1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں ترک رفع الیدین

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 08، 2017۔

  1. ‏نومبر 25، 2017 #101
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    201
    موصول شکریہ جات:
    22
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    میں نے جو ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ والی روایت پیش کی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کی ہے اس میں "ھکذا کان یصلی"اسی طرح نماز پڑھتےتھے"کے الفاظ ہیں اور "کان" صیغہ ماضی ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کا واقعہ ہے اور اپ نے اس کے رد کے طور پر جو حدیث کے الفاظ پیش کیے ہیں اس میں " يُصَلِّي هَكَذَا" کے الفاظ تو ہیں مگر "کان" ماضی کا صیغہ موجود نہیں ہے اس لیے اپ کا رد الجواب بے معنی ہے تو بھائی اگر مان بھی لیا جائے کہ رفع الیدین میں بتدریج کم یا زیادتی ہوتی رہی مگر ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ والی حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ باقی تمام رفع الیدین"اگر آپ کی منطق مانی جائے"منسوخ ہو گئے ہیں اور دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گواہی یہ ثابت کرتی ہے کہ اب قیامت تک اس حدیث میں کیا گیا رفع الیدین ہی رائج ہے کیونکہ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا ۔
    آخری بات اگر اپ کے پاس اس کے مقابلے پر کوئِی نئی دلیل ہو تو پیش کریں وگرنہ میری طرف سے یہ آخری پوسٹ ہے السلام علیکم۔
     
  2. ‏نومبر 27، 2017 #102
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    بھائی میرے ٹھیک ہے کہ ’’کان‘‘ ماضی کا صیغہ ہے۔ کیا یہ ماضی قریب کا ہے یا ماضی بعید کا؟ پھر اس کی کیا دلیل کہ وہ یہ نہیں بتا رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے بھی نماز پڑھتے تھے۔ کیونکہ نماز میں بہت سے تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان میں سے ہر تبدیلی ماضی ہی ہے۔
    میری توضیح پر دس صحابہ کرام کی مودگی دلیل ہے۔ وجہ یہ کہ نماز روزانہ پانچ وقت کا عمل ہے اور یہ ناممکن ہے کہ اس وقت موجود صحابہ کرام اس آخری عمل سے نابلد ہوں۔ ہاں البتہ کسی ایسے طریقہ سے یقیناً بہت سے صحابہ کرام نابلد ہو سکتے تھے جسے ترک کیا جاچکا تھا۔ یہاں بھی کچھ اسی قسم کا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔
    مزید برآں آپ کے اصول کے مطابق اگر عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عمل کو دیکھا جائے جو صحیح روایت سے ثابت ہے کہ وہ ایسے شخص کو کنکر مارتے تھے جو نماز میں ہر جھکنے اور اٹھنے پر رفع الیدین نہیں کرتا تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس روایت میں بھی ’’کان‘‘ موجود ہے۔ یہ بیان بھی تابعی کا ہے اور آپ کے اصول سے یہ عمل وہ اس تابعی کے وقت بھی کرتے تھے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے بعد بھی۔
    روایت یہ ہے؛
    مسند الحميدي (1 / 515):
    627 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَاقِدٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ: «
    كَانَ إِذَا أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ حَصَبَهُ حَتَّى يَرْفَعَ يَدَيْهِ»
     
  3. ‏نومبر 27، 2017 #103
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    کچھ روایات اس تھریڈ میں پیش کرچکا ہوں جن کی تصحیح محترم البانی رحمہ اللہ سے ثابت کی۔ مگر اس پر عدیل سلفی صاحب اور Difa-e-hadis صاحب نے اعتراض اٹھایا اور انہیں ضعیف قرار دیا یا دینے کی کوشش کی۔
    سوال یہ ہے کہ محترم البانی رحمہ اللہ کی ’’تصحیح‘‘ کیا قابل اعتبار ہے یا کیا کوئی خاص شرائط کے ساتھ ہے؟
    جناب @اسحاق سلفی صاحب اور @اشماریہ صاحب سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر۔
     
  4. ‏جنوری 11، 2018 #104
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    ایک بات واضح ہو چکی کہ اہل حدیث کا عل بہت سی احادیث کے خلاف ہے۔
    اب یا تو احناف کا عمل صحیح سنت پر ہے یا پھر ہر اٹھنے جھکنے والی حدیث سے مشابہت رکھنے والا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں