1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

نماز میں ترک رفع الیدین

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 08، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 23، 2017 #61
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,201
    موصول شکریہ جات:
    679
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    حیرت زدہ رہ گئے ھم !!! جب کچھ کرنا ہی نہیں چاھتے تو نماز کی ادائیگی کے طریقوں پر ہی غیر ضروری تشویش کیوں ؟
    کسی ایک مراسلہ میں بھی سمجھا نہیں سکے بلکہ خود کنفیوز ہی نظر آئے اور ھمیں کنفیوز کروانے میں ناکام ہی رھے - کئیوں بار اپنا سا منہ لیکر جاتے ہیں ، پھر چلے آتے ہیں !! آپکا مسئلہ کیا ھے؟ کیوں اشماریہ بھائی کے خیالات بھی آپکو نا پسند ہیں؟
    اپنا ارادہ ہی کم از کم واضح کر دیں ، یہ آنا جانا اور گھوم پھر کر ایک ہی موضوع پر لا مقصد ، غیر مفید مراسلات لکھتے جانا آکر ھے کیا ان سب کے پیچھے؟
     
  2. ‏اکتوبر 23، 2017 #62
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,282
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    جی میرے سوال کا جواب نہیں آیا اور میں نے کب لکھا کہ میں اہلحدیث کے علاوہ سب کو گمراہ سمجھتا ہوں؟؟؟
     
  3. ‏اکتوبر 23، 2017 #63
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,201
    موصول شکریہ جات:
    679
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    مرشد جی ! یہاں آپ نے جہل پر لکھا ہی نہیں !! علم سے عالم کی مراد بھی وہ نہیں لی جو جہل سے جاہل کی لی جاتے ھے - آپ کو سمجھنا ہی مشکل ھے ، سوال کچھ اور جبکہ جواب کچھ اور ۔
     
  4. ‏اکتوبر 31، 2017 #64
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    440
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    38

    اسلام علیکم ورحمۃ اللہ
    @عدیل سلفی صاحب رفع الیدین کے بارے اپنے اشکالات یہاں لکھیں۔
     
  5. ‏نومبر 01، 2017 #65
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,282
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    قَالَ أَبودَاود: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامٌ عَنِ ابْنِ جُحَادَةَ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ مَعَ الرَّفْعِ مِنَ السُّجُودِ۔
    أبو داود کہتے ہیں: اس حدیث کو ہمام نے بھی ابن جحادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے۔
     
  6. ‏نومبر 02، 2017 #66
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    440
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    38

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    کچھ احادیث مختصر ہوتی ہیں کچھ تفصیلی علماء کرام یقینا اس سے واقف ہیں۔ آپ صرف یہ بتائیں کہ میں نے جو حدیث لکھی وہ صحیح ہے کہ نہیں؟
    مزید برآں معاملہ صرف اس حدیث تک محدود نہیں میں نے پہلے بہت سی ایسی احادیث لکھی ہیں جن میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کا ذکر ہے اور وہ ہیں بھی صحیح الاسناد۔
     
  7. ‏نومبر 02، 2017 #67
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    440
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    38

    پھر یہ بھی دیکھیں کہ آپ نے ابوداؤد رحمہ ا؛؛ہ کا قول نقل کیا جبکہ وہیں اس کی وضاحت بھی موجود تھی
    قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ فَقَالَ هِيَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامٌ عَنْ ابْنِ جُحَادَةَ لَمْ يَذْكُرْ الرَّفْعَ مَعَ الرَّفْعِ مِنْ السُّجُودِ
    اور یہی بات الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم میں بھی ہے
    قال محمد يعني : ابن جحادة قد ذكر ذلك للحسن بن أبي الحسن فقال عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فعله من فعله وتركه من تركه . قال أبو بكر بن أبي عاصم : ولوائل بن حجر طرق كثيرة فيها حتى النبي صلى الله عليه وسلم
     
  8. ‏نومبر 02، 2017 #68
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,282
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    رِفْدَةُ بْنُ قُضَاعَةَ الْغَسَّانِيُّ اس راوی کا تعارف کروائیں
     
  9. ‏نومبر 03، 2017 #69
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    149
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    یہ جمہور کے نذدیک ضعیف راوی ہے
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 03، 2017 #70
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    440
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    38

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ

    میری پوسٹ دوبارہ دیکھں::::
    حدیث نبوی پیش خدمت ہے ،
    حدثنا یحییٰ بن سعید عن سفیان ثنا سماک عن قبیصۃ ابن ہلب عن ابیہ قال رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینصرف عن یمینہ وعن یسارہ و رایتہ یضع ہذہ علی صدرہ ووصف یحییٰ الیمنیٰ علی الیسریٰ فوق المفصل ورواۃ ہذاالحدیث کلہم ثقات و اسنادہ متصل۔

    ( تحفۃ الاحوذی، ص: 216 )

    مزید دیکھئے :::
    عن قبيصة بن هلب، عن أبيه، قال: " رأيت النبي صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه وعن يساره، ورأيته، قال، يضع هذه على صدره "
    ''(رواہ ابن حبان ، ،وإسناد صحيح ،

    حدثنا ابوتوبۃ حدثنا الہیثم یعنی ابن حمید عن ثور عن سلیمان بن موسیٰ عن طاؤس قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یضع یدہ الیمنیٰ علی یدہ الیسریٰ ثم یشدبہما علی صدرہ۔


    ادھر بھی غور کیجئے گا،

    عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ .


    البخاري (735) ومسلم (390)


    ویسے عربی لغت کے تو آپ بڑے ماہر ہیں اس لیے ترجمہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی

    مزید :::
    یہ مقلدین کا خاصہ ہے ، بس ادھوری بات پیش کرنا اور اپنے مسلک کو حق پر سمجھنا اور مخالف پر الزمات لگانا،
    یہ وہ طریقہ ہے جو آپ صلى الله عليه وسلم نے سکھایا ہے!

    حديث نبوي دیکھے:::

    وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ نماز ادا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور انہیں سینے پر باندھا۔
    البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو "تحقیق صحیح ابن خزیمہ ابن خزیمہ: (479)" میں صحیح کہا ہے۔

    نیز البانی رحمہ اللہ اپنی کتاب: "صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم" (ص 69) میں کہتے ہیں:
    "دونوں ہاتھوں کو سینے پر باندھنا ہی سنت میں ثابت ہے، جبکہ اس سے متصادم کوئی بھی عمل یا تو ضعیف ہے، یا پھر بے بنیاد ہے"

    ثابت تو کردیا اور کیسے ثابت کروں اگر آپ کی علمی قابلیت اتنی نہیں کہ عربی کو سمجھ سکیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں!
    [/QUOTE]
    سب سے پہلی بات کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی والدہ کو شفائے کاملہ دے آمین۔
    دوسری بات یہ کہ یہ تھریڈ رفع الدین سے ،تعلق ہے اس میں نماز میں ہاتھ باندھنے کی بحث ٹھیک نہیں۔ اس کے لئے الگ سے تھریڈ بنایا گیا ہے وہیں اپنے توجیحات لکھیں۔
    تیسری بات یہ کہ ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کی جو احادیث لکھی ہیں وہ مجموعی طور پر اس کا ’’ثبوت‘‘ فراہم کرتی ہیں۔
    چوتھی بات یہ کہ احادیث میں سجدوں میں رفع الیدین نہ کرنے کی بات بیان ہوئی باقی جگہوں کی نہیں۔ اور اس سے بھی یہ پتہ نہیں چلتا کہ پہلے تھی پھر چھوڑی یا کہ پہلے نہیں تھی بعد میں کرنے لگے۔ دونوں احتمال موجود ہیں۔
    پانچویں بات یہ کہ صحیح احادیث میں سوائے تکبیر تحریمہ کے اور کہیں بھی رفع الیدین نہ کرنے کی بات مذکور ہے۔
    ان تین چار قسم کی احادیث سے عندیہ یہی ملتا ہے کہ پہلے صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع الیدین کی جاتی تھی پھر بڑھتے بڑھتے ہر تکبیر کے ساتھ جھکتے اٹھتے رفع الیدین کرنے لگے۔ یا پھر یہ احتمال ہے کہ پہلے ہر اٹھنے جھکنے پر رفع الیدین کرتے تھے پھر کچھ جگہوں پر چھوڑ دی آخر میں سوائے تکبیر تحریمہ کے سب جگہ چھوڑ دی۔
    اہل حدیث حضرات ان احادیث پر مکمل عمل نہیں کرتے۔
    مثلاً سجدوں کے لئے جھکتے وقت، دوسری اور چوتھی رکعت کے لئے اٹھتے وقت رفع الیدین نہ کرنے کا کہیں ذکر نہیں مگر اہل حدیث ان جگہوں پر رفع الیدین نہیں کرتے۔
    یعنی ہر جھکنے اور اٹھنے (ہر تکبیر کے ساتھ) رفع الیدین کی جن مقامات پر نہ کرنے کی بات ہے اس کے علاوہ دیگر تمام جگہوں پر اہل حدیث رفع الیدین بلاوجہ چھوڑتے ہیں۔
    احناف کامؤقف بالکل واضح حدیث پر ہے کہ سوائے تکبیر تحریمہ کے رفع الیدین مشروع نہیں۔ لہٰذا احناف کا عمل تمام احادیث کا احاطہ کیئے ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں