1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 29، 2019۔

  1. ‏مئی 09، 2019 #41
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    وسیلہ کی تشریح:
    وسیلہ کے متعلق خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    ’’تحقیق وسیلہ بہشت میں ایک درجہ ہے جو صرف ایک بندے کے لائق ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے (اذان کی دعا پڑھ کر) ﷲ سے میرے لیے وسیلہ مانگا اس کے لیے (میری) شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘
    (مسلم، الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول الموذن ۴۸۳.)
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے معلوم ہوا کہ وسیلہ بہشت میں ایک بلند و بالا درجے کانام ہے۔

    دعائے اذان میں اضافہ:
    مسنون دعائے اذان میں بعض لوگوں نے چند الفاظ بڑھا رکھے ہیں اور وہ الفاظ مروجہ کتب نماز میں بھی موجود ہیں۔ دعائے مسنون کے جملہ (وَالْفَضِیْلَۃَ) کے بعد (وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ) کی زیادتی کرتے ہیں اور آگے (وَعَدْتَّہُ) کے خالص دودھ میں (وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ) کا پانی ملا رکھا ہے اور پھر اخیر میں مسنون دعا کے اندر (یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ) کی آمیزش ہے افسوس! کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودہ دعا میں یہ خامی رہ گئی تھی جو بعد کے لوگوں نے اپنے اضافے سے پوری کی ہے؟ مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پاک میں کمی یا بیشی کرنے کے تصور سے کانپ اٹھنا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو باوضو ہو کر سونے سے پہلے پڑھنے کے لیے ایک دعا بتائی۔ سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے پڑھ کر سنائی تو بِنَبِیِّکَ کی جگہ بِرَسُوْلِکَ یعنی نبی کی جگہ رسول کہا۔ تو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (میرے بتائے ہوئے لفظ نبی کو رسول سے مت بدلو بلکہ) بِنَبِیِّکَ ہی کہو۔
    (بخاری، الوضوء، باب فضل من بات علی الوضوء ۷۴۲، ومسلم، الذکر والدعاء، باب ما یقول عند النوم۰۱۷۲.)
    اس سے معلوم ہوا کہ مسنون دعائیں اور ورد توقیفی (ﷲ کی طرف سے ) ہیں اور ان کی حیثیت عبادت کی ہے لہٰذا ان میں کمی بیشی جائز نہیں لہٰذا (کسی قرینہ یا دلیل کے بغیر) متکلم کے صیغے کو جمع کے صیغے سے بدلنا درست نہیں ہے اس کی بجائے بہتر یہ ہے کہ متکلم کا صیغہ ہی بولا جائے البتہ نیت میں یہ رکھا جائے کہ میں یہی دعا فلاں فلاں کے حق میں بھی کر رہا ہوں۔ نیز مسنون دعاؤں اور اوراد کے ہوتے ہوئے خود ساختہ عربی دعاؤں، وظیفوں اور درودوں کا التزام کرنا درست نہیں ہے اور اگر ان کے کچھ الفاظ شرک، کفر یا بدعت پر مشتمل ہوں تو اس صورت میں ان کا پڑھنا قطعی طور پر حرام ہو جاتا ہے لیکن افسوس کہ جاہل لوگ روزانہ علی الصبح پابندی کے ساتھ درود تاج، درود لکھی اور درود ہزاری وغیرہ کی ’’تلاوت‘‘ کرتے ہیں۔ اﷲ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین (ع،ر)
     
  2. ‏مئی 10، 2019 #42
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اذ۱ن کے مسائل

    ہر نماز کے وقت اذان:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے۔ اور تم میں سے بڑا امامت کرائے۔‘‘
    (بخاری، الاذان، باب من قال: لیؤذن فی السفر موذن واحد، ۸۲۶، مسلم، المساجد، باب من احق بالامامۃ، ۴۷۶.)

    اذان کا طریقہ:
    سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے ہوئے کانوں میں انگلیاں ڈالتے تھے۔
    (بخاری تعلیقا، الاذان، باب ھل یتتبع الموذن فاہ ھھنا وھھنا، ترمذی، الصلاۃ، باب ماجاء فی ادخال الاصبع الاذن عند الاذان، ۷۹۱.)
    سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ کہتے ہوئے منہ دائیں جانب پھیرتے تھے اور حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ کہتے وقت بائیں طرف۔
    (بخاری، الاذان، باب ھل یتتبع الموذن فاہ ھھنا و ھھنا ۴۳۶ و مسلم، الصلاۃ باب سترۃ المصلی، ۳۰۵.)

    اذان پر اجرت:
    سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کی قوم کا امام مقرر کیا اور فرمایا:
    ’’مؤذن وہ مقرر کرنا جو اپنی اذان پر مزدوری نہ لے۔‘‘
    (ابو داؤد، الصلاۃ، باب اخذ الاجر علی التاذین، ۱۳۵۔ ترمذی، الصلاۃ باب ماجاء فی کراھیۃ ان یاخذ علی الاذان اجرا ۹۰۲۔ اسے حاکم ۱/ ۹۹۱، ۱۰۲ اور ذہبی نے صحیح کہا۔)
    البتہ اگر کوئی مؤذن کو ہدیہ دے تو اس کا لینا جائز ہے ۔
    سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھلائی۔ میں نے اذان کہی تو آپ نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں چاندی کی کوئی چیز تھی۔
    (نسائی، الاذان، کیف لاذان ،۳۳۶.)

    بلند آواز والا مؤذن:
    مؤذن وہ مقرر کرنا چاہیے جو بلند آواز والا ہو۔
    سیّدنا عبد ﷲ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا:
    ’’سیدنا بلال کو اذان سکھاؤ کیونکہ وہ تم سے بلند آواز ہے۔‘‘
    (أبو داود الصلاۃ باب کیف الاذان: ۹۹۴، ترمذی: ۹۸۱)
    ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مسجد کے قریب تمام گھروں سے میرا مکان اونچا تھا اور سیدنا بلال اس (مکان) پر (کھڑے ہو کر) فجر کی اذان دیتے تھے۔
    (ابو داود، الصلاۃ، باب الاذان فوق المنارۃ، ۹۱۵ ابن حجر نے حسن کہا۔)
     
  3. ‏مئی 10، 2019 #43
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اذان اول وقت کہنا:
    اذان اول وقت کہنی چاہیے جبکہ اقامت امام کے آنے پر کہنی چاہیے۔
    سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ زوال کے وقت اذان کہہ دیتے تھے لیکن جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لیے) نہ نکلتے اقامت نہ کہتے۔ پس جب آپ نکلتے تو آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔
    (مسلم، المساجد، متی یقوم الناس للصلاۃ۶۰۶.)

    نیند کی وجہ سے غلطی:
    سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن سیّدنا بلال نے فجر کے طلوع ہونے سے پہلے اذان کہہ دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’واپس جاؤ اور اعلان کرو کہ بندہ سو گیا تھا۔‘‘(نیند کی وجہ سے غلطی ہوئی) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ واپس گئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ بے شک بندہ سو گیا تھا۔
    (ابو داؤد الصلاۃ باب فی الاذان قبل دخول الوقت،۲۳۵.)

    اذان کے بعد دعا:
    سیدنا مکحول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’دعا کی قبولیت لشکروں کے ٹکرانے کے وقت، نماز کی اقامت کے وقت اور بارش کے نزول کے وقت تلاش کرو۔‘‘
    (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ للالبانی۹۶۴۱.)
    سیدنا عبد ﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمایا:
    ’’جیسے مؤذن کہتا ہے تو بھی اسی طرح جواب دے پھر جب تو جواب سے فارغ ہو جائے تو (دعا) مانگ! تیری دعا قبول کی جائے گی۔
    (ابو داؤد، الصلاۃ، باب مایقول اذا سمع الموذن، ۴۲۵، اسے امام ابن حبان: ۵۹۲ نے صحیح کہا۔)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اذان اور تکبیر کے درمیان ﷲ تعالیٰ دعا رد نہیں فرماتا۔‘‘
    (ابو داود:۱۲۵، ترمذی الصلاۃ، باب: ما جاء فی ان الدعاء لا یرد بین الأذان والإقامۃ: ۲۱۲ نے حسن صحیح کہا۔)
    * بیماریوں اور وباء کے موقع پر لوگ گھر گھر اذانیں دیتے ہیں یہ سنت سے ثابت نہیں۔ کیونکہ اس سلسلے میں پیش کی جانے والی تمام روایات ضعیف ہیں۔
     
  4. ‏مئی 10، 2019 #44
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اقامت اور اذان میں وقفہ:
    اقامت، اذان کے فورا بعد نہیں ہونی چاہیے کیونکہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ’’اذان اور تکبیر کے درمیان نفل نماز ہے۔ آپ نے تین بار یہ کلمات کہے پھر فرمایا: جس کا دل چاہے (نماز پڑھے)۔‘‘
    (بخاری الاذان، باب کم بین الاذان والاقامۃ و من ینتظر الاقامۃ؟ حدیث ۴۲۶ و مسلم، صلوۃ المسافرین، باب بین کل اذانین صلاۃ، حدیث ۸۳۸.)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ کرو کہ پانی پینے والا سہولت سے پی لے اور کھانا کھانے والا تسلی سے کھانا کھا لے۔‘‘
    (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ للالبانی۷۸۸.)

    طلوع فجر سے پہلے اذان :
    صبح صادق سے کچھ دیر پہلے بھی ایک اذان ہے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’تمہیں بلال کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ رات کو اذان دیتے ہیں تاکہ تہجد پڑھنے والا لوٹ آئے اور سونے والا خبردار ہو جائے۔
    (بخاری، الاذان،باب الاذان قبل الفجر، ۱۲۶ ومسلم: ۳۹۰۱.)
    ہمارے ہاں یہ اذان فجر کی اذان سے کافی وقت پہلے کہی جاتی ہے یہ درست نہیں ہے کیونکہ یہ سحری کرنے اور نماز فجر کی تیاری کے لیے ہے۔
    سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: دونوں موذنوں کے درمیان صرف اس قدر وقفہ ہوتا تھا کہ ایک اذان دے کر اترتا اور دوسرا اذان کے لیے چڑھ جاتا۔
    (مسلم، الصیام، باب بیان ان الدخول فی الصوم یحصل بطلوع الفجر :۲۹۰۱.)

    اقامت کے بعد سنتیں ادا کرنا:
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جبکہ موذن اقامت کہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "کیا دو نمازیں اکھٹی ہیں؟"
    (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ۸۸۵۲.)
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جب اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہوتی۔‘‘
    (مسلم، صلاۃ المسافرین، باب کراھیۃ الشروع فی نافلۃ بعد شروع الموذن، ۰۱۷.)
    اگر کوئی جماعت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سنتیں پڑھے گا تو پھر ’’نیکی برباد گناہ لازم‘‘ والا محاورہ پورا ہو جائے گا۔ لہٰذا نمازیوں کو چاہیے کہ اگر وہ تشہد کے قریب نہ پہنچے ہوئے ہوں تو فورا سنتیں توڑ کر جماعت کے ساتھ شامل ہو جائیں ہاں اگر کوئی شخص یہی نماز اس سے پہلے جماعت کے ساتھ ادا کر چکا ہو تو پھر وہ سنتیں جاری رکھ سکتا ہے۔ وﷲ اعلم۔
     
  5. ‏مئی 10، 2019 #45
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نماز کے لیے وقار سے چلنا:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جب اقامت کہی جائے تو صف میں شامل ہونے کے لیے نہ بھاگو بلکہ وقار کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ جو نماز تم (امام کے ساتھ) پالو وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے بعد میں پورا کرو۔‘‘
    (بخاری، الاذان، باب لا یسعی إلی الصلاۃ ۶۳۶، ومسلم: ۲۰۶.)

    اذان سن کر مسجد سے نکلنا:
    ایک شخص اذان سن کر مسجد سے نکلا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بے شک اس شخص نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
    (مسلم، المساجد، باب النھی عن الخروج من المسجد اذا اذن الموذن ۵۵۶.)
    شرعی عذر یا نماز کی تیاری کے سلسلہ میں باہر جانا پڑے تو جائز ہے۔

    اقامت کے بعد نماز میں تاخیر:
    حمید روایت کرتے ہیں کہ میں نے ثابت بنانی سے پوچھا:
    "کیا نماز کی اقامت ہو جانے کے بعد امام باتیں کر سکتا ہے؟"
    تو انہوں نے مجھے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی کہ
    "ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہو چکی تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور اقامت ہو جانے کے بعد نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتا رہا۔"
    (بخاری، الاذان، باب الکلام اذا اقیمت الصلاۃ، ۳۴۶، مسلم: ۶۷۳.)
    ایک دفعہ نماز کی اقامت ہو گئی۔ لوگوں نے صفیں برابر کر لیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں آپ نے لوگوں سے کہا۔ اپنی جگہ کھڑے رہو۔ پھر آپ نے (گھر جا کر) غسل فرمایا اور جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ پھر آپ نے نماز پڑھائی۔
    (بخاری، الاذان، باب اذا قال الامام مکانکم، ۰۴۶، مسلم: المساجد، باب: متی یقوم الناس للصلاۃ ۵۰۶.)
    بھول جانا انسانی کمزوری ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے اسی لیے بھول گئے۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ بھولنا شان رسالت کے خلاف نہیں ہے۔ [ع،ر])
     
  6. ‏مئی 10، 2019 #46
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    احکام قبلہ

    ارشاد باری تعالیٰ ہے :
    (فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) (البقرۃ: ۴۴۱)
    ’’اپنا چہرہ (نماز کے لیے) مسجد حرام کی طرف پھیر لو۔‘‘
    جب فرض نماز ادا کرنا مقصود ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترتے اور قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے۔
    (بخاری، تقصیر الصلاۃ، باب ینزل للمکتوبۃ ۹۹۰۱.مسلم :۰۴۵)
    قبلہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
    "مشرق اور مغرب کے درمیان (جنوب کی طرف) تمام سمت قبلہ ہے۔"
    (ترمذی، الصلوۃ، باب ما جاء ان ما بین المشرق والمغرب قبلۃ ۴۴۳، امام ترمذی نے حسن صحیح کہا۔)
    مدینہ سے کعبہ جنوب کی طرف ہے اس لیے آپ نے مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ کا تعین فرمایا ہمارے لیے پاکستان اور ہندوستان میں شمال اور جنوب کے درمیان مغرب کی طرف تمام سمت قبلہ ہے۔ تاکہ امت تنگی میں مبتلا نہ ہو۔ البتہ قبلہ کی سمت کا یقینی علم ہو جانے کے بعد قبلہ رخ ہونا ضروری ہے۔

    نفل نماز سواری پر:
    ’’نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر فرضوں کے علاوہ رات کی نماز اپنی سواری پر اشارے سے پڑھتے تھے جس طرف سواری کا رخ ہوتا ادھر ہی آپ کا منہ ہوتا تھا۔ اور سواری پر ہی وتر پڑھتے تھے۔‘‘
    (بخاری، الوتر، باب الوتر فی السفر، ۰۰۰۱، ومسلم، صلاۃ المسافرین، باب جواز صلاۃ النافلۃ علی الدابۃ فی السفر حیث توجھت، ۰۰۷.)
    اور کبھی نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول بھی دیکھنے میں آتا کہ جب اونٹنی پر نوافل ادا کرنے کا ارادہ فرماتے تو اونٹنی کا منہ قبلہ رخ کرتے اور تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع فرما دیتے اس کے بعد نوافل ادا فرماتے رہتے جس طرف بھی سواری کا رخ ہوتا۔
    (ابو داؤد، صلوۃ السفر، باب التطوع علی الراحلۃ والوتر ۵۲۲۱۔ ابن سکن نے صحیح اور منذری نے حسن کہا ۔)
    اس صورت میں آپ رکوع اور سجدہ سر کے اشارے سے کرتے البتہ سجدہ کی حالت میں رکوع کی نسبت سر کو زیادہ جھکا لیتے۔
    (ترمذی، الصلاۃ، باب ماجاء فی الصلوۃ علی الدابۃ حیث ما توجھت بہ ۱۵۳ ۔ اسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا۔)

    قبروں کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنا:
    قبلہ کی جانب قبر ہونے کی صورت میں وہاں سے ہٹ کر نماز ادا کرنی چاہیے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    ’’قبروں کی جانب منہ کر کے نماز ادا نہ کرو اور نہ قبروں پر بیٹھو۔‘‘
    (مسلم، الجنائز، باب النھی عن الجلوس علی القبر والصلاۃ علیہ۔ ۲۷۹.)

    نماز کی حالت میں صحیح قبلہ کی طرف رخ بدلنا:
    اگر کوئی نمازی غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہو اور اسے کوئی نماز کی حالت میں صحیح قبلہ کی اطلاع دے تو اسے نماز ہی میں اپنا رخ بدل لینا چاہیے۔
    سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف سولہ یا سترہ مہینے تک منہ کر کے نماز پڑھی پھر اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف منہ کر نے کا حکم دیا، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (کعبہ کی طرف منہ کرکے) نماز پڑھی پھر اس نے انصار کے کچھ لوگوں کو عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف پڑھتے ہوئے دیکھا تو کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کعبے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ یہ سن کر وہ لوگ (نماز ہی میں) کعبہ کی طرف گھوم گئے۔‘‘
    (بخاری الصلاۃ باب التوجہ نحو القبلۃ:۹۹۳.)
     
  7. ‏مئی 14، 2019 #47
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سترہ کا بیان

    سترہ سے مراد وہ چیز ہے جسے نمازی اپنے آگے کھڑا کرکے نماز پڑھتا ہے تاکہ اس کے آگے سے گزرنے والا سترہ کے آگے سے گزر جائے اور گناہ گار نہ ہو۔ یہ سترہ لاٹھی، برچھی، لکڑی، دیوار، ستون اور درخت سے ہوتا ہے۔
    سیدنا طلحہ بن عبید ﷲ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جب کوئی شخص اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر (کوئی چیز) رکھ لے تو نماز جاری رکھے اور جو کوئی سترے کے پیچھے سے گزرے اس کی پرواہ نہ کرے۔‘‘
    (مسلم، الصلاۃ، باب سترہ المصلی ۹۹۴.)
    عطاء فرماتے ہیں کہ پالان کے پچھلے حصے کی لکڑی ایک ہاتھ یا اس سے کچھ زیادہ (لمبی) ہوتی ہے۔
    (ابو داؤد، الصلاۃ، باب ما یستر المصلی، ۶۸۶، اسے ابن خزیمہ (۷۰۸) نے صحیح کہا۔)
    معلوم ہوا کہ کم از کم ایک ہاتھ لمبی لکڑی یا کوئی اور چیز سترہ بن سکتی ہے۔

    سترہ رکھنے کا حکم:
    سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جب تم نماز پڑھو تو سترے کی طرف پڑھو اور اس کے قریب کھڑے ہو۔"
    (ابو داؤد، الصلاۃ باب ما یومر المصلی ان یدرا عن الممر بین یدیہ، ۸۹۶،ابن ماجہ ۴۵۹.)
    سیدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    "تم میں سے ہر شخص کو سترے کا اہتمام کرنا چاہیے اگرچہ تیر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔"
    (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ للالبانی۳۸۷۲.صحیح ابن خزیمہ:۴۸۷)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اگر نمازی کے آگے اونٹ کے پالان کی پچھلی لکڑی جتنا لمبا سترہ نہ ہو اور بالغ عورت، گدھا یا سیاہ کتا آگے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اور سیاہ کتا شیطان ہے۔‘‘
    (مسلم، الصلاۃ، باب قدر ما یستر المصلی ۰۱۵.)

    مسجد میں سترہ:
    سیّدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ہمیشہ مسجد میں ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور فرماتے کہ بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں نماز پڑھا کرتے تھے۔
    (بخاری۲۰۵، مسلم، الصلاۃ، دنو المصلی من السترۃ، ۹۰۵.)
    بعض لوگ سترے کو بالکل اہمیت نہیں دیتے مسجد میں دیوار کے قریب ہو کر نفل پڑھنے کی بجائے پیچھے گزرنے کی جگہ پر بغیر سترے کے نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنا جائز نہیں ہے ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جب تم سترہ کو سامنے رکھ کر نماز پڑھو تو سترے کے قریب کھڑے ہو۔ شیطان تمہاری نماز کو توڑ نہ دے۔‘‘
    (ابو داؤد، الصلاۃ باب الدنو من السترۃ۵۹۶.)

    امام کا سترہ:
    جماعت کی صورت میں امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔
    سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحا میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برچھی نصب تھی۔ آپ نے دو رکعت ظہر کی نماز پڑھائی اور دو رکعت عصر کی۔ اس وقت برچھی کے دوسری طرف عورتیں اور گدھے چلے جا رہے تھے۔
    (بخاری، الصلاۃ، باب سترۃ الإمام سترۃ من خلفہ، ۵۹۴ ومسلم، الصلاۃ، باب سترۃ الصلی ۳۰۵.)
    ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر منیٰ میں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نماز پڑھا رہے تھے، میں کچھ صف کے حصہ کے آگے سے گزرا، پھر میں نیچے اترا، گدھی کو چھوڑا اور صف میں شامل ہو گیا اور مجھ پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
    (بخاری کتاب الصلواۃ،باب سترۃ الامام سترۃ من خلفہ:۳۹۴۔ مسلم ۴۰۵.)

    نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو گزرنے کی سزا معلوم ہو جائے تو اسے ایک قدم آگے بڑھنے کی بجائے چالیس تک وہیں کھڑے رہنا پسند ہو۔ ابو النضر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہے یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔‘‘
    (بخاری، الصلاۃ، باب اثم المار بین یدی المصلی، ۰۱۵، ۔ مسلم:۷۰۵.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’تم نماز ادا کرتے وقت آگے سترہ کھڑا کرو اور اگر کوئی شخص سترہ کے اندر (یعنی نمازی اور سترہ کے درمیان) سے گزرنا چاہے تو اس کی مزاحمت کرو اور اس کو آگے سے نہ گزرنے دو۔ اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑائی کرو۔ بے شک وہ شیطان ہے۔‘‘
    (بخاری، ۹۰۵ ومسلم، الصلاۃ، باب منع الماربین یدی المصلی، : ۵۰۵.)
    ایک روایت میں ہے کہ دوبار تو اس کو ہاتھ سے روکو اگر وہ نہ رکے تو اس سے ہاتھا پائی سے بھی گریز نہ کیا جائے(کیونکہ) وہ شیطان ہے۔
    (ابن خزیمہ ، ۸۱۸، اور انہوں نے اسے صحیح کہا۔)

    سترہ اور نمازی کے درمیان فاصلہ:
    سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جب کوئی شخص نماز پڑھتے ہوئے سترہ رکھے تو اس کے قریب کھڑا ہو تاکہ اس شخص اور سترے کے درمیان سے شیطان نہ گزر سکے۔"
    (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ۶۸۳۱.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کا فاصلہ ہوتا تھا۔
    (بخاری الصلاۃ، باب قدرکم ینبغی ان یکون بین المصلی والسترۃ، ۶۹۴، مسلم: ۸۰۵.)
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سترہ اور اپنے درمیان میں سے کسی چیز کو گزرنے نہ دیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نماز ادا فرما رہے تھے کہ ایک بکری دوڑتی ہوئی آئی وہ آپ کے آگے سے گزرنا چاہتی تھی۔ آپ نے اپنا بطن مبارک دیوار کے ساتھ لگا دیا تو بکری کو سترہ کے پیچھے سے گزرنا پڑا۔
    (بخاری الصلاۃ، باب قدرکم ینبغی ان یکون بین المصلی والسترۃ، ۶۹۴، مسلم: ۸۰۵.)

    نمازی کے آگے لیٹنا:
    ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سوتی تھی۔ میرے پاؤں آپ کے سامنے ہوتے تھے۔ جب آپ سجدہ کرتے تو میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور جس وقت آپ کھڑے ہوتے تو پاؤں پھیلا دیتی۔ ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
    (! ابن خزیمہ ۷۲۸، حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا۔ ! بخاری، الصلاۃ باب التطوع خلف المراۃ، ۳۱۵، مسلم الصلاۃ، باب الاعتراض بین یدی المصلی، ۲۷۲۔۲۱۵)
    معلوم ہوا کہ گزرنا تو منع ہے۔ لیکن اگر آگے کوئی لیٹا ہو تو کوئی حرج نہیں۔
     
  8. ‏مئی 20، 2019 #48
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تکبیر اولیٰ سے سلام تک

    گیارہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی طریقہ نماز پر شہادت:
    سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ (کی جماعت) میں کہا کہ میں تم (سب) سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے طریقے کو جانتا ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا پھر (ہمارے روبرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز) بیان کرو۔ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے (تو) اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے پھر تکبیر (تحریمہ) کہتے پھر قرآن پڑھتے پھر (رکوع کے لیے) تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے پھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھتے پھر (رکوع کے دوران) کمر سیدھی کرتے، پس نہ اپنا سر جھکاتے اور نہ بلند کرتے۔ (یعنی پیٹھ اور سر ہموار رکھتے۔) اور پھر اپنا سر رکوع سے اٹھاتے پس کہتے (سَمِعَ ﷲُ لِمَنْ حَمِدَہُ) پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ ان کو اپنے کندھوں کے برابر کرتے اور (قومہ میں اطمینان سے) سیدھے کھڑے ہو جاتے پھر (ﷲ اکبر) کہتے پھر زمین کی طرف سجدے کے لیے جھکتے پس اپنے دونوں ہاتھ (بازو) اپنے دونوں پہلوؤں (رانوں اور زمین) سے دور رکھتے اور اپنے دونوں پاؤں کی انگلیاں کھولتے (اس طرح کہ انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوتے) پھر اپنا سر سجدے سے اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے (یعنی بچھا لیتے) پھر اس پر بیٹھتے اور سیدھے ہوتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آجاتی (یعنی بڑے اطمینان سے جلسہ میں بیٹھتے) پھر (دوسرا) سجدہ کرتے، پھر (ﷲ اکبر) کہتے اور اٹھتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے۔ پھر اس پر بیٹھتے اور دل جمعی سے اعتدال کرتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے ٹھکانے پر آجاتی (یعنی اطمینان سے جلسۂ استراحت میں بیٹھتے) پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے پھر اسی طرح دوسری رکعت میں کرتے۔ پھر جب دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے تو (ﷲ اکبر کہتے) اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے۔ جیسے نماز کے شروع میں تکبیر اولیٰ کے وقت کیا تھا۔ پھر اسی طرح اپنی باقی نماز میں کرتے یہاں تک کہ جب وہ سجدہ ہوتا جس کے بعد سلام ہے (یعنی آخری رکعت کا دوسرا سجدہ جس کے بعد بیٹھ کر تشہد، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیرتے ہیں) اپنا بایاں پاؤں (دائیں پنڈلی کے نیچے سے باہر) نکالتے اور بائیں جانب کولہے پر بیٹھتے پھر سلام پھیرتے۔ (یہ سن کر) ان صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا۔ (اے ابو حمید ساعدی) تم نے سچ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔‘‘
    (ابو داؤد الصلاۃ، باب افتتاح الصلاۃ، ۰۳۷، ترمذی الصلاۃ، باب ماجاء فی وصف الصلاۃ، ۴۰۳۔ اسے ابن حبان ، ترمذی اور نووی نے صحیح کہا ۔
    اس حدیث سے بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا۔ (ع،ر)
     
  9. ‏مئی 20، 2019 #49
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نماز کی نیت:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’عملوں کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔‘‘
    (بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول الله، ۱، ومسلم، الامارۃ، باب قولہ انما الاعمال بالنیۃ: ۷۰۹۱.)
    اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے تمام (جائز) اعمال میں (سب سے پہلے)، پر خلوص نیت کر لیا کریں کیونکہ جیسی نیت ہو گی ویسا ہی پھل ملے گا۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’قیامت کے دن ایک شہید ﷲ کے سامنے لایا جائے گا ﷲ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا کہ میں تیری راہ میں لڑ کر شہید ہوا۔ اﷲ فرمائے گا: ’’تو جھوٹا ہے بلکہ تو اس لیے لڑا کہ تجھے بہادر کہا جائے‘‘ پس تحقیق کہا گیا (یعنی تیری نیت دنیا میں پوری ہو گئی۔ اب مجھ سے کیا چاہتا ہے) پھر منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر ایک شہرت کی غرض سے سخاوت کرنے والے مالدار اور ایک عالم کا بھی یہی حشر ہو گا۔‘‘
    (مسلم، الامارۃ، باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار، ۵۰۹۱.)
    وضو کرتے وقت دل میں یہ نیت کریں کہ ﷲ کے حضور (نماز میں ) حاضر ہونے کے لیے طہارت (وضو) کرنے لگا ہوں اور پھر جب نماز پڑھنے لگیں تو دل میں یہ قصد اور نیت کریں کہ صرف ﷲ ہی کی خوشنودی کے لیے اس کا حکم بجا لاتا ہوں۔
    فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’وضو اور نماز کی نیت کے الفاظ کو زبان سے ادا کرنا بدعت ہے۔ کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرم سے ثابت نہیں لہٰذا اسے ترک کر دینا واجب ہے۔ نیت کا مقام دل ہے لہٰذا الفاظ کے ساتھ نیت کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘(فتاوی اسلامیہ،اول۱۱۴.)
    اپنے دل میں کسی کام کی نیت کرنا اور ضرورت کے وقت کسی کو اپنی نیت سے آگاہ کرنا ایک جائز بات ہے مگر نماز سے پہلے نیت پڑھنا عقل، نقل اور لغت تینوں کے خلاف ہے۔
    - عقل کے خلاف اس لیے ہے کہ بہت سے ایسے کام ہیں جنہیں شروع کرتے وقت ہم زبان سے نیت نہیں پڑھتے کیونکہ ہمارے دل میں انہیں کرنے کی نیت اور ارادہ موجود ہوتا ہے مثلا جوتا پہننے لگتے ہیں تو کبھی نہیں پڑھتے ’’جوتا پہننے لگا ہوں‘‘ وغیرہ۔ تو کیا نماز ہی ایک ایسا کام ہے جس کے آغاز میں اس کی نیت پڑھنا ضروری ہو گیا ہے؟ نماز کی نیت تو اسی وقت ہو جاتی ہے جب آدمی اذان سن کر مسجد کی طرف چل پڑتا ہے اور اسی نیت کی وجہ سے اسے ہر قدم پر نیکیاں ملتی ہیں۔ لہٰذا نماز شروع کرتے وقت جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ نیت نہیں بدعت ہے۔
    - نقل کے خلاف اس لیے ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باقاعدگی کے ساتھ نمازیں پڑھا کرتے تھے اور اگر وہ اپنی نمازوں سے پہلے ’’نیت‘‘ پڑھنا چاہتے تو ایسا کر سکتے تھے ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن ان میں سے کبھی کسی نے نماز سے پہلے مروجہ نیت نہیں پڑھی اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنی نمازوں کا آغاز تکبیر تحریمہ (ﷲ أکبر) سے کرتے رہے، ثابت ہوا کہ نماز سے پہلے نیت نہ پڑھنا سنت ہے۔
    - لغت کے اس لیے خلاف ہے کہ نیت عربی زبان کا لفظ ہے عربی میں اس کا معنی ’’ارادہ‘‘ ہے اور ارادہ دل سے کیا جاتا ہے زبان سے نہیں، بالکل اسی طرح جیسے دیکھا آنکھ سے جاتا ہے پاؤں سے نہیں۔ دوسرے لفظوں میں نیت دل سے کی جاتی ہے، زبان سے پڑھی نہیں جاتی۔
    نوٹ:۔۔۔ بعض لوگ روزہ رکھنے کی دعا، حج کے تلبیہ اور نکاح میں ایجاب و قبول سے نماز والی مروجہ نیت کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں عرض یہ ہے کہ ’’روزہ رکھنے والی دعا والی حدیث ضعیف ہے لہٰذا حجت نہیں ہے۔ حج کا تلبیہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں کہنا ضروری ہے مگر نماز والی مروجہ نیت کسی حدیث میں وارد نہیں ہوئی، رہ گیا نکاح میں ایجاب و قبول کا مسئلہ، چونکہ نکاح کا تعلق حقوق العباد سے بھی ہے اور حقوق العباد میں محض نیت سے نہیں بلکہ اقرار، تحریر اور گواہی سے معاملات طے پاتے ہیں جب کہ نماز میں تو بندہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہوتا ہے جو تمام نیتوں کو خوب جاننے والا ہے پھر وہاں نیت پڑھنے کی کیا ضرورت ہے لہٰذا اہل اسلام سے گذارش ہے کہ اس بدعت سے نجات پائیں اور سنت کے مطابق نماز کا آغاز کریں۔ (ع،ر)
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ الفاظ سے نیت کرنا علماء مسلمین میں سے کسی کے نزدیک بھی مشروع نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم اور نہ ہی اس امت کے سلف اور ائمہ میں سے کسی نے الفاظ سے نیت کی۔ عبادات میں مثلا وضو، غسل، نماز، روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ میں جو نیت واجب ہے، بالاتفاق تمام ائمہ مسلمین کے نزدیک اس کی جگہ دل ہے۔ (الفتاوی الکبریٰ)
    امام ابن ہمام اور ابن قیم رحمھم اللہ بھی اس کو بدعت کہتے ہیں۔
     
  10. ‏مئی 20، 2019 #50
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قیام:

    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    (وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ) (البقرہ: ۸۳۲)
    ’’اور ﷲ کے لیے با ادب کھڑے ہوا کرو۔‘‘
    سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے بواسیر کی تکلیف تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’(ممکن ہو تو) کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھ کر ادا کرنے کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر (نماز ادا کرو)‘‘
    (بخاری، تقصیر الصلاۃ، باب اذا لم یطق قاعدا صلی علی جنب، ۷۱۱۱.)
    معلوم ہوا کہ کھڑے ہونے کی استطاعت کے باوجود بیٹھ کر فرض نماز ادا کرنا جائز نہیں۔
    البتہ نفل نماز میں قیام کی قدرت ہونے کے باوجود بیٹھنا جائز ہے اگرچہ اس کا آدھا ثواب ملے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ’’جو شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ افضل ہے اور جو بیٹھ کر پڑھے اسکو کھڑے ہونے والے کا آدھا ثواب ملے گا اور جو لیٹ کر پڑھے اس کو بیٹھنے والے کا آدھا ثواب ملے گا۔‘‘
    (بخاری، تقصیر الصلوۃ باب صلوۃ القاعد بالایماء: ۶۱۱۱۔)
    سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا:
    ’’بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے کا آدھا ثواب ملے گا۔‘‘
    (ابن ماجہ، اقامۃ الصلاۃ،صلاۃ القائد علی النصف من صلاۃ القائم،۰۳۲۱)
    جب نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی تو آپ نے جائے نماز کے قریب ایک ستون تیار کرایا جس پر آپ (نماز کے دوران) ٹیک لگاتے تھے۔
    (ابو داود الصلاۃ، باب الرجل یعتمد فی الصلاۃ علی عصا، ۸۴۹ حاکم اور ذہبی نے اس کو صحیح کہا)۔ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی بجائے ستون کے سہارے کھڑے ہونے کو ترجیح دی، اس سے معلوم ہوا کہ کوئی عذر ہو تو کسی چیز کا سہارا لے کر قیام کیا جا سکتا ہے خواہ فرض نماز ہو یا نفل، وﷲ اعلم۔ (محمد عبد الجبار)
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کا بڑا حصہ کھڑے ہو کر نوافل ادا کرتے اور کبھی بیٹھ کر۔ جب قراءت کھڑے ہو کر فرماتے تو (اسی حالت) قیام سے رکوع کی حالت میں منتقل ہوتے اور جب بیٹھ کر قراءت فرماتے تو اسی حالت میں رکوع اور سجود بھی فرماتے۔
    (مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جواز النافلۃ قائما و قاعدا، ۰۳۷.)
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کی عمر زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر قراءت فرماتے۔ جب قراءت سے تیس یا چالیس آیات باقی ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر ان کی تلاوت فرماتے پھررکوع میں چلے جاتے دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول ہوتا۔
    (بخاری، تقصیر الصلاۃ باب اذا صلی قاعدا ثم ، ۹۱۱۱ ومسلم:۱۳۷.)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں