1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے متعلق سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد طلحہ سلفی, ‏اگست 02، 2018۔

  1. ‏اگست 02، 2018 #1
    محمد طلحہ سلفی

    محمد طلحہ سلفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 31، 2018
    پیغامات:
    49
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    موضوع: سہل بن سعد رضی اللہ سے سینے پر ہاتھ باندھنا ثابت ہے


    تحقیق و تحریر: محمد طلحہ سلفی



    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ہاتھ سینے پر ہی باندھنا ثابت ہے۔ ناف کے نیچے ہاتھ ہاتھ باندھنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ اس موضوع کے متعلق بھی انشاءاللہ ہم ایک پوسٹ بنائیں گے

    فل حال اس پوسٹ میں ہم بتائیں گے کہ نماز میں ہاتھ سینے پر باندھنا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے۔
    تو یہ جاننے کے لیے ہمارے دلائل ملاحظہ کریے


    دلیل نمبر ١:

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ""، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو حَازِمٍ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏أَعْلَمُهُ إِلَّا يَنْمِي ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْمَاعِيلُ:‏‏‏‏ يُنْمَى ذَلِكَ وَلَمْ يَقُلْ يَنْمِي.


    ترجمہ:
    "سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںلوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ذراع پر رکھیں، ابوحازم بن دینار نے بیان کیا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے۔ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی جاتی تھی یوں نہیں کہا کہ پہنچاتے تھے۔ "

    (دیکھیے صحیح بُخاری حدیث 740)

    سند کی تحقیق:
    " چونکہ یہ حدیث صحیح بُخاری کی ہے تو اس کی سند کی تحقیق کی ضرورت نہیں کیوں پوری امت کا اجماع ہے کہ صحیح بُخاری کی تمام روایات صحیح ہیں"


    حدیث کی وضاحت:
    • پہلی بات کہ یہ حدیث مرفوع ہے کیوں کہ ابوحازم بن دینار نے بیان کیا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ (سہل بن سعد) اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے
    • اس حدیث میں الفاظ ہیں ذراع کے اور ذراع کہتے ہیں ہاتھ کی بیچ والی انگلی سے لے کر کہنی تک کا حصہ
    غريب الحديث للحربي ٢٧٧/١ میں لکھا ہے کہ:
    " الذِّرَاعُ: مِنْ طَرَفِ الْمِرْفَقِ إِلَى طَرَفِ الْإِصْبَعِ الْوُسْطَى"

    ترجمہ:
    " ذراع كہنی کے سرے سے لے کر درمیانی اُنگلی کے سرے تک کے حصہ کو کہتے ہیں"

    یعنی ثابت ہوا کہ ذراع بیچ والی انگلی سے لے کر کہنے تک کے حصہ کو کہتے ہیں
    "اگر کوئی شخص اپنی ذراع یعنی اپنی بازو پر اپنے ہاتھ رکھتا ہے تو اپنے آپ آپ کے ہاتھ سینے پر آ جائیں گے اگر یقین نہیں آتا تو ابھی کھڑے ہوئیں جیسے نماز کے لیے ہوتے ہیں اور اپنے ہاتھ دائیں کو بائیں بازو (یعنی ذراع) پر رکھ کر دیکھیں خود بخود آپ کے ہاتھ سینے پر آ جائیں گے یا سینے کے قریب قریب آ جائیں گے"
     
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 04، 2018 #2
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    بھائی آپ نے ’ذراع‘ پر تو پورا زور لگا دیا ’ید‘ کو بھول گئے۔ حدیث میں دایاں ’ید‘ بائیں ’ذراع‘ پر رکھنے کی بات بیان ہوئی ہے۔
    ’ید‘ کی تفصیل بھی لکھ دیں اور پھر بتائیں کہ اس دائیں ’ید‘ کو ’ذراع‘ پر اپنی مرضی کی جگہ پر رکھیں گے یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق؟
     
  3. ‏اگست 08، 2018 #3
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    جواب؟
     
  4. ‏جنوری 07، 2019 #4
    محمد طلحہ سلفی

    محمد طلحہ سلفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 31، 2018
    پیغامات:
    49
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    13


    آپ کا سوال ہی عجیب ہے جناب حضرت ید کا معنی ایک چھوٹے سے چھوٹا طالب علم بھی جانتا ہے

    "ید" کا معنی" ہاتھ " ہوتا ہے

    لہذا جس مسئلے میں اختلاف ہے اس کو ڈسکس کیا جائے تو بہتر ہے

    اچھا آپ نے دوسرا اعتراض یہ کیا کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ذراع پر اپنی مرضی سے رکھیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی سے

    تو جواباً عرض ہے کہ ہاتھ ذراع پر رکھنا ہے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فرمان ہے تو اس سوال کا تو کوئی مقصد ہی نہیں

    اگر آپ کا سوال یہ ہے کہ ذراع کے کسے بھی حصہ پر رکھ سکتے ہیں تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ جب تک کسی چیز کی تخصیص نا کی جائے تب تک عموم الفاظ کا ہی اعتبار رہتا ہے

    اور صحیح بخاری میں ہی ایک حدیث ہے جس میں وضو کا طریقہ بیان ہوا ہے اور وہاں بازو کو دھونے کے لئے لفظ ذراع استعمال ہوا ہے
    تو کیا وہاں بھی اس بات کا یہ معنی لیں گے آپ جناب

    آپ نے جو اعتراضات اٹھائے ہیں ان کا کوئی مقصد نہیں بنتا لیکن پھر بھی میں نے اپنی پوری کوشش کی کہ آپ کو جواب دوں
     
  5. ‏جنوری 07، 2019 #5
    محمد طلحہ سلفی

    محمد طلحہ سلفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 31، 2018
    پیغامات:
    49
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں