1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز کا طریقہ ۔۔۔۔۔۔۔ کیا اہل تشیع کی نماز ھی درست یے؟

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از muslimengineer123, ‏جنوری 11، 2019۔

  1. ‏جنوری 11، 2019 #1
    muslimengineer123

    muslimengineer123 رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2015
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

  2. ‏جنوری 12، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اسلام میں اولین اہمیت عقیدہ و ایمان کی ہے ،
    عملی عبادات اور ان کے تفصیلی طریقے عقیدہ و ایمان کے بعد کا درجہ رکھتے ہیں ؛
    جب تک ایمان و عقیدہ درست نہ ہو اس وقت تک عبادات اور اعمال صالحہ کا کوئی اجر وثواب نہیں ،
    صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کو عادل و متقی مان کر ان کی تعظیم و اکرام اور ان سے محبت عقیدہ و ایمان کے واجبات میں سے ہے ،لہذا جو صحابہ کرام کی گستاخی و توہین کرے وہ پکا بے ایمان ہے اس کی نماز و روزہ کا کوئی اعتبار نہیں ، خواہ وہ کتنی ہی سنت و حدیث کے مطابق نمازیں پڑھتا رہے ،اس کی نمازیں بے کار ہیں ۔
    اس ویڈیو (7:35) میں بنوامیہ کے حکمرانوں کو "بدمعاش " کہا گیا ہے اور یہ سب ہی جانتے ہیں کہ بنوامیہ کی حکومت سب پہلے سیدنا یزید بن ابی سفیان اور ان کے بھائی سیدنا الامام معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے شروع ہوئی ،
    یعنی بنوامیہ کے پہلے حکمران صحابی تھے ،ان کو بدمعاش کہنے والا خود بہت بڑا بدمعاش اور لعنتی ہے ،وہ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھے یا ہاتھ لٹکا کر پڑھے اس کی نماز عنداللہ مقبول نہیں ،
    حالاں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی اور تعلیم ہے کہ :
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ " (رواہ الإمام أحمد (3589) بسند جيد )
    سیدناعبد اللہ بن مسعود سے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ: "اللہ تعالی نے لوگوں کے دلوں کی جانب دیکھا تو ان میں سب سے بہترین دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پایا چنانچہ اللہ تعالی نے انہیں اپنےلئے خاص کرلیا اور اپنا پیغمبر بنایا، پھر آپکے بعد تمام لوگوں کے دلوں کو ایک بار پھر پرکھا تو اصحابِ محمد کا دل سب سے اچھا پایا اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وزراء بنایا، جو دینِ محمد کی خاطر قتال کرتے ہیں"
    (اس حدیث کو امام احمد رحمہ اللہ نے (3589) پر جید سند سے روایت کیا ہے )

    اسی لئے اہل سنت والجماعت کا بنیادی عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام سے محبت کی جائے ، انکے ایمان و سچائی کی گواہی دی جائے، انہیں با عفت، امانتدار، اور ہمہ قسم کےشر سے محفوظ جانا جائے، اسی طرح فردِ واحد یا تمام صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنا تباہی و بربادی اور صراطِ مستقیم سے دور ہونے کا باعث ہے

    وقال الميموني : " قال لي أحمد بن حنبل: يا أبا الحسن إذا رأيت رجلا يذكر أحدا من الصحابة بسوء فاتهمه على الإسلام " انتهى من "البداية والنهاية" (8 /148)
    امام اہل سنت امام احمدؒ بن حنبل فرماتے ہیں کہ: جب تم کسی شخص کو صحابہ کرام کا تذکرہ برے انداز میں کرتے دیکھو تو اسکے مسلمان ہونے پر شک کرو" انتہی "البدایہ والنھایہ" (8/148)
    وقال أبو زرعة الرازي : " إذا رأيت الرجل ينتقص أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعلم أنه زنديق ؛ وذلك أن الرسول صلى الله عليه وسلم عندنا حق والقرآن حق ، وإنما أدى إلينا هذا القرآنَ والسننَ أصحابُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وإنما يريدون أن يجرحوا شهودنا ليبطلوا الكتاب والسنة ، والجرح بهم أولى وهم زنادقة " .
    انتهى من "الكفاية في علم الرواية" للخطيب البغدادي (ص 49)

    محدثین کے استاذ
    امام ابو زرعہ رازی کہتے ہیں کہ: "جب تم کسی کو اصحاب رسول کی شان میں گستاخی کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ شخص زندیق ہے ؛ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن دونوں ہمارےہاں حق ہیں، اور ہمارے پاس قرآن اور سنت نبوی کو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے پہنچایا ہے، اصل میں انکا ہدف صحابہ کرام پر جرح کرنے کے بعد کتاب وسنت کو معطل کرناہے، حالانکہ وہ خود جرح کے لائق ہیں، اور یہی لوگ زندیق ہیں" انتہی "
    (الکفایہ فی علم الروایہ" از خطیب بغدادی صفحہ (49)
    وقال أبو نعيم الحافظ رحمه الله :
    " أَلَا تَرَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يَعْفُوَ عَنْ أَصْحَابِهِ وَيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ وَيَخْفِضَ لَهُمُ الْجَنَاحَ ، فَمَنْ سَبَّهُمْ وَأَبْغَضَهُمْ وَحَمَلَ مَا كَانَ مِنْ تَأْوِيلِهِمْ وَحُرُوبِهِمْ عَلَى غَيْرِ الْجَمِيلِ الْحَسَنِ ، فَهُوَ الْعَادِلُ عَنْ أَمْرِ اللَّهِ تَعَالَى وَتَأْدِيبِهِ وَوَصِيَّتِهِ فِيهِمْ ، وَلَا يَبْسُطُ لِسَانَهُ فِيهِمْ إِلَّا مِنْ سُوءِ طَوِيَّتِهِ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَحَابَتِهِ وَالْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ " انتهى من "تثبيت الإمامة" (ص: 375)

    امام ابو نعیم الحافظ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "تم یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالی نےاپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام سے درگزر اور انکے لئے مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا، اور کہا کہ ان کے ساتھ نرمی سے برتاؤ کریں، چنانچہ جس نے انہیں گالی گلوچ کا نشانہ بنایا یا انکے داخلی معاملات کی اچھی توجیہ بیان نہیں کی تو وہ سمجھ لے کہ وہ صحابہ کے بارے میں اللہ کے کئے ہوئے حکم ، نصیحت اور آداب سے دور ہو رہا ہے، وہ اپنی زبان کا بے لگام استعمال نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام، اسلام اور مسلمانوں کے بارے بد نیتی کی وجہ سے کر رہا ہے" انتہی "تثبیت الامامۃ" صفحہ (375)

    اور امام ابن قیم رحمه الله فرماتے ہیں:
    " فالله عز وجل أعلم حيث يجعل رسالاته أصلاً وميراثاً ، فهو أعلم بمن يصلح لتحمل رسالته فيؤديها إلى عباده بالأمانة والنصيحة وتعظيم المرسل والقيام بحقه والصبر على أوامره والشكر لنعمه والتقرب إليه، ومن لا يصلح لذلك . وكذلك هو سبحانه أعلم بمن يصلح من الأُمم لوراثة رسله والقيام بخلافتهم وحمل ما بلغوه عن ربهم " انتهى من "طريق الهجرتين" (ص: 97).
    ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ اپنا پیغام بنیادی طور پر کسے دینا ہے اور اسکا بعد میں وارث کسے بناناہے، اسے معلوم ہے کہ اس پیغام کو اٹھانے کیلئے کون مناسب ہے؟ جو اسے لوگوں تک مکمل امانتداری ، خیر خواہی کیساتھ پہنچائے، اسے پیغام کی عظمت کا بھی احساس ہو، اسکے حقوق بھی ادا کرسکے، اور اسکے احکامات پر ڈٹ کر عمل بھی کرے اور پھر باری تعالی کی نعمتوں پر شکر کرتے ہوئے اسکا قرب بھی حاصل کرے،اور اللہ ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو اس کام کے لائق نہیں ہیں، بالکل ایسے ہی اللہ تعالی کو یہ بھی علم ہے کہ اپنے رسولوں کی وراثت کیلئے کون لوگ مناسب ہیں؟ اور کون انکے بعد اس پیغام کو آگے پہنچانے کیلئے خلیفہ بن سکتے ہیں" انتہی "طریق الھجرتین" صفحہ (97)
    وقال الله تعالى : ( مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ) الفتح/ 29 .
    انہی صحابہ کرام کے بارےمیں سورہ الفتح میں فرمانِ باری تعالی ہے: ( مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ )
    ترجمہ: محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر تو سخت -مگر- آپس میں رحم دل ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود کرتے ہوئے اور اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی تلاش کرتے ہوئے دیکھو گے -کثرت- سجدہ کی وجہ سے ان کی پیشانیوں پر امتیازی نشان موجود ہیں۔ ان کی یہی صفت تورات میں بیان ہوئی ہے اور یہی انجیل میں ہے جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی اور اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی -اس وقت وہ- کسانوں کو خوش کرتی ہے۔ تاکہ کافروں کو ان کی وجہ سے غصہ دلائے۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ سورۃ الفتح/ 29
    قال ابن كثير رحمه الله :
    " وَمِنْ هَذِهِ الْآيَةِ انْتَزَعَ الْإِمَامُ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي رِوَايَةٍ عَنْهُ بِتَكْفِيرِ الرَّوَافِضِ الَّذِينَ يُبْغِضُونَ الصَّحَابَةَ ، قَالَ : لِأَنَّهُمْ يَغِيظُونَهُمْ ، وَمَنْ غَاظَ الصَّحَابَةُ فَهُوَ كَافِرٌ لِهَذِهِ الْآيَةِ ، وَوَافَقَهُ طَائِفَةٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى ذَلِكَ ، وَالْأَحَادِيثُ فِي فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ التَّعَرُّضِ لَهُمْ بِمَسَاءَةٍ كَثِيرَةٌ ، ويكفيهم ثناء الله عليهم ، ورضاه عنهم " انتهى من "تفسير ابن كثير" (7/ 362) .
    امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے رافضہ کے کفر پر استدلال کیا ہے، کہ جنہیں صحابہ کرام کی وجہ سے غیض و غضب کا سامنا ہے، کہا: "اس لئے کہ صحابہ کرام انہیں غصہ دلاتے ہیں، اور جسے صحابہ کرام غصہ دلائیں وہ اس آیت کی بنا پر کافر ہے" انکے اس استدلال پر کچھ علمائے کرام نے موافقت بھی کی ہے، جبکہ صحابہ کرام کے فضائل میں احادیث بہت زیادہ ہیں، اسی طرح ایسی احادیث بھی موجود ہیں کہ جن میں صحابہ کرام کا برے الفاظ سے تذکرہ کرنا منع کیا گیا ہے، اگرچہ ان کیلئے اللہ کی تعریف ہی کافی ہیں، اور اللہ تعالی ان پر راضی بھی ہے "انتہی "تفسیر ابن کثیر" (7/362)

    وقال القرطبي رحمه الله : " مَنْ نَقَّصَ وَاحِدًا مِنْهُمْ أَوْ طَعَنَ عَلَيْهِ فِي رِوَايَتِهِ فَقَدْ رَدَّ عَلَى اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَأَبْطَلَ شَرَائِعَ الْمُسْلِمِينَ " انتهى من "تفسير القرطبي" (16/ 297)
    قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جس شخص نے کسی ایک صحابی کی تنقیص کی یا انکی روایات کو طعن کا نشانہ بنایا اس نے اللہ رب العالمین کی تردید کی اور مسلمانوں کی شریعت کو معطل کردیا" انتہی "تفسیر قرطبی" (16/297)

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    " وَذَلِكَ أَنَّ أَوَّلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ هُمُ الَّذِينَ قَامُوا بِالدِّينِ، تَصْدِيقًا وَعِلْمًا وَعَمَلًا، وَتَبْلِيغًا، فَالطَّعْنُ فِيهِمْ طَعْنٌ فِي الدِّينِ، مُوجِبٌ لِلْإِعْرَاضِ عَمَّا بَعَثَ اللَّهُ بِهِ النَّبِيِّينَ.
    وَهَذَا كَانَ مَقْصُودَ أَوَّلِ مَنْ أَظْهَرَ بِدْعَةَ التَّشَيُّعِ ، فَإِنَّمَا كَانَ قَصْدُهُ الصَّدَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِبْطَالَ مَا جاءت به الرسل عن الله تعالى ، وَلِهَذَا كَانُوا يُظْهِرُونَ ذَلِكَ بِحَسَبِ ضَعْفِ الْمِلَّةِ ، فظهر في الملاحدة حقيقة هذه البدع الْمُضِلَّةِ " انتهى من "منهاج السنة" (1/18) .


    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس امت کے ابتدائی لوگوں نے ہی اقامتِ دین کا کام کیا، اس دین کی تصدیق کی، سیکھا، اور اس پر عمل کیا، پھر اسکی تبلیغ بھی کی ، اسکے بعد انکی شان میں طعن زنی کرنا دین میں طعن زنی ہے، یہی دین ِانبیاء سے اعراض کا موجب ہے، اصل میں تشیع کی ابتدا کا مقصد یہی تھا کہ اللہ کے راستے سے روک دیا جائے، اور رسول اللہ نے اللہ کی جانب سے جو پیغام پہنچایا ہے اسے معطل کردیا جائے، یہی وجہ تھی کہ جسقدر امت میں کمزوری آتی اسی قدر تشیع کا ظہور ہوتا، چنانچہ مُلحِد لوگوں میں اس قسم کے گمراہ کن نظریات حقیقی شکل میں ظہورپذیر ہوئے "انتہی "منہاج السنۃ" (1/18)

    والذي نريد أن نؤكد عليه أن تطرق الشك في عدالة الصحابة وصدقهم طعن في الدين جملة وتفصيلا ، وهذا هو الكفر – عياذا بالله -
    جس نقطہ کی طرف ہم توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کے عادل اور صادق ہونے میں جزوی یا کلی شکوک و شبہات پیدا ہونا دین کے متعلق طعن زنی ہے، اور -نعوذباللہ -یہ ہی حقیقتِ کفر ہے۔
     
    Last edited: ‏جنوری 12، 2019
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں