1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نمازاشراق کی شرطیں

'نوافل وسنن' میں موضوعات آغاز کردہ از اعظم بنارسی, ‏نومبر 09، 2017۔

  1. ‏نومبر 09، 2017 #1
    اعظم بنارسی

    اعظم بنارسی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2017
    پیغامات:
    40
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


    سوال :
    کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی فجر کی نماز کے بعد سو گیا اور پھر اشراق کی نمازبیدارہونےکےبعداداکی تو کیا اس کی نماز اشراق اداہوجائےگی ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز اشراق کےلیےنماز فجر کے بعد بیدار رہتے ہوئےاللہ کا ذکر کرنا رہناشرط ہے
     
  2. ‏نومبر 09، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    نمازبیدارہونےکےبعداداکی تو اس کی نماز اشراق اداہوجائےگی ان شاءاللہ
    لیکن اس نماز کی مکمل فضیلت حاصل کرنے کیلئے ایک حدیث میں وارد ہے کہ :
    عن انس بن مالك، قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " من صلى الغداة في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس ثم صلى ركعتين كانت له كاجر حجة وعمرة " قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " تامة تامة تامة ".

    قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هذا حديث حسن غريب، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وسالت محمد بن إسماعيل، ‏‏‏‏‏‏عن ابي ظلال، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ هو مقارب الحديث، ‏‏‏‏‏‏قال محمد:‏‏‏‏ واسمه هلال
    .
    سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں، تو اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا“۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پورا، پورا، پورا، یعنی حج و عمرے کا پورا ثواب“
    امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے (سند میں موجود راوی) ابوظلال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ مقارب الحدیث ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ان کا نام ہلال ہے۔
    (سنن الترمذی حدیث نمبر: 586 )
    قال الشيخ الألباني: حسن، التعليق الرغيب (1 / 164 و 165) ، المشكاة (971)
    ــــــــــــــــــــــــــــــ
    سعودی عرب کے معروف جید عالم محمد المختار الشنقيطي حفظه الله کہتے ہیں کہ یہ فضیلت حاصل کرنے کیلئے کچھ شرطیں ہیں
    (1) نماز فجر جماعت سے پڑھے ، اکیلے نماز پڑھنے والا یہ فضیلت نہ پائے گا
    (2)پھر وہیں بیٹھا اللہ کا ذکر ، تلاوت ،یا د
    ینی علوم پڑھتا پڑھاتا رہے ، اگر نماز فجر کے بعد سو گیا تو مذکورہ فضیلت نہیں ملے گی ،
    (3) جہاں نماز فجر پڑھی وہیں بیٹھے ، جگہ نہ بدلے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    " وهذا الفضل له شروط :
    أولها : أن يصلي الفجر في جماعة ، فلا يشمل من صلى منفرداً ، وظاهر الجماعة يشمل جماعة المسجد وجماعة السفر وجماعة الأهل إن تخلف لعذر ، كأن يصلي بأبنائه في البيت ، فيجلس في مصلاه .
    ثانياً : أن يجلس يذكر الله ، فإن نام لم يحصل له هذا الفضل ، وهكذا لو جلس خاملاً ينعس ، فإنه لا يحصل له هذا الفضل ، إنما يجلس تالياً للقرآن ذاكراً للرحمن ، أو يستغفر ، أو يقرأ في كتب العلم ، أو يذاكر في العلم ، أو يفتي ، أو يجيب عن المسائل ، أو ينصح غيره ، أو يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر ، فإن جلس لغيبة أو نميمة لم يحز هذا الفضل ؛ لأنه إنما قال : ( يذكر الله ) .
    الأمر الثالث : أن يكون في مصلاه ، فلو تحول عن المصلى ولو قام يأتي بالمصحف ، فلا يحصل له هذا الفضل ؛ لأنه فضلٌ عظيم ، وهو حجةٌ وعمرة تامة تامة ، فهذا فضل عظيم ... ، وتحصيل الفضل العظيم يكون أكثر عناءً وأكثر نصباً ، فيحتاج إلى أن يتكلف العبد في إصابة ظاهر هذه السنة ، فيجلس حتى تطلع الشمس ، ثم يصلي ركعتين ". انتهى من "شرح زاد المستقنع للشنقيطي"

    https://islamqa.info/ar/221531
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 09، 2017 #3
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    727
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    السلام علیکم
    محترم
    نمبر 3 پر آنے والی بات کا حدیث میں ذکر نہیں نظر آیا۔یہاں کیا قیاس کیا گیا ہے ۔
     
  4. ‏نومبر 10، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    محترم بھائی ! یہاں قیاس نہیں ،بلکہ اوپر مذکور واضح حدیث میں ہے :
    (" من صلى الغداة في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس )
    ”جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا ۔۔۔۔۔۔
    اب رہا سوال کہ کہاں بیٹھا رہا ؟
    تو صحیح مسلم کی یہ حدیث دیکھئے :

    باب فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلاَّهُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ
    باب: صبح کے بعد اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھنے اور مسجدوں کی فضیلت کا بیان

    عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَثِيرًا، " كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ أَوِ الْغَدَاةَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ ".
    سماک بن حرب نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ بہت، پھر کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہتے صبح کے بعد جب تک کہ آفتاب نہ نکلتا۔ پھر جب سورج نکلتا اٹھ کھڑے ہوتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر ذکر کیا کرتے تھے کفر کے زمانہ کا اور ہنستے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہتے تھے۔
    (صحیح مسلم کتاب المساجد )

    عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ، جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا ".
    سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ چکتے تو اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے جب تک کہ آفتاب خوب نہ نکل آتا۔
    (صحیح مسلم کتاب المساجد )

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 11، 2017 #5
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    727
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    @اسحاق سلفی
    السلام علیکم
    ذکر یا کوئی اور عبادت شرط نہیں ہے ۔ کیونکہ آپ نے اسی جگہ بیٹھنے کی جو دلیل پیش کی ہے اس میں ماضی کی باتوں کا ذکر ہے ۔ میرے ناقص عقل میں یہ بات آرہی ہے کہ فجر کی نماز کے بعد اشراق کی فضیلت کے لئے اپنی جگہ بیٹھنا شرط ہے ۔اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا زمانہ ماضی کی باتیں کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سن کر مسکرانا ان کو منع نہ کرنا اس بات کی توثیق کررہا ہے ۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ بھی تھا کہ صبح کی نماز کے بعد بیٹھ جاتے اور لوگوں سے پوچھتے کوئی خواب دیکھا ہے تو بتاؤ۔اور اس کی تعبیر بتاتے۔(صحیح بخاری حدیث نمبر 7047)
     
  6. ‏نومبر 11، 2017 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جی بجا فرمایا بیٹھنا شرط ہے ۔
    ــــــــــــــــــــــــــ
    آپ نے غلط سمجھا ، وہاں کوئی نکمی ناکارہ گفتگو نہیں ہوتی تھی ، بلکہ معلم انسانیت اور صحابہ کرام کی محفل تھی تو یقیناً اسلام کی روشنی میں ماضی یعنی دور جہالت کا تذکرہ
    ہوتا تھا ، تو کسی بات پر مسکرا بھی دیتے ہونگے ۔ تو اس مجلس کو ذکر سے خالی سمجھنا بالکل غلط ہے ، شاید آپ نے فقیر کی پہلی پوسٹ کو بغور نہیں دیکھا !
    حدیث کے واضح الفاظ ہیں :
    " من صلى الغداة في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس ثم صلى ركعتين كانت له كاجر حجة وعمرة "
    ترجمہ :
    ”جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں، تو اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا“۔
    اور ساتھ عرض کی کہ :

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن اگر پھر بھی سمجھتے ہیں کہ ذکراللہ شرط نہیں ، تو جیسے آپ کی مرضی ،ہم طول نہیں دیتے ۔
     
    Last edited: ‏نومبر 11، 2017
  7. ‏نومبر 13، 2017 #7
    اعظم بنارسی

    اعظم بنارسی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2017
    پیغامات:
    40
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    جزاک اللہ خیرالجزاء
    اسحاق سلفی صاحب سے گزارش ہے کہ تیسری شرط „جہاں نماز پڑھی وہیں ٹھرے جگہ نہ بدلے ،،
    روایت کےکس الفاظ سے ثابت ہورہاہے.
    حدیث کے لفظ مصلاہ سے مسجد کیوں نہیں مراد لیاجاسکتاہے ؟؟؟ آپ نے جو لنک شیر کیا ہے اس میں تو اس شرط کی تردید کی گئ ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں