1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 12، 2017۔

  1. ‏نومبر 11، 2017 #11
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    مصنف ابن ابی شیبہ: نسخۃ الشیخ محمد عابد السندی: حدیث نمبر 3959

    حدثنا وکیع عن موسیٰ بن عمیر عن علقمہ بن وائل بن حجر عن ابیہ قال رأیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم وضع یمینہ علیٰ شمالہ فی الصلاۃ تحت السرۃ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دایاں ہاتھ بائیں پر ناف کے نیچے رکھتے۔​
    الآثار لمحمد ابن الحسن - (ج 1 / ص 158)
    قال محمد : ويضع بطن كفه الأيمن على رسغه الأيسر تحت السرة فيكون الرسغ في وسط الكف

    محمد ابن الحسن (ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد) فرماتے ہیں کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کے اندر کا حصہ بائیں گٹ کے اوپر ناف کے نیچے رکھے اس طرح کہ گٹ ہتھیلی کے درمیان ہو۔
    یہ سنت طریقہ ہے نماز میں ہاتھ باندھنے کا۔
     
  2. ‏جنوری 11، 2018 #12
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    مصنف ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ کے دو قلمی نسخوں میں نماز میں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنے کا ذکر ہے۔
    لطف کی بات یہ ہے کہ سنن الترمذی رحمہ اللہ نے صرف دو طریقے لکھے جو چاروں آئمہ کے مطابق ہیں اور سلفیوں کے مطابق نہیں۔
    اور نووی رحمہ اللہ نے مسلم کے باب میں اس بات کی وضاحت کردی کہ ہتھ سینہ سے نیچے باندھنے چاہیئیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں