1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز کا درست طریقہ - عبد اللہ حیدر

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏اکتوبر 26، 2013۔

  1. ‏اکتوبر 29، 2013 #11
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    ------------------------------------------------------------------------------------------------------------------​
    نوٹ: یہ کتاب میرے پاس نا مکمل حصے کی صورت میں موجود تھی اسی لئے اس کتاب کا جتنا حصہ موجود تھا اتنا ہی پوسٹ کیا جا رہا ہے، ،،، الحمد للہ
    ------------------------------------------------------------------------------------------------------------------​
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 29، 2013 #12
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    عبداللہ حیدر بھائی ، کیا اس کتاب پر آپ کام مکمل کر چکے ہیں یا اتنا ہی ہوا ہے؟ اگر مزید کام ہو چکا ہے تو ازراہ کرم شیئر کیجئے۔
     
  3. ‏اکتوبر 30، 2013 #13
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم،
    عامر بھائی! اللہ آپ کو خوش رکھے اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آپ نے ان مضامین کو ایک ہی جگہ اکٹھا کر کے بڑا اچھا کام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور نافع بنائے۔
    شاکر بھائی! اس سلسلے کا آخری مضمون جلسہ استراحت کے بارے میں اردو محفل کی اس دھاگے میں پوسٹ کیا گیا تھا۔
    http://www.urduweb.org/mehfil/threads/نماز-کا-طریقہ-صحیح-احادیث-کی-روشنی-میں.27885/page-3
    اس کتاب کی تکمیل میری بڑی خواہشات میں سے ہے۔شاید یہ کام بھی’’علم ینتفع بہ‘‘ کے زمرے میں قبول کر لیا جائے اور قبر کے اندھیروں میں بھی نیکیوں میں اضافے کا سبب بنتا رہے۔ آپ بھائی میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے یہ کام لے لے اور جن مشکلات کا سامنا ہے اپنی رحمت سے انہیں دور فرمائے۔
    والسلام علیکم
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 30، 2013 #14
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    اس حدیث میں نماز ٹوٹنے سے مراد نماز باطل ہونا ہے یعنی اس کو دوبارہ پڑھنا ضروری ہے
    اس بات کو ثابت کونے کے لیے شارحین حدیث کی راے کو سامنے لانا ضروری ہے ، کن کن علماء نے اس حدیث سے نماز کا باطل ہونا مراد لیا ہے ذرا وضاحت فرما دیں جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 30، 2013 #15
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ عورت ، کتا اور گدھا وغیرہ نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ ان احادیث سے مراد کیا ہے؟ فقہائے کرام نے ان سے کیا مراد لیا ہے؟ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے کے لیے یا اس کی معلومات فراہم کرنے کے لیے اس کا پس منظر ضروری ہے۔ کاش کہ آپ ان احادیث کے پس منظر پر غور کر لیتے تو آج یہ غلط فہمی کبھی جنم نہ لیتی۔
    احادیث میں جو عورت، گدھا اور کالے کتے کاذکر ہے یہ وہ اشیا ہیں جو انسان کی نماز کی بگاڑ کا سبب بن سکتی ہیں۔ کیونکہ نماز کے آگے سے ان اشیا کا گزرنا خشوع اور خضوع کو مٹانے کے مترادف ہے۔ یہی حدیث کا مقصود ہے۔
    امام نووی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    ''وتاٴول ھولاء حدیث ابی ذر رضی اللہ عنہعلی ان المراد بالقطع نقص الصلاة لشغل القلب بھذہ الاشیاء ولیس المراد ابطالھا''(شرح مسلم، ج۴، ص۲۳۰)
    ترجمہ: ''یعنی جو حدیث ابو ذر رضی اللہ عنہکی ہے اس سے مراد نماز میں کمی ہونے کے ہیں (کیونکہ ان اشیا کا گزرنا) شغل قلب کا باعث ہے، اور اس سے مراد نماز کا باطل ہونا نہیں ہے (بلکہ خشوع و خضوع میں فرق آنا ہے)۔''
    امام شوکانی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    ''قال العراقی: واحادیث الباب تدل علی ان الکلب والمراة والحمار تقطع الصلاة، والمراد بقطع الصلاة ابطالھا، وقد ذھب الی ذالک جماعة من الصحابة منھم ابو ہریرة، وانس، وابن عباس رضی اللہ عنہم'' (نیل الاوطار، ج۳، ص۱۷)
    ترجمہ: '' علاقہ عراقی فرماتے ہیں کہ جو احادیث اس باب پر دلالت کرتی ہیں کہ کتاب، عورت اور گدھا نماز کو قطع کر دیتے ہیں تو اس سے مراد نماز کا قطع ہونا (خشوع و خضوع میں) باطل ہونا ہے اور اسی طرف صحابہ کرام کی ایک جماعت گئی جن میں ابو ہریرہ ، انس اور ابن عباس رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں۔''
    اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے کہ نمازی کے آگے مندرجہ بالا اشیا کا گزرنا نماز کو فاسد کرنے کے مترادف ہے۔ اگر ہم غور کریں کہ ان اشیا کا ذکر کیوں کیا گیا ہے تو واقعی میں یہ اشیا نماز کو فاسد کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ مثلاً
    اگر آپ نماز ادا کر رہے ہیں اور کتا وہ بھی کالا آپ کے سامنے بھونکنا شروع کر دے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی نماز سے خشوع و خضوع جاتا رہے گا۔ اسی طریقے سے اگر آپ نماز کی حالت میں ہیں اور ایک عورت آپ کے سامنے سے گزر جائے تب بھی آپ کی نماز میں خلل واقع ہو سکتا ہے اور بعینہ یہی حالت گدھے کی ہے جب وہ اپنی بد صورت آواز سے ہنکے گا تو یقیناً نماز میں خلل اور خرابی واقع ہوگی۔
    صفی الرحمن مبارکپوری فرماتے ہیں:
    ''واّما تخصیص المراة والکلب والحمار بالذکر فلیس معناہ ان غیرھا لا یقطع برکة الصلاة، والا لم یکن لتاثیم الرجل لاجل مرورہ بین یدی المصلی معنی ، بل لان ھذہ الثلاث مظان لوجود الشیطان وفتنتہ ، فیکون القطع من اجلھا ابلغ واشد وافظع، فقد روی الترمذی عن ابن مسعود مرفوعاً (ان المراة عورة فاذا خرجت استشرفھا الشیطان) وروی مسلم عن جابر مرفوعا ان المراة تقبل فی صورة شیطان وتدبر فی صورة شیطان وورد فی نھیق الحمار: انہ ینھق حین یری الشیطان۔ اما الکلب فقد ورد فی ھذا الحدیث نفسہ ان الکلب الاسود شیطان، وقف علم خبث مطلق الکلب بان الملائکة لا تدخل بیتا فیہ کلب، وان من اقتنی کلبا۔ فیما لم یاذن فیہ الشرع۔ انتقص من اجرہ کل یوم قیراطان۔ اما وصف الکلب الاسود بانہ شیطان فلکثرة خبثہ وشدة سوء منظرہ وفظاعتہ۔'' (منة المنعم شرح مسلم، ج۱، ص۳۲۸)
    ترجمہ: ''اور جو ذکر میں تخصیص کی گئی ہے کہ عورت ، کتّا اور گدھا (نماز کو باطل کر دیتے ہیں) تو پس اس کا معنی یہ نہیں کہ ان تینوں اشیا کے علاوہ کوئی اور چیز نماز کی برکت کو ختم نہیں کر سکتی۔ اگر یہ حکمتیں نہ ہوتیں (یعنی عورت، کتا اور گدھا کے گزرنے کی) تو مرد کے لیے کوئی گناہ نہ ہوتا۔ بلکہ یہ تینوں چیزیں شیطان کے وجود اور فتنہ کی جگہیں ہیں۔ تاکہ (نماز) ختم ہو جائے اور شیطان کی وجہ سے سخت پریشان ہو جائے۔ ترمذی نے ابن مسعود سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ عورت یقیناً پردے کی جگہ ہے اور جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف اشارہ کرتا ہے ، اور مسلم میں جابر بن عبداللہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ یقیناً عورت جب آتی اور جاتی ہے شیطان کی صورت میں، اور گدھے کے ہینگنے کے بارے میں بھی موجود ہے کہ وہ شیطان کو دیکھ کر اپنی آواز نکالتا ہے (ہینگتا ہے) اور جہاں تک کتے کے بارے میں ہے تو حدیث میں کالے کتے کے ساتھ یہ مخصوص ہے ۔ کیونکہ کالے کتے کو شیطان کہا گیا ہے۔ یقیناً کتے کا مطلب خبث ہونا موجود ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس گھر میں کتے ہوں یا جس نے کتے کو پالا ہو اس کے بارے میں شریعت نے اجازت مرحمت فرمائی ۔ (بلاوجہ کتا پالنا شریعت میں اس کی رخصت نہیں)''
    شبیر احمد عثمانی ''فتح الملھم'' میں فرماتے ہیں:
    ''المراة بالقطع فی حدیث الباب قطع الوصلة بین العبد وبین الرب جل جلالہ لا ابطال الصلاة نفسھا'' (فتح الملھم شرح صحیح مسلم، ج۳، ص۳۳۴)
    ترجمہ: ''یعنی نماز ختم کرنے کا جو یہاں مقصد ہے اس حدیث کے باب میں تو قطع سے مراد بندے اور رب کے درمیان رابطہ کا انقطاع ہے اور نماز کا اپنی ذات کے اعتبار سے باطل ہونا مراد نہیں۔''
    امام قرطبی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    ''یقطع الصلاة المراة والحمار، فان ذالک مبالغہ فی الخوف علی قطعھا وافسادھا بالشغل بھذہ المزکورات، وذالک ان المراة تفتن ، والحمار ینھق، والکلب یروع فیتشوش المتفکر فی ذالک حتی تنقطع علیہ الصلاة وتفسد''
    (المفھم شرح مسلم ، ج۲، ص۱۰۹)

    ترجمہ: ''یعنی نماز کا قطع ہونا عورت اور گدھے کی وجہ سے تو یہ مبالغہ ہے اس سبب کہ نماز کا قطع ہونا اور اس کی بنیاد کی وجہ سے ان اشیا کے شغل کے سبب ، کیونکہ عورت فتنہ میں ڈالتی ہے اور گدھے کا ہینگنا (وہ بھی خرابی کا باعث بنتا ہے) اور کتا ڈراتا ہے نمازی کو یہاں تک کہ اسے تشویش میں ڈالتا ہے حتی کہ اس کی نماز ختم ہو جاتی ہے یا (خشوع و خضوع میں )بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔''
    جلال الدین سیوطی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    ''وان المراد بالقطع فی الحدیث نقص الصلاة یشغل القلب بھذہ الاشیاء''
    (الدیباج، ج۱، ص۶۴۰)

    ترجمہ: ''یہ کہ نماز کا قطع سے مراد یہاں حدیث میں نماز کی کمی ہے کیونکہ دل ان اشیا کی وجہ سے شغل میں پڑ جاتا ہے۔''
    الحمدللہ بات عیاں ہوئی کہ ان تین اشیا کا جو ذکر احادیث صحیحہ میں موجود ہے آخر اس میں کیا حکمت ہے۔ اس کی حکمتین دوسری احادیث نے مترشح کر دیں کہ ان کا اصل سبب (نماز کا خراب ہونا) شیطان کے عمل دخل کی وجہ سے ہے ۔ کیونکہ جب بندہ صلاة کو ادا کرتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے اور شیطان کا کام ہی بندہ کا تعلق رحمٰن سے توڑنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان بندے کی نماز کو ان اشیا کے ذریعے باطل کرنے کی کوشش کرتا ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 30، 2013 #16
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    خلاصہ کلام یہ کہ کسی بھی آڑ بننے والی چیز کو سترہ بنایا جا سکتا ہے بشرطیکہ ہ وہ زمین کے ساتھ لگی ہو اور اس کی کم سے کم اونچائی اونٹ کی کاٹھی کی پچھلی لکڑی کے برابر (تقریباً ڈیڑھ بالشت) ہو۔
    آپ کی بیان کردہ مقدار کچھ کم ہے ، پوری مقدار اس طرح بیان ہوئی ہے:
    ۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "آخرۃ الرحل ذراع فما فوقہ"

    [سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ ، باب ما یستر المصلی (۶۸۶)]

    اونٹ کے کجاوے کا پچھلا حصہ ذراع یا اس سے زیادہ (اونچا) ہوتا ہے۔

    *
    ذراع ہتھیلی کو کھول کر کہنی تک کا حصہ ذراع کہلاتا ہے اور یہ تقریباً ڈیڑھ فٹ ( فٹ ) ہوتا ہے
    ۔

    تو گویا نمازی اپنے آگے تقریباً ڈیڑھ فٹ بلند چیز رکھے تو وہ اس کا سترہ بن سکے گی اس سے کم اونچائی والی چیز سترہ کا کام نہیں دے دیتی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 30، 2013 #17
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    خواہ وہ سامنے لیٹی ہوئی اپنی بیوی ہی ہو
    کیا لیٹی ہوئی عورت اونچائی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سترے کو کفیت کر جاے؟جہاں تک حضرت عائشہ کی روایت تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ چار پائی پر لیٹی ہوتی تھیںورنہ لیٹی ہوئی عورت اتنی چوڑی نہیںہوتی کہ وہ سترے کو کفایت کر جاے اللہ اعلم بالصواب
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏اکتوبر 30، 2013 #18
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم، برادر حافظ عمران،
    اس سلسلے کو شروع کرنے کا مقصد محدث العصر الشیخ ناصر الدین الالبانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’اصل صفۃ صلاۃ النبی ‘‘ کی اردو میں تلخیص کرنا ہے۔ ظاہر ہے خلاصے میں وہ ساری باتیں بیان نہیں کی جا سکتیں جو ایک محقق کی تسلی کے لیے کافی ہوں۔ آپ کو جس مسئلے کی تفصیل مطلوب ہو اسے ’’اصل صفۃ صلاۃ النبی‘‘ میں تلاش کیجیے۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے اور یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے:
    http://www.alalbany.net/4460
    فقہی اور جزئی مسائل کی تحقیق اس دھاگے کا موضوع نہیں ہے البتہ اگر کوئی ایسی بات آپ کی نظر سے گزری ہو جہاں امام البانی کا موقف بیان کرنے میں مجھے غلطی لگی ہے تو ضرور بتائیے۔ میں شکر گزار ہوں گا۔
    والسلام علیکم
     
  9. ‏اکتوبر 31، 2013 #19
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    وعلیکم السلام
    بھا ئی جان جب آپ سترے کی لمبائی ڈیڈھ بالشت بتائین گے تو یہ واضح غلطی ہے جس کی اصلاح ضروری ہے ، سب لوگوں نے یہاں سے استفادہ کرنا ہے یہاں ایسی غلطی کی گنجائش نہیں ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏اکتوبر 31، 2013 #20
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    اگر کوئی ایسی بات آپ کی نظر سے گزری ہو جہاں امام البانی کا موقف بیان کرنے میں مجھے غلطی لگی ہے تو ضرور بتائیے۔
    اس حدیث میں نماز ٹوٹنے سے مراد نماز باطل ہونا ہے یعنی اس کو دوبارہ پڑھنا ضروری ہےکیا یہ علامہ البانی کا موقف ہے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں