1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں ترک رفع الیدین

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 08، 2017۔

  1. ‏نومبر 25، 2017 #101
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    میں نے جو ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ والی روایت پیش کی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کی ہے اس میں "ھکذا کان یصلی"اسی طرح نماز پڑھتےتھے"کے الفاظ ہیں اور "کان" صیغہ ماضی ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کا واقعہ ہے اور اپ نے اس کے رد کے طور پر جو حدیث کے الفاظ پیش کیے ہیں اس میں " يُصَلِّي هَكَذَا" کے الفاظ تو ہیں مگر "کان" ماضی کا صیغہ موجود نہیں ہے اس لیے اپ کا رد الجواب بے معنی ہے تو بھائی اگر مان بھی لیا جائے کہ رفع الیدین میں بتدریج کم یا زیادتی ہوتی رہی مگر ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ والی حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ باقی تمام رفع الیدین"اگر آپ کی منطق مانی جائے"منسوخ ہو گئے ہیں اور دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گواہی یہ ثابت کرتی ہے کہ اب قیامت تک اس حدیث میں کیا گیا رفع الیدین ہی رائج ہے کیونکہ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا ۔
    آخری بات اگر اپ کے پاس اس کے مقابلے پر کوئِی نئی دلیل ہو تو پیش کریں وگرنہ میری طرف سے یہ آخری پوسٹ ہے السلام علیکم۔
     
  2. ‏نومبر 27، 2017 #102
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    بھائی میرے ٹھیک ہے کہ ’’کان‘‘ ماضی کا صیغہ ہے۔ کیا یہ ماضی قریب کا ہے یا ماضی بعید کا؟ پھر اس کی کیا دلیل کہ وہ یہ نہیں بتا رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے بھی نماز پڑھتے تھے۔ کیونکہ نماز میں بہت سے تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان میں سے ہر تبدیلی ماضی ہی ہے۔
    میری توضیح پر دس صحابہ کرام کی مودگی دلیل ہے۔ وجہ یہ کہ نماز روزانہ پانچ وقت کا عمل ہے اور یہ ناممکن ہے کہ اس وقت موجود صحابہ کرام اس آخری عمل سے نابلد ہوں۔ ہاں البتہ کسی ایسے طریقہ سے یقیناً بہت سے صحابہ کرام نابلد ہو سکتے تھے جسے ترک کیا جاچکا تھا۔ یہاں بھی کچھ اسی قسم کا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔
    مزید برآں آپ کے اصول کے مطابق اگر عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عمل کو دیکھا جائے جو صحیح روایت سے ثابت ہے کہ وہ ایسے شخص کو کنکر مارتے تھے جو نماز میں ہر جھکنے اور اٹھنے پر رفع الیدین نہیں کرتا تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس روایت میں بھی ’’کان‘‘ موجود ہے۔ یہ بیان بھی تابعی کا ہے اور آپ کے اصول سے یہ عمل وہ اس تابعی کے وقت بھی کرتے تھے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے بعد بھی۔
    روایت یہ ہے؛
    مسند الحميدي (1 / 515):
    627 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَاقِدٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ: «
    كَانَ إِذَا أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ حَصَبَهُ حَتَّى يَرْفَعَ يَدَيْهِ»
     
  3. ‏نومبر 27، 2017 #103
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    کچھ روایات اس تھریڈ میں پیش کرچکا ہوں جن کی تصحیح محترم البانی رحمہ اللہ سے ثابت کی۔ مگر اس پر عدیل سلفی صاحب اور Difa-e-hadis صاحب نے اعتراض اٹھایا اور انہیں ضعیف قرار دیا یا دینے کی کوشش کی۔
    سوال یہ ہے کہ محترم البانی رحمہ اللہ کی ’’تصحیح‘‘ کیا قابل اعتبار ہے یا کیا کوئی خاص شرائط کے ساتھ ہے؟
    جناب @اسحاق سلفی صاحب اور @اشماریہ صاحب سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر۔
     
  4. ‏جنوری 11، 2018 #104
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    ایک بات واضح ہو چکی کہ اہل حدیث کا عل بہت سی احادیث کے خلاف ہے۔
    اب یا تو احناف کا عمل صحیح سنت پر ہے یا پھر ہر اٹھنے جھکنے والی حدیث سے مشابہت رکھنے والا۔
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 24، 2019 #105
    فقير إلى الله

    فقير إلى الله رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 01، 2012
    پیغامات:
    34
    موصول شکریہ جات:
    85
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    اس طرح کی روایات بالمعنی ہوتی ھیں ان کا اصل تمام طرق کو جمع کر کے معلوم کیا جاتا ہے جیسے کہ


    عن مطرف، عن عمران بن حصين، قال: صلى مع علي رضي الله عنه بالبصرة فقال: «ذكرنا هذا الرجل صلاة كنا نصليها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر أنه كان يكبر كلما رفع وكلما وضع»
    (صحيح البخاري)

    عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنه كان «يصلي بهم، فيكبر كلما خفض، ورفع»، فإذا انصرف، قال: إني لأشبهكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم (صحيح البخاري)

    یہاں کلما سے رکوع سے اٹھنا مراد نہیں
     
  6. ‏جنوری 24، 2019 #106
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    باقی احادیث اس حدیث کی وضاحت میں لکھی ہیں۔
    حدثنا هشام بن عمار حدثنا رفدة بن قضاعة الغساني حدثنا الأوزاعي عن عبد الله بن عبيد بن عمير عن أبيه عن جده عمير بن حبيب قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه مع كل تكبيرة في الصلاة المكتوبة.

    اس میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کا ذکر ہے۔
    اس کی وضاحتی احادیث میں بھی ہر جھکنے اور اٹھنے پر رفع الیدین کا ذکر ہے اور یہ سجدوں کے لئے بھی ہے۔
     
  7. ‏جنوری 24، 2019 #107
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    صرف تکبیر تحریمہ میں رفع الیدین
    سنن النسائي:
    عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: «أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً»
    [حكم الألباني] صحيح

    [FONT=Arial, sans-serif]معرفة السنن والآثار:
    قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ: وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ»[/FONT]​
    تکبیر تحریمہ کے علاوہ جگہوں پر رفع الیدین

    دو سجدوں سے اٹھتے ہوئے رفع الیدین کا ثبوت
    سنن أبي داود:
    أَبِي وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ " إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَحَفَ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ وَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ قَالَ: فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ سَجَدَ وَوَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ أَيْضًا رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ "
    [حكم الألباني] : صحيح
    دو سجدوں سے اٹھتے ہوئے رفع الیدین نا کرنا
    صحيح مسلم (1 / 292):
    22 - (390) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ»
    سجدہ کو جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنا
    سنن أبي داود (1 / 197):
    740 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ يَعْنِي السَّعْدِيَّ، قَالَ: صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ «فَكَانَ إِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الْأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ» فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، فَقَالَ لَهُ: وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ فَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ، وَقَالَ أَبِي: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ»
    [حكم الألباني] : صحيح
    ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین
    سنن ابن ماجه:
    عُمَيْرِ بْنِ حَبِيبٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ»
    حكم الألباني: صحيح

    @اسحاق سلفی
     
  8. ‏جنوری 24، 2019 #108
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    اتنی متنوع احادیث سے کس حدیث کو ترجیح دی جائے اور کس دلیل سے؟
    @اسحاق سلفی صاحب
     
  9. ‏جنوری 27، 2019 #109
    فقير إلى الله

    فقير إلى الله رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 01، 2012
    پیغامات:
    34
    موصول شکریہ جات:
    85
    تمغے کے پوائنٹ:
    54


    شیخ الالبانی سند کی صحت پر زیادہ زور دیتے تھے . "اختلاف متن عند تعدد طرق" اور " روايت بالمعنى" کے اثرات کو زیادہ ملحوظ نہیں رکہا

    اس کی مثال ترمذی کی جرابوں پر مسح والی حدیث ہے جس کی تفصیل یہاں موجود ہے

    https://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=66585



    امام ابو داود صرف تکبیر تحریمہ میں رفع الیدین کی حدیث کو خاص عاصم بن کلیب کے بالمعنی روایت کی وجہ سے ضعیف کہا ہے


    وقال أبو داود في حديث عاصم بن كليب عن عبد الرحمان بن الأسود عن علقمة عن ابن مسعود قال ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا مرة واحدة هذا حديث يختصر من حديث طويل وليس بصحيح على هذا المعنى وقال أبو بكر أحمد بن عمر البزار وهو حديث لا يثبت ولا يحتج به (التمهيد )

    یہی بات امام بزار نے خاص طور پر عاصم کی رفع والی حدیث کے بارے میں کہی ہے

    وعاصم في حديثه اضطراب، ولا سيما في حديث الرفع ذكره عن عبد الرحمن بن الأسود، عن علقمة، عن عبد الله أنه رفع يديه في أول تكبيرة (مسند البزار )



    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    "فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون"
    کا یہ مفھوم

    "لا تسألوا إلا من يقلد إمامكم وعند الإختلاف في مذهب لا تسألوا إلا عالما واحدا"

    بقول علامہ بابرتي حنفي (ت 786هـ) اور علامہ ابن امیر حاج حنفي (ت879هـ) اجماع امت کے خلاف ہے

    العوام لا يزالون يقلدون مجتهدا في حكم وغيره في آخر ولم ينكر فكان إجماعا على الجواز (الردود والنقود)

    لا يلزم
    أحدا أن يتمذهب بمذهب أحد الأئمة بحيث يأخذ بأقواله كلها ويدع أقوال غيره ــــــــــــ انعقد الإجماع على أن من أسلم فله أن يقلد من شاء من العلماء بغير حجر وأجمع الصحابة رضي الله عنهم أن من استفتى أبا بكر أو عمر قلدهما فله أن يستفتي أبا هريرة ومعاذ بن جبل وغيرهما ويعمل بقولهما من غير نكير فمن ادعى دفع هذين الإجماعين فعليه الدليل (التقرير والتحبير)

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
     
  10. ‏جنوری 27، 2019 #110
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    وہ حدیث طویل کون سی ہے لکھ دیجئے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں