1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 12، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 12، 2017 #1
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نماز میں ہاتھ باندھنے کی مختلف انواع و اقسام ملتی ہیں۔ کوئی ہتھیلی پر ہتھیلی رکھتا ہے۔ کوئی داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں گٹ پر کوئی دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑتا ہے کوئی سیدھے ہاتھ کی ذتاع کو بائیں ہاتھ کی ذراع پر رکھتا ہے۔
    گو ان تمام طریقوں سے ہاتھ باندھنے کی سنت تو ادا ہوگئی مگر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنے سارے طریقہ ہاتھ باندھنے کے ہیں؟ یہ سوال اٹھنا ایک قدرتی بات ہے۔ آئیے جائزہ لیں کہ اس قدر انواع کی روایات کی اصل کیا ہے۔
    دراصل ہاتھ باندھنے اور اس کے طریقہ پر مبنی کوئی قولی حدیث نہیں ہے میرے خیال میں (اگر کسی کے علم میں ہو تو ضرور بتائے)۔ جتنی احادیث ہیں وہ مشاہدہ پر مبنی ہیں۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہاتھ باندھتے تھے۔ عین ممکن ہے اور قرین قیاس یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ تو ایک ہی طرح باندھتے تھے فرق مشاہد کا ہے اور مشادہ میں اختلاف فطری بات ہے۔ اس سلسلہ کی کچھ احادیث پیش خدمت ہیں۔
    جاری
     
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • تکرار تکرار x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 12، 2017 #2
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ: بَابُ وَضْعِ اليُمْنَى عَلَى اليُسْرَى فِي الصَّلاَةِ:
    698 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ
    كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا يَنْمِي ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    قَالَ إِسْمَاعِيلُ يُنْمَى ذَلِكَ وَلَمْ يَقُلْ يَنْمِي

    حدیث کے مقصود حصے کا ترجمہ: لوگوں کو حکم دیا جاتا کہ دایاں ہاتھ بائیں ذراع پر رکھیں
    صحيح البخاري - (ج 4 / ص 389)
    أَبْوَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ
    بَاب اسْتِعَانَةِ الْيَدِ فِي الصَّلَاةِ إِذَا كَانَ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْتَعِينُ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ جَسَدِهِ بِمَا شَاءَ وَوَضَعَ أَبُو إِسْحَاقَ قَلَنْسُوَتَهُ فِي الصَّلَاةِ وَرَفَعَهَا وَوَضَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَفَّهُ عَلَى رُسْغِهِ الْأَيْسَرِ إِلَّا أَنْ يَحُكَّ جِلْدًا أَوْ يُصْلِحَ ثَوْبًا

    حدیث کے مقصود حصے کا ترجمہ: علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ہتھیلی الٹے ہاتھ کے گٹ پر رکھی
    صحيح مسلم، كِتَابُ الصَّلَاةِ، بَابُ وَضْعِ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ تَحْتَ صَدْرِهِ فَوْقَ سُرَّتِهِ، وَوَضْعِهِمَا فِي السُّجُودِ عَلَى الْأَرْضِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ؛
    حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَمَوْلًى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ
    أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ

    حدیث کے مقصود حصے کا ترجمہ: سیدھا ہاتھ الٹے ہاتھ کے اوپر رکھے
    سنن أبي داود: كِتَاب الصَّلَاةِ: بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ:
    621 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ
    كُنْتُ غُلَامًا لَا أَعْقِلُ صَلَاةَ أَبِي قَالَ فَحَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَالَ ثُمَّ الْتَحَفَ ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ وَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ قَالَ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ سَجَدَ وَوَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ أَيْضًا رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ
    قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ فَقَالَ هِيَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامٌ عَنْ ابْنِ جُحَادَةَ لَمْ يَذْكُرْ الرَّفْعَ مَعَ الرَّفْعِ مِنْ السُّجُودِ

    حدیث کے مقصود حصے کا ترجمہ: پھر بائیں کو دائیں سے پکڑا
    سنن النسائي: كِتَابُ الِافْتِتَاحِ بَابُ مَوْضِعِ الْيَمِينِ مِنَ الشِّمَالِ فِي الصَّلَاةِ:
    879 - أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ
    قَالَ قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا قَالَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ لَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا

    حدیث کے مقصود حصے کا ترجمہ: پھر دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی، گٹ، کلائی، پر رکھا
     
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 2
    • تکرار تکرار x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 12، 2017 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,251
    موصول شکریہ جات:
    1,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    کل ملا کر آپ کی بحث کو انھیں مسائل پر گھوم پھر کر آنا تھا. مجھے حیرت نہیں ہے اس سے پہلے بھی آپ اس کار خیر (بزعم خویش) میں فورم کے صفحات کالے کر چکے ہیں
     
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 12، 2017 #4
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,406
    موصول شکریہ جات:
    378
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    بھٹی صاحب کی آتما پھر سے منڈلا رہی ہے :)
     
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 13، 2017 #5
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    بھائی یہ میں خود پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ کن مسائل پر بات کروں گا یہ انہی میں سے ایک ہے۔
     
  6. ‏اکتوبر 13، 2017 #6
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    کیا آپ ہندوؤں کی طرح توہم پرست ہو؟
     
  7. ‏اکتوبر 13، 2017 #7
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    بھائی تمام ساتھیوں سے درخواست ہے کہ اصل موضوع پر ہی رہیں۔ اگر کسی کو ناپسند ہے تو اس کے دو طریقے ہیں۔
    یا تو وہ اس تھریڈ کو دیکھے ہی نہیں۔
    یا انتظامیہ سے کہ کر اس تھریڈ کو بند کروا دے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
    وجہ اس کی یہ کہ میں کسی کی نہ تو دل آزاری چاہتا ہوں اور نہ ہی زبردستی پسند ہے۔
    اس فورم کے منتظمین جو فیصلہ کریں سر آنکھوں پر۔
     
  8. ‏اکتوبر 13، 2017 #8
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,406
    موصول شکریہ جات:
    378
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    تمہیں یاد ہو نہ ہو!!
    ہمیں سب یاد ہے!!!
    :)
     
  9. ‏اکتوبر 15، 2017 #9
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    نماز میں ہاتھ باندھنے کے مختلف طریقوں میں سے سنت طریقہ کیا ہے اس سے قطع نظر کہ ہاتھ کہاں باندھیں؟
    سوال یہ ہے کہ ہاتھ باندھنے سے متعلق صحابہ کرام کے بیانات میں اختلاف حقیقی ہے یا وضعی؟
    الآثار لمحمد ابن الحسن - (ج 1 / ص 158)
    قال محمد : ويضع بطن كفه الأيمن على رسغه الأيسر تحت السرة فيكون الرسغ في وسط الكف

    کیا محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ کا بتایا ہؤا نماز میں ہاتھ باندھنے کا یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط؟
     
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 2
    • تکرار تکرار x 1
    • لسٹ
  10. ‏اکتوبر 31، 2017 #10
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    @عدیل سلفی صاحب موضوع کے دائرہ میں رہتے ہوئے یہاں بھی کچھ ارشاد فرمانا پسند کریں گے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں