1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز کا درست طریقہ - عبد اللہ حیدر

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏اکتوبر 26، 2013۔

  1. ‏اکتوبر 31، 2013 #21
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم،
    صفۃ صلاۃ النبی جلد اول صفحہ ۱۳۹ اور ۱۴۰
    ۔ ۔ ۔ ۔قالوا: إن المراد بالقطعِ القطعُ عن الخشوع والذكر؛ للشغل بها، والالتفات إليها، لا أنها تفسد الصلاة. قلت: إنه غير معقول؛ لأنه يؤدي إلى إبطال منطوق الحديث؛ لأنه حصر القطع بالثلاثة المذكورة فيه، وملاحظة المعنى الذي ذكروه يؤدي إلى أن الحصر غير مراد؛ وذلك لأنه لا فرق في الإشغال عن الخشوع بين الرجل المارِّ والمرأة، بل ما الفرق بين المرأة الحائض وغير الحائض على هذا الجمع؟ وكذا لا فرق بين مرور الحمار، والفرس، أوالجمل، ولا بين مرور الكلب الأسود، والكلب الأحمر أو غيره، وقد فَرَّقَ الشارع بينهما نصّاً؛ فكل جمعٍ يؤدي إلى إبطال وإلغاء ما قيده الشارع فهو غير مقبول، وهو على صاحبه مردود؛ فالحق ما ذهب إليه مَنْ ذكرنا في أول البحث من
    بطلان الصلاة بمرور المرأة الحائض، والحمار، والكلب الأسود.

    والسلام علیکم
     
  2. ‏مئی 26، 2015 #22
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    رکوع کرنے کا طریقہ
    رکوع کرنے کا طریقہ
    رکوع کے مسائل کی تفصیل میں جانے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ رکوع و سجود اطمینان اور سکون سے ادا کرنے کی اہمیت پر کچھ بات ہو جائے کیونکہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس کی طرف سے عام طور پر غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ احادیث میں بار بار رکوع و سجود پورے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یعنی انہیں ان کی ساری شرائط، آداب، سنتوں اور اطمینان کے ساتھ ادا کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو ٹھیک طریقے سے رکوع و سجود نہیں کر رہا تھا تو فرمایا:
    لَوْ مَاتَ هَذَا عَلَى حَالِهِ هَذِهِ مَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِي لا يُتِمُّ رُكُوعَهُ ويَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ ، مَثَلُ الْجَائِعِ يَأْكُلُ التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَانِ لا يُغْنِيَانِ عَنْهُ شَيْئًا
    "اگر یہ اسی حالت میں مر گیا تو محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کی ملت پر نہیں مرے گا " پھر فرمایا: " جو آدمی رکوع پورا نہیں کرتا اور سجدے میں ٹھونگے مارتا ہے اس کی مثال اس بھوکے کی سی ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھاتا ہے جو اسے کوئی فائدہ نہیں دیتیں" [1]
    یہ بھی عمومًا دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ نمازی محض گھٹنوں کو ہاتھ لگا لینے کو کافی خیال کرتے ہوئے کمر کو گولائی دیتے ہوئے رکوع کرتے ہیں اور کمر سیدھی نہیں رکھتے۔ یہ ایک بڑی غلطی ہے
    ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع میں کمر سیدھی نہیں کر رہا تھا تو ارشاد فرمایا:
    يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
    "اے مسلمانوں کی جماعت! (سن لو کہ) اس شخص کی کوئی نماز نہیں ہے جو رکوع اور سجدوں میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا"
    [2]
    دوسری حدیث میں ہے:
    لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتَّى يُقِيمَ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
    "آدمی کی نماز اس وقت تک درست نہیں ہوتی جب تک وہ رکوع اور سجدوں میں اپنی کمر سیدھی نہ کرے"۔
    [3]
    ان احادیث کی روشنی میں امام شافعی، امام اسحاق اور امام احمد رکوع و سجود میں کمر سیدھی نہ رکھنے والے شخص کی نماز کے باطل ہونے کے قائل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:
    أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلاَتَهُ
    "لوگوں میں سب سے برا چوری کرنے والا وہ (شخص) ہے جو نماز کی چوری کرتا ہے"

    صحابہ نے عرض کیا "اے اللہ کے رسول! نماز کی چوری کیسے کی جاسکتی ہے"؟
    فرمایا:

    لاَ يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلاَ سُجُودَهَا
    "(نماز کی چوری یہ ہے کہ ) وہ اس کے رکوع اور سجدے پورے ( اطمینان اور آداب کے ساتھ) ادا نہیں کرتا"
    [4]
    ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے نماز میں تین چیزوں سے منع فرمایا ہے:
    عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ
    "مرغ کے چونچ مارنے کی طرح ٹھونگے مارنے سے (یعنی جلدی جلدی سجدہ کرنے سے)۔
    کتے کی طرح ہاتھ ٹیک کر بیٹھنے سے۔
    اورلومڑی کی مانند(سراور آنکھیں) ادھر ادھر گھمانے سے۔[5]

    ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور جلدی جلدی نماز ادا کرنے کے بعد آ کر سلام عرض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا:
    ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ
    "واپس جا کر (دوبارہ) نماز پڑھو، کیونکہ (حقیقت میں) تم نے نماز نہیں پڑھی"

    انہوں نے پہلے جیسی نماز دوبارہ پڑھی اور آ کر سلام عرض کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور پھر فرمایا کہ واپس جا کر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری دفعہ انہوں نے عرض کیا "اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا، مجھے نماز کا صحیح طریقہ سکھا دیجیے"۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں بڑی تفصیل کے ساتھ نماز کا طریقہ سکھایا، پوری حدیث لکھنے کا یہ موقع نہیں ہے، اس لیے متعلقہ حصہ پیش کیا جاتا ہے۔ فرمایا:
    إِنَّهُ لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ مِنْ النَّاسِ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ۔ ۔ ۔ ۔ ثُمَّ يَرْكَعُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ
    "لوگوں میں سے کسی کی بھی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ وضو نہ کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس طرح رکوع کرے کہ ہر جوڑ اپنی جگہ پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ جائے"
    [6]
    اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے جمہور علماء نے ارکانِ نماز میں اطمینان اختیار کرنے کو واجب کہا ہے۔
    صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے:

    أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ
    "رکوع اور سجدے پورے کیا کرو، اس (ذات) کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم (صحابہ) کو (نماز پڑھانے کے دوران معجزاتی طور پر) اپنی پیٹھ پیچھے اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہوں جب تم لوگ رکوع کرتے ہو اور سجدہ کرتے ہو"
    ان اہم مباحث کو سمجھ لینے کے بعد اب رکوع کرنے کا سنت طریقہ پیش کیا جاتا ہے۔ رکوع کرنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ :

    *ہتھیلوں کو گھٹنوں کے اوپراس طرح رکھا جائے جیسے گھٹنوں کو ہاتھوں سے پکڑ رکھا ہو[7]۔
    * انگلیاں کھلی ہوں ، انہیں آپس میں ملایا نہ جائے اور پنڈلیوں پر رکھا جائے
    [8]۔
    * سر کمر کے برابر ہو، جھکا ہوا یا کمر سے بلند نہ ہو
    [9]۔
    * کہنیاں پہلوؤں سے جدا ہوں اور بازو کمان کی طرح تنے ہوئے ہوں
    [10]۔ کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھنے کا حکم مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں ہے۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:

    فإذا ركعت ، فضع راحتيك على ركبتيك ، ثم فرج بين أصابعك ، ثم أمكث حتى يأخذ كل عضو مأخذه
    [11]
    "جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ، پھر اپنی انگلیوں کے درمیان فاصلہ پیدا کر، پھر (اس طرح سکون کے ساتھ ٹھہر) کہ ہر عضو اپنی جگہ پر قرار پکڑ لے"
    * کمر بالکل سیدھی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنی کمر کو پھیلا کر اس طرح رکوع فرماتے تھے کہ کمر مبارک بالکل سیدھی ہوتی تھی، احادیث میں اس کی کیفیت یوں بیان ہوئی ہے کہ اگر اس پر پانی بہایا جاتا تو وہ ٹھہر سکتا تھا
    [12]۔ رکوع میں کمر سیدھی رکھنے کا حکم اس حدیث میں بھی ملتا ہے:
    فإذا ركعت فاجعل راحتيك على ركبتيك و امدد ظهرك و مكن لركوعك[13]



    [1] ۔ صحیح الترغیب و الترھیب حدیث نمبر 528
    [2] ۔ سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب الرکوع فی الصلاۃ، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 871
    [3] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 801
    [4] ۔ صحیح الترغیب و الترھیب حدیث نمبر 524
    [5] ۔ صحیح الترغیب و الترھیب حدیث نمبر 555، مسند احمد مسند ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ۔ حسن لغیرہ
    [6] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 803
    [7] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب افتتاح الصلاۃ، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 723
    [8] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب صلاۃ من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 809
    [9] ۔ صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب ما یجمع صفۃ الصلاۃ و ما یفتتح بہ و صفۃ الرکوع
    [10] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب افتتاح الصلاۃ، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 723
    [11] ۔ صحیح ابن حبان کتاب الصلاۃ باب صفۃ الصلاۃ
    [12] ۔ مسند احمد مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ مسند علی بن ابی طالب، امام البانی نے کثرت طرق کی وجہ سے اسے صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے اصل صفۃ صلاۃ النبی مجلد 2 ص 638
    [13] ۔، صحیح و ضعیف الجامع الصغیر حدیث نمبر 324۔
     
  3. ‏مئی 26، 2015 #23
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    رکوع کے اذکار رکوع کے اذکار
    احادیث مبارکہ میں کئی قسم کی دعائیں اور اذکار مذکور ہیں جنہیں رکوع میں پڑھا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے یہ دعائیں اور اذکار مختلف مواقع پر رکوع میں پڑھے ہیں۔ البتہ اس بات کی کوئی صراحت نہیں ملتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کبھی ایک وقت میں ایک سے زائد دعاؤں کو اکٹھا کر کے بھی پڑھا ہو، چنانچہ اس بارے میں علماء کی رائے مختلف ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "الاذکار" میں کہتے ہیں کہ ان دعاؤں کو جمع کر کے پڑھنا جائز ہے جبکہ علامہ صدیق حسن خان نے "نزل الابرار" میں موقف اختیار کیا ہے کہ جمع کرنے کی کوئی دلیل میسر نہیں اس لیے ایک وقت میں ایک ہی دعا پڑھی جائے کیونکہ سنت کی پیروی کرنا اپنے فہم سے کوئی نئی چیز نکالنے سے بہتر ہے۔ بظاہر یہی موقف مضبوط اور درست معلوم ہوتا ہے۔ رکوع کے اذکار اور دعائیں یہ ہیں:
    سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ (تین مرتبہ یا اس سے زیادہ) [1]۔ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے رات کے نوافل میں اس ذکر کی اتنی تکرار کی تھی کہ رکوع اور قیام تقریبًا برابر ہو گئے تھے جبکہ اس رات قیام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سورۃ البقرۃ، سورۃ النساء اور سورۃ آل عمران تینوں ایک رکعت میں پڑھی تھیں۔[2]
    سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ (تین دفعہ)[3]
    سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ [4]
    سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي [5]
    اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ أنت ربي سخَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي وما استقلَّت به قدمي لله رب العالمين [6]

    6۔ اللهم ! لك ركعت ، وبك آمنت ، ولك أسلمت ، وعليك توكلت ، أنت ربي ، خشع سمعي وبصري ، ودمي ولحمي ، وعظمي وعصبي ؛ لله ربِّ العالمين [7]
    سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ [8]


    [1] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ۔ صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 815
    [2] ۔ صحیح مسلم صلاۃ المسافرین و قصرھا باب استحباب تطویل القراءۃ فی صلاۃ اللیل
    [3] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجدہ، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 828
    [4] ۔ صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب ما یقال فی الرکوع و السجود
    [5] ۔ صحیح البخاری کتاب الاذان باب الدعاء فی الرکوع
    [6] ۔ اصل صفۃ صلاۃ النبی 2 ص 664۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب ما یستفتح بہ الصلاۃ من الدعاء
    [7] ۔ اصل صفۃ صلاۃ النبی 2 ص 665
    [8] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 817
     
  4. ‏مئی 26، 2015 #24
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    جب آپ رکوع میں تسبیحات اور اذکار وغیرہ پڑھنے سے فارغ ہو جائیں تو سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے ہوئے اطمینان کے ساتھ اٹھیں اور انگلیوں کو فطری انداز میں کھلا رکھتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کانوں یا کندھوں تک بلند کریں[1] ۔ پھر ہاتھوں کو باندھے بغیر سیدھے کھڑے ہو جائیں اور رَبَّنَالَكَ الْحَمْدُ یا کوئی دوسرا مسنون ذکر پڑھیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہونا نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ اسے قومہ کہا جاتا ہے جبکہ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کو تسمیع اور رَبَّنَالَكَ الْحَمْدُ کو تحمید کہتے ہیں۔

    تسمیع و تحمید کی فضیلت:
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور رَبَّنَالَكَ الْحَمْدُ کہنے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:
    إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ
    (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب التشھد، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۹۷۲)
    " جب(امام) سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہے تو (اس کے بعد)تم سب (مقتدی) اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہا کرو، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبانی کہہ چکا ہے کہ جس نے اللہ کے حمد بیان کی، اللہ نے اس کی سن لی"

    ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ اس بارے میں یہ فرمان رسول بیان کرتے ہیں:
    إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
    (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب التسمیع و التحمید و التأمین)
    " جب امام سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہے تو تم(اس کے بعد) اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہا کرو کیونکہ (فرشتے اس وقت یہی کہتے ہیں پس) جس کا قول فرشتوں کے قول سے مل گیا اس کے پچھلے(صغیرہ) گناہ معاف کر دیے گئے"
    اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امام کے تسمیع کہنے سے پہلے فرشتے تحمید نہیں کہتے اس لیے تم بھی ایسا نہ کرو بلکہ امام کے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہنے کے بعد اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہا کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امام صرف سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور مقتدی صرف رَبَّنَالَكَ الْحَمْدُ کہے کیونکہ ان دونوں کے کہنے کا وجوب دوسرے دلائل سے معلوم ہے جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

    تسمیع و تحمید کےمسائل:
    ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنْ الرُّكُوعِ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
    (صحیح البخاری کتاب الأذان باب التکبیر اذا قام من السجود، صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب اثبات التکبیر فی کل خفض و رفع)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جب نماز کے لیے اٹھتے تو کھڑے ہو کر تکبیر کہتے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں جاتے، پھر سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے ہوئے رکوع سےکمر اٹھاتے اور جب(سیدھے) کھڑے ہو جاتے تو پھر رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہا کرتے تھے۔
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنی نماز میں تسمیع و تحمید دونوں کہا کرتے تھے اس لیے صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي (اس طرح نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو)[2] کے عمومی حکم کے پیش نظر امام، مقتدی اور اکیلے نماز پڑھنے والے غرض ہر نمازی کو سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور رَبَّنَالَكَ الْحَمْدُ دونوں کلمات کہنے چاہئیں جس کا طریقہ یہ ہوکہ رکوع سے اٹھنے کے لیے حرکت کرنے کے ساتھ ہی سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہا جائے اور کھڑے ہونے تک اسے ختم کر لیا جائے، پھر اطمینان سے کھڑے ہو کر رَبَّنَالَكَ الْحَمْدُ کہا جائے۔تسمیع و تحمید کہنے کے وجوب [3] کی دوسری دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
    إِنَّهُ لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ مِنْ النَّاسِ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا
    (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب صلاۃ من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود۔ صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۸۵۷)
    " لوگوں میں کسی کی بھی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ وضو نہ کرلے ۔ ۔ ۔ ۔(اور)پھر سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے ہوئےبالکل سیدھا کھڑا ہو جائے"
    امام شافعی، امام احمد اور حنفیہ میں امام محمد، ابویوسف اور امام طحاوی نے بھی تسمیع و تحمید دونوں کلمات کہنے کو اختیار کیا ہے۔

    قومے کی کم سے کم مقدار:
    قومے سے متعلق دوسرا انتہائی اہم مسئلہ اسے اطمینان اور سکون سے ادا کرنے کا ہے جس کی کم سے کم مقدار یہ ہے کہ نمازی اتنی دیر تک کھڑا رہے کہ کمر کے تمام مہرے اور ہڈیاں اپنی اپنی جگہ پر واپس آ کر ٹھہر جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ہے:
    فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا
    (مسند احمد مسند الکوفیین حدیث رفاعۃ بن رافع رضی اللہ عنہ۔ صحیح و ضعیف الجامع الصغیر حدیث نمبر ۳۲۴)
    "جب تو (رکوع سے )اپنا سر اٹھائے تو اپنی کمر سیدھی کر، یہاں تک کہ(کمر کی ہڈیاں) اپنے اپنے جوڑوں پر واپس ہو جائیں"
    نماز کی درستگی کے لیے یہ کم سے کم تقاضا ہے جسے پورا نہ کرنے والے شخص کی نماز نامکمل رہتی ہے[4] اوراس نامکمل نماز کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا وقعت ہوتی ہے اس کا ذکر ایک دوسرے فرمان رسول میں ملتا ہے:
    لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى صَلَاةِ عَبْدٍ لَا يُقِيمُ فِيهَا صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا
    (مسند احمد مسند المدنیین حدیث طلق بن علی، السلسلۃ الصحیحۃ حدیث نمبر ۲۵۳۶)
    "اللہ عز و جل اس بندے کی نماز کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے (جس کو ادا کرنے والا ) اس کے رکوع و سجود کے درمیان اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا"
    ظاہر ہے ایسی نماز کی قبولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جسے دیکھنا بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پسند نہ ہو۔ اس لیے نمازیوں کو اس رکن کی ادائیگی میں جلدی کرنے سے بچنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ ان کی ساری محنت برباد ہو جائے اور وہ اللہ عز و جل کی ناراضی کے مستحق بن جائیں۔

    سنت مطہرہ سے ایک جھلک
    قومے میں اطمینان اور سکون اختیار کرنے کے بارے میں صرف زبانی حکم ہی نہیں ملتے بلکہ سنت مطہرہ میں اس کی عملی صورت بھی امت کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نماز نبوی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جتنی دیر رکوع فرماتے تھے قریبًا اتنی ہی دیر رکوع کے بعد کھڑے رہتے اور اتنی ہی دیر دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے تھے [5] اور بعض دفعہ تو رکوع کے بعد اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا گمان کرتا کہ آپ سجدہ کرنا بھول گئے ہیں[6] ۔ ایک مرتبہ رات کو تہجد کی نماز میں رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد اتنی دیر تک لِرَبِّيَ الْحَمْدُ کی تکرار کرتے رہے جتنی دیر میں سورۃ البقرۃ پڑھی جا سکتی ہے[7] ۔
    یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس طرح کی طوالت انفرادی نمازوں میں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی شخص امامت کروا رہا ہو تو اسے ہلکی نماز پڑھانے کا حکم ہے جس کی تفصیل اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہے۔

    حوالہ جات:

    [1 ۔ اس کی تفصیل پیچھے ۔مسئلہ رفع الیدین ۔ کے تحت گزر چکی ہے۔
    [2] ۔ صحیح البخاری کتاب الأذان باب الأذان للمسافر اذا کانوا جماعۃ و الاقامۃ و کذلک بعرفۃ
    [3] ۔ تمام المنۃ فی التعلیق علی فقہ السنۃ للامام الالبانی ص ۱۹۱
    [4] ۔ اس کی دلیل اوپر تسمیع و تحمید کے مسائل کے آخر میں گزر چکی ہے۔
    [5] ۔ صحیح البخاری کتاب الأذان باب الطمأنینۃ حین یرفع رأسہ من الرکوع
    [6] ۔ صحیح البخاری کتاب الاذان باب الطمأنینۃ حین یرفع رأسہ من الرکوع
    [7] ۔سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ۔ صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۸۷۴
     
  5. ‏مئی 26، 2015 #25
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    احادیث مبارکہ میں ایسے بہت سے اذکار موجود ہیں جنہیں تسمیع یعنی سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه کہنے کے بعد پڑھا جا سکتا ہے۔ اصطلاح میں انہیں تحمید کہا جاتا ہے۔نمازی کو اختیار ہے چاہے تو ان میں سے کسی ایک کو ایک بارپڑھنے کے بعد رکوع کر لے اور چاہے تو ایک سے زیادہ بار پڑھنے کے بعد رکوع میں جائے۔ ایک سے زیادہ اذکار کو ملا کر پڑھنا بھی جائز ہے۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
    ۱۔ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
    (صحیح البخاری کتاب الأذان باب اقامۃ الصف من تمام الصلاۃ)
    ۲۔ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
    (صحیح البخاری کتاب الأذان باب انما جعل الأمام لیوتم بہ)
    ۳۔ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
    (صحیح البخاری کتاب الأذان باب انما فضل اللھم ربنا لک الحمد)
    ۴۔ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
    (صحیح البخاری کتاب الأذان باب ما یقول الأمام و من خلفہ اذا رفع رأسہ من الرکوع)
    ۵۔ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
    (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب ما یقول اذا رفع رأسہ من الرکوع)
    ۶۔اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
    (صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا باب الدعاء فی صلاۃ اللیل و قیامہ)
    ۷۔ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
    (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب ما یقول اذا رفع رأسہ من الرکوع)
    ۸۔ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
    (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب ما یقول اذا رفع رأسہ من الرکوع)
    ۹۔ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ
    (صحیح البخاری کتاب الأذان باب فضل اللھم ربنالک الحمد)
    ۱۰۔ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ
    (سنن أبی داؤد کتاب االصلاۃ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ، صحیح و ضعیف سنن أبی داؤد حدیث نمبر ۸۷۴)
    ایک ضروری وضاحت:
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز پڑھاتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ بلند آواز سے کہتے تھے جس کی وجہ سے صحابہ کرام اس سنت سے بخوبی واقف تھے اور صلوا کما رأیتمونی أصلی (اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو) کے عمومی حکم پر عمل کرتے ہوئے وہ بھی رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ کہا کرتے تھے لیکن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بتائے بغیر کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ اس کے بعد آپ آہستہ آواز میں کیا پڑھتے ہیں اس لیے امت کو اس کی خبر دیتے ہوئےفرمایا:
    إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
    (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب التسمیع و التحمید و التأمین)
    جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو کیونکہ (اس وقت) جس کا قول فرشتوں کے قول سے مل گیا اس کے پچھلے (صغیرہ) گناہ معاف کر دیے جائیں گے
    اس حدیث سے کچھ علماء کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ امام صرف سمع اللہ لمن حمدہ اور مقتدی صرف ربنا لک الحمد کہے لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ امام اور مقتدی دونوں کو یہ کلمات پڑھنے چاہئیں۔ حدیث کے درست مفہوم کی طرف ہم نے اشارہ کر دیا ہے۔
     
  6. ‏مئی 26، 2015 #26
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    قومے سے سجدے میں جانے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اکبر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھکیں، پہلے اپنے ہاتھوں کو ٹکائیں، جب جسم قدرے اعتدال میں آ جائے تو گھٹنوں کو بڑے آرام اور ادب سے زمین کے ساتھ لگا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ہے:
    إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ
    "جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ ( گھٹنے گرا کر دھم سے) بیٹھتا ہے (بلکہ نمازی کو) چاہیے کہ اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھے"1
    سجدے کے لیے تکبیر کہتے وقت کبھی کبھار ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانا مسنون ہے۔ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے نماز میں رکوع کرتے وقت، رکوع سے اٹھتے ہوئے ، سجدہ کرتے وقت اور سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو تک بلندفرمایا 2۔
    اسی مفہوم کی احادیث وائل بن حجرؓ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہیں 3۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سجدے میں جاتے وقت اور سجدوں کےد رمیان ہمیشہ ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے تھے کیونکہ زیادہ تر صحابہ کرامؓ نے صرف رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے کھڑے ہوتے وقت رفع الیدین کرنا بیان کیا ہے جس کی تفصیل مسئلہ رفع الیدین میں گزر چکی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1 ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب کیف یضع رکبتیہ قبل یدیہ، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 789
    2 ۔ مسند احمد بن حنبل مسند المکیین حدیث مالک بن حویرث۔ أصل صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم، صحیح علی شرط مسلم (2 / 707) :
    3 ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے أصل صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم (2 / 706)
     
  7. ‏مئی 26، 2015 #27
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان
    دوسجدوں کے درمیان کچھ دیر کے لیے بیٹھنے کو فقہی اصطلاح میں "جلسہ" کہا جاتا ہے۔ اس کی کم سے کم مقدار یہ ہے کہ سجدے سے اٹھ کر بالکل سیدھا بیٹھ جائیں یہاں تک کہ تمام اعضاء اپنی جگہ پر واپس آ کر ٹھہر جائیں[1]۔ اکثر نمازی اسے بڑی جلدی کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سجدہ اولیٰ سے اٹھ کر بیٹھتےبھی نہیں اور درمیان ہی سے دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہیں۔ یہ بڑی غلطی کی بات ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایسا کرنے والے کی نماز کو نامکمل بتلایا ہے[2]۔

    ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سجدے سے اٹھ کر بڑے اطمینان اور ادب کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ جسم اطہر کا ہر عضو اور ہڈی کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر آ کر قرار پکڑ لیتا تھا [3]۔ دوسرے سجدے میں جانے کے لیے جلدی نہیں فرماتے تھے بلکہ جتنی دیر سجدے میں لگاتے اتنی ہی دیر دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ جایا کرتے تھے[4]۔ کبھی تواتنی دیر بیٹھے رہتے کہ دیکھنے والا خیال کرتا شایدآپ دوسرے سجدے میں جانا بھول گئے ہیں[5]۔ اس موقع پراپنے رب کے حضور یوں دعا گو ہوتے:
    اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْفَعْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي [6]
    للہ! مجھے معاف کردے، مجھ پر رحم فرما، مجھے درست کر دے، مجھے رفعت عطا فرما، مجھے ہدایت(میں اضافہ اور استقامت) دے، مجھے عافیت نصیب کر اور مجھے رزق عطا فرما"

    اورکبھی اس کی بجائے یوں فرمایا کرتے:
    رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي [7]
    "اے میرے رب! مجھے معاف فرما دے، میرے رب! میری مغفرت فرما دے"

    یہ دعائیہ کلمات رات کے نوافل یعنی تہجد میں پڑھنا احادیث میں صراحت کے ساتھ منقول ہے لیکن فرائض وغیرہ میں پڑھنے یا نہ پڑھنے کے بارے میں کوئی بات نہیں ملتی۔ بظاہر فرائض میں انہیں پڑھنا بھی درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ فرض اور نفل نماز کے طریقے اور اذکار میں فرق کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ائمہ میں امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق اور امام طحاوی فرض اور نفل دونوں میں انہیں پڑھنے کے جواز کے قائل ہیں اور یہی اقرب الی الصواب ہے ان شاء اللہ۔
    حوالہ جات:
    [1] ۔ سنن ابی داؤد کتاب تفریع استفتاح الصلاۃ باب صلاۃ من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود، صحیح سنن ابن داؤد حدیث 804
    [2] ۔ سنن ابی داؤد کتاب تفریع استفتاح الصلاۃ باب صلاۃ من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود، صحیح سنن ابن داؤد حدیث 804
    [3] ۔ سنن ابی داؤد کتاب تفریع استفتاح الصلاۃ باب صلاۃ من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود، صحیح سنن ابی داؤد حدیث 720
    [4] ۔ صحیح البخاری کتاب الاذان باب المکث بن السجدتین حدیث عن البراء رضی اللہ عنہ
    [5] ۔ صحیح البخاری کتاب الاذان باب المکث بن السجدتین حدیث عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ
    [6] ۔ یہ سات کلمات سنن ابن ماجہ، ابی داؤد، مسند احمد وغیرہ کی مختلف روایات میں آئے ہیں، تفصیلی حوالہ جات کے لیے اصل صفۃ صلاۃ النبی دیکھیے۔
    [7] ۔ سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب ما یقول بین السجدتین
     
  8. ‏مئی 26، 2015 #28
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    دوسرا سجدہ اور جلسہ استراحت
    "جلسہ" کے بعد دوسرے سجدے میں جانے کے لیے تکبیر کہیں[1]۔ اس موقع پر کبھی کبھار رفع الیدین کرنا بھی درست ہے[2]۔ دوسرے سجدے کا طریقہ پہلے سجدے کی طرح ہی ہے۔ اس میں بھی وہی تسبیحات اور دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں جن کا ذکر پہلے سجدے کے تحت گزر چکا ہے۔پھر "اللہ اکبر" کہتے ہوئے سجدے سے اٹھیں[3]۔ اس مقام پر بھی تکبیر کہتے وقت کبھی کبھی رفع الیدین کیا جا سکتا ہے[4]۔ اب اگر نماز کی پہلی یا تیسری رکعت ہے تو اگلی رکعت میں کھڑے ہونے سے پہلے تھوڑی دیر اپنے بائیں پاؤں پر اعتدال کے ساتھ بیٹھ جائیں (جیسے تشہد میں بیٹھتے ہیں) یہاں تک کہ تمام اعضاء اور جوڑ اپنی جگہ پر آ کر ٹک جائیں[5]۔ اسے جلسہ استراحت کہتے ہیں اور یہ سنت ہے[6] پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہونے کے لیے اپنے ہاتھ مٹھی کی صُورت میں زمین پر ٹکا کر ان کا سہارا لے کر کھڑے ہوں۔ مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي أَوَّلِ الرَّكْعَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا، ثُمَّ قَامَ فَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ[7]
    "جب (نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے، پھر زمین پر ہاتھوں (کی مٹھی ) پر ٹیک لگا کر اٹھتے"
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ہاتھوں پر ٹیک لگانے کاطریقہ یوں بتایا ہے کہ ہاتھوں یوں بند کیا جائے جیسے آٹا گوندھنے کے لیے بند کرتے ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں:
    رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِنُ فِي الصَّلَاةِ[8]
    "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دیکھا کہ وہ نماز میں (اپنے ہاتھوں کو )آٹا گوندھنے کی طرح (مُٹھی کی صُورت میں زمین پرٹِکا کر اگلی رکعت کے لیے اٹھا )کرتے"۔
    نئی رکعت کے آغاز میں سورۃ الفاتحہ پڑھنے سے پہلے آہستہ آواز میں (سرًا) تعوذ اور بسملہ پڑھنے کے مسئلے پر فقہاء کرام کی مختلف آراء ہیں۔ قرآن و حدیث کے عمومی دلائل کو دیکھتے ہوئے انہیں پڑھ لینے کا موقف زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ امام النووی، امام ابن حزم اور احناف میں امام ابویوسف اور اما م محمد رحمہم اللہ نے اسی بات کو اختیار کیا ہے[9]۔
    حوالہ جات:
    [1] ۔ سنن ابی داؤد ابواب تفریع استفتاح الصلاۃ باب صلاۃ من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود۔ صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 803
    [2] ۔ سنن النسائی کتاب التطبیق باب رفع الیدین للسجود، اصل صفۃ صلاۃ النبی جلد 2 ص 707
    [3] ۔ سنن ابی داؤد ابواب تفریع استفتاح الصلاۃ باب صلاۃ من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود۔ صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 803
    [4] ۔ سنن ابی داؤد ابواب تفریع استفتاح الصلاۃ باب رفع الیدین فی الصلاۃ۔ صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 714)
    [5] ۔ السنن الکبریٰ للبیہقی جماع ابواب صفۃ الصلاۃ باب فی جلسۃ الاستراحۃ حدیث عن ابی حمید الساعدی رضی اللہ عنہ۔ اصل صفۃ صلاۃ النبی جلد 3 ص 818
    [6] ۔ صحیح البخاری کتاب الاذان باب من استوی قاعدا فی وتر من صلاتہ ثم نھض
    [7]۔ سنن النسائی کتاب التطبیق باب الاعتماد علی الارض عند النھوض
    [8]۔ المعجم الاوسط للطبرانی باب العین من اسمہ علی، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 2674
    [9] ۔ اس مسئلے کے دلائل کی تفصیل کے لیے دیکھیے اصل صفۃ صلاۃ النبی جلد 3 ص 824
     
  9. ‏مئی 26، 2015 #29
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    دوسری رکعت پڑھنے کا طریقہ

    دوسری رکعت کے شروع میں آہستہ آواز میں تعوذ اور بسملہ پڑھنے کے بعد سورۃ الفاتحہ پڑھی جائے گی ۔ پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت میں بھی اس کا پڑھنا واجب ہے۔ البتہ دوسری رکعت کے شروع میں دعائے استفتاح نہیں پڑھی جائے گی۔ ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَهَضَ فِي الثَّانِيَةِ اسْتَفْتَحَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَمْ يَسْكُتْ
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے قراءت کا آغاز کرتے اور (پہلی رکعت میں دعائے استفتاح پڑھنے کے لیے جیسا سکوت کیا جاتا ہے ویسا) سکوت (دوسری رکعت کے شروع میں) نہیں فرمایا کرتے تھے" [1]
    سورۃ الفاتحہ پڑھنے کے بعد کوئی دوسری سورت یا قرآن مجید میں سے جتنا بھی آسانی سے پڑھا جا سکے پڑھ لیں[2] البتہ یہ خیال رہے کہ دوسری رکعت کو پہلی رکعت کی نسبت مختصر رکھنا مسنون ہے[3]۔پھر پہلی رکعت کی طرح رکوع، قومہ اور دونوں سجدے اداکریں [4]۔

    حوالہ جات:
    [1]۔ (المستدرك على الصحيحين للحاكم کتاب الطھارۃ ، و من کتاب الامامۃ و صلاۃ الجماعۃ حدیث نمبر 782۔صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب ما یقال بین تکبیرۃ الاحرام و القراءۃ)
    [2]۔ صحیح البخاری کتاب الاذان باب امر النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم الذی لا یتم رکوعہ بالاعادہ حدیث نمبر 793
    [3]۔ صحیح البخاری کتاب الاذان باب یقرا ت الاخریین بفاتحۃ الکتاب حدیث 776
    [4]۔ صحیح البخاری کتاب الاذان باب امر النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم الذی لا یتم رکوعہ بالاعادہ حدیث نمبر
    793
     
  10. ‏ستمبر 21، 2015 #30
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم آپ نے لکھا ہے کہ ’’کندھوں تک یا کانوں کی لو‘‘ تک اٹھائے۔ محترم یہ لفظ ’یا‘ سے ایسا لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تکبیرِ تحریمہ میں ہاتھ اٹھا نے کے دو طریقے مروی ہیں۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں احادیث میں کوئی مغائرت نہیں ہے۔ تکبیر تحریمہ میں ہاتھ اٹھانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔
    عربی میں ’ید‘ ہاتھ کی سب سے لمبی انگلی کی نوک سے لے کر کندھے تک کے حصہ کو کہتے ہیں۔ اس حصہ میں سے کوئی سا حصہ بھی کندھے کے برابر آجائے تو وہ ’حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ ، حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ‘ کندھوں کے برابر ہی کہلائے گا۔ اب اگر ہاتھ اس طرح سے اٹھائے جائیں کہ ’حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ ‘ یہاں تک کہ وہ کانوں کے برابر ’حَتَّى تَكَادَ إِبْهَامَاهُ تُحَاذِي شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ‘ یہاں تک کہ انگوٹھے کان کی لو کے برابر ہو جائیں تو ہاتھ کندھے کے برابر ہی رہتے ہیں۔
    لہٰذا اگر ہاتھ کے انگوٹھے کان کی لو کے برابر کر لئے جائیں تو تمام احادیث پر عمل ہو جاتا ہے کسی حدیث کی مخالفت لازم نہیں آتی بصورتِ دیگر کسی نہ کسی حدیث کی مخالفت لازم آئے گی۔
    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں