1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں پاؤں کھولنا???

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عتیق الرحمن, ‏مارچ 21، 2017۔

  1. ‏مارچ 21، 2017 #1
    عتیق الرحمن

    عتیق الرحمن رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2017
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ.
    کچھ اھل حدیث حضرات نماز میں پاؤں بہت زیادہ کھول لیتے ھیں اور احناف بہت کم کھولتے ھیں یعنی فاصلہ بہت کم رکھتے ھیں اور کچھ اھل حدیث حضرات نہ زیادہ کھولتے ھیں اور نہ زیادہ کم بلکہ درمیانے کھولتے ھیں.
    تو ان میں سے بہتر طریقہ کونسا ھے پاؤں کتنی حد تک کھولنے چاھیے اور اسکی دلیل بھی چاھیے ساتھ حدیث کا حوالہ بھی.
    جزاک اللہ خیرا
     
  2. ‏مارچ 21، 2017 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

  3. ‏مارچ 22، 2017 #3
    عتیق الرحمن

    عتیق الرحمن رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2017
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جزاک اللہ خیرا
    بھائ پاؤں کتنے کھولنے چاھیے یہ تو پتا چل گیا لیکن اسکی دلیل کیا ھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے پاؤں کھولے تھے یا کتنے کھولنے کا حکم دیا تھا کوئ حدیث چاھیے??
     
  4. ‏مارچ 22، 2017 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    اسی فتوی میں ہے:
    ہمارے ہاں اس سلسلہ میں کچھ غلو بھی کیا جاتا ہے کہ ٹخنے سے ٹخنا ملانے کیلئے حد سے زیادہ پاؤں کھول دئیے جاتے ہیں ۔ اس وجہ سے پاؤں پھیل جاتے ہیں کہ ساتھی کے کندھوں کے درمیان بہت فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے ، ایسا کرنا خلاف سنت ہے ۔ صف بندی میں مقصود یہ ہے کہ نمازیوں کے کندھے اور ٹخنے برابر ہوں اس طرح یہ بھی تفریط کی ایک صورت ہے کہ ہم دوران نماز صرف پاؤں کی انگلیاں ملاتے ہیں اور ٹخنوں کو ملانے کی زحمت نہیں کرتے ، صف بندی کا تقاضا یہ ہے کہ صفیں سیدھی اور برابر ہوں اور صفیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہوں ، کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنا ملا ہوا ہو ، اس کیلئے اپنے وجود کے مطابق پاؤں کھولنا چاہئیے ۔

    مزید شیخ @خضر حیات صاحب حفظہ اللہ بتائیں گے. میں ایک طالب علم ہوں
     
  5. ‏مارچ 22، 2017 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بالکل ۔ پاؤں کھولنے کی مقدار اس لیے متعین نہیں کی گئی ، کیونکہ ہر ایک کی جسامت مختلف ہوتی ہے ۔ جس طرح حضور نے سترہ کو اونٹ کے کجاوے کی طرح متعین کردیا ، اس طرح پاؤں کا کھولنا متعین کرنا ممکن ہی نہیں تھا ۔
    لہذا جس طرح انسان کو کھڑے میں ہونے میں راحت محسوس ہوا ، اتنے ہی پاؤں کھولنے چاہیے ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 23، 2017 #6
    حافظ عبدالکریم

    حافظ عبدالکریم رکن
    جگہ:
    کڑمور
    شمولیت:
    ‏دسمبر 01، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    جزاک اللہ خیرا
     
  7. ‏مارچ 24، 2017 #7
    عتیق الرحمن

    عتیق الرحمن رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2017
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں