1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں اشارہ کرنا

'سجدہ سہو وشکر وتلاوت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 15، 2012۔

  1. ‏مئی 15، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    قاله كريب عن أم سلمة ـ رضى الله عنها ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏
    یہ کریب نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔


    حدیث نمبر: 1234
    حدثنا قتيبة بن سعيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي حازم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن سهل بن سعد الساعدي ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بلغه أن بني عمرو بن عوف كان بينهم شىء فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلح بينهم في أناس معه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فحبس رسول الله صلى الله عليه وسلم وحانت الصلاة فجاء بلال إلى أبي بكر ـ رضى الله عنه ـ فقال يا أبا بكر إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد حبس وقد حانت الصلاة فهل لك أن تؤم الناس قال نعم إن شئت‏.‏ فأقام بلال وتقدم أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ فكبر للناس وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي في الصفوف حتى قام في الصف،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأخذ الناس في التصفيق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكان أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ لا يلتفت في صلاته،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما أكثر الناس التفت فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأشار إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمره أن يصلي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فرفع أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ يديه فحمد الله ورجع القهقرى وراءه حتى قام في الصف،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى للناس فلما فرغ أقبل على الناس فقال ‏"‏ يا أيها الناس ما لكم حين نابكم شىء في الصلاة أخذتم في التصفيق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إنما التصفيق للنساء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ من نابه شىء في صلاته فليقل سبحان الله‏.‏ فإنه لا يسمعه أحد حين يقول سبحان الله إلا التفت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يا أبا بكر ما منعك أن تصلي للناس حين أشرت إليك ‏"‏‏.‏ فقال أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ ما كان ينبغي لابن أبي قحافة أن يصلي بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏

    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں باہم کوئی جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو آپ چند صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ ملاپ کرانے کے لیے وہاں تشریف لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مشغول ہی تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا۔ اس لیے بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک تشریف نہیں لائے۔ ادھر نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اگر تم چاہو۔ چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر تکبیر (تحریمہ) کہی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگاہ کرنے کے لیے) ہاتھ پر ہاتھ بجانے شروع کر دیئے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف دھیان نہیں دیا کرتے تھے۔ جب لوگوں نے بہت تالیاں ب جائیں تو آپ متوجہ ہوئے اور کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں نماز پڑھاتے رہنے کے لیے کہا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے پاؤں پیچھے کی طرف آ کر صف میں کھڑے ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لوگو! نماز میں ایک امر پیش آیا تو تم لوگ ہاتھ پر ہاتھ کیوں مارنے لگے تھے، یہ دستک دینا تو صرف عورتوں کے لیے ہے۔ جس کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سبحان اللہ کہے کیونکہ جب بھی کوئی سبحان اللہ سنے گا وہ ادھر خیال کرے گا اور اے ابوبکر! میرے اشارے کے باوجود تم لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھاتے رہے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز پڑھائے۔


    حدیث نمبر: 1235
    حدثنا يحيى بن سليمان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثني ابن وهب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا الثوري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن فاطمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أسماء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قالت دخلت على عائشة ـ رضى الله عنها ـ وهي تصلي قائمة والناس قيام فقلت ما شأن الناس فأشارت برأسها إلى السماء‏.‏ فقلت آية‏.‏ فقالت برأسها أى نعم‏.‏

    ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی۔ اس وقت وہ کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں۔ لوگ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی؟ تو انہوں نے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ہے؟ تو انہوں نے اپنے سر کے اشارے سے کہا کہ ہاں۔


    حدیث نمبر: 1236
    حدثنا إسماعيل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثني مالك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنها قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته وهو شاك جالسا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وصلى وراءه قوم قياما فأشار إليهم أن اجلسوا فلما انصرف قال ‏"‏ إنما جعل الإمام ليؤتم به،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا ركع فاركعوا وإذا رفع فارفعوا ‏"‏‏.‏

    ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر ہی میں بیٹھ کر نماز پڑھی لوگوں نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نماز کے بعد فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ۔


    کتاب السہو صحیح بخاری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں