1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز تراویح میں وتر کا حکم

'نوافل وسنن' میں موضوعات آغاز کردہ از فاطمہ بتول, ‏مئی 31، 2016۔

  1. ‏جولائی 20، 2017 #11
    abulwafa80

    abulwafa80 رکن
    جگہ:
    انڈیا یوپی
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2015
    پیغامات:
    49
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    کیا نماز وتر میں ہاتہ اٹہا کر دعا کر سکتے یا بغیر ہاتھ اتہائے دعا کرنا بہتر ہے۔۔۔۔۔
    برائے مہربانی دلیل سے بتائے
     
  2. ‏جولائی 20، 2017 #12
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,365
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    قنوت وتر میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    کیا نماز وتر میں ہاتھ اٹھا کر دعاء قنوت کر سکتے ہیں۔؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    جمہور اہل علم کے نزدیک دعاء قنوت میں ہاتھ اٹھانا ایک مستحب عمل ہے،خواہ وہ قنوت نازلہ ہو یا قنوت وتر ہو ۔کیونکہ نبی کریم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے بئر معونہ پر صحابہ کرام کو شہید کرنے والے کفارکے خلاف ہاتھ اٹھا کر دعا کروائی تھی۔
    سیدنا انس فرماتے ہیں۔
    فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الغداة رفع ‏يديه فدعا عليهم ( رواه أحمد والطبراني في الصغير. )


    میں نے نبی کریم کو نماز صبح میں ان کے خلاف ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
    نیزسیدنا عمر سمیت بعض صحابہ کرام سے بھی یہ ثابت ہے کہ وہ قنوت وتر میں ہاتھ اٹھا کر دعا کیا کرتے تھے۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

    فتوی کمیٹی

    محدث فتوی

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    قنوت وتر میں بھی رفع الیدین کیا جائے کیونکہ یہ قنوت بھی قنوت نازلہ ہی کے جنس میں سے ہے اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ:
    انه رفع يديه حين دعائه في قنوت النوازل(سنن کبریٰ للبہقی)

    ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ میں دعاء کےلئے ہاتھ اٹھائے تھے۔''(امام بیہقیؒ نے اس حدیث کو صحیح سند کے ساتھ بیان فرمایا ہے)
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

    فتاویٰ اسلامیہج1ص451
    محدث فتویٰ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام بخاری ؒ نے جزء رفع الیدین میں نقل کیا کہ :

    عن عبد الرحمن بن الأسود , عن أبيه , عن عبد الله , أنه كان يقرأ في آخر ركعة من الوتر قل هو الله أحد ثم يرفع يديه ويقنت قبل الركعة ))
    قال البخاري: هذه الأحاديث كلها صحيحة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ,

    سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز وتر کی آخری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھتے ، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر رکوع سے قبل قنوت پڑھتے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    عامر بن شبل الجرمی (ثقہ راوی) سے روایت ہے کہ رأيت أبا قلابة يرفع يديه فى قنوته ”میں ابوقلابہ (ثقہ تابعی) کو دیکھا، وہ اپنے قنوت میں ہاتھ اٹھاتے تھے۔ “ [السنن الكبريٰ للبيهقي ج3 ص1 4 و سنده حسن] قنوت نازلہ میں (دعا کی طرح) ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔ [مسند احمد 3؍137ح 12429 و سنده صحيح]
    امام اہل سنت احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ بھی قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کے قائل تھے [ديكهئے مسائل ابي داود ص 66 و مسائل احمد و إسحاق راوية إسحاق بن منصور الكوسج 1؍211ت465، 59 ت 3468]
    والله أعلم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں