1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام

'یونیکوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکر, ‏اپریل 24، 2011۔

  1. ‏اپریل 24، 2011 #1
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام

    مع ضمیمہ جات:
    اثبات التعدیل فی توثیق مؤمل بن اسماعیل
    نصر الرب فی توثیق سماک بن حرب
    حدیث اور اہلحدیث کتاب کا جواب

    تالیف: حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ
    ناشر: مكتبة أهل الأثر للنشر والتوزيع، ملتان پاکستان

    پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ لنک

    نوٹ: یہ کتاب یونیکوڈ فارمیٹ میں دیگر سائٹس پر بھی موجود ہے۔ لیکن مجھے ان فائلز میں گرامر، ٹائپنگ اور خصوصاً راویان حدیث کے ناموں میں بعض مقامات پر غلطیاں ملی ہیں۔ لہٰذا ممکنہ حد تک یہ غلطیاں دور کر کے یہاں اپ لوڈنگ کی جا رہی ہے۔ اگر معزز قارئین کہیں پر کوئی غلطی موجود پائیں تو ازراہ کرم ضرور مطلع کریں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 24، 2011 #2
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 24، 2011 #3
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    مقدمہ


    الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامین ، أما بعد:
    متواتر حدیث میں آیا ہے کہ:
    اس کے سراسربرعکس مالکیوں کی غیر مستند کتاب "المدونہ" میں لکھا ہوا ہے:
    اس غیر ثابت قول کے مقابلے میں موطا امام مالک میں باب باندھا ہوا ہے:
    "باب وضع الیدین احداھما علی الاخری فی الصلوٰۃ" (۱۵۸/۱)
    اس باب میں امام مالک سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ والی حدیث لائے ہیں:
    "کان الناس یؤمرون أن یضع الرجل الیدالیمنیٰ علی ذراعہ الیسریٰ فی الصلوٰۃ"
    لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ذراع پر رکھے۔
    (۱۵۹/۱ح ۳۷۷والتمہید ۹۶/۲۱، والاستذکار: ۳۴۷ والزرقانی: ۳۷۷)

    ابن عبدالبر نے کہا:
    "مدونہ" کی تقلید کرنے والے مالکی حضرات ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں، اگر کسی مقلد مالکی سے ہاتھ چھوڑنے کی دلیل پوچھی جائے تو وہ کہتا ہے کہ :
    شیعہ اور مقلد مالکیوں کے مقابلے میں اہل حدیث کا مسلک یہ ہے کہ ہر نماز میں حالت ِ قیام میں ہاتھ باندھنے چاہئیں۔اور دایاں ہاتھ بائیں ذراع پر رکھنا چاہیے۔
    ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے ، اہل حدیث کے نزدیک نماز میں ناف سے اوپر سینے پر ہاتھ باندھنے چاہییں۔
    امام بیہقی لکھتے ہیں: "باب وضع الیدین علی الصدر فی الصلوٰۃ من السنۃ"
    باب : نماز میں سینے پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔ (السنن الکبری للبیہقی ۳۰/۲)

    اس کے برعکس حنفی وبریلوی و دیوبندی حضرات یہ کہتے ہیں کہ
    "نماز میں ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے چاہییں۔"

    حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں:
    "وقال الثوری وأبو حنیفۃ واسحاق : أسفل السرۃ، ورویٰ ذلک عی علی وابی ھریرۃ والنخعی ولا یثبت ذلک عنھم وھو قول أبی مجلز۔"
    ثوری، ابو حنیفہ اور اسحاق (بن راہویہ) کہتے ہیں کہ ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے چاہییں(!) اور یہ بات علی ( رضی اللہ عنہ )اور ابو ہریرہ ( رضی اللہ عنہ )اور (ابراہیم )نخعی سے مروی ہے مگر ان سے ثابت نہیں ہے اور ابو مجلز کا یہی قول ہے۔ (التمہید ۷۵/۶۰)
    سعودی عرب کے مشہور شیخ عبداللہ بن عبدالرحمٰن الجبرین کی تقدیم و مراجعت سے چھپی ہوئی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ :
    "الصواب: السنۃ وضع الید الیمنیٰ علی الیسریٰ علی الصدر"
    صحیح یہ ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر ، سینے پر رکھنا سنت ہے۔(القول المتین فی معرفۃ ما یہم المصلین ص ۴۹)

    امام اسحاق بن راہویہ اپنے دونوں ہاتھ ، اپنی چھاتیوں پر یا چھاتیوں سے نیچے (سینے پر) رکھتے تھے۔ (مسائل الامام احمد واسحاق ص ۲۲۲ وصفۃ صلوٰۃ النبی ﷺ ص ۶۱)
    اس کے برعکس دیوبندی وبریلوی حضرات یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ
    "غیر مقلدین کہتے ہیں کہ ہاتھ سینے پر باندھنے چاہییں۔" (حدیث اور اہل حدیث ص۲۷۹)
    آخر میں عرض ہے کہ بریلویوں ودیوبندیوں کے ساتھ اہل حدیث کا اصل اختلاف عقائد اور اصول میں ہے ۔ دیکھئے القول المتین فی الجہر بالتامین ص ۸ تا ۱۸

     
    • شکریہ شکریہ x 10
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 24، 2011 #4
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام

    جو شخص کلمہ پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہوتا ہے اس پر نماز کی ادائیگی فرض ہوجاتی ہے۔
    دیکھئے سورۃ النساء آیت نمبر ۱۳۰، نیز ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    (ھذا حدیث صحیح متفق علی صحتہ، شرح السنۃ للبغوی ج ۱ ص۱۷، ۱۸ ح۶، البخاری:۸، مسلم: ۱۶)

    قیامت کے دن انسان سے پہلا سوال نماز کے بارے میں ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ: ۱۴۲۶ وسندہ صحیح وصححہ الحاکم علیٰ شرط مسلم ۲۶۲/۱، ۲۶۳ ووافقہ الذہبی ولہ شاہد عنداحمد ۶۵/۴، ۱۰۳،۳۷۷/۵)

    نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
    (صحیح بخاری ۸۹/۲ ح۶۳۱)
    نماز میں ایک اہم مسئلہ ہاتھ باندھنے کا ہے ،

    ایک گروہ کہتا ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔

    دلیل نمبر ۱:
    سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ذراع پر رکھیں [یہ حدیث مرفوع ہے]
    (مؤطا امام مالک ۱۵۹/۱ ح۳۷۷، صحیح بخاری مع فتح الباری ۱۷۸/۲ح ۷۲۰)

    دلیل نمبر۲:
    نمازمیں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کی احادیث متعددصحابہ سے صحیح یا حسن اسانید کے ساتھ مروی ہیں، مثلاً:

    ۱۔ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ (مسلم: ۴۰۱ وابوداؤد: ۷۲۷)
    ۲۔ جابر رضی اللہ عنہ (احمد ۳۸۱/۳ح ۱۵۱۵۶ وسندہ حسن)
    ۳۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ (صحیح ابن حبان ، الموارد: ۸۸۵ وسندہ صحیح)
    ۴۔ عبداللہ بن جابر البیاضی رضی اللہ عنہ (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم الاصبہانی ۱۶۱۰/۳ ح۴۰۵۴وسندہ حسن واوردہ الضیاء فی المختارۃ ۱۳۰/۹ح۱۱۴)
    ۵۔ غضیف بن الحارث رضی اللہ عنہ (مسند احمد ۱۰۵/۴، ۲۹۰/۵ وسندہ حسن)
    ۶۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (ابوداؤد: ۷۵۵ وابن ماجہ: ۸۱۱ وسندہ حسن)
    ۷۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (ابوداؤد: ۷۵۴ واسنادہ حسن واوردہ الضیاء المقدسی فی المختارۃ ۳۰۱/۹ح ۲۵۷)
    یہ حدیث متواتر ہے۔ (نظم المتناثر من الحدیث المتواتر ص۹۸ ح ۶۸)

    دوسرا گروہ کہتا ہے نما ز میں ارسال کرنا چاہیے (ہاتھ نہ باندھے جائیں)​

    اس گروہ کی دلیل
    (مجمع الزوائد۱۰۲/۲)
    اس دلیل کا جائزہ
    اس روایت کی سند کا ایک راوی خصیف بن جحدر ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ۷۴/۲۰، ح۱۳۹)

    امام بکاری ، ابن الجارود، الساجی شعبہ ، القطان اور ابن معین وغیرہ نے کہا: کذاب (جھوٹا) ہے۔ (دیکھئے لسان المیزان ۴۸۶/۲)
    حافظ ہیثمی نے کہا: کذاب ہے۔ (مجمع الزوائد ۱۰۲/۲)
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 24، 2011 #5
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    تقلید پرستی کا ایک عبرتناک واقعہ


    حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی فرماتے ہیں:
    (تقریر ترمذی ص۳۹۹ مطبوعہ کتب خانہ مجیدیہ ملتان)

    معلوم ہوا کہ تقلید کرنے والا دلیل کی طرف دیکھتا ہی نہیں اور نہ دلیل سنتا ہے ، یاد رہے کہ امام مالک سے ارسال یدین قطعاً ثابت نہیں ہے۔ مالکیوں کی غیر مستند کتاب "مدونہ" کا حوالہ مؤطا امام مالک کے مقابلے میں مردود ہے۔
    اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ نماز میں ہاتھ باندھنا ہی سنت ہے۔ اور نمازمیں ہاتھ نہ باندھنا خلاف سنت ہے، اب ہاتھ کہاں باندھیں جائیں اس میں اہل حدیث اور اہل الرائے کا اختلاف ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 24، 2011 #6
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    ناف سے نیچے ہاتھ باندھنا اور اس کا تجزیہ

    اہل الرائے کا دعویٰ ہے کہ ہاتھ ناف سے نیچے باندھے جائیں ۔ ان کے پیش کردہ دلائل درج ذیل ہیں:

    دلیل نمبر۱:
    (سنن ابی داؤد ۴۸۰/۱، ۴۸۱ ح ۷۵۸، ۷۵۶)

    جائزہ:
    اس روایت کا دارومدار عبدالرحمن بن اسحاق الکوفی پر ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 24، 2011 #7
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    عبدالرحمن بن اسحاق الکوفی علمائے اسماء الرجال کی نظر میں


    ۱۔ ابوزرعہ الرازی نے کہا: لیس بالقوی (الجرح والتعدیل ۲۱۳/۵)
    ۲۔ ابو حاتم الرازی نے کہا: ھوضعیف الحدیث ، منکر الحدیث یکتب حدیثہ ولا یحتج بہ (الجرح والتعدیل ۲۱۳/۵)
    ۳۔ ابن خزیمہ نے کہا: ضعیف الحدیث (کتاب التوحید ص ۲۲۰)
    ۴۔ ابن معین نے کہا: ضعیف ، لیس بشیء (الجرح والتعدیل ۲۱۳/۵ وسندہ صحیح ، تاریخ ابن معین ۱۵۵۹، ۳۰۷۰)
    ۵۔ احمد بن حنبل نے کہا: منکر الحدیث (کتاب الضعفاء للبخاری ۲۰۳، التاریخ الکبیر ۲۵۹/۵)
    ۶۔ بزار نے کہا: لیس حدیثہ حدیث حافظ (کشف الاستار: ۸۵۹)
    ۷۔ یعقوب بن سفیان نے کہا: ضعیف (کتاب المعرفۃ والتاریخ ۵۹/۳)
    ۸۔ عقیلی نے کہا: ذکرہ فی کتاب الضعفاء (۳۲۲/۲)
    ۹۔ العجلی نے کہا: ضعیف جائز الحدیث یکتب حدیثہ (تاریخ العجلی : ۹۳۰)
    ۱۰۔ بخاری نے کہا: ضعیف الحدیث (العلل للترمذی ۲۲۷/۱)
    اور کہا:فیہ نظر (الکامل لابن عدی۱۶۱۳/۴ وسندہ صحیح) ​
    ۱۱۔ نسائی نے کہا: ضعیف (کتاب الضعفاء للنسائی: ۳۵۸)
    اور کہا: لیس بثقۃ (سنن النسائی ۹/۶ ح۳۱۰۱)​
    ۱۲۔ ابن سعد نے کہا: ضعیف الحدیث (طبقات ابن سعد ۳۶۱/۶)
    ۱۳۔ ابن حبان نے کہا: کان ممن یقلب الاخبار والاسانید وینفرد بالمناکیر عن المشاھیر ، لا یحل الاحتجاج بخیرہ (کتاب المجروحین ۵۴/۲)
    ۱۴۔ دارقطنی نے کہا: ضعیف (سنن دارقطنی ۱۲۱/۲ ح ۱۹۸۲)
    ۱۵۔ بیہقی نے کہا: متروک (السنن الکبری ۳۲/۲)
    ۱۶۔ ابن جوزی نے اس کو الضعفاء والمتروکین میں ذکر کیا اور کہا: "وویحدث عن النعمان عن المغیرۃ احادیث مناکیر" (۸۹/۲ ت ۱۸۵۰)
    اور کہا: "المتھم بہ عبدالرحمٰن بن اسحاق" (الموضوعات ۲۵۷/۳)​
    ۱۷۔ الذہبی نے کہا: ضعفوہ (الکاشف ج ۲ ص ۲۶۵)
    ۱۸۔ ابن حجر نے کہا: کوفی ضعیف (تقریب التہذیب : ۳۷۹۹)
    ۱۹۔ نووی نے کہا: ھو ضعیف بالاتفاق (شرح مسلم ج۴ ص ۱۱۵، نصب الرایہ ج ۱ ص ۳۱۴)
    ۲۰۔ ابن الملقن نے کہا: فانہ ضعیف (البدر المنیر ۱۷۷/۴)
    الزرقانی نے بھی شرح مؤطا امام مالک (ج۱ ص ۳۲۱) میں کہا: "واسنادہ ضعیف"
    اسی لیے حافظ ابن حجر نے کہا: "واسنادہ ضعیف" (الدرایہ ۱۶۸/۱)
    بیہقی نے کہا: "لایثبت اسنادہ"
    نووی نے کہا: "ھو حدیث متفق علی تضعیفہ" (نصب الرایہ ج۱ ص۳۱۴)

    زیلعی حنفی نے تو اس کی کوئی تردید نہیں کی مگر نصب الرایہ کے متعصب محشی فرماتے ہیں:
    (میزان الاعتدال ۴۰۷/۳)

    حاکم نے مستدرک میں عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کی حدیث کی تصحیح کی ہے ، حالانکہ یہی حاکم اپنی کتاب "المدخل الی الصحیح" میں لکھتے ہیں:
    "روی عن ابیہ احادیث موضوعۃ لا یخفی علی من تاملھا من اھل الصنعۃ ان الحمل فیھا علیہ" (ص۱۰۴)
    زیلعی حنفی لکھتے ہیں کہ: "وتصحیح الحاکم لا یعتد بہ" (نصب الرایہ ۳۴۴/۱)
    یعنی حنفیوں کے نزدیک حاکم کی تصحیح کسی شمار وقطار میں نہیں ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ ابن خزیمہ نے تو عبدالرحمٰن پر جرح کی ہے۔ دیکھئے کتاب التوحید (ص۲۲۰)

    عبدالرحمٰن کے اساتذہ میں زیاد بن مجہول ہے۔ (تقریب التہذیب: ۲۰۷۸)
    نعمان بن سعد کی توثیق سوائے ابن حبا کے کسی نے نہیں کی اور اس سے عبدالرحمٰن روایت میں تنہا ہے لہٰذا حافظ ابن حجر نے کہا: "فلا یحتج بخیرہ" (تہذیب التہذیب ۴۰۵/۱۰)
    عبدالرحمٰن الواسطی نے "عن سیار ابی الحکم عب ابی وائل قال قال ابو ھریرۃ۔۔۔"
    کی ایک سند فٹ کی ہے، اس کے بارے میں امام ابو داؤد نے کہا:
    "وروی عن ابی ھریرۃ ولیس بالقوی"
    اور ابوہریرہ ( رضی اللہ عنہ ) سے مروی ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔
    (سنن ابی داؤد ج ۱ ص۴۸۰ حدیث ۷۵۷)
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 24، 2011 #8
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    دلیل نمبر ۲:
    وعن انس ۔۔۔ ووضع الیدی الیمنیٰ علی الیسریٰ فی الصلوٰۃتحت السرۃ

    جائزہ:
    اس روایت کی سند میں ایک راوی وعید بن زربی ہے۔
    (الخلافیات للبیہقی قلمی ص۳۷ ومختصر الخلافیات ۳۴۲/۱)

    سعید بن زربی سخت ضعیف راوی ہے۔
    حافظ ابن حجر نے فرمایا: "منکر الحدیث"
    یہ (شخص) منکر حدیثیں بیان کرنے والا ہے۔ (تقریب التہذیب : ۲۳۰۴)
    دوسرا گروہ کہتا ہے کہ نماز میں ناف سے اوپر سینے پر ہاتھ باندھنے چاہییں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 25، 2011 #9
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    سینے پر ہاتھ باندھنا

    دلیل نمبر ۱:
    صحیح ابن خزیمہ (۲۴۳/۱ ح ۴۸۰، ۷۱۴) صحیح ابن حبان (۱۶۷/۳ ح ۱۸۵۷ والموارد: ۴۸۵) مسند احمد (۳۱۸/۴ ح ۱۹۰۷۵) سنن نسائی(۱۲۶/۲ ح ۸۹۰) سنن ابی داؤد مع بذل المجہود (۴۳۷/۴، ۴۳۸ ح ۷۲۷ وسندہ صحیح)

    جائزہ:
    ۱۔ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ: صحابی جلیل (تقریب التہذیب : ۷۳۹۳)
    ۲۔ کلیب : صدوق (تقریب التہذیب: ۵۶۶۰)
    ۳۔ عاصم بن کلیب: صدوق رمی بالارجاء (تقریب التہذیب : ۳۰۷۵)
    یہ صحیح مسلم کے راوی ہیں۔
    ۴۔ زائدہ بن قدامہ: ثقۃ ثبت صاحب سنۃ (تقریب التہذیب: ۶۹۸۲)
    ۵۔ ابوالولید ہشام بن عبدالملک الطیالسی: ثقۃ ثبت (تقریب التہذیب: ۷۳۰۱)
    ۶۔ الحسن بن علی الحلوانی: ثقۃ حافظ لہ تصانیف (تقریب التہذیب: ۱۲۶۲)
    نیموی نے بھی آثار السنن (ص۸۳) میں کہا: "واسنادہ صحیح"

    تشریح: "الکف والرسغ والساعد" اصل میں ذراع (حدیث بخاری: ۷۴۰) کی تشریح ہے۔
    المعجم الوسیط (۴۳۰/۱) میں ہے: " الساعد: مابین المرفق الکف من اعلی"
    ساعد کہنی اور ہتھیلی کے درمیان (اوپر کی طرف) کو کہتے ہیں۔
    حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں: "لان العبرۃ بعموم اللفظ حتی یقوم دلیل علی التخصیص"
    جب تک تخصیص کی دلیل قائم نہ کی جائے عموم لفظ کا ہی اعتبار ہوتا ہے۔
    (فتح الباری ۲۶۱/۱۲ تحت ح ۲۹۵۱)
    "بعض الساعد" کی تخصیص کسی حدیث میں نہیں ہے، لہٰذا ساری "الساعد" پر ہاتھ رکھنا لازم ہے، تجربہ شاہد ہے کہ اس طرح ہاتھ رکھے جائیں تو خودبخود سینے پر ہی ہاتھ رکھے جاسکتے ہیں۔

    دلیل نمبر ۲:
    (مسنداحمد ۲۲۶/۵ح۲۲۳۱۳ وسندہ حسن والتحقیق لابن الجوزی ۲۸۳/۱)

    سند کی تحقیق
    ۱۔ یحیی بن سعید (القطان): ثقۃ متقن حافظ امام قدوۃ من کبار التاسعۃ (تقریب التہذیب: ۷۵۵۷)
    ۲۔ سفیان (الثوری): ثقۃ حافظ فقیہ عابدامام حجۃ من روؤس الطبقۃ السابعۃ وکان ربما دلس (تقریب التہذیب: ۲۴۴۵)
    ۳۔ سماک بن حرب:صدوق وروایتہ عن عکرمۃ خاصۃ مضطربۃ وقد تغیر باخرۃ فکان ربما تلقن۔ (تقریب التہذیب: ۲۶۲)
    (دیکھئے بذل المجہود ج ۴ ص۴۸۳، تصنیف خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی)
    سماک کی روایت صحیح مسلم ، بخاری فی التعلیق اور سنن اربعہ میں ہے۔ (نیز دیکھئے ص۳۹) [یہ کتاب کا صفحہ ہے: محدث فورم پر سماک کی توثیق ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔۔شاکر]
    ۴۔ قبیصۃ بن ہلب (الطائی):
    ابن مدینی نے کہا: مجہول ہے
    نسائی نے کہا: مجہول ۔
    العجلی نے کہا: ثقہ ہے
    ابن حبان نے ثقہ لوگوں میں شمار کیا۔ (تہذیب التہذیب ۳۱۴/۷)
    ترمذی نے اس کی ایک حدیث کو حسن کہا (سنن الترمذی: ۲۵۲)
    اور ابوداؤد نے اس کی حدیث پر سکوت کیا۔(سنن ابی داؤد ج۴ص۱۴۷، کتاب الاطعمۃ ، باب کراہیۃ التقدز للطعام ح ۳۷۸۴)
    (قواعد الدیوبندیہ فی علوم الحدیث ص:۲۲۴، ۸۳)
    (قواعد فی علوم الحدیث ص ۲۲۳طبع بیروت)
    (قواعد فی علوم الحدیث ص ۳۵۸)
    تھانوی صاحب کے یہ اصول علی الاطلاق صحیح نہیں ہیں، ان پر مشہور عرب محقق عداب محمود الحمش نے اپنی کتاب "رواۃ الحدیث الذین سکت علیھم ائمۃ الجرح والتعدیل بین التوثیق والتجھیل" میں زبردست تنقید کی ہے۔ تھانوی صاحب کے اصول الزامی طور پرپیش کئے گئے ہیں۔
    قبیصہ کے والد ہلب رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ (تقریب التہذیب : ۷۳۱۵)

    ایک بے دلیل اعتراض
    نیموی صاحب فرماتے ہیں:
    (آثار السنن ص۸۷ ح۲۳۶)
    جواب
    نیموی صاحب کا یہ فرمان قرین صواب نہیں ہے، کیونکہ انھوں نے سفیان الثوری کے تفرد کو اپنے اس فیصلہ کی بنیاد بنایا ہے جب کہ حدیث کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ کسی راوی کا کسی لفظ میں منفرد ہونا اس لفظ کے غیر محفوظ ہونے کی کافی دلیل نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ الفاظ اس سے زیادہ ثقہ راوی کے الفاظ کے سراسر منافی نہ ہوں۔ حافظ ابن حجرؒ شرح نخبۃ الفکر میں فرماتے ہیں:
    (تحفۃ الدر ص ۱۹)
    ظاہر ہے کہ علی صدرہ کے الفاظ اضاف ہیں ، منافی نہیں ہیں۔

    شاہد نمبر۱:
    (ابن خزیمہ۲۴۳۱/۱ح ۴۷۹ واحکام القرآن للطحاوی ۱۸۶/۱ ح ۳۲۹)

    سند کا جائزہ:
    بعض آل تقلید نے اس کے راوی مؤمل بن اسماعیل پر جرح نقل کی ہے۔
    (بذل المجہود فی حل ابی داؤد ۴۸۶/۴ ، آثار السنن : ۳۲۵)
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏اپریل 25، 2011 #10
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    مؤمل بن اسماعیل

    تعدیل کرنے والے: تعدیل
    ۱: یحیٰ بن معین: ثقۃ (تاریخ ابن معین: ۲۳۵)
    ۲: الضیاء المقدسی: اورد حدیثہ فی المختارۃ (۳۴۵/۱ ح ۲۳۷)
    ۳: ابن حبان: ذکرہ فی الثقات وقال : ربما اخطا (۱۸۷/۹)
    ۴: احمد: روی عنہ (دیکھئے مجمع الزوائد ۸۰/۱)
    ۵: ابن شاہین: ذکرہ فی کتاب الثقات (۱۴۱۶)
    ۶: الدارقطنی: صحح لہ فی سننہ (۱۸۶/۲ح ۲۲۶۱)
    ۷: سلیمان بن حرب: یحسن الثناء علیہ (کتاب المعرفۃ والتاریخ ۵۲/۳)
    ۸: الحاکم: صحح لہ فی المستدرک (۳۸۴/۱)
    ۹: الذہبی: کان من ثقات البصریین (العبر ۳۵۰/۱)
    ۱۰: الترمذی: صحح لہ فی سننہ (۶۷۲)
    ۱۱: ابن کثیر : قواہ فی تفسیرہ (۴۳۲/۴)
    ۱۲: الہیثمی: ثقۃ وفیہ ضعف ، المجمع (۱۸۳/۸)
    ۱۳: ابن خزیمہ: اخرج عنہ ، فی صحیحہ (۲۴۳/۱ ح ۴۷۹)
    ۱۴: البخاری: اخرج عنہ تعلیقاً فی صحیحہ (دیکھئے ح ۲۷۰۰)
    وغیرہم ، نیز دیکھئے ص ۲۸تا ۳۸

    جرح کرنے والے: جرح
    ۱: ابوحاتم: صدوق شدید فی السنۃ کثیر الخطا یکتب حدیثہ (کتاب الجرح والتعدیل ۳۷۴/۸)
    * ابوزرعہ الرازی: فی حدیثہ خطا کثیر ( یہ قول ابوزرعہ سے ثابت نہیں ہے)
    ۲: یعقوب بن سفیان: یروی المناکیر عن ثقات شیوخنا۔۔۔۔(المعرفۃ والتاریخ ۵۲/۳)
    * الساجی: صدوق کثیر الخطا ولہ اوھام (یہ قول ثابت نہیں ہے)
    ۳: ابن سعد: ثقۃ کثیر الغلط (طبقات ابن سعد ۵۰۱/۵)
    * ابن قانع: صالح یخطئ (یہ قول ثابت نہیں ہے)
    ۴: الدارقطنی: صدوق کثیر الخطا (سوالات الحاکم للدارقطنی : ۴۹۲)
    *محمدبن نصر المروزی: سیئ الحفظ کثیر الغلط (یہ قول ثابث نہیں ہے)
    ۵: ابن حجر : صدوق سیئ الحفظ (تقریب التہذیب : ۷۰۲۹)
    [مؤمل بن اسماعیل پر تفصیل بحث کے لیے دیکھئے ص ۲۸ تا ۳۸]
    ظفر احمد تھانوی صاحب ایک قاعدہ بتاتے ہیں کہ
    (قواعد فی علوم الحدیث ص ۲۲۳)
    اس بات سے قطع نظر کہ یہ اصول اصلاً باطل ہے، تھانوی صاحب کے نزدیک امام بخاری کی رائے میں مؤمل بن اسماعلیل ثقہ ہے، واللہ اعلم۔ امام بخاری نے مؤمل بن سعید الرحبی کو ذکر کرکے "منکر الحدیث" کہا ہے۔ (التاریخ الکبیر ج ۸ ص ۴۹)
    (مثلاً ملاحظہ لسان المیزان ج۶ ص۱۶۱)
    اس کی دیگر مثالیں بھی ہیں مثلاً ملاحظہ کریں العلاء بن الحارث۔
    (میزان الاعتدال ج۳ ص ۹۸ مع حاشیہ)

    تطبیق وتوفیق
    (الجرح والتعدیل الابن ابی حاتم ۳۷۴/۸شرح علل الترمذی لابن رجب ص ۳۸۴، ۳۸۵)
    (دیکھئے ص ۳۲،۳۳)
    اسی لیے ظفر احمد تھانوی دیوبندی نے بھی اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔ (دیکھئے اعلاء السنن ج۳ ص ۱۰۸)
    اس طرح جارحین و معدلین کے اقوال میں تطبیق وتوفیق ہوجاتی ہے اور تعارض باقی نہیں رہتا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    7
    مناظر:
    204
  2. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    66
    مناظر:
    821
  3. محمد طلحہ سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    482
  4. محمد طلحہ سلفی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    549
  5. محمد طلحہ سلفی
    جوابات:
    4
    مناظر:
    952

اس صفحے کو مشتہر کریں