1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام

'یونیکوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکر, ‏اپریل 24، 2011۔

  1. ‏دسمبر 29، 2015 #51
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! حنفی مسلک میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھنے ہی مسنون ہیں اور اسی پر احادیث دلالت کرتی ہیں جیسا کہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں پھر سے لکھے دیتا ہوں۔

    سنن أبي داود حدیث نمبر 646 عَنْ ابْنِ جَرِيرٍ الضَّبِّيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
    يُمْسِكُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ عَلَى الرُّسْغِ فَوْقَ السُّرَّةِ

    ابن جریر ضبی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے
    علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھاانہوں نے بائیں (ہاتھ) کو داہنے
    (ہاتھ) سے کلائی پر ناف کے اوپر پکڑ (روک) رکھا تھا۔
    ابوداؤد کہتے ہیں سعید بن جبیر سے "ناف کے اوپر"کی روایت ہے ابو مجلز نے"ناف کے نیچے"کا ذکر کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی (ناف کے نیچے کی حدیث)مروی ہے اور وہ (حدیث) قوی (صحیح) نہیں ہے۔

    سنن أبي داود حدیث نمبر 647عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ
    أَخْذُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ

    ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہبیان کرتے ہیں نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے زیر ناف پکڑنا چاہیئے۔
    ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل کو سنا وہ عبد الرحمٰن بن اسحٰق کوفی کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔
    نوٹ: عبد الرحمٰن بن اسحٰق نے یہ روایت سیار ابی الحکم سے لی ہے۔ سیار ابی الحکم کی وفات 122 ہجری میں ہوئی ہے۔سیار ابی الحکم اور اس سے اوپر کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

    مسند أحمد حدیث عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
    إِنَّ مِنْ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ وَضْعُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ تَحْتَ السُّرَّةِ

    علی رضی اللہ تعالیٰ عنہفرماتے ہیں کہ نماز میں ہتھیلی پر ہتھیلی ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے
    یادرہے کہ ناف چونکہ کپڑے کے نیچے چھپی ہوتی ہے اور یہ محدود سی جگہ ہے اس لئے یہ کہنا کہ ہاتھ کہاں ہیں ناف کے اوپر یا ناف کے نیچے مشکل ہے۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تصریح فرما دی کہ ہاتھ ناف کے نیچے باندھنے سنت ہے۔

    سنن الترمذي:كِتَاب الصَّلَاةِ: بَاب مَا جَاءَ فِي وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلَاةِ:
    حدثنا قتيبة حدثنا أبو الأحوص عن سماك بن حرب عن قبيصة بن هلب عن أبيه قال ثم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يؤمنا فيأخذ شماله بيمينه
    قال وفي الباب عن وائل بن حجر وغطيف بن الحارث وابن عباس وابن مسعود وسهل بن سعد
    قال أبو عيسى حديث هلب حديث حسن والعمل على هذا ثم أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن أن يضع الرجل يمينه على شماله في الصلاة ورأى بعضهم أن يضعهما فوق السرة ورأى بعضهم أن يضعهما تحت السرة وكل ذلك واسع عندهم واسم هلب يزيد بن قنافة الطائي

    ابو عیسیٰ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ــــــــــــــ بعض ہاتھوں کو ناف کے اوپر باندھتے تھے اور بعض ناف کے نیچے ــــــ ــــــــــ الخ

    صحيح مسلم: كِتَاب الصَّلَاةِ:
    بَاب وَضْعِ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ تَحْتَ صَدْرِهِ فَوْقَ سُرَّتِهِ وَوَضْعُهُمَا فِي السُّجُودِ عَلَى الْأَرْضِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ

    تکبیر تحریمہ کے بعد سیدھا ہاتھ الٹے ہاتھ پر سینہ کے نیچے ناف کے اوپر باندھنا
    اوپر درج تمام روایات میں ہاتھ باندھنے کا مقام ناف ہی ہے۔ یہ حدیث چونکہ ”فعلی“ ہے (قولی یا تقریری نہیں) لہٰذا دیکھنے والے کو اندازہ کرنے میں غلطی لگ سکتی ہے کہ ناف ایک چھوٹی سی جگہ ہے اور مستور ہوتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
     
  2. ‏اپریل 20، 2017 #52
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی رکن
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    ابن عمار الموصلی نے کہا سماک بن حرب کے بارے میں محدثین کہتے ہیں کہ وہ غلطی کرتے تھے اور محدثین ان کی حدیث میں اختلاف کرتے ہیں ۔
    اگر کوئی کہے کہ محض غلطی کرنے سے کوئی ضعیف نہیں ہو جاتا لیکن غلطی کرنے سے وہ اس قابل نہیں رہ جاتا کہ اگر وہ کسی روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہو تو اس سے حجت قائم کی جاسکے ۔ابن حبان رحمہ اللہ نے تو الثقات ( ج ٤ ص ٣٣٩ ) میں سماک کو یخطيء کثیرا یعنی بہت زیادہ غلطیاں کرنے والا بھی کہا ہے۔

    اگر یہ ابن عمار الموصلی کا یہ اپنا قول نہ بھی ہو تو انہوں نے محدثین کی طرف منسوب کیا اور ہم نے ہمارے پچھلے مراسلات میں ان محدثین کی نشاندہی کی ہے جو سماک پر غیر عکرمہ کی سند پر بھی کلام کرتے تھے۔
     
  3. ‏اپریل 20، 2017 #53
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    گزارش ہے کہ ایک ہی جگہ بات کر لی جاۓ. کم از کم اس تھریڈ کو بخش دیا جاۓ.
     
  4. ‏اپریل 20، 2017 #54
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی رکن
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    شیخ کفایت اللہ اور شیخ زبیر علی زائی جنہیں ذہبی عصر اور امیر المومنین فی الحدیث کہتے ہیں یعنی شیخ معلمی خود التنکیل میں جلد ١ ص ٤٤١ پر ابن خراش سے ایک راوی کی توثیق کرتے ہیں اور جب اصل ماخذ یعنی تاریخ بغداد(جلد ٨ ص ٢٦٧ )میں اس قول کی سند دیکہی جائے تو وہاں بھی سند میں محمد بن محمد بن داؤد الکرجی ملتے ہیں۔
    ابن خراش کا قول سماک بن حرب کی حدیث میں کمزوری ہے معتبر ہے تبھی تو محدثین نے اپنی کتابوں میں نقل کیا دیکہیے
    ابن الجوزی (الضعفاء والمتروکین ج 2 ص 26 )
    امام مزی ( تہذیب الکمال فی اسماء الرجال ج 12 ص 121)
    امام ذہبی ( المغنی فی الضعفاء ج 1 ص 285 )
    (من تکلم فیه وهو موثق ج 1 ص 95 )
    (تاریخ الاسلام ج 8 ص 125 )
    بدر الدین عینی (مغانی الاخیار ج 1 ص 453 )
     
  5. ‏اپریل 20، 2017 #55
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی رکن
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    معافی چاہتا ہوں لیکن مجھے اس تھریڈ میں کافی دقتیں ہورہی تھی اقتباس لینے میں اسلیے یہاں پر جواب بھیجا ہے۔
     
  6. ‏اپریل 21، 2017 #56
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی رکن
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    ہم بتا دیں کے سماک منفرد نہیں جن پر ابن حبان نے ثقات میں ذکر کرنے کے ساتھ یخطیء کثیرا کی جرح کی ہے۔
    کچھ مثالیں پیش خدمت ہے

    ١-سدوس بن حبیب (الثقات ج ٤ ص ٣٤٩)
    ٢- شبيب بن بشر (الثقات ج ٤ ص ٣٥٩)
    ٣-مختار بن فلفل (الثقات ج ٥ ص ٤٢٩)
    ٤- يزيد بن درهم (الثقات ج ٥ ص ٥٣٨ )
    ٥-ربيعة بن سيف ( الثقات ج ٦ ص ٣٠١ )

    کوئی کہتے ہیں ان کی توثیق اصطلاحی مراد نہیں ہوتی بلکہ محض دیانت داری مراد ہوتی ہے یعنی کہ ابن حبان نے انہیں دیانت داری کے لحاظ سے ثقہ بتلایا ہے اور ضبط کے لحاظ سے جرح کی ہے
    ہم نے بھی محدثین کے اقوال سے بتلایا ہے کہ سماک ضبط اور حفظ کے اعتبار سے کمزور ہے اور غلطیاں کرتے تھے اور اس طرح کی جرح کرنے میں ابن حبان منفرد نہیں ہے جیسا کہ امام دار قطنی نے بھی سماک پر سئ الحفظ کی جرح کی ہے (علل الدار قطنی ج ١٣ ص ١٨٤) اور ابن عمار الموصلی نے بھی محدثین کی طرف اشارہ کیا ہے وہ سماک کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ غلطی کرتے تھے (تاريخ بغداد ج ٩ ص٢١٤ واسناده صحيح ) اور ابن خراش نے بھی ان کی حدیثوں میں کمزوری بتلائی ہے۔
    امام احمد رحمہ اللہ نے بھی کہا کہ سماک حدیث میں اضطراب کا شکار ہوجاتے تھے۔(الجرح والتعفیل لابن ابی حاتم ج ٤ ص ٢٧٩ )

    نوٹ : یہاں امام احمد نے کوئی قید نہیں لگائی کہ کسی خاص سے روایت کرنے میں ہی اضطراب کا شکار ہوتے تھے بلکہ انہوں نے تو عموما کہا۔

    لہذا ابن حبان جرح کرنے میں منفرد نہیں ہے اسلیے ان کی جرح معتبر ہوگی۔
    ابن حبان رحمہ اللہ کی ایک راوی پر اسطرح کی جرح کے تعلق سے شیخ البانی بھی کہتے ہیں

    انه كان يخطىء حتى خرج عن حد الاحتجاج به إذا انفرد (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة ج٢ ص ٣٠١ )
    ترجمه : شیخ البانی کہتے ہیں کہ وہ غلطی کرتا تھا حتی کہ وہ احتجاج پکڑے جانے کے حد سے باہر نکل گیا۔

    شیخ البانی جس راوی کے تعلق سے یہ کہے رہے ہیں اس پر تو ابن حبان نے صرف غلطی کرنے کی جرح کی ہے جبکہ سماک پر تو کثیر غلطیاں کرنے کی جرح کی ہے تو سماک جس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہوتو کیسے ان سے حجت قائم کی جائیگی۔؟؟

    اب اگر کوئی کہے کہ ابن حبان نے اپنی جرح کا اعتبار نہیں کیا اور اپنی صحیح میں ان سے روایت کی ہے۔
    اس طرح سے کہنا درست بھی معلوم نہیں ہوتا کیونکہ حافظ ابن حجر بھی النکت میں کہتے ہیں

    احتجاج ابن خزيمة وابن حبان بأحاديث أهل الطبقة الثانية؛ الذين يخرج مسلم أحاديثهم في المتابعات: كابن إسحاق، وأسامة بن زيد الليثي، ومحمد بن عجلان، ومحمد بن عمرو بن علقمة، وغير هؤلاء، اهـ.

    ابن خزیمۃ اور ابن حبان رحمہم اللہ نے طبقہ ثانیہ کے راویوں سے احتجاج کیا یے اور امام مسلم نے ان لوگوں سے احادیث متابعات میں لی ہے جن میں ابن اسحق، اسامہ بن زید اليثي اور محمد بن عجلان اور محمد بن عمرو بن علقمہ اور ان کے علاوہ سے۔

    معلوم ہوا محدثین ایسے راویوں کے روایت متابعات میں لیتے تھے اور اگر ان میں سے کسی کا متابع موجود نہ ہو اس سے احتجاج نہیں کرتے تھے۔


    لہذا ابن حبان کے نزدیک بھی سماک بن حرب کا درجہ یہ ہے کہ جب وہ منفرد ہو تو ان سے حجت قائم نہیں کی جائیگی۔
     
  7. ‏اپریل 21، 2017 #57
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,567
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    یہ نیچے اردو میں لکھا ہے شاید!!!!!!!!!!!!!!

     
  8. ‏اپریل 21، 2017 #58
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی رکن
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    منتظمین سے درخواست ہے الفاظ کی تصحیح کرلیں الجرح والتعدیل کی جگہ الجرح والتعفیل ہوگیا۔
    شکریہ
     
  9. ‏اپریل 21، 2017 #59
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    کوئی فائدہ نہیں ہے. جسکو نوٹس لینا چاہئے اسکا کوئی اتہ پتہ نہیں.
    تبصرہ کرنے سے روک نہیں رہا. لیکن دس دس تھریڈ اسی موضوع پر؟؟؟ چہ معنی دارد؟؟؟
    اور ہر جگہ وہی بات. حد ہے یار.
     
  10. ‏اپریل 21، 2017 #60
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,567
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    اگر ان کو روکیں گے تو یہ الزام ہم پر ہی دیں گے شاید اس لئے نظر انداز کیا جا رہا ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    7
    مناظر:
    44
  2. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    7
    مناظر:
    231
  3. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    102
    مناظر:
    1,133
  4. محمد طلحہ سلفی
    جوابات:
    4
    مناظر:
    524
  5. محمد طلحہ سلفی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    563

اس صفحے کو مشتہر کریں