1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز تراویح میں وتر کا حکم

'نوافل وسنن' میں موضوعات آغاز کردہ از فاطمہ بتول, ‏مئی 31، 2016۔

  1. ‏مئی 31، 2016 #1
    فاطمہ بتول

    فاطمہ بتول مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2016
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    کسی نے یہ سوال پوچھا ہے!
    "بھائی جس مسجد حفظ کرنے جاتے ۔۔۔وہاں ان کے head نے بتایا ۔۔۔۔کہ نماز تراویح 11 رکعت پڑھنا مسنون ہے ۔۔۔۔ اب انہوں نے کہا اگر آپ ایک وتر پڑھنا چاہتے 10 رکعت پہلے پڑھیں 2'2 کر کے ۔۔۔۔۔پھر ایک وتر ۔۔۔۔۔اگر آپ 3 وتر پڑھنا چاہتے ۔۔تو 8 رکعت پہلے پڑھیں گی ۔۔۔۔اگر 5 وتر پڑھنا چاہتے ۔۔۔تو 6 رکعت پہلے پڑھیں گے ۔۔۔اگر 9، وتر پڑھنا چاہتے تو 2 رکعت پہلے ادا کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب دیکھیں ھم رمضان میں جو تراویح پڑھتے ۔۔۔۔8 رکعت پڑھتے ۔۔۔۔پھر 3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہمارا دل کرے وتر زیادہ پڑھیں ۔۔۔۔تو کیا ھم پہلی رکعت کم کریں گے ؟؟۔۔۔۔۔؟؟"
    @محمد عامر یونس @اسحاق سلفی
    جزاکما اللہ خیر
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 01، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    شیخ محترم @خضر حیات بھائی
     
  3. ‏جون 01، 2016 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    ۔
     
  4. ‏جون 01، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ۔۔۔۔۔
     
  5. ‏جون 01، 2016 #5
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    To complete hat trick​
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ابتسامہ
     
  6. ‏جون 02، 2016 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نماز وتر كى وارد شدہ كيفيات :

    نماز وتر كى ادائيگى ميں افضل كيفيت كيا ہے ؟

    Published Date: 2010-03-07

    الحمد للہ :

    نماز وتر اللہ تعالى كے قرب كے ليے سب سے افضل اور عظيم عبادات ميں شامل ہوتى ہے، حتى كہ بعض علماء كرام ـ يعنى احناف ـ تو اسے واجبات ميں شمار كرتے ہيں، ليكن صحيح يہى ہے كہ يہ سنت مؤكدہ ميں شامل ہوتى ہے جس كى مسلمان شخص كو ضرور محافظت كرنى چاہيے، اور اسے ترك نہيں كرنا چاہيے.

    امام احمد رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    " نماز وتر چھوڑنے والا شخص برا آدمى ہے، اس كى گواہى قبول نہيں كرنى چاہيے"

    جو كہ نماز وتر كى ادائيگى كى تاكيد پر دلالت كرتى ہے.

    نماز وتر كى ادائيگى كى كيفيات كا خلاصہ ہم مندرجہ ذيل نقاط ميں بيان كر سكتے ہيں:

    نماز وتر كى ادائيگى كا وقت:

    اس كا وقت نماز عشاء كى ادائيگى سے شروع ہوتا، يعنى جب انسان نماز عشاء ادا كر لے چاہے وہ مغرب اور عشاء كو جمع تقديم كى شكل ميں ادا كرے تو عشاء كى نماز ادا كرنے سے ليكر طلوع فجر تك نماز وتر كا وقت رہے گا.

    كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " يقينا اللہ تعالى نے تمہيں ايك نماز زيادہ دى ہے اور وہ نماز وتر ہے جو اللہ تعالى نے تمہارے ليے عشاء اور طلوع فجر كے درميان بنائى ہے"

    سنن ترمذى حديث نمبر ( 425 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے صحيح ترمذى ميں صحيح كہا ہے.

    اور كيا نماز وتر كو اول وقت ميں ادا كرنا افضل ہے يا كہ تاخير كے ساتھ ادا كرنا افضل ہے ؟

    سنت نبويہ اس پر دلالت كرتى ہے كہ جو شخص رات كے آخر ميں بيدار ہونے كا طمع ركھتا ہو اس كے ليے نماز وتر ميں تاخير كرنا افضل ہے، كيونكہ رات كے آخرى حصہ ميں نماز پڑھنى افضل ہے، اور اس ميں فرشتے حاضر ہو تے ہيں، اور جسے خدشہ ہو كہ وہ رات كے آخر ميں بيدار نہيں ہو سكتا تو اس كے ليے سونے سے قبل نماز وتر ادا كرنا افضل ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے.

    جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جسے خدشہ ہو كہ وہ رات كے آخر ميں بيدار نہيں ہو سكے گا تو وہ رات كے اول حصہ ميں وتر ادا كر لے، اور جسے يہ طمع ہو كہ وہ رات كے آخرى حصہ ميں بيدار ہو گا تو وہ وتر رات كےآخرى حصہ ميں ادا كرے، كيونكہ رات كے آخرى حصہ ميں ادا كردہ نماز مشھودۃ اور يہ افضل ہے"

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 755 ).

    امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    اور يہى صحيح ہے، اور باقى مطلق احاديث كو اس صحيح اورصريح افضليت پر محمول كيا جائے گا، ان ميں يہ حديث بھى ہے:

    " ميرى دلى دوست نے مجھے وصيت كى كہ ميں وتر ادا كر سويا كروں"

    يہ اس شخص پر محمول ہو گى جو بيدار نہيں ہو سكتا. اھـ

    ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 3 / 277 ).

    وتر ميں ركعات كى تعداد:

    كم از كم وتر ايك ركعت ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    "
    رات كے آخر ميں ايك ركعت وتر ہے "

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 752 ).

    اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " رات كى نماز دو دو ہے، لہذا جب تم ميں سے كسى ايك كو صبح ہونے كا خدشہ ہو تو وہ ايك ركعت ادا كر لے جو اس كى پہلى ادا كردہ نماز كو وتر كر دے گى "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 911 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 749 )

    لہذا جب انسان ايك ركعت ادا كرنے پر ہى اكتفا كرے تو اس نے سنت پر عمل كر ليا...

    اور اس كے ليے تين اور پانچ اور سات اور نو ركعت وتر بھى ادا كرنے جائز ہيں.

    اگر وہ تين وتر ادا كرے تو اس كے ليے دو طريقوں سے تين وتر ادا كرنے مشروع ہيں:

    پہلا طريقہ:

    وہ تين ركعت ايك ہى تشھد كے ساتھ ادا كرے. اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ميں پائى جاتى ہے:

    عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم وتر كى دو ركعتوں ميں سلام نہيں پھيرتے تھے"

    اور ايك روايت كے الفاظ يہ ہيں:

    " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تين وتر ادا كرتے تو اس كى آخر كے علاوہ نہيں بيٹھتے تھے"

    سنن نسائى ( 3 / 234 ) سنن بيھقى ( 3 / 31 ) امام نووى رحمہ اللہ تعالى المجموع ميں لكھتےہيں: امام نسائى نے حسن سند كے ساتھ اور بيھقى نے صحيح سند كے ساتھ روايت كيا ہے. اھـ

    ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 7 ).

    دوسرا طريقہ:

    وہ دو ركعت ادا كر كے سلام پھير دے اور پھر ايك ركعت واتر ادا كرے اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

    ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما دو ركعت اور اپنے وتر كے درميان سلام پھيرتے تھے، اور انہوں نے بتايا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايسا ہى كيا كرتے تھے"

    رواہ ابن حبان حديث نمبر ( 2435 ) ابن حجر رحمہ اللہ تعالى فتح البارى ( 2 / 482 ) ميں كہتے ہيں اس كى سند قوى ہے. اھـ

    ليكن اگر وہ پانچ يا سات وتر اكٹھے ادا كرے تو صرف اس كے آخر ميں ايك ہى تشھد بيٹھے اور سلام پھير دے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

    عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم رات كو گيارہ ركعت نماز ادا كرتے اس ميں پانچ ركعت وتر ادا كرتے اور ان ميں آخرى ركعت كے علاوہ كہيں نہ بيٹھتے"

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 737 ).

    اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم پانچ اور سات وتر ادا كرتے اور ان كے درميان سلام اور كلام كے ساتھ عليدگى نہيں كرتے تھے"

    مسند احمد ( 6 / 290 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 1714 ) نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں اس كى سند جيد ہے.

    ديكھيں: الفتح الربانى ( 2 / 297 ) اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

    اور جب اكٹھى نو ركعت وتر ادا كرنى ہوں تو تو آٹھويں ركعت ميں تشھد بيٹھ كر پھر نويں ركعت كے ليے كھڑا ہو اور سلام نہ پھيرے اور نويں ركعت ميں تشھد بيٹھ كر سلام پھيرے گا، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

    عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

    " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نو ركعات ادا كرتے اور ان ميں آٹھويں ركعت ميں بيٹھ كر اللہ تعالى كا ذكر اور اس كى حمد بيان كرتے اور دعاء كرتے اور سلام پھيرے بغير اٹھ جاتے پھر اٹھ كر نويں ركعت ادا كر كے بيٹھتے اور اللہ تعالى كا ذكر اور اس كى حمد بيان كر كے دعاء كرتے اور پھر ہميں سنا كر سلام پھيرتے"

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 746 ).

    اور اگر وہ گيارہ ركعت ادا كرے تو پھر ہر دو ركعت ميں سلام پھيرے اور آخر ميں ايك وتر ادا كرے.


    وتر ميں كم از كم اور اس ميں قرآت كيا ہو گى:

    وتر ميں كم از كم كمال يہ ہے كہ دو ركعت ادا كر كے سلام پھيرى جائے اور پھر ايك ركعت ادا كر كے سلام پھيرے، اور تينوں كوايك سلام اور ايك تشھد كے ساتھ ادا كرنا بھى جائز ہے، اس ميں دو تشھد نہ كرے جيسا كہ بيان ہو چكا ہے.

    اور پہلى ركعت ميں سبح اسم ربك الاعلى پورى سورۃ پڑھے، اور دوسرى ركعت ميں سورۃ الكافرون اور تيسرى ركعت ميں سورۃ الاخلاص پڑھے.

    ابى بن كعب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم وتر ميں سبح اسم ربك الاعلى اور قل يا ايھالكافرون اور قل ہو اللہ احد پڑھا كرتے تھے"

    سنن نسائى حديث نمبر ( 1729 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

    نماز وتر كى مندرجہ بالا سب صورتيں اور كيفيات سنت ميں وارد ہيں اور اكمل يہ ہے كہ مسلمان شخص ايك ہى كيفيت ميں نماز وتر ادا نہ كرتا رہے بلكہ اسے كبھى ايك اور كبھى دوسرى كيفيت ميں نماز وتر ادا كرنى چاہيے تا كہ وہ سنت كے سب طريقوں پر عمل كر سكے.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال وجواب

    https://islamqa.info/ur/46544
     
  7. ‏جون 02، 2016 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    كيا نو ركعات وتر دو تشھد اور ايك سلام كے ساتھ ادا كرنے جائز ہيں؟

    مسجد ميں جماعت كے ساتھ اكٹھى نو ركعت جس كى آٹھويں ركعت ميں تشھد پہلى اور نويں ميں دوسرى تشھد كے بعد سلام پھير كر ادا كرنے كا حكم كيا ہے، كيونكہ بعض اسے بدعت قرار ديتے ہيں ؟

    گزارش كے ہے حكم بادليل اور متقدم اور متاخرين علماء كرام كے اقوال كے ساتھ ذكر كريں.

    Published Date: 2006-01-28

    الحمد للہ :

    نماز تراويح ميں افضل تو يہ ہے كہ گيارہ ركعت ادا كى جائيں، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم رمضان المبارك اور باقى دوسرے ايام ميں ادا كيا كرتے تھے، اور يہ دو دو ركعت كے كے ادا كى جائيں، اور پھر تين ركعت ادا كر كے اسے وتر بنا ليا جائے.

    ليكن اگر نماز ان ركعت سے زيادہ يا كم ادا كرے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن افضل اور سنت گيارہ ركعت ہيں، جيسا كہ سوال نمبر ( 9036 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے.

    اور جس صورت كے متعلق سوال ميں دريافت كيا گيا ہے وہ وتر ادا كرنے كا ايك طريقہ ہے. جب عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے وتر كے متعلق دريافت كيا گياتو انہو كا بيان تھا:

    " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نو ركعت اكٹھى ادا كرتے اور صرف آٹھويں ركعت ميں بيٹھتے اور اللہ كا ذكر اور اس كى حمد بيان كرتے اور اللہ سے دعا كرتے اور پھر سلام پھيرے بغير ہى اٹھ كر نويں ركعت ادا كرتے اور پھر بيٹھ كر اللہ كا ذكر اور اس كى حمد بيان كرتےاور اللہ تعالى سے دعا كر كے سلام پھيرتے جو كہ ہميں سنائى ديتى"

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 746 ).

    ابن قيم رحمہ اللہ تعالى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے وتر ادا كرنے كى اقسام بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:

    " پانچويں قسم: نو ركعات: ان ميں سے آٹھويں ركعت كے علاوہ نہيں بيٹھتے تھے، اور آٹھويں ميں بيٹھ كر اللہ كا ذكر اور اس كى تعريف اور اللہ تعالى سے دعا كرنے كے بعد سلام پھيرے بغير ہى اٹھ كھڑے ہوتے اور نويں ركعت ادا كر كے تشھد بيٹھ كر سلام پھيرتے اور اس سلام كے بعد بيٹھ كر دو ركعت ادا كرتے" انتھى

    ديكھيں: زاد المعاد لابن قيم: ( 1 / 317 ).

    اور بعض لوگوں كا خيال ہے كہ يہ احاديث صحيحين كى مندرجہ ذيل حديث كے معارض ہيں جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " رات كى نماز دو دو ( ركعت ) ہے "

    حالانكہ ايسا نہيں؛ كيونكہ يہ حديث تو قيام اليل كے متعلق ہے، اور جو صورت ہم نے ذكر كى اور سوال ميں بھى ہے وہ تو نماز وتر كى ايك صورت ہے.

    ابن قيم رحمہ اللہ تعالى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے وتر كى ادائيگى كى انواع اور صورتوں كو ذكر كرنے كے بعد كہتے ہيں:

    " اور صحاح كى سب احاديث صريح ہيں ان كى معارض نہيں، اسے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے اس قول كے ساتھ رد كيا جاتا ہے:

    " رات كى نماز دو دو ہے" يہ حديث صحيح ہے، ليكن جس نے يہ فرمايا ہے اسى نے ہى نو، سات، پانچ واتر بھى ادا كيے ہيں، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سب سنتيں حق ہيں جو ايك دوسرے كى تصديق كرتى ہيں، لہذا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے رات كى نماز كے متعلق دريافت كرنے والے سائل كو بتايا كہ رات كى نماز " دو دو ہے " اور سائل نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے وتر كے متعلق سوال نہيں كيا تھا.

    اور رہا رمسئلہ سات، پانچ، نو، اور ايك كا تو يہ وتر كى نماز ہے، اور پہلى ادا كردہ ميں سے ايك عليحدہ ركعت يا پھر اكٹھى نو يا پانچ يا سات ركعت كا نام وتر ہے، جيسا كہ اكٹھى تين ركعت كا نام مغرب كى نماز ہے، لہذا اگر گيارہ ركعات كى طرح پانچ، يا سات ركعت دو سلام كے ساتھ منفصل اور عليحدہ ادا كى جائيں تو اكيلى عليحدہ ركعت كا نام وتر ہو گا، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " رات كى نماز دو دو ہے، لہذا جب تم ميں كسى ايك كو صبح ہونے كا خدشہ ہو تو وہ ايك ركعت وتر ادا كرے جو پہلى نماز كو وتر بنا دے گى"

    تو اس طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا قول اور فعل متفق ہو گئے اور ايك دوسرے كى تصديق كى دى" انتہى

    ديكھيں: اعلام الموقعين ( 2 / 424 - 425 ).

    اور سوال نمبر
    ( 52875 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے كہ نماز وتر رات كى نماز ميں شامل ہوتى ہے، ليكن يہ كيفيت ميں مختلف ہے.

    تو اس بنا پر نما تراويح نو ركعت اكٹھى اور ايك سلام كے ساتھ ادا نہيں كى جائيں گى، بلكہ جو اس كيفيت ميں ادا كى جائيگى وہ نماز وتر ہو گى.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال وجواب

    https://islamqa.info/ur/66652
     
  8. ‏جون 02، 2016 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی
     
  9. ‏جون 02، 2016 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عام طور پر عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ 8 رکعتیں نفل ، اور تین وتر ادا کیا کرتے تھے ۔ جیساکہ قیام اللیل سے متعلق حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے پتہ چلتا ہے ۔
    محسوس یہی ہوتا ہے کہ 8 رکعتیں نفل ادا کرنا اللہ کے رسول کی ایک سنت ہے ، جبکہ تین وتر ادا کرنا ، دوسری سنت ہے ، اگر ایک میں کمی بیشی ہوئی تو دوسری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ واللہ اعلم ۔
    بہر صورت میں خود اس مسئلہ میں متذبذب ہوں ، دیگر اہل علم کی رہنمائی کا منتظر ہوں ۔
     
  10. ‏جون 03، 2016 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    فی الحال درج ذیل روایات توجہ سے پڑھیں ،مزید اگلی نشست میں عرض کرتا ہوں ۔

    أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ صَلاَةُ اللَّيْلِ؟ قَالَ: «مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ، فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ»
    جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ایک شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو، دو رکعت اور جب طلوع صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ کر اپنی ساری نماز کو طاق بنا لے۔
    (صحیح بخاری 1137 )

    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى المِنْبَرِ، مَا تَرَى فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ، قَالَ: «مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ صَلَّى وَاحِدَةً، فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى» وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اجْعَلُوا آخِرَ صَلاَتِكُمْ وِتْرًا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِهِ
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (جبکہ) اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے کہ رات کی نماز (خواہ قیام رمضان ہو یا عام قیام اللیل ) کس طرح پڑھنے کے لیے آپ فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو دو رکعت کر کے پڑھ اور جب صبح قریب ہونے لگے تو ایک رکعت پڑھ لے۔ یہ ایک رکعت اس ساری نماز کو طاق بنا دے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ رات کی آخری نماز کو طاق رکھا کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا۔
    (صحیح بخاری 472 )
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: كَيْفَ صَلاَةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ: «مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ، تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ» قَالَ الوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ رَجُلًا نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي المَسْجِدِ

    ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے آنے والے نے پوچھا کہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دو رکعت پھر جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر کی پڑھ لے تاکہ تو نے جو نماز پڑھی ہے اسے یہ رکعت طاق بنا دے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ولید بن کثیر نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ عمری نے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔.(صحیح بخاری 472 )

    اور رمضان المبارک کے قیام میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت
    صحیح ترین اور صریح ہے کہ :
    عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: «مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا»
    ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تراویح یا تہجد کی نماز) رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ آپ گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی چار رکعت پڑھتے، تم ان کے حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، پھر چار رکعت پڑھتے، ان کے بھی حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، آخر میں تین رکعت (وتر) پڑھتے تھے۔ (صحیح بخاری 2013 )
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں