1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں رفع الیدین کے بارے میں احناف کا موقف :

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اکتوبر 22، 2015۔

  1. ‏اکتوبر 22، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    : نماز میں رفع الیدین کے بارے میں احناف کا موقف

    سوال:


    احناف کہتے ہیں کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائی زندگی میں باقاعدگی سے رفع الیدین کیا کرتے تھے، لیکن اپنی زندگی کے آخری ایام میں آپ نے رفع الیدین ترک کر دیا تھا، تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل ہونے کی وجہ سے ترک رفع الیدین پر عمل کرنا زیادہ اجر کا باعث ہوگا؟ اور کیا انکا یہ دعوی درست ہے یا نہیں؟ اور کیا خلفائے راشدین سے رفع الیدین ثابت ہے؟


    الحمد للہ:

    احناف کا یہ موقف ہے کہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع الیدین کرنا نماز کی سنن میں سے ہے، جبکہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ تمام تکبیرات میں رفع الیدین کو شرعی عمل قرار نہیں دیتے۔

    چنانچہ " المبسوط " از: سرخسی (1 / 23) میں ہے:

    "نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ کسی بھی تکبیر پر رفع الیدین نہ کرے" انتہی

    اسی طرح "بدائع الصنائع " (1 / 207) میں ہے کہ:

    "فرض نمازوں میں تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ تکبیرات کے وقت رفع الیدین کرنا ہمارے نزدیک سنت نہیں ہے" انتہی

    اپنے اس موقف کیلئے ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے مروی روایت کو دلیل بناتے ہیں، وہ کہتے ہیں: مجھے حماد نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ : "نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے اور پھر دوبارہ ہاتھ نہ اٹھاتے" انتہی

    " المبسوط " از سرخسی:(1 / 24)

    جبکہ تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ دیگر تکبیرات کیساتھ رفع الیدین سے متعلق مجموعہ احادیث کو احناف منسوخ سمجھتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع الیدین آخری عمر میں ترک کر دیا تھا، شروع میں آپ رفع الیدین کرتے رہے ہیں۔

    چنانچہ " بدائع الصنائع " (1 / 208) میں ہے کہ:

    "یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ابتدا میں رفع الیدین کرتے تھے، پھر آپ نے رفع الیدین ترک کردیا، اس کی دلیل ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، کہ انہوں نے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع الیدین کیا ہم نے بھی کیا، پھر آپ نے ترک کر دیا تو ہم نے بھی ترک کر دیا"" انتہی

    یہ احناف کا موقف ہے۔

    جبکہ راجح یہی ہے کہ نمازی کیلئے چار جگہوں میں رفع الیدین کرنا احادیث سے ثابت ہے، اور وہ چار مقامات یہ ہیں: تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے ہوئے، رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے، اور تیسری رکعت کیلئے کھڑے ہونے کے بعد، اس موقف کا بیان احادیث کی روشنی میں فتوی نمبر: (3267) میں گزر چکا ہے۔

    اور جن احادیث کو احناف نے اس بات کیلئے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ دیگر تمام تکبیرات کیساتھ رفع الیدین نہیں فرمایا، تو وہ سب احادیث ضعیف ہیں، ان میں سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے۔

    چنانچہ ابن قیم رحمہ اللہ " زاد المعاد في هدي خير العباد " (1 / 219) میں رفع الیدین کی احادیث ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں:

    "رفع الیدین نہ کرنے کی احادیث کے مقابلے میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہیں، یہ احادیث ثابت شدہ، واضح صریح ہیں، اور عمل بھی انہی پر کیا جاتا ہے" انتہی


    انہوں نے اسی مسئلہ کے بارے میں یہ بھی کہا ہے کہ:

    "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا سے کوچ کر جانے تک یہی عمل تھا[یعنی رفع الیدین کرتے تھے]" انتہی

    "
    زاد المعاد في هدي خير العباد " (1 / 219)

    اور خلفائے راشدین کے متعلق کسی ایک خلیفہ راشد سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے رفع الیدین نہ کیا ہو، بلکہ ان سے رفع الیدین کرنا ثابت ہے، حتی کہ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "کسی بھی صحابی سے رفع الیدین نہ کرنا ثابت نہیں ہے" اور اس بات کا تفصیلی بیان فتوی نمبر: (224635) میں گزر چکا ہے۔

    واللہ اعلم.


    اسلام سوال و جواب

    http://islamqa.info/ur/224616
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 01، 2015 #2
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! نماز میں رفع الیدین کے بارے میں احناف کا موقف پیش کرنے کا حق صرف احناف کو ہی ہے کوئی دوسرا کیسے صحیح مؤقف پیش کرسکتا ہے؟
    آپ نے اگر عنوان دینا تھا تو اس قسم کا دیتے ’’نماز میں رفع الیدین کے بارے میں احناف کے موقف پر تبصرہ‘‘ تو یہ لکھنا ٹھیک تھا مگر آپ لوگوں کو عادت ہے دھوکہ دینے کی اس لئے عادت سے مجبور ہو۔

    محترم! یہ بتائیں کہ نماز میں غیر مقلدین جو رفع الیدین کرتے ہیں اس میں مسنون ’’ذکر‘‘ کا حوالہ باسند عربی متن کے ساتھ تحریر فرمادیں۔
    والسلام
     
  3. ‏دسمبر 01، 2015 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم

    میرے بھائی میں نے یہ فتویٰ اس سائڈ سے پوسٹ کیا ہے - بغیر کسی ردوبدل کے اور بقول آپ لوگوں کے یہ لوگ امام احمد رحمہ اللہ کے مقلد ہے

    http://islamqa.info/ur/224616
     
  4. ‏دسمبر 01، 2015 #4
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    کیسی عجیب بات ہے کہ شیخ منجد نے حنفی کتب فقہ سے ہی حوالے دیے ہیں، شاید بھائی اپنی فقہ کی کتابوں سے واقف نہیں ہیں۔

    کون سے ذکر کا حوالہ درکار ہے؟ آپ کا سوال غیر واضح ہے، اس کو تھوڑا ریفائن کریں تو آپ کو فورا حوالہ مل جائے گا۔ ان شاء اللہ۔
     
  5. ‏دسمبر 01، 2015 #5
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    نماز میں کی جانے والی رفع الیدین کے وقت کا ’’مسنون ذکر‘‘ باحوالہ عربی متن کے ساتھ تحریر فرما دیں۔
     
  6. ‏دسمبر 02، 2015 #6
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    کیا اس مسنون ذکر کا کوئی نام نہیں ہے؟ اگر آپ نام لے کر بتائیں تو گھبرائیں نہیں، آپ کو ثواب ہی ملے گا اور کچھ نہیں!
     
  7. ‏دسمبر 02، 2015 #7
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! میں نے نماز میں کی جانے والی رفع الیدین کا ’’مسنون ذکر‘‘ پوچھا ہے۔ اس کا اگر مجھے نام معلوم ہوتا تو مسئولہ مسنون ذکر بھی معلوم ہوتا۔
     
  8. ‏دسمبر 02، 2015 #8
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    اگر رفع الیدین کے عین عمل پر جو کہا جاتا ہے مراد ہے تو اسے تکبیر یعنی اللہ اکبر کہتے ہیں۔ اگر آپ کی مراد یہی ہے تو بتا دیں۔ اور اگر آپ کو تکبیر کا ہی نہیں پتہ تو اللہ ہی حافظ ہے۔
     
  9. ‏دسمبر 02، 2015 #9
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    جب رکوع سے اٹھتے ہیں تو کہتے ہیں سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کھڑے ہو کر رفع الیدین کرتے ہیں اس وقت کیا کیا پڑھنا چاہئے اس کے متعلق پوچھا ہے اور اسی طرح جب سجدہ کے لئے جھکتے ہیں تو کہتے ہیں اللہ اکبر اس وقت جو رفع الیدین کرتے ہیں اس وقت کیا پڑھتے ہیں اسی طرح جب دو رکعتوں سے اٹھتے ہیں تو کہتے ہیں اللہ اکبر اس وقت جو کھڑے ہوکر رفع الیدین کرتے ہیں اس وقت کیا پڑھتے ہیں؟ ان مواقع کے مسنون اذکار کا پوچھا تھا۔
     
  10. ‏دسمبر 02، 2015 #10
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    آپ کی بات کی سمہج نہیں آرہی شاہد اس حدیث سے کچھ رہنمائی ہوجائئے
    ۔۔۔
    قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَلِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلَا أَقْدَمِنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (١)إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا،(٢) ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، (٣)ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، (٤)ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ " ، قَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
    [سنن أبي داود :1 /194 رقم 730 واسنادہ صحیح]

    ابوحمید نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق میں تم میں سے سب سے زیادہ واقفیت رکھتا ہوں صحابہ نے کہا وہ کیسے؟ واللہ تم ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی تم ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے ابوحمید نے کہا ہاں یہ درست ہے صحابہ نے کہا اچھا تو پھر بیان کرو ابوحمید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(١) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اعتدال کے ساتھ اپنے مقام پر آجاتی اس کے بعد قرات شروع فرماتے (٢)پھر (رکوع) کی تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرتے اور رکوع میں دونوں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھتے اور پشت سیدھی رکھتے سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ اونچا رکھتے۔(٣) پھر سر اٹھاتے اور ۔سَمِعَ اللہ لِمَن حَمِدَہ کہتے۔ پھر سیدھے کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے (سجدہ کرتے) اور (سجدہ میں) دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھتے پھر (سجدہ سے) سر اٹھاتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھتے اور سجدہ کے وقت پاؤں کی انگلیوں کو کھلا رکھتے پھر (دوسرا) سجدہ کرتے اور اللہ اکبر کہہ کر پھر سجدہ سے سر اٹھاتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر آجاتی (پھر کھڑے ہوتے) اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے(٤) پھر جب دو رکعتوں سے فارغ ہو کر کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور مونڈھوں تک دونوں ہاتھ اٹھاتے جس طرح کہ نماز کے شروع میں ہاتھ اٹھائے تھے اور تکبیر کہی تھی پھر باقی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ جب آخری سجدہ سے فارغ ہوتے یعنی جس کے بعد سلام ہوتا ہے تو بایاں پاؤں نکالتے اور بائیں کولھے پر بیٹھتے (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا تم نے سچ کہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں