1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 29، 2019۔

  1. ‏مئی 27، 2019 #61
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نماز کی مسنون قراءت:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ’’جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ اور قرآن مجید میں سے جو کچھ یاد ہو اس میں سے جو کچھ آسانی سے پڑھ سکے وہ پڑھ۔‘‘
    (بخاری، الاذان، باب امر النبی الذی لا یتم رکوعہ بالاعادۃ، ۳۹۷، مسلم: ۷۹۳.)
    نماز میں اگرچہ ہم جہاں سے چاہیں قرآن مجید کی تلاوت کر سکتے ہیں، لیکن یہاں ہم نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا ذکر کرتے ہیں کہ آپ کون کون سی سورت کس کس نماز میں پڑھتے تھے۔ اور کن سورتوں کی آپ نے فضیلت بیان کی۔
     
  2. ‏مئی 27، 2019 #62
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سورۃ اخلاص کی اہمیت:

    ایک انصاری مسجد قبا میں امامت کراتے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ سورت فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت پڑھنے سے پہلے (قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ) تلاوت فرماتے، ہر رکعت میں اسی طرح کرتے۔ مقتدیوں نے امام سے کہا کہ آپ (قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ) کی تلاوت کرتے ہیں پھر بعد میں دوسری سورت ملاتے ہیں کیا ایک سورت تلاوت کے لیے کافی نہیں ہے؟ اگر (قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ) کی تلاوت کافی نہیں تو اس کو چھوڑ دیں اور دوسری سورت کی تلاوت کیا کریں۔ امام نے جواب دیا، میں (قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ) کی تلاوت نہیں چھوڑ سکتا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ پیش کیا تو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے امام سے کہا کہ:
    ’’تم مقتدیوں کی بات تسلیم کیوں نہیں کرتے اس سورت کو ہر رکعت میں کیوں پڑھتے ہو؟‘‘
    اس نے کہا مجھے اس سورت کے ساتھ محبت ہے۔
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اس سورت کے ساتھ تیری محبت تجھے جنت میں داخل کرے گی‘‘
    (بخاری تعلیقا، الاذان، باب الجمع بین السورتین فی الرکعۃ:۴۷۷ سنن ترمذی، فضائل القرآن، باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص: ۱۰۹۲، ترمذی نے حسن غریب کہا۔)
    ایک صحابی نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرا ایک پڑوسی رات کو قیام میں صرف (قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ) تلاوت کرتا ہے دوسری کوئی آیت تلاوت نہیں کرتا، :
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔‘‘
    (بخاری، فضائل القرآن، باب فضل (قل ھوﷲ احد)، ۳۱۰۵.)
     
  3. ‏مئی 27، 2019 #63
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نماز جمعہ اور عیدین میں تلاوت:

    سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں عیدوں اور جمعہ (کی نمازوں) میں (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) اور (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ) پڑھتے تھے جب عید اور جمعہ ایک دن میں جمع ہوتے تو پھر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں سورتیں دونوں نمازوں میں پڑھتے۔
    (مسلم، الجمعۃ، باب ما یقرأ فی صلوۃ الجمعۃ، ۲۶۔(۸۷۸).
    حدیث مذکور سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورتوں کو ترتیب سے تلاوت کرنا ضروری نہیں، واللہ اعلم (ع، ر)۔
    عبید ﷲ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ مروان نے سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینے کا گورنر مقرر کیا اور خود مکہ چلے گئے۔ وہاں سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کی نماز پڑھائی اور اس میں سورۃ الجمعۃ اور المنافقون پڑھیں اور کہا کہ ان سورتوں کو جمعہ میں پڑھتے ہوئے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا تھا۔
    (مسلم، الجمعۃ، باب ما یقراء فی صلاۃ الجمعۃ، ۷۷۸.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید قربان اور عید الفطر میں (قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ) اور (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ) پڑھتے تھے۔
    (مسلم، صلاۃ العیدین، باب ما یقرأ بہ فی صلاۃ العیدین، ۱۹۸.)

    جمعہ کے دن نماز فجر کی قراءت:
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں (الم تَنزِيلُ)(السجدۃ) پہلی رکعت میں اور (هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ) (الدھر) دوسری رکعت میں پڑھتے تھے۔
    (بخاری، الجمعۃ باب ما یقرأ فی صلاۃ الفجر یوم الجمعۃ، ۱۹۸ ومسلم:۰۸۸.)
     
  4. ‏مئی 27، 2019 #64
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نماز فجر کی مسنون قراءت:

    سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں سورت (ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ) اور اس کی مانند (کوئی اور سورت) پڑھتے تھے۔
    (مسلم، الصلاۃ، باب القراء ۃ فی الصبح، ۸۵۴.)
    سیدنا عبد اللہ ابن السائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مکہ فتح ہونے کے بعد فجر کی نماز پڑھائی پس سورۂ مومنون (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ) شروع کی یہاں تک کہ موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کا ذکر آیا (تو) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آگئی اور آپ رکوع میں چلے گئے۔
    (مسلم، الصلاۃ، باب القراء ۃ فی الصبح، ۵۵۴.)
    سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں (واللیل اذا عسعس) (التکویر) پڑھتے ہوئے سنا۔
    (مسلم، الصلاۃ، باب القراء ۃ فی الصبح، ۶۵۴.)
    سیدنا ابو برزہ الاسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں 60 سے لیکر 100 آیات تک تلاوت فرماتے۔
    (بخاری، مواقیت الصلاۃ باب وقت الظہر عند النزول:۱۴۵۔مسلم:۱۶۴.)
    سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے چل رہا تھا۔ آپ (سفر میں) نماز صبح کے لیے اترے اور آپ نے صبح کی نماز میں (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) اور (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ) پڑھی۔
    (ابو داؤد، الوتر، باب فی المعوذتین، ۲۶۴۱۔)
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں دونوں رکعتوں میں (اِذاَ زُلْزِلَتِ) تلاوت فرمائی۔
    (ابو داؤد، الصلوۃ، باب الرجل یعید سورۃ واحدۃ فی الرکعتین، ۶۱۸ امام نووی نے صحیح کہا۔)

    فجر کی سنتوں کی قراءت:

    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنت کی دونوں رکعتوں میں نہایت ہلکی قراءت فرماتے یہاں تک کہ میں کہتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں۔‘‘
    (بخاری، التھجد، باب ما یقرأ فی رکعتی الفجر، ۱۷۱۱۔ و مسلم صلاۃ المسافرین، باب استحباب رکعتی سنۃ الفجر ۴۲۷.)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنتوں کی پہلی رکعت میں (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) اور دوسری رکعت میں (قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ) پڑھتے۔
    (مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب رکعتی سنۃ الفجر ۶۲۷.)
     
  5. ‏مئی 27، 2019 #65
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    عصر و ظہر کی نماز کی قراءت:

    سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھتے اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں ایک آیت (بلند آواز سے پڑھ کر) سنا دیتے تھے۔
    (بخاری، الاذان باب یقرا فی الاخریین بفاتحۃ الکتاب، ۶۷۷، مسلم:۱۵۴.)
    سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر میں (وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی) پڑھتے تھے۔ دوسری روایت میں ہے کہ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) پڑھتے اور عصر میں (بھی) اس کی مانند (کوئی سورت) پڑھتے تھے اور فجر میں لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔
    (مسلم، الصلاۃ باب القراء ۃ فی الصبح ، ۹۵۴، ۰۶۴.)
    سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں ( وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ) اور (وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ) یا اس جیسی سورۃ پڑھتے تھے۔
    (ابو داود، الصلاۃ، باب قدر القراءۃ فی صلاۃ الظھر والعصر، ۵۰۸ ابن حبان (حدیث ۵۶۴) نے اسے صحیح کہا۔)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ظہر کی آخری دونوں رکعتوں میں پندرہ آیات کے برابر قرأت فرماتے جبکہ نماز عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ہر رکعت کے اندر 15 آیات تلاوت فرماتے۔
    (مسلم، الصلاۃ، باب القراء ۃ فی الظھر والعصر، حدیث ۲۵۴.)
    معلوم ہوا کہ ظہر کی آخری دونوں رکعتوں میں سورت فاتحہ کے بعد قراءت کرنا بھی مسنون ہے۔ کبھی آپ کی قراءت طویل ہوتی۔ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ظہر کی جماعت کی اقامت ہوئی تو میں اپنے گھر سے بقیع قبرستان کی جانب قضائے حاجت کے لیے گیا وہاں سے فارغ ہو کر گھر پہنچا وضو کیا پھر مسجد آیا تو معلوم ہوا کہ ابھی تک نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہیں۔
    (مسلم، الصلاۃ، باب القراءۃ فی الظھر والعصر، ۴۵۴.)
    سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ گمان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت کو اتنا لمبا اس لیے فرماتے تھے کہ نمازی پہلی رکعت میں ہی شریک ہو سکیں۔
    (ابو داود، الصلاۃ،ما جاء فی القراء ۃ فی الظھر، ۰۰۸.)
     
  6. ‏مئی 27، 2019 #66
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نماز مغرب کی قرأ ت:

    مروان بن حکم سے سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
    ’’تم مغرب کی نماز میں چھوٹی سورتیں کیوں پڑھتے ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لمبی سورتیں پڑھتے ہوئے سنا‘‘
    (بخاری، الاذان باب القراء ۃ فی المغرب، حدیث : ۴۶۷.)
    سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے ہوئے سنا۔
    (بخاری:۵۶۷ و مسلم، الصلاۃ، باب القراء ۃ فی الصبح ، ۳۶۴.)
    سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز) مغرب میں سورۃ (وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفاً) پڑھتے ہوئے سنا۔
    (بخاری، الاذان، باب القراء ۃ فی المغرب ۳۶۷ ومسلم الصلاۃ باب القراء ۃ فی الصبح ۲۶۴.)
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب میں سورۃ الأعراف پڑھی اور اس سورت کو دونوں رکعتوں میں متفرق پڑھا۔
    (نسائی: الافتتاح،القراء ۃ فی المغرب:۲۹۹ اسے امام نووی نے حسن کہا۔)
     
  7. ‏مئی 27، 2019 #67
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نماز عشاء کی قرأ ت:

    سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز عشاء میں (وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ) پڑھتے ہوئے سنا اور میں نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز کسی کو نہیں سنا۔
    (بخاری، الاذان باب القراء ۃ فی العشاء، ۹۶۷ ومسلم، الصلاۃ، باب القراء ۃ فی العشاء، ۴۶۴.)
    سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا:
    ’’جب تم جماعت کراؤ تو (وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا) اور (وَالَّیْلِ إِذَا یَغْشٰی) اور (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) کی تلاوت کرو اس لیے کہ تیرے پیچھے بوڑھے، کمزور اور ضرورت مند (بھی) نماز ادا کرتے ہیں۔‘‘
    (بخاری، الاذان باب من شکا امامہ اذا طول، ۵۰۷ ومسلم: ۵۶۴.)
     
  8. ‏مئی 27، 2019 #68
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    کتنی اونچی آواز میں قرأت کرنی چاہیے:

    قرأت اتنی اونچی آواز کے ساتھ نہیں کرنی چاہیے کہ دوسرے نمازیوں کو تکلیف ہو اور ہونٹ بند کر کے بھی قرأت نہیں کرنی چاہیے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’نمازی اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے۔ اسے خیال کرنا چاہیے کہ وہ کس ذات سے سرگوشی کر رہا ہے اور تم قرآن مجید اونچی آواز کے ساتھ تلاوت کرکے اپنے ساتھیوں کو اضطراب میں نہ ڈالو۔‘‘
    (ابو داود، الصلاۃ، باب رفع الصوت بالقراء ۃ فی صلاۃ اللیل، ۲۳۳۱۔ اسے امام ابن حبان اور ابن خزیمہ نے صحیح کہا۔)
    ابو معمر رحمہ اللہ نے سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ سے کہا۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں قراءت کرتے تھے؟ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پوچھا گیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ سیدنا خباب فرمانے لگے کہ آپ کی داڑھی کی جنبش سے۔‘‘
    (بخاری، الاذان باب من خافت القراء ۃ فی الظھر والعصر، ۷۷۷.)
     
  9. ‏مئی 27، 2019 #69
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مختلف آیات کا جواب:

    ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ امام جب بعض مخصوص آیات کی تلاوت کرتا ہے تو بعض مقتدی نماز میں بآواز بلند ان کا جواب دیتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے کیونکہ سننے والے کو آیات کا جواب دینے کے بارے میں کوئی صحیح صریح روایت نہیں ہے۔ ہاں بعض آیات کی تلاوت کے بعد امام یا منفرد قاری (اپنے طور پر) ان کا جواب دے تو جائز ہے۔
    سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کی کیفیت بیان کرتے ہیں کہ جب آپ تسبیح والی آیت پڑھتے تو تسبیح کرتے جب سوال والی آیت تلاوت کرتے تو سوال کرتے اور جب تعوذ والی آیت پڑھتے تو اﷲ کی پناہ پکڑتے۔
    (مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب تطویل القراء ۃ فی صلاۃ اللیل، ۲۷۷.)
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) پڑھتے تو (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلیٰ) کہتے۔
    (ابو داؤد، الصلوۃ، باب الدعاء فی الصلوۃ، ۳۸۸.)
    سورۃ الغاشیۃ کے اختتام پر ’’اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا‘‘ کہنے کی کوئی دلیل نہیں۔ کسی حدیث میں ادنیٰ سا اشارہ بھی نہیں کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کو سورۃ الغاشیہ کے اختتام پر کہا ہو۔
     
  10. ‏مئی 27، 2019 #70
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بڑھاپے یا کند ذہنی کی وجہ سے قرآن مجید پڑھنے سے معذور شخص کی قرأت:

    سیدنا رفاعی بن رافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز سکھائی اور فرمایا اگر تمہیں قرآن مجید کا کچھ حصہ یاد ہے تو پڑھو ورنہ (حسب توفیق) الحمد للہ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہہ کر رکوع کر لو۔‘‘
    (ابو داؤد، الصلاۃ، صلاۃ من لا یقیم صلبۃ فی الرکوع السجود، ۱۶۸،ترمذی۲۰۳.)
    سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ بلا شبہ مجھے قرآن سے کچھ بھی یاد نہیں لہٰذا مجھے وہ سکھائیے جو مجھے کفایت کر جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔‘‘
    (ابو داؤد، ما یجزیء الامی والاعجمی من القراۃ۲۳۸.شیخ البانی نے حسن کہا ہے۔)
    فاتحہ کا نماز میں پڑھنا واجب ہے لہٰذا فاتحہ سیکھنے کی پوری کوشش کرنا انتہائی ضروری ہے اور یہ رعایت صرف اسی شخص کے لیے ہو سکتی ہے جو فاتحہ کو سیکھنے پر بھی قادر نہ ہو۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں