1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏اگست 29، 2012۔

  1. ‏اگست 29، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,951
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    حدیث نمبر: 1113
    حدثنا قتيبة بن سعيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن مالك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن هشام بن عروة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ أنها قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته وهو شاك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فصلى جالسا وصلى وراءه قوم قياما،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأشار إليهم أن اجلسوا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما انصرف قال ‏"‏ إنما جعل الإمام ليؤتم به،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا ركع فاركعوا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإذا رفع فارفعوا ‏"‏‏.‏


    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھائی، بعض لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ۔


    حدیث نمبر: 1114
    حدثنا أبو نعيم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثنا ابن عيينة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أنس ـ رضى الله عنه ـ قال سقط رسول الله صلى الله عليه وسلم من فرس فخدش ـ أو فجحش ـ شقه الأيمن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فدخلنا عليه نعوده،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فحضرت الصلاة فصلى قاعدا فصلينا قعودا وقال ‏"‏ إنما جعل الإمام ليؤتم به،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا كبر فكبروا وإذا ركع فاركعوا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإذا رفع فارفعوا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإذا قال سمع الله لمن حمده‏.‏ فقولوا ربنا ولك الحمد ‏"‏‏.‏


    ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے اور اس کی وجہ سے آپ کے دائیں پہلو پر زخم آ گئے۔ ہم مزاج پرسی کے لیے گئے تو نماز کا وقت آ گیا۔ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ ہم نے بھی بیٹھ کر آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ نے اسی موقع پر فرمایا تھا کہ امام اس لیے ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا ولک الحمد کہو۔



    ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں حسین نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن بریدہ نے، انہیں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (دوسری سند) اور ہمیں اسحاق بن منصور نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبدالصمد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے باپ عبدالوارث سے سنا، کہا کہ ہم سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔
     
  2. ‏اگست 29، 2012 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب تقصیر الصلوۃ
    باب : نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان

    حدیث نمبر : 1113
    حدثنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ أنها قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته وهو شاك، فصلى جالسا وصلى وراءه قوم قياما، فأشار إليهم أن اجلسوا، فلما انصرف قال ‏"‏ إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا ركع فاركعوا، وإذا رفع فارفعوا‏"‏‏. ‏
    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیما ر تھے اس لیے آپ نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھائی، بعض لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے۔ لیکن آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھا ئے تو تم بھی سر اٹھاؤ۔

    حدیث نمبر : 1114
    حدثنا أبو نعيم، قال حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن أنس ـ رضى الله عنه ـ قال سقط رسول الله صلى الله عليه وسلم من فرس فخدش ـ أو فجحش ـ شقه الأيمن، فدخلنا عليه نعوده، فحضرت الصلاة فصلى قاعدا فصلينا قعودا وقال ‏"‏ إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا وإذا ركع فاركعوا، وإذا رفع فارفعوا، وإذا قال سمع الله لمن حمده‏.‏ فقولوا ربنا ولك الحمد‏"‏‏. ‏
    ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے اور اس کی وجہ سے آپ کے دائیں پہلو پر زخم آگئے۔ ہم مزاج پرسی کے لیے گئے تو نماز کا وقت آ گیا۔ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ ہم نے بھی بیٹھ کر آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ نے اسی موقع پر فرمایا تھا کہ امام اس لیے ہے تا کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھا ئے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا ولک الحمد کہو۔

    ہر دو احادیث میں مقتدیوں کے لیے بیٹھنے کا حکم پہلے دیا گیا تھا۔ بعد میں آخری نماز مرض الموت میں جو آپ نے پڑھائی اس میں آپ بیٹھے ہوئے تھے اور صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ اس سے پہلا حکم منسوخ ہو گیا۔

    حدیث نمبر : 1115
    حدثنا إسحاق بن منصور، قال أخبرنا روح بن عبادة، أخبرنا حسين، عن عبد الله بن بريدة، عن عمران بن حصين ـ رضى الله عنه ـ أنه سأل نبي الله صلى الله عليه وسلم‏.‏ أخبرنا إسحاق قال أخبرنا عبد الصمد قال سمعت أبي قال حدثنا الحسين عن ابن بريدة قال حدثني عمران بن حصين ـ وكان مبسورا ـ قال سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل قاعدا فقال ‏"‏ إن صلى قائما فهو أفضل، ومن صلى قاعدا فله نصف أجر القائم، ومن صلى نائما فله نصف أجر القاعد‏"‏‏. ‏
    ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں حسین نے خبر دی، انہیں عبد اللہ بن بریدہ نے، انہیں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( دوسری سند ) اور ہمیں اسحاق بن منصور نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبد الصمد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے باپ عبدالوارث سے سنا، کہا کہ ہم سے حسین نے بیا ن کیا اور ان سے ا بن بریدہ نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔

    تشریح : اس حدیث میں ایک اصول بتایا گیا ہے کہ کھڑے ہو کر بیٹھ کر اور لیٹ کر نمازوں کے ثواب میں کیا تفاوت ہے۔ رہی صورت مسئلہ کہ لیٹ کر نماز جائز بھی ہے یا نہیں اس سے کوئی بحث نہیں کی گئی ہے ا س لیے اس حدیث پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ جب لیٹ کر نماز جائز ہی نہیں تو حدیث میں اس پرثواب کا کیسے ذکر ہو رہا ہے؟ مصنف رحمہ اللہ نے بھی ان احادیث پر جو عنوان لگایا ہے اس کا مقصد اسی اصول کی وضاحت ہے۔ اس کی تفصیلات دوسرے مواقع پر شارع سے خود ثابت ہیں۔ اس لیے عملی حدود میں جواز اور عدم جواز کافیصلہ انہیں تفصیلات کے پیش نظر ہوگا۔ اس باب کی پہلی دو احادیث پر بحث پہلے گزر چکی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم عذر کی وجہ سے مسجد میں نہیں جا سکتے تھے اس لیے آپ نے فرض اپنی قیامگاہ پر ادا کئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوکر عیادت کے لیے حاضر ہوئے اور جب آپ کو نماز پڑھتے دیکھا تو آپ کے پیچھے انہوں نے بھی اقتداءکی نیت باندھ لی۔ صحابہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے، اس لیے آپ نے انہیں منع کیا کہ نفل نماز میں امام کی حالت کے اس طرح خلاف مقتدیوں کے لیے کھڑا ہونا مناسب نہیں ہے۔ ( تفہیم البخاری، پ:5ص:13 ) جو مریض بیٹھ کر بھی نماز نہ پڑھ سکے وہ لیٹ کر پڑھ سکتا ہے۔ جس کے جواز میں کوئی شک نہیں۔ امام کے ساتھ مقتدیوں کا بیٹھ کر نماز پڑھنا بعد میں منسوخ ہوگیا۔

    http://www.kitabosunnat.com/forum/کتب-احادیث-48/مکمل-صحیح-بخاری-اردو-ترجمہ-و-تشریح-جلد-٢-حدیث-نمبر٨١٤-تا-7605/index20.html#post54402
     
  3. ‏اپریل 03، 2018 #3
    ایم اے راجا

    ایم اے راجا مبتدی
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    اسلام علیکم. میرا 2 ماہ قبل بائی پاس آپریشن ہوا ہے اور میرے سینے کی ہڈی کافی کمزور ہے جسکی وجہ سے باقاعدہ رکوع و سجدہ کرنے سے نقصان کا خوف ہے اور درد بھی ہونے کا اندیشہ ہے سو میں صوفے پر بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہوں اور گٹھنوں پر ہاتھ رکھ کر جھک کر رکوع کر تا ہوں اور ہتھیلیاں آگے پھیلا کر قدرے زیادہ جھک کر سجدے کرلیتا ہوں، کیا یوں نماز جائز ہے اور ادا ہوجاتی ہے ( برائے مہربانی وہ طریقہ بتائیں جس پر تمام فقہہ و علما ایسی صورت میں متفق ہوں)
     
  4. ‏اپریل 03، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    مریض کے لیے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی اجازت
    مریض کھڑا ہونے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے مرض الموت میں بیٹھ کر نماز ادا فرمائی تھی۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
    أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا
    (سنن ترمذی کتاب الصلاۃ باب ما جاء اذا صلی الامام قاعدا فصلوا قعودا، صحیح سنن ترمذی حدیث نمبر 362)
    “سیدنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں) سیدنا ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا فرمائی تھی”

    ایسا ہی ایک واقعہ اس سے پہلے بھی پیش آیا تھا جب مرض کی تکلیف کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، اس پرنبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ بیٹھ گئے۔ نماز ختم ہونے کے بعد فرمایا :
    إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا لَتَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلَا تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا
    (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب ائتمام الماموم بالامام)

    “تم فارسیوں اور رومیوں جیسا کام کرنے کے قریب تھے، وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں جبکہ بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں۔ تم اس طرح مت کرو۔ اپنے امام کی اقتدا کرو ، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو”

    اسی بارے میں ایک اور حدیث عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے بواسیر کی تکلیف تھی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دریافت کیا (کیا مجھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی اجازت ہے؟) تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ (صحیح البخاری کتاب الجمعۃ باب اذا لم یطق قاعدا صلی علی جنب)
    “کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لو، اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹ کر نماز ادا کر سکتے ہو”

    دوسری روایت میں ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں “میں نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہے” تو فرمایا
    مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ
    (سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب صلاۃ القاعد علی النصف من صلاۃ القائم، صحیح سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1231)
    “ جس نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی تو وہ افضل ہے، اور جس نے بیٹھ کر ادا کی اسے قیام کرنے والے کی نسبت آدھا اجر ملے گا، اور جس نے لیٹے ہوئے نماز پڑھی اس کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے سے نصف اجر ہے”۔

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ “رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم گھر سے نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ مرض کی وجہ سے بیٹھ کر نماز ادا کررہے ہیں۔ تو فرمایا :
    صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ
    (سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب صلاۃ القاعد علی النصف من صلاۃ القائم، صحیح سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1230)
    “بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کو قیام کرنے والے کی نسبت آدھا اجر ملے گا”
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اس پر ہمارے اہل علم کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں :

    ٭عارضہ کی وجہ سے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    میری والدہ درد کی وجہ سے کھڑی ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتیں کیا وہ کرسی پر بیٹھ کر میز پر سجدہ دے سکتی ہیں؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ بلوغ المرام میں لکھتے ہیں:
    « وَعَنْ جَابِرٍ ﷜ قَالَ: عَادَ النَّبِیُّ ﷺ مَرِیْضًا فَرآہُ یُصَلِّيْ عَلٰی وِسَادَۃٍ فَرَمٰی بِہَا وَقَالَ: صَلِّ عَلَی الْأَرْضِ إِنِ اسْتَطَعْتَ ، وَإِلاَّ فَأَوْمِ إِیْمَائً وَّاجْعَلْ سُجُوْدَکَ أَخْفَضَ مِنْ رُکُوْعِکَ»

    ’’نبی ﷺ نے ایک مریض کی عیادت کی تو آپﷺ نے دیکھا وہ تکیہ پر نماز پڑھ رہا ہے آپﷺ نے تکیہ کو پھینک دیا اور فرمایا زمین پر نماز پڑھ اگر تجھے طاقت ہے اگر نہیں تو اشارہ کر اور سجدہ میں رکوع سے زیادہ جھکائو پیدا کر‘‘
    ( رواہ البیہقی وصحح أبو حاتم وقفہ‘‘(باب صلاۃ المسافر والمریض)حافظ صاحب ہی باب صفۃ الصلاۃ کے آخر میں اسی حدیث کو درج فرمانے کے بعد لکھتے ہیں ’’رواہ البیہقي بسند قوي، ولکن صحح أبو حاتم وقفہ‘‘ صاحب سبل السلام اس حدیث کی شرح ص ۳۰۷ ج۱میں لکھتے ہیں:
    « وَالْحَدِیْثُ دَلِیْلٌ عَلَی أَنَّہُ لاَ یَتَّخِذِ الْمَرِیْضُ مَا یَسْجُدُ عَلَیْہِ حَیْثُ تَعَذَّرَ سُجُوْدُہُ عَلَی الْأَرْضِ ، وَقَدْ أَرْشَدَہُ إِلَی أَنَّہُ یَفْصِلُ بَیْنَ رُکُوْعِہِ وَسُجُوْدِہِ ، وَیَجْعَلُ سُجُوْدَہُ أَخْفَضَ مِنْ رُکُوْعِہِ‘‘» الخ
    ’’اور یہ حدیث دلیل ہے کہ جب مریض کو زمین پر سجدہ کرنا مشکل ہو تو وہ سجدہ کے لیے کوئی چیز نہ رکھے اور نبیﷺ نے رہنمائی فرمائی ہے کہ مریض رکوع اور سجدہ میں فرق کرے ۔ اور سجدہ میں رکوع سے زیادہ جھکے‘‘
    وباللہ التوفیق





     
  5. ‏اپریل 03، 2018 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    بیٹھ کر نماز پڑھنے کے سلسلے میں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر مریض زمین پر سجدہ کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو کوئی اونچی چیز سامنے رکھ کر اس پر سجدہ کرنا ٹھیک نہیں بلکہ ایسی صورت میں سر کے اشارے سے رکوع و سجود کرنےچاہئیں۔

    ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ تکیے پر نماز ادا کر رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اٹھا کر پرے کر دیا۔ پھر اس نے لکڑی کے تختے پر نماز ادا کرنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے بھی پرے کر دیا۔ اور فرمایا :
    صل على الارض ان استطعت والا فاوم ايماء واجعل سجودك اخفض من ركوعك
    (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 323، السنن الکبریٰ للبیہقی جلد2 ص 306)
    “اگر طاقت ہو تو زمین پر نماز ادا کرو، ورنہ اشارے سے ادا کرو اور سجدہ کرتے وقت (سر کو) رکوع کی نسبت زیادہ جھکا لو”

    کشتی اور ہوائی جہاز وغیرہ میں نماز کیسے پڑھی جائے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے کشتی میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا:
    صَلِّ فيها قائماً إلا أن تخاف الغرق
    (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 3777، صحیح الجامع الصغیر للالبانی حدیث نمبر 7225، سنن الدار القطنی کتاب الصلاۃ باب صفۃ الصلاۃ فی السفر و الجمع بین الصلاتین)
    “اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ، سوائے اس کے کہ تجھے غرق ہونے کا ڈر ہو”
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قیام کر سکتا ہو اس کے لیے کشتی یا ہوائی جہاز وغیرہ میں بیٹھ کر نماز ادا کرنا درست نہیں ہے۔

    دورانِ قیام ٹیک لگانا:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عمر مبارک جب زیادہ ہو گئی تو انہوں نے نماز پڑھنے کی جگہ میں ایک ستون رکھ لیا تھاجس پر نماز پڑھتے وقت ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب الرجل یعتمد فی الصلاۃ علی عصا، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 948 )
    اسوہ حسنہ کی اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے بوڑھے، کمزور یا مریض آدمی کے لیے عصا یا دیوار وغیرہ کا سہارا لے کر نوافل پڑھنا جائز ہے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
     
  6. ‏اپریل 03، 2018 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنااور اس کا شرعی حکم

    اس مختصر مضمون میں نمازیوں کا کرسی پر نماز پڑھنا،خصوصاًباجماعت نماز کے احکام پر بحث کی گئی ہے۔
    اس کی غرض و غایت نمازیوں کو نماز کی اصلاح اور اس کے منافی امور سے اجتناب کی رغبت دلانا ہے۔
    نماز دین کا ستون ہے اور شہاد تین کے بعد اہم ترین ہے۔ تمام اعمال کی اصلاح کا دارومدار اور انحصار نماز کی درستگی پرہے۔اگر نماز درست ہو گی تو باقی تمام اعمال صحیح ہو ں گے۔ اگر نماز درست نہ ہو گی تو باقی تمام اعمال بھی ناقص ہو جائیں گے۔اس لئے نماز کو اس کے کامل حسن کے ساتھ ادا کرنا اور اس کے تمام ارکان کی اہمیت و فضیلت کو بیان کرنا عین دین ہے۔آج کل نمازیوں کی کثیر تعداد کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتی ہے اور کوئی مسجد بھی ایسے لوگوں سے خالی نہیں ہے۔ان میں بعض لوگ غیر شعوری طور پر غلطی کاارتکاب کرتے ہیں۔ بسا اوقات نمازی آدمی رکوع تو نہیں کرسکتامگر قیام کی استطاعت رکھتا ہوتا ہے لیکن وہ استطاعت کے باوجود کھڑا نہیں ہوتا جب کہ قیام نماز کا رکن ہے۔ ذیل میں ہم انہی کوتاہیوں اور حالات کو بالتفصیل بیان کریں گے۔
    پہلی صورت:
    جو لوگ قیام،رکوع،سجود کی استطاعت موٹاپے یا کسی اور وجہ سے نہیں رکھتے،وہ کرسی پراس کیفیت میں نماز ادا کریں جو ان کےلئے ممکن وآسان ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔"فاتقوا اللہ مااستطعتم"حسب استطاعت اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اللہ تعالی کافرمان ہے"لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا" ۔۔۔"اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا"
    ٭افضل عمل یہ ہے کہ کرسی پر بیٹھ کرنماز ادا کرنے والا امام کے بالکل پیچھے کھڑا نہ ہو تاکہ اگر باوقت ضرورت امام کی نیابت میں امامت کروانا پڑے تو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔اور کرسی پر بیٹھنے والا شخص دروس و محاضرات کے موقع پر امام وسامعین کے درمیان حائل بھی نہ ہو۔
    ٭بہتر یہ ہےکہ ہمیشہ چھوٹی کرسی ہی استعمال کی جائے جو صرف ضرورت کو پورا کرے اور صف بندی میں بھی سہولت رہے۔
    دوسری صورت:
    جوشخص قیام اور رکوع تو کرسکتا ہو لیکن سجدہ کی طاقت نہ رکھتا ہو،تو وہ معمول کے مطابق نماز ادا کرےمگر سجدے کے وقت کرسی پر بیٹھ جائےاور بہ قدر طاقت سجدہ کرے۔
    تیسری صورت:
    اگر کوئی شخص قیام کی طاقت تو رکھتا ہو مگر رکوع اور سجود کی ہمت نہ پاتاہو تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے لیکن رکوع اور سجود کے وقت کرسی پر بیٹھ جائے اور سجدوں میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکاؤ ہو۔
    چوتھی صورت:
    جو شخص رکوع و سجود کا متحمل تو ہو لیکن قیام میں اسے مشکل پیش آتی ہوتووہ بیٹھ کرنماز ادا کرے،رکوع کرسی کے بغیر اور سجدہ زمین پر کرے۔ اسے چاہئے کہ حسب ضرورت ہی رخصت سے فائدہ اٹھائے۔اور بغیر عذر کے رخصت پر عمل نہ کرے۔رخصت کو ضروت تک محدود رکھے اور بلاوجہ رخصتوں پر عمل نہ کرے۔
    پانچویں صورت:
    اگر کوئی شخص قیام اور رکوع میں دقت محسوس کرے لیکن سجدہ بآسانی بجا لا سکتاہو،وہ تمام نماز کرسی پر بیٹھ کرادا کرے لیکن سجدہ زمین پر کرے۔
    یاد رہے کہ یہ تمام احکام فرض نماز کے متعلق ہیں،نفل نماز کے متعلق وسعت رکھی گئی ہے۔کہ بندہ جیسے آسانی محسوس کرے نماز ادا کرلے،کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے نفل نماز سواری پر بھی ادا کی ہے۔حدیث نبوی ہے"من صلی قاعدا فلہ نصف اجر القائم"۔۔۔"بیٹھ کر نماز ادا کرنے والےکےلئے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے والے کی نسبت آدھا اجر ہے"
    چھٹی صورت:
    اگر کوئی شخص قیام ،رکوع اورسجود کی استطاعت تو رکھتا ہے مگر دیگر نمازیوں کی طرح تشہد میں نہیں بیٹھ سکتا تو وہ تشہد کے وقت کرسی پر بیٹھ جائے۔۔
    ساتویں صورت:
    اصل صورت تو یہ ہی ہے کہ مریض آدمی زمین پر بیٹھ کر نماز اداکرےلیکن کرسی پر نماز ادا کرنا بھی جائز ہے۔
    نماز میں کرسی کہاں رکھی جائے:
    1: اگر کرسی درمیان صف ہے تو اس کے پچھلے پائے صف کے برابر رکھے جائیں،اور خود بندہ صف سے متقدم ہو تاکہ پچھلے نمازیوں کی صف بندی میں دقت نہ ہو۔
    2: اگر کرسی صف کے آخر میں ہے جہاں پیچھے مزید کوئی صف نہ ہو تو اگلے پائے صف کے برابر رکھے جائیں اور نمازی صف میں ہی کھڑا ہو،صف سے متقدم نہ ہو۔
    3: جو شخص کرسی پر نماز ادا کرے اس کےلئے جائز نہیں کہ وہ رکوع اور سجود کے وقت تو کرسی کو ہٹا دے اور قیام کی حالت میں پھر اس کو واپس اسی جگہ پر رکھ دے یا اس کے برعکس کرے۔یہ ایک زائد عمل ہے جس کی کوئی ضروت نہیں،نیز کرسی پر بیٹھتے وقت اس کا اچھی طرح جائزہ لینا چاہے کہ آٰیا وہ بیٹھنے کے قابل ہے بھی یا نہیں۔
    کیوں کہ ایک محدود مدت کے بعداشیاء ناکارہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں،اور بعض اوقات جسیم آدمی کے بیٹھنے کی وجہ سےاسکے پائے ٹوٹ جاتےہیں۔جس کی وجہ سے خود اس آدمی اور اس کے اردگرد نمازیوں کو تکلیف پہچنتی ہے۔بعض مخیر حضرات مفاد عامہ کےلئے مسجد میں کرسیاں رکھوا دیتےہیں تو کسی شخص کےلئے جائز نہیں کہ ان میں سے کسی ایک کو اپنے لئے خاص کرے۔بلکہ جب مسجد میں آئے تو جو کرسی خالی اور اضافی ہو اس پر نماز ادا کرے۔ایسے ہی اگر کسی شخص نے اپنےلئے کوئی کرسی خرید رکھی ہے تو کسی دوسرے شخص کےلئے جائز نہیں ہے کہ وہ صاحب کرسی کی اجازت کے بغیر اسے استعمال کرے۔
    (واللہ اعلم)
    کرسی پر نماز پڑھتے وقت قابل توجہ امور
    :
    ٭یہ بات ذہن نشین رہے کہ کرسی پر نماز اد اکرنے سے خشوع و خضوع میں کمی واقع ہوتی ہے۔کیوں کہ اس حالت میں نمازی ارکان صلوٰۃ کو ان کی مشروع کیفیت میں ادا نہیں کر رہا ہوتا۔اسلئے ضروری ہے کہ اس رخصت سے صرف باوقت ضرورت ہی فائدہ اٹھایا جائے۔دل لگی اور حضور قلب کے ساتھ نماز کی طرف متوجہ رہا جائےاور غفلت کو حتی المقدور قریب نہ پھٹکنے دیا جائے۔
    ٭کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے اکثر لوگ مریض ہوتے ہیں،ہم اپنے لئے اور ان کےلئے اللہ سے دنیا کی عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کا بہت جلد مسجد میں آنا مناسب نہیں خصوصاً جمعہ کےدن۔کیونکہ میں نے اکثر مشاہدہ کیا ہے کہ ایسے لوگ دوران خطبہ نیند کے خراٹے لے رہے ہوتےہیں۔مجھے بعض قابل اعتماد لوگوں نے ایسے واقعات بیان کئے ہیں کہ ایک آدمی بہت جلد مسجد میں آیا اور سو گیا۔جب مسجد کے کسی ذمہ دار نے ان کو جگایا اور کہا کہ نماز ہو چکی ہے اور سب لوگ مسجد سے جا چکےہیں تو انہوں نے کہا کہ میں تو نماز کے انتظار میں ہوں۔انہیں بتایا گیا کہ نماز تو بہت پہلے کی ہو چکی ہے لہذا انکی نماز جمعہ فوت ہو گئی ہے۔
    ٭بعض لوگ جب کسی ایسے کھڑے آدمی کو نماز ادا کرتا دیکھتے ہیں جس کے پیچھے کرسی موجود ہوتو وہ کرسی کو بے مقصد خیال کر کے اس کو وہاں سے ہٹا دیتےہیں۔تو نمازی آدمی اس گمان کے ساتھ کہ رکوع اور سجود میں بیٹھنےلگتا ہے کہ کرسی پیچھے ہی موجود ہے گر جاتاہےاور گرنے کی وجہ سے بعض اوقات اس کا مرض بھی بڑھ جاتاہے۔اس طرح سے ایک تو وہ اپنی نماز توڑ دیتاہےاور دوسرا وہ ناراض ہو کر کرسی ہٹانے والے شخص کو برا بھلا بھی کہتا۔
    مسئلہ:اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ لوگ میز نما چیز کرسی کے آگے رکھ لیتے ہیں،یہ عمل صحیح نہیں ہےسراسر تکلیف ہے جسکا ہمیں حکم نہیں دیا گیاجب کہ نماز میں آدمی سے بغیر کسی تکلف کے حسب استطاعت اور حسب توفیق تقویٰ مطلوب ہے،تقویٰ کا حصول ہی نماز کا اصل مقصد ہے اور یہ ہی اکثر علما کا موقف ہے۔
    مسئلہ:ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے بعض بھائی سجدے کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو ہوا میں بچھا دیتےہیں اور پھر ان کے برابر سجدہ کرتے ہیں۔یہ درست عمل نہیں اور نہ ہی اس کے متعلق کوئی صحیح روایت موجود ہے۔(واللہ اعلم)
    تحریر: الشیخ فہد بن عبد الرحمن الشویب
    مترجم:جناب عبدالعظیم جواد۔
    بشکریہ ہفت روزہ اہلحدیث
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں