1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز ميں امام سے سبقت لے جانا

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 23، 2016۔

  1. ‏فروری 23، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10259776_1735196410029049_7547882862761066973_n.jpg

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    نماز ميں امام سے سبقت لے جانا

    الحمد للہ:

    ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " امام اقتدا اور پيروى كے ليے بنايا گيا ہے، چنانچہ جب وہ تكبير كہے تو تم تكبير كہو، اور اس كے تكبير كہنے سے قبل تكبير مت كہو، اور جب ركوع كرے تو تم ركوع كرو، اور تم اس كے ركوع كرنے سے قبل ركوع مت كرو، اورجب وہ سمع اللہ لمن حمدہ كہے تو تم اللہم ربنا و لك الحمد كہو، اور جب وہ سجدہ كرے تو تم سجدہ كرو، اس سے قبل سجدہ مت كرو، اور جب وہ كھڑے ہو كر نماز ادا كرے تو تم بھى كھڑے ہو كر نماز ادا كرو، اور جب وہ بيٹھ كر نماز ادا كرے تو تم سب بيٹھ كر نماز ادا كرو"

    اسے ابو داود نے روايت كيا ہے، اور يہ الفاظ ابو داود كے ہيں، اس كى اصل صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں موجود ہے.

    اس حديث سے امام كى متابعت اور پيروى كرنے كا وجوب نكلتا ہے، اور يہ كہ نماز كے سارے اعمال اور حركات و اقوال ميں امام قدوہ ہے، اس ليے اس كى مخالفت كرنا جائز نہيں، اور افضل يہ ہے كہ مقتدى امام كے عمل كے بعد عمل كرے، تو اس طرح مقتدى كا عمل امام كے بعد ہو گا جس كى بنا پر ايك ركن سے دوسرے ركن ميں جانے ميں امام سے مختلف نہيں ہو گا، اس ليے كہ حديث ميں امام اور مقتدى كے اعمال ميں فاء كے ساتھ عطف ہے جو ترتيب اور تعقيب پر دلالت كرتا ہے.

    اسى طرح حديث سے يہ بھى نكلتا ہے كہ امام سے سبقت لے جانا حرام ہے اور اگر عمدا اور جان بوجھ كر ايسا كيا جائے تو نماز باطل ہو جائيگى، اور امام سے پيچھے رہنا بھى امام سے سبقت كرنے جيسے ہى جائز نہيں.

    اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا:

    " يقينا امام تو اقتدا اور پيروى كے ليے بنايا گيا ہے "

    ائتمام اقتدا اور پيروى كو كہتے ہيں، اور پيروى اور متابعت يہ ہے كہ پيروى كرنے والا نہ تو موافقت كرتا ہے اور نہ ہى اس سے سبقت لے جاتا اور آگے بڑھتا ہے، بلكہ اس كے بعد اور پيچھے عمل كرتا ہے.

    واللہ تعالى اعلم.

    ماخوذ از كتاب: توضيح الاحكام من بلوغ المرام تاليف عبد اللہ بن عبد الرحمن البسام ( 144 ).
     
  2. ‏فروری 23، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    مقتدى كى نماز ميں امام كے ساتھ حالتيں

    الحمد للہ:

    شيخ محمد ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى الشرح الممتع ميں كہتے ہيں:

    مقتدى كى امام كے ساتھ چار حالتيں ہيں:

    1 - امام سے آگے نكل جانا.

    2 - امام سے پيچھے رہ جانا.

    3 - امام كى موافقت كرنا.

    4 - امام كى متابعت كرنا.


    پہلى حالت:

    امام سے آگے نكل جانا:

    نماز كے كسى ركن ميں مقتدى امام سے آگے نكل جائے مثلا امام سے قبل سجدہ كر لے، يا پھر امام سے قبل سجدہ سے اٹھ جائے، يا ركوع ميں پہلے چلا جائے، يا پہلے ركوع سے اٹھ جائے، يہ حرام ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل فرمان نبى صلى اللہ عليہ وسلم ہے:

    " تم ركوع اس وقت مت كرو جب تك وہ ركوع نہ كرے، اور سجدہ اس وقت نہ كرو جب تك وہ سجدہ نہ كرے "

    اور نھى ميں اصل حرمت ہے، بلكہ اگر كوئى كہنے والا يہ كہے: يہ كبيرہ گناہ ہے، تو كوئى بعيد نہيں؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " كيا امام سے پہلے سر اٹھانے والا اس سے نہيں ڈرتا كہ كہيں اللہ تعالى اس كا سر گدھے كے سر ميں تبديل كر دے، يا اس كى صورت گدھے كى صورت ميں تبديل كر دے "

    يہ وعيد ہے، اور وعيد كبيرہ گناہ ہونے كى علامت ہے.

    امام سے سبقت لے جانے والے شخص كى نماز كا حكم:

    جب مقتدى ياد اور علم كى حالت ميں امام سے آگے بڑھ جائے تو اس كى نماز باطل ہے، اور اگر جاہل ہو يا بھول جائے تو اس كى نماز صحيح ہے، ليكن اگر امام كو پالينے سے قبل اس كا عذر زائل ہو جائے تو اس پر واپس پلٹنا لازم ہے تا كہ جس ميں اس نے امام سے سبقت كى اسے دوبارہ كر لے، اور اگر ياد ہوتے ہوئے علم ركھتے ہوئے بھى اسے نہ كرے تو اس كى نماز باطل ہے، وگرنہ نہيں.

    دوسرى حالت:

    امام سے پيچھے رہنا:

    امام سے پيچھے رہنے كى دو قسميں ہيں:

    1 - كسى عذر كى بنا پر پيچھے رہنا.

    2 - بغير كسى عذر كے پيچھے رہنا.


    پہلى قسم:

    كسى عذر كى بنا پر ہو تو وہ جس ميں پيچھے رہا ہے اسے ادا كرے، اور اس ميں امام كى متابعت كرے اوراس پر كوئى حرج نہيں، حتى كہ اگر پورا ركن يا دو ركن ہوں، اگر كوئى شخص بھول گيا اور غافل رہا، يا پھر امام كو سنا ہى نہيں اور امام اس سے ايك يا دو ركن آگے بڑھ گيا، تو جس ميں وہ پيچھے رہا اسے ادا كرے اور امام كى متابعت، ليكن اگر امام وہاں پہنچ جائے جہاں وہ ہے تو پھر وہ اسے ادا نہ كرے بلكہ امام كے ساتھ رہے، اور امام كى دو ركعتوں امام كى ايك وہ ركعت جس سے وہ پيچھے رہا اور دوسرى وہ جس ميں امام پہنچا ہوا ہے ايك ركعت صحيح ہو گى، اور وہ اپنى جگہ ہى ہے، اس كى مثال درج ذيل ہے:

    ايك شخص امام كے ساتھ نماز ادا كر رہا ہے، اور امام نے ركوع كيا اور ركوع اٹھ كر سجدہ بھى كر ليا اور پھر دوسرا سجدہ بھى كيا، اور سجدہ سے اٹھ كر ركعت ميں كھڑا ہو گيا، ليكن مقتدى نے مثلا بجلى چلى جانے كے باعث تكبير دوسرى ركعت ميں سنى، اور فرض كريں كہ يہ نماز جمعہ كى نماز تھى اور وہ امام كى سورۃ فاتحہ سن رہا تھا، پھر بجلى منقطع ہو گئى اور امام نے پہلى ركعت مكمل كر لى، اور دوسرى كے ليے كھڑا ہو گيا اور مقتدى نے گمان كيا كہ اس نے پہلى ركعت ميں ركوع نہيں كيا، اور مقتدى نے سنا كہ امام سورۃ الغاشيۃ كى تلاوت كر رہا ہے " هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ " سورۃ الغاشيۃ ( 1 ).

    تو ہم يہ كہينگے كہ:

    آپ امام كے ساتھ ہى رہيں، امام كى يہ دوسرى ركعت آپ كے ليے باقى مانندہ پہلى ركعت ہو گى، اور جب امام سلام پھيرے تو آپ دوسرى ركعت كى قضاء كر ليں.

    اہل علم كا كہنا ہے كہ:

    اس سے مقتدى كے ليے امام كى دونوں ركعتوں ميں سے وہ ركعت ہو گى جو وہ نہيں پا سكا، كيونكہ اس نے پہلى اور دوسرى ميں امام كى متابعت كى ہے.

    اور اگر اسے امام كا اس كى جگہ پر پہنچنے سے قبل علم ہو جائے تو وہ قضاء كے ساتھ امام كى متابعت كرے گا، اس كى مثال يہ ہے كہ:

    ايك شخص امام كے ساتھ كھڑا تھا تو امام نے ركوع كيا اور مقتدى نے ركوع كى تكبير نہ سنى، اور جب امام نے سمع اللہ لمن حمدہ كہا تو مقتدى نے سن ليا، تو ہم كہينگے:

    ركوع كرو اور ركوع سے اٹھ كر امام كى متابعت كرلو، تو آپ ركعت پالينگے؛ كيونكہ يہ پيچھے رہنا عذر كى بنا پر تھا.

    دوسرى قسم:

    عذر كے بغير پيچھے رہنا:

    يا تو ركن ميں پيچھے رہے يا پھر ركن كے ساتھ پيچھے رہے.

    ركن ميں پيچھے رہنے كا معنى يہ ہے كہ: وہ امام كى متابعت ميں پيچھے رہے ليكن وہ اس ركن ميں ہى امام كے ساتھ مل جائے مثلا: امام ركوع ميں چلا جائے اور آپ كى سورۃ كى ايك يا دو آيتيں باقى رہتى ہوں، اور آپ اسے مكمل كرنے لگيں، ليكن آپ نے امام كو ركوع ہى كى حالت ميں پاليا اور اسے كے ساتھ ركوع كر ليں، تو يہاں ركعت صحيح ہے.

    ليكن يہ فعل سنت كے مخالف ہے؛ كيونكہ مشروع يہ ہے كہ جب امام ركوع ميں چلا جائے تو آپ ركوع شروع كرديں، اور اس سے پيچھے نہ رہيں؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " جب وہ ركوع كرے تو تم ركوع كرو "

    اور ركن كے ساتھ پيچھے رہنے كا معنى يہ ہے كہ: امام آپ سے ايك ركن سبقت لے جائے، يعنى امام آپ كے ركوع كرنے سے قبل ركوع كر كے ركوع سے اٹھ جائے، تو فقھاء رحمہم اللہ تعالى كہتے ہيں:

    جب آپ ركوع كے ساتھ پيچھے رہ جائيں اور اس كے ركوع سے اٹھ جانے تك ركوع نہ كر سكيں تو آپ كى نماز باطل ہے، جس طرح آپ ركوع كرنے ميں امام سے سبقت لے جائيں، اور اگر آپ سجدہ ميں پيچھے رہ جائيں تو فقھاء كے قول كے مطابق آپ كى نماز صحيح ہے؛ كيونكہ يہ ركوع كے علاوہ كسى اور ركن ميں پيچھے رہنا ہے.

    ليكن راجح قول يہ ہے كہ اگر بغير كسى عذر كے ركن سے پيچھے رہ جائيں تواس كى نماز باطل ہے، چاہے وہ ركن ركوع ہو يا ركوع كے علاوہ كوئى اور ركن اس بنا پر؛ اگر امام نے پہلے سجدہ سے سر اٹھا ليا، اور مقتدى سجدہ ميں دعائيں كرتا رہا حتى كہ امام نے دوسرا سجدہ كر ليا تو اس مقتدى كى نماز باطل ہے؛ كيونكہ وہ ركن كے ساتھ پيچھے رہا ہے، اور جب امام ايك ركن آگے نكل جائے تو پھر متابعت كہاں رہتى ہے ؟

    تيسرى حالت:

    موافقت:

    موافقت يا تو اقوال ميں ہوتى ہے، اور يہ موافقت تكبير تحريمہ اور سلام كے علاوہ كہيں بھى نقصان دہ نہيں.

    تكبير تحريمہ ميں اس ليے كہ اگر آپ نے امام كے تكبير مكمل كہنے سے قبل تكبير كہى تو اصل ميں آپ كى نماز شروع ہى نہيں ہو گى؛ كيونكہ امام كى تكبير تحريمہ كے ختم ہونے كے بعد آپ كا تكبير تحريمہ كہنا ضرورى ہے.

    اور سلام ميں موافقت كے متعلق علماء كرام كہتے ہيں:

    پہلى اور دوسرى سلام امام كے ساتھ پھيرنى مكروہ ہے، ليكن اگر آپ نے امام كى پہلى سلام مكمل ہونے بعد پہلى سلام پھيرى اور دوسرى سلام كے بعد دوسرى سلام تو اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن افضل يہ ہے كہ امام كى دونوں طرف سلام كے بعد سلام پھيرى جائے.

    اور باقى اقوال ميں امام كى موافقت كرنا، يا اس سے پہلے يا بعد ميں كرنا كوئى اثرانداز نہيں ہوتا، فرض كريں اگر آپ سنيں كہ امام تشھد پڑھ رہا ہے، اور آپ اس كى تشھد پڑھنے سے سبقت لے گئے ہيں، تو يہ مضر نہيں كيونكہ تكبير تحريمہ اور سلام كے علاوہ اقوال ميں سبقت لے جانا كوئى موثر نہيں اور نہ ہى نقصان دہ ہے.

    اور اسى طرح اگر آپ اس سے فاتحہ پڑھنے ميں سبقت لے گئے مثلا آپ نے ظہر كى نماز ميں " والا الضالين " پڑھ ليا، اور امام ابھى " إياك نعبد وإياك نستعين " پڑھ رہا ہو، كيونكہ ظہر اور عصر كى نماز ميں امام كے ليے بعض اوقات لوگوں كو سنانا مشروع ہے، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كيا كرتے تھے.

    موافقت كى دوسرى قسم:

    افعال ميں موافت كرنا، اور يہ مكروہ ہے.

    موافقت كى مثال يہ ہے: جب امام ركوع كے ليے " اللہ اكبر " كہے اور وہ ركوع كے ليے جھكا تو آپ اور امام دونوں ايك ہى وقت ميں ركوع كے ليے جھك گئے، تو يہ مكروہ ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہے:

    " جب وہ ركوع كرے تو تم ركوع كرو، اور تم اس وقت تك ركوع ميں نہ جاؤ جب تك وہ ركوع ميں نہ چلا جائے "

    اور جب امام نے سجدہ كے ليے تكبير كہى تو آپ نے سجدہ كيا اور آپ اور امام دونوں برابر زمين پر پہنچ گئے تو يہ بھى مكروہ ہے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع كرتے ہوئے فرمايا:

    " جب تك وہ سجدہ نہ كرے تم سجد مت كرو"

    چوتھى قسم:

    متابعت:

    امام كى متابعت كرنا سنت ہے، اور اس كا معنى يہ ہے كہ: انسان نماز كے افعال ميں امام كے فعل شروع كرنے كے فورا بعد بغير موافقت كے فورا وہ فعل شروع كر دے.

    مثلا جب امام ركوع كرے تو آپ بھى ركوع كريں، چاہے آپ نے مستحب قرآت ( سورۃ فاتحہ كے علاوہ ) مكمل نہ كى ہو اگرچہ ايك آيت باقى رہتى ہو كيونكہ قرآت مكمل كرنے سے پيچھے رہيں گے تو آپ مكمل نہ كريں، اور سجدہ ميں جب امام سجدہ سے سر اٹھائے تو آپ بھى امام كى متابعت كريں، آپ كا امام كى متابعت كرنا سجدہ ميں پڑھ كر دعا كرتے رہنے سے افضل ہے؛ كيونكہ آپ كى نماز امام كے ساتھ مرتبط ہے، اور اس وقت آپ كو امام كى متابعت اور پيروى كا حكم ہے. انتھى بتصرف

    ديكھيں: الشرح الممتع ( 4 / 275 ).

    مقتدى كو چاہيے كہ جب تك امام ركن ميں چلا نہ جائے مقتدى اس وقت تك اس ركن كو شروع نہ كرے، لھذا وہ سجدہ كے ليے اس وقت تك مت جھكے جب تك امام اپنى پيشانى زمين پر نہ ٹكا لے.

    براء بن عازب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سمع اللہ لمن حمدہ كہتے تو ہم ميں سے كوئى بھى سجدہ كے ليے اپنى پيٹھ اس وقت تك نہ جھكاتا جب تك نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سجدہ ميں نہ چلے جاتے، اور پھر ان كے بعد ہم سجدہ ميں جاتے "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 690 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 474 ).

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال وجواب

    http://islamqa.info/ur/33790
     
    Last edited: ‏فروری 23، 2016
  3. ‏دسمبر 21، 2018 #3
    امیر حمزہ

    امیر حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2017
    پیغامات:
    15
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک اثر ملتا ہے قراءت کے بارے میں جس میں ہے کہ فاتحہ پڑھتے ہوئے امام سے سبقت لے جاؤ اس کا کیا جواب ہے؟
    حدثنا محمود قال حدثنا البخاری قال حدثنیه محمد بن عبیداللہ قال حدثنا ابن ابی حازم عن العلاء عن ابیه عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ قال:إذا قرأ الإمام بأم القرآن فاقرا بها واسبقه فانه اذا قال ولا الضالين قالت الملائكة آمين،من وافق ذلك قمن ان ىستجاب لهم
     
  4. ‏دسمبر 22، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    باجماعت نماز میں امام کی "اقتداء "اور متابعت ضروری ہے کیونکہ لفظ امام کا معنی ہی یہی ہے (جو آگے ہو اور دیگر لوگ اس کے پیچھے ) یعنی اس کی اقتداء کی جائے
    صحیحین میں حدیث شریف ہے کہ :

    عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ ۔۔۔۔۔۔
    «إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ، فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ، فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا اجمعون»

    یعنی :ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امام اس لیے مقرر کیا جاتاہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ ،اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
    صحیح بخاری 688
    اور سنن ابی داود میں حدیث وارد ہے :

    عَنْ أَبِي هُرَيْرَة -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: "إِنَّما جُعِلَ الإِمَامُ ليُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كبَّرَ فَكبِّروا، وَلاَ تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكبرِّ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكعُوا، وَلاَ تَرْكعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبنَّا لَكَ الحَمْدُ، وَإذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلاَ تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وإِذَا صلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أجْمَعِيْنَ".
    رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ 603

    یعنی :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے مقرر کیا گیاہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو ،اور جبتک وہ سجدہ میں نہ جائے تم بھی اس وقت سجدہ میں نہ جاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور رکوع میں امام سے سبقت یعنی پہل کرنے سے اللہ تعالی بہت سخت ناراض ہوتا ہے ،پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    عنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ - أَوْ: لاَ يَخْشَى أَحَدُكُمْ - إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ، أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ، أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ ))
    ترجمہ : محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں وہ شخص جو ( رکوع یا سجدہ میں ) امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ پاک اس کا سر گدھے کے سر کی طرح بنا دے یا اس کی صورت کو گدھے کی سی صورت بنا دے۔
    صحيح البخاري 691
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ اور اس موضوع پر دیگر بے شمار احادیث سے امام سے سبقت اور پہل کی ممانعت واضح ہے ،
    تاہم قراءت میں گنجائش ہے ،جزء القراءۃ خلف الامام میں امام بخاری ؒ صحیح اسناد سے بیان کرتے ہیں کہ :

    حدثنا محمود قال: حدثنا البخاري قال: وحدثنيه محمد بن عبيد الله، قال: حدثنا ابن أبي حاتم، عن العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: " إذا قرأ الإمام بأم القرآن فاقرأ بها واسبقه، فإنه إذا قال {ولا الضالين} [الفاتحة: 7] قالت الملائكة: آمين، من وافق ذلك قمن أن يستجاب لهم "
    سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب امام سورۂ فاتحہ پڑھے تو تم بھی پڑھو اور امام سے پہلے ختم کرلو، پس بیشک وہ جب ’’ولا الضالين‘‘ کہتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی تو وہ اس کے لائق ہے کہ اسے قبول کیا جائے۔انتہی

    (جزء القرأۃ،حدیث:۲۸۳،۲۳۷۔مشہور تقلیدی ’’محقق‘‘محمد بن علی النیموی [المتوفیٰ: ۱۳۲۲؁ھ] نے اس اثر کے بارے میں لکھا’’واسنادہ حسن‘‘بحوالہ آثار السنن ج۱ ص۵۸۹ حدیث: ۳۵۸۔مکتبہ مدینہ دیوبند)
    نیز دیکھئے نصرالباری ترجمہ و شرح جزء القراءۃ للبخاری (صفحہ259 )

    https://archive.org/details/Nasr-ul-Baari-Fi-Tahqiq-Juz-Al-Qarata-Lil-Bukhari/page/n260

    ـــــــــــــــــــــــــــ
    پھر سب سے اہم اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ :
    فقہ حنفی کے مطابق حنفی مقلدین نماز فجر کی سنتیں جماعت ہوتے ہوئے پڑھتے ہیں
    اور واضح ہے کہ وہ اپنی سورۃ فاتحہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ،جبکہ امام اپنی قراءت کر رہا ہوتا ہے،
    ایسی صورت میں امام کے پیچھے پیچھے تو ہو ہی نہیں سکتا ،کیونکہ سنتیں پڑھنے والے نے جماعت کا ثواب بھی لوٹنا ہوتا ہے ۔ فتدبر
     
    Last edited: ‏دسمبر 22، 2018
  5. ‏دسمبر 22، 2018 #5
    امیر حمزہ

    امیر حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2017
    پیغامات:
    15
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں