1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کا طریقہ

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏مارچ 10، 2017۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏مارچ 31، 2017 #71
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,183
    موصول شکریہ جات:
    330
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    یہ آپکی جہالت ہے کچھ سیکھ لیتے زندگی میں تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے



    واقعی عقل کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے بھی نابینا ہو
     
  2. ‏مارچ 31، 2017 #72
    سلفی حنفی حنیف

    سلفی حنفی حنیف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2017
    پیغامات:
    290
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    نماز میں ہاتھ باندھنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے بائیں کو گٹ کے پاس سے کلائی کو پکڑیں۔
    یہ طریقہ احادیث کے مطابق ہے جبکہ تصویر میں دکھائے گئے تینوں طریقے احادیث کے مخالف ہیں۔
    اس مذکورہ طریقہ سے ہتھ اگر ناف سے نیچے رکھیں گے تو سنت کے مطابق صف بن سکے گی اور اگر سنت طریقہ پر ہاتھ باندھ ناف سے اوپر کی طرف لائیں تو کہنیاں کندھوں سے باہر کی طرف نکلنا شروع ہو جائی گی۔ جب ہاتھ کی کلائیاں ایک سیدھ میں آجائیں گی تو کہنیاں سب حالتوں سے زیادہ باہر کی طرف ہوں گی۔
    سنت طریقہ کے مطابق ہاتھ باندھ کر اگر مزید سینہ کی طرف لے جانا چاہیں گے تو یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوگا۔
    قارئین سے گزارش ہے کہ عملا اس کو کر کے دیکھ لیں۔
    علاوہ ازیں درج ذیل کو بھی مد نظر رکھیں
     
  3. ‏مارچ 31، 2017 #73
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,595
    موصول شکریہ جات:
    2,429
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی اور اسی راوی کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے!
    سنت کے دشمنوں کے لئے یہ تکلیف دہ عمل ہو گا!
    یہ روایت تو آپ ثابت نہ کرسکے!
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 31، 2017 #74
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,183
    موصول شکریہ جات:
    330
    تمغے کے پوائنٹ:
    147


    یہ روایات علماء احناف کے نزدیک بھی ضعیف ہیں لیکن موصوف اپنا منجن بیچنے پر تلے ہوئے ہیں

    علامہ عینی حنفی رحمتہ اللہ لکھتے ہیں:
    فإن قلت: كيف يكون الحديث حجة على الشافعي وهو حديث ضعيف لا يقاوم الحديث الصحيح والآثار التي احتج بها مالك والشافعي، هو حديث وائل بن حجر أخرجه ابن خزيمة في " صحيحه " قال: «صليت مع رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فوضع يده اليمنى على اليسرى على صدره» ".
    اگر تم کہو کہ یہ حدیث حدیث علی رضی اللہ عنہ شافعی کے خلاف کیسے حجت ہوسکتی ہے جبکہ یہ ضعیف ہے اور اس صحیح حدیث کے ہم پلہ ہے نہ ان آثار کے ہم پلہ ہے جن سے مالک اور شافعی نے حجت پکڑی ہے اور وہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جسے امام ابن خزیمہ بے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ کر سینے پر رکھا.
    البناية شرح الهداية للعيني ٢/١٨٢


    شمس الدین محمد بن محمد بن محمد بن امیر الحجاج رحمتہ اللہ لکھتے ہیں:
    لم يثبت حديث يعين محل الوضع إلا حديث وائل المذكور
    کس مقام پر ہاتھ باندھے جائیں؟ اس کی تعیین کے سلسلے میں وائل بن حجر کی مذکوہ حدیث کے علاوہ کوئی حدیث ثابت نہیں.
    شرح المنية بحواله درة في إظهار غش نقد الصرة ص ٦٧

    زین الدین بن ابراہیم بن محمد المعروف بابن نجیم المصری لکھتے ہیں:
    ولم يثبت حديث يوجب تعيين المحل الذي يكون فيه الوضع من البدن إلاحديث وائل المذكور
    جسم کے کس حصے پر ہاتھ باندھے جائیں؟ اس سلسلے میں وائل بن حجر کی مذکورہ حدیث کے علاوہ کوئی حدیث ثابت نہیں ہے.
    البحر الرئق شرح كنز ا لدقائق ١/٣٢٠

    ابو الحسن نورالدین السندی حنفی لکھتے ہیں:
    وأما حديث إن من السنة وضع الأكف على الأكف في الصلاة تحت السرة فقد اتفقوا على ضعفه. كذا ذكره ابن الهمام نقلاً عن النووي، وسكت عليه.
    رہی حدیث کہ سنت میں سے ہے کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے رکھنا تو اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق یے امام ابن الہمام نے اسی طرح نووی سے نقل کیا ہے اور اس پر خاموشی اختیار کی ہے.
    حاشية السندي علي سنن ابن ماجه ١/٢٧١

    علامہ محمد حیات سندھی حنفی نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے.
    فتح الغفور في وضع الأيدي علي الصدور

    علامہ عبد الحی لکھنوی فرماتے ہیں:
    ضعيف متفق علي ضعفه كذا قال النووي
    یہ حدیث ضعیف ہے اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے جیسا کہ نووی نے کہا ہے.
    حاشية علي الهداية ١/١٠٢
    نقلآ عن التعليق المنصور ص ٦٩


    مولانا انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں:
    وأما في تحت السرة فلنا أثر علي في سنن أبي داود بسند ضعيف .
    تحت السرة کے سلسلے میں ہمارے لئے سنن ابی داود میں علی رضی اللہ عنہ کا ضعیف سند سے اثر ہے.
    العرف الشذي للكشميري ١/٢٦١
     
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 31، 2017 #75
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,727
    موصول شکریہ جات:
    971
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

    ذمہ داران فورم سے گزارش ہے کہ وہ اس تھریڈ کو مقفل کر دیں. میں نے یہ تھریڈ صرف بغرض تفہیم شروع کیا تھا.
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں