر حیوانات کے لیے اللہ تعالیٰ کچھ اور معاملہ کریں ۔جو آگ انسانوں کو جلائے گی بہرحال جانوروں کو بھی جھلسادے گی۔ اس لیے معاملہ اس کے برعکس کرنا خدا کی حکمت کے بالکل خلاف ہوجاتا۔

    اب سوال صرف یہ ہے کہ جانوروں کے مصائب کی نوعیت خود ان کے حوالے سے کیا ہے ۔ میری ناقص رائے میں اس معاملے میں یہ گفتگو تو ہو سکتی ہے کہ اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ، لیکن اس کو بنیاد بنا کر وجود باری تعالیٰ پر اعتراض کرنا ایک غیر معقول رویہ ہے ۔ خدا کو ظالم ، غیر عادل اور پھر غیر موجود ثابت کرنے کی کوشش میرے نزدیک اس پہلو سے اعتراض برائے اعتراض ہے ۔اس لیے کہ اگر یہ اعتراض درست مان لیا جائے تو خدا سے پہلے یہ اعتراض خود انسانوں پر وارد ہو گا۔

    پھر کسی جانور کا گوشت کوئی انسان نہیں کھا سکتا۔ بلکہ کسی جانور کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی اور جانور کو اپنا شکار بنائے اس لیے کہ ہر تکلیف سے بڑ ی تکلیف تو موت ہے ۔ پھر جاندار صرف چوپائے یا پرندے تو نہیں ہوتے ، حیات کی ہر قسم کا تحفظ انسانیت کا فریضہ قرار پائے گا۔ اور زیادہ وقت نہیں گزرے گا کہ بے چاری انسانیت اس فریضے کی ادائیگی کی ناکام کوشش میں (بشرطیکہ کچھ احمق اس استدلا ل کو مان لیں ) کرہ ارض سے فنا ہوجائے گی۔

    اس لیے اگر یہ ایک درست اعتراض ہے تو میرے نزدیک معترضین کو اس کو بنیاد بنا کر خدا سے پہلے انسانو ں کے خلاف مہم چلانی چاہیے ۔ جب وہاں سب کو قائل کر لیں تو خدا کے بارے میں جواب میں دے دوں گا۔

    میرے نزدیک یہ تکالیف ایک فطری امر ہیں ۔فطری امور بدیہات میں سے ہوتے ہیں اور خود دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ موت اور تکلیف تو ایسا آفاقی اصول ہے کہ جس پر نہ صرف ساری انسانیت اپنی زندگی گزار رہی ہے ، بلکہ باقی مخلوق بھی اپنی زندگی گزار رہی ہے کہ ایک کی موت پر دوسرے کی زندگی موقوف ہے ۔ اس لیے میرے نزدیک فطری اصولوں کا انکار کرنے والے خدا کے خلاف اعلان جنگ کرنے سے پہلے انسانوں کے خلاف اعلان جنگ کریں اور ان کی فطرت کو تبدیل کروائیں ۔

    باقی رہی یہ بات کہ جانوروں کے اندر بے رحمی کے عناصر پائے جاتے ہیں ۔ موت کی بعض اقسام بے رحمی کے ساتھ آتی ہیں ، میرے نزدیک ان تمام معاملات میں ہمارے پاس مکمل ڈیٹا نہیں ہے ۔ ہم جانوروں کی نفسیاتی کیفیات کے بارے میں بہت کم علم رکھتے ہیں ۔ لیکن اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ انسانوں جیسی ہی مکمل نفسیات اور حساسیت رکھتے ہیں (جس کا کوئی خاص قرینہ موجود نہیں ہے ، نہ مشاہدات اس کی تائید کرتے ہیں )، تب بھی ہم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ معاملہ کس قسم کا ہے ۔ قرآن نے ایک آدھ مقام پر اصولی بات بیان کی ہے ۔ مثلاً سورہ انعام آیت 38 میں ’’امم امثالکم ‘‘کے الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان مخلوقات کی اپنی معنویت ہے ۔ حضرت سلیمان کے معاملے میں جانوروں خاص کر چیونٹی کے شعور اور شہد کی مکھی کے حوالے سے قرآن کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا نظر آتا ہے ۔ قرآن مجید کے قرآئن بتاتے ہیں کہ یہ مخلوقات اگلی دنیا میں بھی ہوں گی۔سورہ واقعہ میں ’’و لحم طیر مما یشتھون‘‘ کے الفاظ اس کی واضح دلیل ہیں ۔

    بہرحال میرے نزدیک ان معاملات کو سمجھنے پر گفتگو ہو سکتی ہے ، مگر اس کو بنیاد بنا کر اللہ تعالیٰ پر گفتگو نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک مولویانہ اپروچ ہے جو ملحدوں میں بھی یکساں طور پر پائی جاتی ہے ۔

    تکلیف اس زندگی کی ایک حقیقت ہے ۔سلبی طور پر چھوٹی تکلیف ہمیشہ بڑ ی تکلیف سے بچانے کا سبب بنتی ہے ۔ چاہے دنیا کی ہو یا آخرت کی۔ مثبت طور پر یہ تخلیق کا لازمی عنصر ہے ۔ ٹوائن بی کے حوالے سے میں اس کی اہمیت بھی بیان کر چکا ہوں کہ یہ بقا و ارتقا دونوں کی ضامن ہے ۔ یہ انسان کے نفسیاتی وجود کی ترقی اور اعلیٰ احساسات کے فروغ کی ضامن ہے جو انسان کو حساسیت عطا کرتی ہے ۔

    میرے خیال میں مصائب کے فوائد اتنے زیادہ ثابت شدہ ہیں کہ اس کو موضوع بنا کر خدا کے وجود پر اعتراض کر کے انسان اپنے سطحی ہونے کا ثبوت دیتا ہے ۔ رہا جانوروں کا معاملہ تو میں عرض کر چکا ہو ں کہ اس معاملے میں ہمارے پاس ڈیٹا نہیں ہے ۔ ہمیں اس بات کو ماننا ہو گا۔ اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ نہیں مانتے تو پہلی جنگ خدا کے بجائے انسانوں سے لڑ نی چاہیے
    (By ریحان احمد یوسفی)
     
  3. ‏مارچ 12، 2015 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جس طرح باقی کئی اقسام کے اراکین موجود ہیں ، اللہ کسی ملحد کی نعمت سے بھی نواز دے تو شاکر بھائی اور دیگر احباب کی طرف سے پیش کردہ الحاد کے متعلق تحریریں بھی ازبر ہو جائیں گی ۔ ابتسامہ ۔
    ویسے ہمارے جامعہ کے ساتھیوں کا واٹس ایپ پر ایک مجموعہ ہے جس میں باہر سے بھی کئی لوگ شامل ہیں ، تقریبا ایک ڈیڑھ ماہ پہلے الحاد پر مباحثہ رکھا گیا تو اس کے لیے ایک تگڑا قسم کا نقلی ملحد بھی تیار کیا گیا تھا ، جو بڑے بڑے اعتراض کرتا تھا ، جیسے تیسے کرکے اس وقت الحاد کو ہرا تو دیا تھا ، لیکن اب یہ تحریریں دیکھ کر منہ میں پانی آرہا ہے کہ کاش ’’ ملحد ‘‘ دوبارہ قابو آجائے ۔ ابتسامہ ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 12، 2015 #4
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    حضرحیات بھائی محلدوں کے پیج کا لنک ۔وقت ملتے ہی مزید اور لنک دوں گا
    (حذف از انتظامیہ -- ازراہ کرم ایسے لنکس فقط ذاتی پیغامات کے ذریعے شیئر کریں)
     
  5. ‏مارچ 12، 2015 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    طلحہ بھائی ملحدوں کے لنک یہاں دینے کی بجائے ملحدوں کو فورم کا لنک دیں اور ان کو یہاں لے کر آئیں ۔
     
  6. ‏مارچ 12، 2015 #6
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    حضرحیات بھائی میرے پاس جو بھی ملحدوں کےگروپس پیجیز اور آڈیاں ہیں ۔میں آپ کو ان باکس میں
    دے
    دیتا ہوں۔آپ ملحدوں کے گروپس میں شمولیت اختیار کرلیں۔اور جو آڈیاں ہیں۔ان کو بھی فرینڈ بنا کر
    فورم پر لانے کی کوشش کر یں۔مجھ سے جتنا ہو سکا میں بھی کوشش
    کروں گا۔
     
  7. ‏مارچ 12، 2015 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ایک رپورٹ کے مطابق
    لادین افراد اسلام اور عیسائیت کے پیروکاروں کے بعد تیسرا بڑا گروپ
    عقائد کے حجم سے متعلق ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا میں مسیحیوں اور مسلمانوں کے بعد تیسرا بڑا گروپ لادین [ملحدین] افراد کا ہے۔ ہندو چوتھے نمبر پر ہیں۔ اس تحقیق کا عنوان ’گلوبل ریلیجیئس لینڈاسکیپ‘ ہے، جس کے نتائج واشنگٹن میں قائم پیو فورم آن ریلیجن اینڈ پبلک لائف نے منگل کو جاری کیے۔

    اس تحقیق کی بنیاد 2010ء کے وسیع تر اعداد و شمار ہیں، جس کے مطابق مستقبل میں اسلام اور ہندو مت کے پھیلنے کی بڑی حد تک توقع ہے جبکہ یہودی پھیلاؤ کے لحاظ سے کمزور ترین گروپ ہے۔

    اس کے مطابق مسیحیت دنیا میں ہر جگہ پھیلتا ہوا مذہب ہے اور ہر خطے میں اس کے پیروکار رہتے ہیں۔ عالمی پھیلاؤ کے لحاظ سے ہندو مت سب سے پیچھے ہے اور اس کے 94 فیصد پیروکار ایک ہی ملک یعنی بھارت میں آباد ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ تقریباﹰ چھ ارب 90 کروڑ افراد پر مشتمل دنیا کی 84 فیصد آبادی اپنا تعلق کسی نہ کسی مذہب سے جوڑتی ہے۔ لادین یا سیکولر کی کیٹیگری ان افراد پر مشتمل ہے جو کسی مذہب کے پیرو کار ہونے کا اقرار نہیں کرتے۔


    اس میں مزید کہا گیا ہے: ’’چین میں کسی مذہب کو نہ ماننے والے بالغ افراد کا سات فیصد، فرانس میں 30 فیصد اور امریکا میں 68 فیصد خدا یا کسی اعلیٰ طاقت پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘ خبر رساں ادارے رایئٹرز کے مطابق دنیا کی مذہبی آبادی کی درست تعداد کا پتہ لگانا ناممکن ہے اور بڑے مذہب کے حجم میں لاکھوں کا فرق ہو سکتا ہے۔

    پیو فورم کے کونراڈ ہیکیٹ کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں استعمال کیے گئے اعداد و شمار مردم شماری، سروے اور آبادی کے ڈھائی ہزار رجسٹروں سے حاصل کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ہر ملک کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔

    ہیکیٹ نے مزید کہا کہ نوجوان آبادی مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کی اہم وجہ رہے گی۔ یہودی آبادی میں اوسط درمیانی عمر 36 برس ہے ، جس کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ کا امکان کم ہے۔

    عالمی سطح پر مسیحیوں کی اوسط درمیانی عمر 30 برس ہے جبکہ ہندوؤں کی 26 برس۔ لادین یا بے مذہب لوگوں کی اوسط درمیانی عمر 34 برس ہے، جس کی وجہ سے اس گروپ کے پھیلاؤ کا امکان بھی کم ہے۔

    دو ارب 20 کروڑ کے ساتھ مسیحیت سب سے بڑا مذہب ہے، جس کے پیروکاروں کی تعداد کُل عالمی آبادی کا 31.5 فیصد ہے، جس کا نصف رومن کیتھولک مسیحیوں پر مشتمل ہے۔ مسلمانوں کی آبادی ایک ارب 60 کروڑ ہے، جن میں سے بیشتر سنی مسلمان ہیں جبکہ 10 سے 13 فیصد شیعہ ہیں۔

    ایک ارب 10 کروڑ لا دین افراد میں سے 70 کروڑ چین میں رہتے ہیں، جو چین کی آبادی کا 52.2 فیصد ہیں۔ دوسرے نمبر پر جاپان ہے جہاں بے مذہب افراد کی تعداد سات کروڑ 20 لاکھ ہے۔ امریکا میں ان افراد کی تعداد پانچ کروڑ 10 لاکھ بنتی ہے۔

    اس تحقیق کے مطابق 97 فیصد ہندو، 87 فیصد مسیحی اور 73 فیصد مسلمان ایسے ملکوں میں رہتے ہیں جہاں وہ اکثریت میں ہیں۔ مسیحی 157 ملکوں میں اکثریت میں ہیں جبکہ مسلمان 49 ملکوں میں۔ ہندو صرف بھارت، نیپال اور ماریشیس میں اکثریت میں ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 12، 2015 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ایک دوسری رپورٹ کے مطابق

    گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کے مارین عمرانیات کو یقین ہے کہ دنیا میں مذہب میں دلچسپی کم ہو جائے

    گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کے ماہرین عمرانیات کو یقین ہے کہ دنیا میں مذہب میں دلچسپی کم ہو جائے گی۔ 59 ملکوں کے شہریوں سے کی گئی آراء شماری کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے طے کیا ہے کہ ان میں سے کس مملکت کو انتہائی مذہبی اور کس مملکت کو مبنی بر الحاد گردانا جا سکتا ہے۔ محققین کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران روس میں مذہب میں دلچسپی کا عالم کم ہونے لگا ہے۔

    عالمی سطح کی اس آراء شماری سے ظاہر ہوا ہے کہ ہمارے سیارے کے نصف سے زیادہ باشندے یعنی ان کا 59% خود کو مذہبی سمجھتے ہیں۔دنیا کا ہر پانچواں شخص خدا کو تو مانتا ہے لیکن خود کو کسی خاص عقیدے سے وابستہ نہیں کرتا جبکہ ہر آٹھواں شخص خود کو ملحد قرار دیتا ہے۔ دہریوں کی زیادہ تعداد مشرقی ایشیا میں پائی گئی ہے، جن میں سے چین میں 47% اور جاپان میں آبادی کے تیس فیصد سے کچھ زائد ملحد ہونے کے دعویدار ہیں۔ علاوہ ازیں چیک ریپبلک، فرانس،جنوبی کوریا،جرمنی، نیدرلینڈ،آسٹریا،سپین،آسٹریلیا اور آئر لینڈ میں بھی دہریوں کی تعداد زیادہ دیکھنے میں آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق آج کی دنیا میں زیادہ مذہبی ملکوں میں گھانا،نائیجیریا،آرمینیا،فجی،مقدونیہ،رومانیہ،عراق،کینیا،پیرو اور برازیل شامل ہیں۔ ماہرین عمرانیات کے مطابق گذشتہ سات سالوں میں خود کو مذہبی خیال کرنے والے لوگوں کی 9 مقامات پہ کمی واقع ہو چکی ہے۔

    بین الاقوامی ایسوسی ایشن کی اس آراء شماری کے نتائج پر روس میں تنقید کی گئی ہے۔

    ویسے اس آراء شماری کے ماہرین کے مطابق روس میں گذشتہ برسوں میں مذہبی لوگوں کی تعداد دوفیصد کم ہو چکی ہے، اتنی ہی جتنے خود کو دہریہ خیال کرنے لگے ہیں۔ روس کے 55 فیصد باسیوں نے خود کو کسی نہ کسی مذہب سے وابستہ قرار دیا ہے۔ 26 فیصد نے کہا ہے کہ وہ مذہبی نہیں ہیں۔ صرف چھ فیصد ہی خود کو دہریہ کہنے کی جرات کر پائے ہیں اور تیرہ فیصد لوگوں کے لیے اس سوال کا جواب دینا مشکل رہا۔ روس کی سرکاری دوما کی سماجی اتحاد و مذہبی تنظیموں بارے کمیٹی کے سربراہ سرگئی پوپوو سمجھتے ہیں کہ یہ اعداد وشمار مبنی بر حقیقت نہیں ہیں، روس مستقبل میں ایسا ملک ہوگا جہاں مذہب پرستی کا تناسب بہت زیادہ ہوگا،"مذہب اور مذہب پرستی یہ روسی مملکت کے قیام اور ترقی کی اصل اساس ہے۔ اس تمام سیکیولرزم کے باوجود جس کا آئین میں اعلان درج ہے، ملک میں مروج دنیا بارے نکتہ نگاہ اور عوام کے نکتہ نظر کے حوالے سے،مذہب بہت سی جہتوں کے لیے ایک اہم عامل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مذہب ایک بہت ہی قوی عامل ہے جو بلا وجہ نابود نہیں ہو سکتا۔ اس سے بڑھ کر،کچھ تاریخی بندھن ہیں جو اس کے ساتھ روسی کی تمام قوموں اور ان کی قومیت پسندی کو جوڑتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ روس میں مذہب کا عامل قوی سے قوی تر ہوگا۔"

    ایک اور آراء شماری جو امریکہ کے آراء شماری کے ایک ادارے Pew Research Center کی جانب سے کرائی گئی ہے، ظاہر کرتی ہے کہ روس میں مسلمان نوجوان اپنے سے پہلی نسل کی نسبت زیادہ مذہبی ہیں۔ یہ بات روس کے مسلمان نوجوانوں کو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ملکوں میں بسنے والے اپنے ہم مذہب نوجوانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ تاہم سابق سوویت یونین سے نکلنے والے ملکوں میں مسلمانوں کی صرف آدھی تعداد ہی یہ خیال کرتی ہے کہ ان کی زندگیوں میں مذہب ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، عرب ملکوں میں ایسا سوچنے والوں کی تعداد 60% سے زیادہ ہے اور جنوبی صحارا کے افریقی ملکوں میں یہ تعداد 80% ہے۔ روس میں عقیدے پر کاربند مسلمانوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی،بس اتنا ہے کہ آج نوجوان زیادہ فعال ہیں، ریڈیو "صدائے روس" کو انٹرویو دیتے ہوئے روس کے مسلمانوں کی مرکزی دینی کونسل کے نائب سربراہ البیر کرگانوو نے کہا،"مجھے اپنا پچپن یاد آتا ہے جب ہم مسجد میں جایا کرتے تھے تو وہاں لوگوں کی تعداد بہت کم ہوا کرتی تھی، اور اب جب مسجد میں جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں آنے والوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ مسجد مبں آنے والوں میں نوجوانوں کی تعداد حقیقتا" بہت زیادہ ہے۔ یہ محض فیشن کے طور نہیں بلکہ وہ دل وجاں سے وہاں آتے ہیں۔ تاہم بڑی عمر کے لوگ بھی خود کو عملی مسلمان خیال کرتے ہیں، اسی طرح جس طرح یہاں کا ہر مقامی مسلمان جو چاہے اسلامی رسوم کا پابند نہ ہو پھر بھی خود کو باعقیدہ اور مذہبی شخص ہی خیال کرتا ہے اور کبھی اپنے عقیدے سے روگردانی پر تیار نہیں ہوتا۔

    بڑی عمر کے لوگوں کی مسجد میں نہ آنے کی ایک وجہ سوویت یونین کے زمانے میں مروج دہریت ہے،" بہت سے مسلمان مساجد میں مارے شرم کے نہیں آتے کیونکہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ عبادت کیونکر کی جاتی ہے تاہم انہیں بے عقیدہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔ انہیں صرف سکھانا پڑے گا اور پھر مساجد میں ہر عمر اور ہر سماجی طبقے کے لوگوں کی موجودگی دکھائی دے گی۔" البیر نے اختماعی بات کہی۔
     
  9. ‏مارچ 12، 2015 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ملحدین والحاد کے فتنے سےمحفوظ رکھے اور تمام ملحدین کو ایمان کی نعمت عطا فرمائے۔آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں