1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز کی ابتدا کی نیت

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏فروری 19، 2016۔

  1. ‏فروری 20، 2016 #11
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    720
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    میں تیرے قربان۔۔۔۔۔۔

    ہائلائٹ کردہ الفاظ سے لگتا ہے ہر کام کیلیے "نیت" درکار ہوتی ہے، آج جب آپ کمپیوٹر پر یہ" نیک کام" انجام دینے کیلیے بیٹھے تھے تو کیسے "نیت" فرمائی تھی؟
    لیکن نماز سے پہلے تو وضو بھی ہوتا ہے، اسکی نیت؟ کیونکہ دل کی حضوری تو وہاں بھی چاہیے ورنہ ایسے ہی بندہ مونہہ ہاتھ دھو کر نا کھڑا ہوجائے کہیں؟
    لیکن اس سے پہلے گھر سے بھی تو نکلتے ہیں نماز کیلیے، وہاں کی نیت سے شروع کرتے نا تھریڈ، کیونکہ دل کی حضوری تو وہاں بھی چاہیے یہ بھی ہوسکتا ہے نکلا کسی اور کام کے ارادے سے ہو اور "وڑ" جائے مسجد میں نماز پڑھنے وہ بھی بنا "نیت" کیے۔۔۔۔۔
    کھانا کھاتے ہوئے کیسے نیت کرتے ہیں؟ اور اور اور اور۔۔۔۔

    کوئی بھائی یہاں مجھے "درفنطنی" کا مطلب سمجھائے گا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن "نیکی کی نیت" ضرور کرلینا بھائی، اور زبان سے بھی اپنے ارادے کا اظہار کرلینا تاکہ قلب کی مکمل حضوری ہوجائے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  2. ‏فروری 20، 2016 #12
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرنایا کہ اگر کوئی مسلم اس طریقہ سے نماز کی ادائیگی کرے گا تو اس کی چوبیس گھنٹے کی زندگی دین کے تابع ہو جائے گی۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس میں یہ چیز راسخ ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ مجھے صرف نماز میں ہی نہیں بلکہ ہر وقت دیکھتا ہے تو وہ کوئی غلط کام نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کی سوچ بھی صحیح رخ اختیار کر لے گی اور وہ غلط سوچے گا بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات علیم بذات الصدور ہے۔
    محترم! آج کل حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ نماز کی طرف آتے ہیں تو دھیان کہیں اور لگا ہوتا ہے۔ بعض اوقات نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہاس کو دھیان ہی نہیں رہتا کہ وہ عصر کی نماز پڑھ رہا ہے یا مغرب کی علیٰ ہذا القیاس۔
    جب زبان سے ادائیگی کرتا ہے تو اس کا ذہن اس کی تصحیح کر دیتا ہے اور دل کی حضوری ہو جاتی ہے۔
     
  3. ‏فروری 20، 2016 #13
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! بزرگ نے بجا ارشاد فرمایا مگر اس کو سمجھنے میں میرا خیال ہے آپ کو غلطی لگ رہی ہے۔ بزرگ کا فرمان ہے کہ نیت دلی ارادہ کا نام ہے اور کوئی بھی کام ارادہ کے بغیر نہیں کیا جاتا۔
    محترم! انسان جب مسجد کی طرف جا رہا ہے اور صف میں کھڑا ہو رہا ہے اس کی نیت تو ظاہر ہے نماز ہی کی ہے مگر کس نماز کی؟ اس کی حضوری دل سے اکثر اوقات نہیں ہوتی اس کے لئے زبان سے ادائیگی کر لی جائے۔ اسی طرح قبلہ رخ تو ہوگیا کیونکہ مساجد میں صفیں بچھی ہی اس طرح ہوتی ہیں۔ مگر اس کو ذہن نشیں کرنے کے لئے کہ نماز قبلہ رخ ہو کر پڑھنی ہےزبان سے ادائیگی کر لے۔
    محترم! ایک بات ذہن نشیں رہے کہ یہ سب معاملات تکبیر تحریمہ سے پہلے کے ہیں اور مباح ہیں جیسا کہ تکبیر ٹھریمہ سے پہلے بات چیت کرنا چلنا پھرنا کھنا پینا سب جائز ہے۔
     
  4. ‏فروری 20، 2016 #14
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! ریکارڈنگ لگا کر کان میں ٹھونسے تو بھی دل کی حضوری کا ذریعہ کان ہیں اور اگر زبان سے ادا کرے تو بھی دل کی حضوری کا ذریعہ کان ہی ہیں۔

    محترم! عبادت تکبیر تحریمہ کہنے سے شروع ہونی ہے نیت خارج از نماز عمل ہے جو کہ مباح ہے اس سے کوئی غلط در نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف دھیان کا کے ذریعہ کا ہی در کھلے گا جو کہ محمود ہے مذموم نہیں۔

    محترم! دل کی حضوری کا ذریعہ غلط کام کیونکر ہے؟
     
  5. ‏فروری 20، 2016 #15
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم @ابوعبدالله صاحب میں آپ کے مراسلہ کا مقصد نہیں سمجھ پا رہا!
     
  6. ‏فروری 20، 2016 #16
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اللہ عزوجل کے ایک ولی اور علم و عمل میں اہل اسلام کے ایک جید امام صاحب لکھتے ہیں :

    ’’ محل النية القلب دون اللسان، باتفاق أئمة المسلمين في جميع العبادات‏:‏ الصلاة والطهارة والزكاة والحج والصيام والعتق والجهاد، وغير ذلك‏.‏ ولو تكلم بلسانه بخلاف ما نوى في قلبه كان الاعتبار بما نوى بقلبه، لا باللفظ، ‘‘
    یعنی : ائمہ مسلمین رحمہم اللہ اجمعین کا اتفاق ہے کہ :
    تمام عبادات میں نیت کا مقام دل ہے ،زبان نہیں ،
    نماز ، زکاۃ ، حج ،روزہ،غلام کی آزادی اور جہاد وغیرہ سب میں نیت دل ہی سے ہوگی ،
    اور اگر زبان سے دل کے خلاف اظہار کرے تو اعتبار اسی کا ہوگا جو دل میں ہے ،الفاظ کا کوئی اعتبار نہ ہوگا ،
     
    Last edited: ‏فروری 20، 2016
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 20، 2016 #17
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,382
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاک اللہ خیرا
    واضح جدا
     
  8. ‏فروری 20، 2016 #18
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! اس سے اختلاف نہیں کہ نیت کا مقام دل ہے زبان تو دل کی کیفیت کی حضوری کا ذریعہ ہے۔

    آپ نے بالکل صحیح فرمایا کہ یہ جتنے اعمال ہیں ان پر اجر نیت پر ہے اور یہ چونکہ دل کا معاملہ ہے اسی لئے اس کی خبر سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں ہو پاتی۔

    آپ کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ اعمال میں اعتبار دل کا ہے زبان کا نہیں زبان صرف دل کی حضوری کا آلہ ہے محمود ہے مقصود نہیں۔ اگر دل کی حضوری ہے تو زبان سے ادائیگی لازم نہیں اور ممنوع بھی نہیں۔
     
  9. ‏فروری 20، 2016 #19
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    نماز کی نیت خروج از نماز عمل ہے اس پر اتنی لے دے دین کی کوئی خدمت نہیں۔
     
  10. ‏فروری 20، 2016 #20
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کانوں کا کام ’’ سننا ‘‘ہے ، جس طرح آنکھوں کا کام ’’ دیکھنا ‘‘ ہے ، زبان کا کام ’’ بولنا ‘‘ ہے اسی طرح ’’ نیت ‘‘ دل کا وظیفہ ہے ۔ شریعت نے جس چیز کا حکم دیا ہے ، وہ نیت ہے ، یعنی نیت کے شرعی حکم کا تعلق دل سے ہے ۔ جس طرح قیام ، رکوع ، سجود کی ادائیگی جوارح پر فرض ہے ، نیت کی ادائیگی کان ، آنکھ کے ذریعے کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی رکوع و سجود دل سے ادا کرنا شروع کردے ۔
    نیت نماز کا رکن ہے ۔ نماز سے الگ کوئی چیز نہیں ۔
    اگر ’’ نیت ‘‘ اور ’’ دل حضوری ‘‘ ایک ہی چیز ہے ، تو ویسے ہی کریں جیسے اللہ کے رسول اور صحابہ کرام نے کی تھی ، اور اگر یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں تو نماز کے لیے ’’ نیت ‘‘ کا حکم ہے ، ’’ دل حضوری ‘‘ کا حکم نہیں ہے ۔
    وضو ، طہارت وغیرہ بھی خارج از نماز اعمال ہیں ، جیسے مرضی کرتے رہیں ؟
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں