1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز کی ابتدا کی نیت

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏فروری 19، 2016۔

  1. ‏فروری 19، 2016 #1
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    بسم الله الرحمن الرحيم
    سنت طریقہ نماز

    آئیے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے مطابق نماز سیکھ کر پڑھیں۔
    نیت
    نیت ارادہ کو کہتے ہیں۔ کسی کام میں نیک ارادہ بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی۔ رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؛
    اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔الحدیث (بخاری)
    ایک ہی کام میں اچھا برا ارادہ دونوں ممکن ہیں
    مثلاً کوئی مسجد کے دروازہ کے آگے کھونٹا گاڑے۔ یہ کام نیک ارادے سے بھی ہو سکتا ہے اور برے سے بھی۔ نیک سے ایسے کہ اس کی نیت یہ ہو کہ کوئی مسافر نماز کے لئے آئے اور اس کے پاس کوئی جانور ہو تو وہ اس کو اس سے باندھ سکے۔ بد اس طرح سے کہ کوئی کھونٹا اس ارادہ سے گاڑے کہ اندھیرے میں مسجد آنے جانے والے اس سے ٹھوکریں کھائیں۔
    متضاد کام اور اچھا ارادہ ممکن ہے
    مثلاً کوئی مسجد کے دروازہ کے آگے کھونٹا گاڑے اس ارادہ سےکہ کوئی مسافر نماز کے لئے آئے اور اس کے پاس کوئی جانور ہو تو وہ اس کو اس سے باندھ سکے۔
    کوئی کھونٹا اس ارادہ سے اکھاڑ دے کہ اندھیرے میں مسجد آنے جانے والے کہیں اس سے ٹھوکریں نہ کھائیں۔

    نماز میں نیت
    نماز اس نیت سے پڑھنی چاہیئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے نہ کہ ورزش کی نیت سے۔
    نماز کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی نیت سے پڑھنا چاہیئے نہ کہ عادت سے۔
    نماز کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پڑھنا چاہیئے نہ کہ لوگوں کو دکھلاوے کے لئے۔

    دل کی حضوری
    نماز کی ابتدا حضوریٗ قلب کے ساتھ کرنی چاہیئے بے دھیانی سے نیت نہ باندھیں۔ صف میں کھڑے ہو کر سوچیں کہ میں کیا کرنے جارہا ہوں۔؟ صفیں اس رخ کیوں بچھائی گئی ہیں؟ کونسی نماز پڑھنے لگا ہوں؟
    بعض اوقات یہ حضوری حاصل کرنے کے لئے زبان سے الفاظ کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے خصوصاً آجکل کے حالات میں۔ دنیا کے مشاغل سے تھوڑا سا وقت نکال کر جب انسان مسجد آتا ہے تو بعض اوقات پتہ ہی نہیں چلتا کہ میں اس رخ کیوں کھڑا ہوں۔ کونسی نماز پڑھنے لگا ہوں۔ لہٰذا حضوریٗ دل کے لئے زبان سے بھی اپنے ارادہ کا اظہار کرلے تاکہ قلب کی مکمل حضوری ہو جائے۔
     
    Last edited: ‏فروری 19، 2016
  2. ‏فروری 19، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,318
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ایک بہت مشہور بزرگ کا کہنا ہے کہ : ( النیۃ امر قلبی ) نیت تو دل ہی کا کام ہے ، لا مَنَاص عنها في الأفعال الاختيارية
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 19، 2016 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,341
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    بیشک دل کا ارادہ ہی نیت ہے ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 19، 2016 #4
    جلال الزامان

    جلال الزامان رکن
    جگہ:
    korangi 51/C
    شمولیت:
    ‏فروری 19، 2016
    پیغامات:
    51
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    ہم کو حمیدی نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم کو سفیان نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ مجھے یہ حدیث محمد بن ابراہیم تیمی سے حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس حدیث کو علقمہ بن وقاص لیثی سے سنا، ان کا بیان ہے کہ میں نے مسجد نبوی میں منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زبان سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت (ترک وطن) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔
    (صحیح بخاری)
    (کتاب وحی کے بیان میں)
    (حدیث نمبر: 1)
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 19، 2016 #5
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    میں نے جو کچھ لکھا ہے اس میں کوئی بات ایسی نہیں جو اس کے خلاف ہو!
    آپ لوگوں کی ان پوسٹوں کا مقصد سمجھنے سے قاصر ہوں۔
     
  6. ‏فروری 19، 2016 #6
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,341
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ( ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﯾﮧ ﺣﻀﻮﺭﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﺁﺟﮑﻞ ﮐﮯ ﺣﺎﻻ‌ﺕ ﻣﯿﮟ- ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﻏﻞ ﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﻭﻗﺖ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﺴﺠﺪ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﭘﺘﮧ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺭﺥ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮞ- ﮐﻮﻧﺴﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﮞ- ﻟﮩٰﺬﺍ ﺣﻀﻮﺭﯼٗ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﻟﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻗﻠﺐ ﮐﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺣﻀﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ- )
    صرف اس قول پر جواب دیا کہ "بیشک دل کا ارادہ ہی نیت ہے"
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  7. ‏فروری 19، 2016 #7
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! بجا کہ دل کا ارادہ ہی نیت ہے مگر دل اگر متوجہ نہ ہو تو اس کو متوجہ کرنا ضروری ہے اس کے لئے خواہ جو بھی ذریعہ اختیار کیا جائے اور زبان سے ادائیگی ایک مضبوط ذریعہ ہے۔
    بے خیالی اور بے توجہی سے تکبیر تحریمہ کہنا ٹھیک نہیں۔
     
  8. ‏فروری 19، 2016 #8
    جلال الزامان

    جلال الزامان رکن
    جگہ:
    korangi 51/C
    شمولیت:
    ‏فروری 19، 2016
    پیغامات:
    51
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    دین اسلام ہر مرحلے میں ہماری رھنمائی کرتا ہے۔آپ نے جو مسلہ اوپر زکر کیا اس کا حل بھی ہمیں احادیث میں ملتا ہے۔
    لیجئے حدیث پیش خدمت ہے۔
    عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا، جس کے کپڑے انتہائی سفید اور سر کے بال نہایت کالے تھے، اس پہ سفر کے آثار ظاہر نہیں تھے، اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا، اور اپنا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے ملا لیا، اور اپنے دونوں ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ران پر رکھا، پھر بولا: اے محمد! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور خانہ کعبہ کا حج کرنا“، اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، تو ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کر رہا ہے، اور خود ہی جواب کی تصدیق بھی۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، یوم آخرت، اور بھلی بری تقدیر پر ایمان رکھو“، اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، تو ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کر رہا ہے، اور خود ہی جواب کی تصدیق بھی۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو یقین رکھو کہ وہ تم کو ضرور دیکھ رہا ہے“۔ پھر اس نے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھ رہے ہو، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا“ ۱؎۔ پھر اس نے پوچھا: اس کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لونڈی اپنے مالکن کو جنے گی (وکیع راوی حدیث نے کہا: یعنی عجمی عورتیں عرب کو جنیں گی) ۲؎اور تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، فقیر و محتاج بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ بڑی بڑی کوٹھیوں اور محلات کے بنانے میں فخر و مسابقت سے کام لیں گے“۔ راوی کہتے ہیں: پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے تین دن کے بعد ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا؟“، میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارے دین کی اہم اور بنیادی باتیں سکھانے آئے تھے“ ۳؎۔
    تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان ۱ ( ۸ ) ، سنن ابی داود/السنة ۱۷ ( ۴۶۹۵ ، ۴۶۹۶ ، ۴۶۹۷ ) ، سنن الترمذی/الإیمان ۴ ( ۲۶۱۰ ) ، سنن النسائی/الإیمان ۵ ( ۴۹۹۳ ) ، ( تحفة الأشراف : ۱۰۵۷۲ ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الإیمان ۳۷ ( ۵۰ ) ، تفسیر سورة لقمان ۲ ( ۴۷۷۷ ) ، مسند احمد ( ۱ / ۲۷ ، ۲۸ ، ۵۱ ، ۵۲ ) ( صحیح )
    (سنن ابن ماجه )قال الشيخ الألباني: صحيحلیجئے جب ہم نماز میں اپنا دیہان اللہ کی طرف کریں گے تو اللہ ہمارا دیہان کہیں اور نہیں کرے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 19، 2016 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,318
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    میری پوسٹ کو مکرر دیکھیں ۔۔۔۔
    ان شاء اللہ فائدہ ہوگا ۔۔۔۔
     
    • متفق متفق x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 20، 2016 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    محترم بھٹی اوپر جوبات آپ نے کہی ، اس فکر کے غلط ہونے کے لیے آپ کا بعد والا مراسلہ کافی ہے ، ذرا ملاحظہ فرمائیں :
    آب کے اصول کے مطابق اگر کسی کو زبان کی ادائیگی سے بھی دل حضوری نہیں ہوتی تو وہ ریکارڈنگ لگا کر کانوں میں ٹھونس لے گا ، تاکہ اس کا دل حاضر ہو جائے؟
    دل حضوری لیے زبان کی نیت والا جو دروازہ آپ کھول رہے ہیں ، وہ عبادات میں اپنی طرف سے اضافہ ہے جس کو بلا دلیل کھول دیا جائے تو پھر بند کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا ۔
    نیت کریں ، دل حاضر نہیں ہورہا ، تو دل کی اصلاح کریں ناکہ ایک اور غلط کام کا اضافہ کر لیں ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں