1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز فجر کے بعد دعاء والی اس حدیث کی تحقیق

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از صمیم طارق, ‏مئی 22، 2018۔

  1. ‏مئی 22، 2018 #1
    صمیم طارق

    صمیم طارق مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2017
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا۔ سنن ابن ماجہ 925
     
  2. ‏مئی 23، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    قال الامام ابن ماجه :حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ‏‏‏‏‏‏حدثنا شبابة ، ‏‏‏‏‏‏حدثنا شعبة ، ‏‏‏‏‏‏عن موسى بن ابي عائشة ، ‏‏‏‏‏‏عن مولى لام سلمة ، ‏‏‏‏‏‏عن ام سلمة ، ‏‏‏‏‏‏ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول إذا صلى الصبح حين يسلم:‏‏‏‏ "اللهم إني اسالك علما نافعا، ‏‏‏‏‏‏ورزقا طيبا، ‏‏‏‏‏‏وعملا متقبلا". سنن (سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 925 )
    ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا» ”اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں“
    اس حدیث کو امام ابن ماجہؒ کے علاوہ امام احمد ؒ نے مسند میں اور امام حمیدیؒ اور امام ابوداودؒ الطیالسی نے اپنی اپنی مسند میں نقل فرمایا ہے ،
    مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجة میں ہے کہ :
    (قال البوصيري في مصباح الزجاجة : هذا إسناد رجاله ثقات خلا مولى أم سلمة فإنه لم يسم ولم أر أحدا ممن صنف في المبهمات ذكره ولا أدري ما حاله )
    یعنی اس کی اسناد کے تمام راوی سوائے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام کےثقہ ہیں ، اس غلام کا نام نہیں بتایا گیا ، اور مبہمات پر لکھی کسی کتاب میں اس کی تصریح بھی نہیں ملی ، اور اس کے حالات ہمیں نہ مل سکے ،یعنی یہ راوی مجہول))
    فضیلۃالشیخ حافظ زبیر علی زئیؒ انوار الصحیفہ میں لکھتے ہیں :
    انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
    سنده ضعيف
    ¤ مولى أم سلمة مجهول ولم يثبت في رواية صحيحة بأنه عبدالله بن شداد ۔ (انظر مسند الحميدي بتحقيقي:992)

    اس کی سند ضعیف ہے ،کیونکہ اس کا راوی ام سلمہ کا مولی مجہول ہے "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مسند احمد کی تحقیق میں الشيخ شعيب الارناؤط لکھتے ہیں:
    إسناده ضعيف لإبهام مولى أمِّ سلمة، وبقيةُ رجاله ثقات رجال الشيخين. ثم إنه قد اختلف فيه على سفيان، وهو الثوري: فرواه وكيع - كما في هذه الرواية، والرواية (26700) ، وعند النسائي في "الكبرى" (9930) وهو في "عمل اليوم والليلة" (102) - عن سفيان، عن موسى بن أبي عائشة، بهذا الإسناد.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
    یعنی اس کی اسناد ضعیف ہے کیونکہ اس میں مولی ام سلمہ مبھم ہے ،جبکہ باقی راوی ثقہ ہیں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مسند ابوداود الطیالسی کی تحقیق و تعلیق میں
    شیخ محمد بن عبدالمحسن الترکی بھی اس مجہول کے سبب اسے ضعیف لکھتے ہیں :
    إسناده ضعيف ؛ لجهالة مولى أم سلمة. وأخرجه ابن أبي شيبة ۲۳۹/ ۱۰ ، وأحمد (۲۹۹44، ۲۹۷۷۶)، وعبد بن حميد (۱۰۳۳)، وابن ماجه (915)، وأبو يعلى ( ۱۹۳۰، ۱۹۰۰)، والطبرانی ۳۰۰ / ۲۳ (۹۸۹) ، وفي الدعاء (۹۷۱)، والبيهقي في الشعب (۱۷۸۲)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــ
    تاہم شیخ ناصر الدین الالبانیؒ صحیح سنن ابن ماجہ میں اسے صحیح کہتے ہیں ؛

    اور امام ابن حجر عسقلانیؒ نتائج الافکار میں فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد حسن درجہ کی ہے :​
    هذا حديث حسن، أخرجه أحمد عن روح بن عبادة ومحمد بن جعفر كلاهما عن شعبة.
    ــــــــــــــــــــــــــــــــ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں