1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز کے بعد ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دعاء پڑھنے کی روایت کی تحقیق

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏فروری 27، 2017۔

  1. ‏فروری 27، 2017 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    محدث میگزین (مارچ 1996 شمارہ ۲۰۹ )
    تحقیقِ حدیث
    نماز کے بعد ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دعاء پڑھنے کی روایت کی تحقیق
    محترم علامہ غازی عزیر مبارک پوری

    حدیث كان رسول الله صلي الله عليه وسلم اذا قضي صلاته مسح جبهة... الخ کی تحقیق


    بعض روایات میں آیا ہے کہ :۔ جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ، اپنی کتاب الاذکار میں علامہ ابن السنی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اس طرح نقل فرماتے ہیں:
    "كان رسول الله صلي الله عليه وسلم اذا قضي صلاته مسح جبهة بيده اليمي ثم قال: اشهد ان لا اله الا الله الرحمن الرحيم اللهم اذهب عني الهم والحزن"(1)
    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور اس سے فارغ ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے سر پر مسح فرماتے،اور پڑھتے
    "أشهد أن لا إله إلا الله الرحمن الرّحيم، اللهمّ أذهب عنّي الهمّ والحزن".
    اور یہ دعا معمولی لفظی اختلاف کے ساتھ وارد ہوئی ہے

    اس حدیث کو ابن السنی رحمۃ اللہ علیہ نے عمل اليوم والليلة(2) میں اور ابونعیم اصبہانی رحمۃ اللہ علیہ نے "حلية الاولياء"(3) میں بطريق عن زيد العمي عن معاوة بن قرة عن انس روایت کیا ہے۔ اگر اس کی اسناد پر غور کیا جائے تو ہمیں اس میں دو مجروح راوی نظر آئیں گے:

    (1)سلام بن سلیمان الطویل المدائینی جس کے متعلق یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ نے ليس بشئي یعنی دھیلہ کے برابر بھی نہیں ہے" اور ایک مرتبہ "ضعیف ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی" فرمایا ہے۔
    علی بن مدینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ضعیف ہے اس کے پاس منکر احادیث ہیں"
    امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "تركوه"
    عبدالرحمٰن بن یوسف بن خراش رحمۃ اللہ علیہ نے سلام کو "کذاب" امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے "منکر الحدیث"،
    ابوزرعہ نے "ضعیف" اور نسائی، ابن جنید، ازدی، دارقطنی اور ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ نے "متروک الحدیث" قرار دیا ہے۔ عقیلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ثقات سے منسوب اس کی احادیث مین منکرات ہوتی ہیں" اور امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "ثقات سے موضوعات روایت کرتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ گویا متعمدا ایسا کرتا ہو" تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ(4) میں مذکور کتب کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔

    (2) اس طریق کا دوسرا مجروح راوی زید بن حواری العمی ہے جسے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے "صالح" مگر امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے "ضعیف" اور ابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ نے ضعیف واھی الحدیث" بتایا ہے۔ ابن مدینی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: "ہمارے نزدیک ضعیف تھا"، ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "لعل شعبة لم يرو عن اضعف منه" سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "متماسک" قرار دیا ہے، دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ اور یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "صالح" بتایا ہے مگر ابن معین رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اور قول ہے کہ "کچھ بھی نہیں ہے" آں رحمہ اللہ ہی سے ایک تیسرا قوم منقول ہے کہ "ضعیف ہے مگر اس کی حدیث لکھی جاتی ہے"۔ امام حاتم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ضعیف ہے، اس کی حدیث لکھی جاتی ہے مگر اس سے احتجاج نہیں کیا جاتا" ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "طبقہ خامسہ کا ضعیف راوی ہے" اور امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "حضرت انس رضی اللہ عنہ سے موضوع چیزیں جس کی کوئی اصل نہیں ہوتی، روایت کرتا ہے۔ میرے نزدیک اس کی خبر کے ساتھ احتجاج جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کی حدیث کا لکھنا الا یہ کہ عبرت کے لئے ہو "تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ(5) میں مذکور کتب کی طرف رجوع فرمائیں۔

    صرف سلام بن سلیمان الطویل المدائینی کی سند میں موجودگی ہی اس کو "موضوع" قرار دینے کے لئے کافی ہے چنانچہ علامہ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ " نے سلسلة الاحاديث الضعيفة والموضوعة (6)میں اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔

    اس سلسلہ کی ایک اور روایت جسے علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے "الجامع الصغیر" میں وارد کر کے گویا اس کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے، اس طرح ہے: كان اذا صلي مسح بيده اليمني علي راسه ويقول: بسم الله الذي لا اله غيره الرحمن الرحيم اللهم اذهب عني الهم الحزن۔۔۔ اس حدیث کو امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے المعجم الاوسط (7)میں اور خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے "تاریخ بغداد"(8) میں بطریق احمد بن يونس حدثني كثير بن سليم ابي سلمة سمعت انس به روایت کیا ہے۔ افسوس کے "الجامع الصغیر" کے شارح علامہ مناوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر کوئی تعقب نہیں کیا ہے، حالانکہ اس طریق کا راوی "کثیر بن سلیم" متروک ہے۔ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ اور ازدی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "متروک الحدیث" بتایا ہے، ابو زرعہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "واھی الحدیث تھا"، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور ابو حاتم الرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "منکر الحدیث ہے" ابن المدینی رحمۃ اللہ علیہ، یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ، دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اسے فقط "ضعیف" بتاتے ہیں مگر امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:

    "یہ ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی طرف ایسی حدیثیں روایت کرتے تھے جو ان کی نہ ہوتی تھیں، نہ اس نے ان کو دیکھا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر کے یہ شخص احادی گھڑا کرتا تھا پھر انہیں بیان کر دیتا تھا۔ اس کی حدیث کا لکھنا اور اس سے روایت کرنا ناجائز ہے الا یہ کہ علي سبيل الاختبار ہو"

    مزید تفصیلی حالات کے لئے حاشیہ(9) میں درج کتب کی طرف رجوع کریں۔

    کثیر بن سلیم کی موجودگی کے باعث یہ حدیث سندا "بے حد ضعیف" بلکہ موضوع کے قریب تر ہو جاتی ہے۔ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو "میزان الاعتدال" مین کثیر بن سلیم کے ترجمہ میں وارد کیا ہے اور شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے اس پر "ضعیف جدا"(10) کا حکم لگایا ہے۔

    حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک سے ہی مروی طبرانی رحمۃ اللہ علیہ و بزار رحمۃ اللہ علیہ کی بعض دوسری روایات میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے:

    "ان النبي صلي الله عليه وسلم كان اذا صلي وفرغ من صلاته مسح بيمينه علي راسه وقال بسم الله الذي لا اله الا هو الرحمن الرحيم اللهم اذهب عني الهم والحزن" اور "مسح جبهته بيده اليمني وقال اللهم اذهب عني الغم والحزن"

    ان روایات کی اسناد میں بھی "زیدبن الحواری العمی" راوی موجود ہے جس کا ترجمہ اوپر گذر چکا ہے۔ ان روایات کے متعلق علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

    "رواه الطبراني في الاوسط والبزار بنحوة باسانيد وفيه زيد العمي وقد و ثقه غير واحد و ضعفه الجمهور و بقية رجال احد اسنادي الطبراني ثقات و في بعضهم خلاف"(11)

    زید بن الحواری العمی کی موجودی کے باعث یہ روایات بھی "ضعیف" قرار پائیں لہذا ناقابل احتجاج ٹھہریں۔والله اعلم بالصواب
    حواشی

    1."الاذكار" للنووي رحمة الله عليه ص69

    2. "عمل اليوم والليلة" لابن السني رحمة الله عليه حديث نمبر 110

    3. "حلية الاولياء" لابي نعيم اصبهاني ج٢/ص301

    4. "الضعفاء والمتروكون"للدارقطني رحمة الله عليه ترجمه 265، تاریخ یحییٰ بن معین رحمة الله عليه ج4/ص376. "سوالات محمد بن عثمان رحمة الله عليه" ص167 "التاریخ الکبیر" للبخاری رحمة الله عليه ج2/ص133، "التاریخ الصغیر" للبخاری رحمة الله عليه ج3/ص215، "ضعفاء الصغیر" للبخاری رحمة الله عليه ترجمہ 55، "الجروح والتعدیل" لابن ابی حاتم رحمة الله عليه ج2/ص260، "کتاب الجروحین" لابن حبان رحمة الله عليه ج1/ص339،"الکامل فی الضعفاء" لابن عدی رحمة الله عليه ج3/ترجمہ 1146، "میزان الاعتدال" للذہبی رحمة الله عليه ج2/ص175، "تہذیب التہذیب" لابن حجر رحمة الله عليه ج1/ص342، "تقریب التہذیب" لابن حجر رحمة الله عليه ج1/ص342، "الضعفاء والمتروکین" لابن الجوزی رحمة الله عليه ج2/ص6، "نصب الرایۃ" للذیلعی رحمة الله عليه ج1/ص205،293، ج2/ص412،420، "سنن الدارقطنی رحمة الله عليه" ج1/ص220، ج2/ص15 "ضعفاء الکبیر" للعقیلی رحمة الله عليه ج2/ص161، "مجمع الزوائد" للھیثمی" ج9/ص135، "التحقیق" لابن الجوزی رحمة الله عليه ج1/ص205.

    5. "سوالات محمد بن عثمان رحمة الله عليه" ص54، "تاریخ یحییٰ بن معین رحمة الله عليه" ج4/ص107، 152،191،345، "التاریخ الکبیر" للبخاری رحمة الله عليه ج2/1ص392، "الجرح والتعدیل" لابن ابی حاتم رحمة الله عليه ج3/ص560-561، "ضعفاء الکبیر" للعقیلی رحمة الله عليه ج2/ص74، "الکامل فی الضعفاء" لابن عدی رحمة الله عليه 144، "کتاب الجروحین" لابن حبان رحمة الله عليه، ج1/ص309، "تہذیب التہذیب" لابن حجر رحمة الله عليه ج3/ص408، "تقریب التہذیب" لابن حجر رحمة الله عليه ج1/ص274۔ "کتاب الکنی" للمسلم رحمة الله عليه 56 "الکنی" للدولابی رحمة الله عليه ج1/ص160، "الکنی" للحاکم رحمة الله عليه ج1/ص120، "کشف الحثیث" للحلبی رحمة الله عليه ص187، "معرفۃ الثقات" للعجلی رحمة الله عليه ج1/ص378، "میزان الاعتدال" للذہبی رحمة الله عليه ج2/ص102، "الاکمال" ج3/ص216، "قانون الضعفاء" للغتنی رحمة الله عليه، ص257، "کتاب الضعفاء والمتروکین" لابن الجوزی رحمة الله عليه ج1/ص305، تہذیب تاریخ دمشق" لابن عساکر رحمة الله عليه ج6/ص5، من کلام ابن معین رحمة الله عليه فی الرجال ص40، "الباب فی معرفۃ الانشاب" لابن اثیر الجزیری رحمة الله عليه ج2/ص359-360 "الموضوعات" لابن الجوزی رحمة الله عليه ج3/ص215، "السنن الکبریٰ" للبیہقی رحمة الله عليه ج9/ص286، "تحفۃ الاحوذی" للمباکفوری رحمة الله عليه ج1/ص186، "تنزیۃ الشریعۃ" لابن عراق رحمة الله عليه ج1/ص62، "مجمع الزوائد" للہیثمی رحمة الله عليه ج5/ص126، "نصب الرایۃ" للذیلعی رحمة الله عليه ج1/29،28، ج3/ص289۔

    6. سلسلۃ "الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ" الالبانی ج2/ص114۔

    7. "المعجم الاوسط" للطبرانی، ص451۔

    8. "تاریخ بغداد" للخطیب رحمة الله عليه ج12/480۔

    9. "تاریخ یحییٰ بن معین رحمة الله عليه " ج4/ص123، "التاریخ الکبیر" للبخاری ج4/ص218، "ضعفاء الکبیر" للعقیلی رحمة الله عليه ج4/ص5، "کتاب الجرح والتعدیل" لابن ابی حاتم رحمة الله عليه ج3/ص152، "کتاب الجروحین" لابن حبان رحمة الله عليه ج2/ص223، "الکامل فی الضعفاء" لابن عدی رحمة الله عليه ج6/ترجمہ 2084، "کتاب الضعفاءوالمتروکین"للدارقطنی رحمة الله عليه ترجمہ 443، "الضعفاء والمتروکون" للنسائی رحمة الله عليه ترجمہ "کتاب الضعفاء و المتروکین" لابن الجوزی رحمة الله عليه ج3/ص23، "میزان الاعتدال" للذہبی رحمة الله عليه ج3/ص405، "تہذیب التہذیب" لابن حجر رحمة الله عليه ج8/ص417، "تقریب التہذیب" لابن حجر رحمة الله عليه ج2/ص132، "کشف الحثیث للحلبی رحمة الله عليه، ص340، "الموضوعات" لابن الجوزی رحمة الله عليه ج2ص263، "مجمع الزوائد" للہیثمی رحمة الله عليه ج7/ص175۔

    10. "سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ الموضوعۃ" الالبانی ج2/ص144۔

    11. "مجمع الزوائد للہیثمی ج10/ص110۔
     
    Last edited: ‏اپریل 03، 2019
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 28، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    نماز کے بعد ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دعاء پڑھنے کی روایت کی تحقیق


    قال الامام النووي في كتابه الاذكار :
    وروينا في كتاب ابن السني، عن أنس رضي الله عنه، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا
    قَضى صلاتَه مسحَ جبهتَه بيده اليمنى، ثم قال: " أشهدُ أنْ لا إِلهَ إِلاَّ اللَّهُ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ، اللَّهُمَّ أذْهِبْ عَنِّي الهَمَّ والحزنَ "

    قال الشيخ شعيب الارناؤط في تخريجه :وإسناده ضعيف
    (یعنی اس حدیث کی تخریج میں علامہ شعیب الارناؤط فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد ضعیف ہے
    )
    ترجمہ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور اس سے فارغ ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے سر پر مسح فرماتے، اور یہ دعاء پڑھتے :
    ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ بڑا مہربان ،نہایت رحم کرنے والا ہے ، اے اللہ مجھ سے فکر و غم اور پریشانی دور فرمادے ‘‘

    سند کے ساتھ یہ روایت مکمل ۔۔ عمل اليوم والليلة ۔۔ «ابن السُّنِّي» (المتوفى: 364هـ) سے درج ذیل ہے :
    أخبرنا سلم بن معاذ، حدثنا حماد بن الحسن بن عنبسة، حدثنا أبو عمر الحوضي، حدثنا سلام المدائني، عن زيد العمي، عن معاوية بن قرة، عن أنس بن مالك، رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قضى صلاته مسح جبهته بيده اليمنى، ثم قال: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ، اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّي الْهَمَّ وَالْحَزَنَ»
    نامور محقق عالم سليم بن عيد الهلالي جو علامہ الالبانی کے شاگرد ہیں کتاب : عمل اليوم والليلة ‘‘
    کی تخریج « عجالة الراغب المتمني » میں لکھتے ہیں
    إسناده موضوع، (وهو ضعيف)؛ أخرجه الطبراني في "المعجم الأوسط" (3/ 66/ 2499)، و "الدعاء" (2/ 1096/ 659) -ومن طريقه الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" (2/ 285) -، وابن سمعون الواعظ في "الأمالي" (ق 176/ 2)؛ كما في "الضعيفة" (3/ 171)، وأبو نعيم في "حلية الأولياء" (2/ 301 - 302) -ومن طريقه الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" (2/ 285) - عن أبي مسلم الكشي عن أبي عمر الحوضي به.
    قال الطبراني: "لم يرو هذا الحديث عن معاوية إلا زيد، تفرد به: سلاّم".
    وقال أبو نعيم: "هذا حديث غريب من حديث معاوية بن قرة، تفرد به عنه: زيد العمي؛ وهو زيد بن الحواري أبو الحواري، وفيه لين".
    قال الحافظ متعقبًا: "اتفقوا على ضعفه من قبل حفظه، وهو ممن وافقت كنيته اسم أبيه، وسكت أبو نعيم عن الراوي عنه، وهو أضعف منه بكثير، وهو بتشديد اللام ويقال له: المدائني؛ كما وقع في رواية ابن السني، والحديث ضعيف جدًا بسببه".

    ترجمہ : یعنی اس کی سند موضوع ہے ،اور یہ روایت ضعیف ہے،
    اسے امام طبرانی نے المعجم الاوسط اور دوسری کتاب ‘‘ الدعاء ’’ میں روایت کیا ہے ،اور انہی کے طریق سے حافظ ابن حجر ؒ نے نتائج الافکار میں نقل فرمائی ہے (جیسا کہ سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ میں ہے ) اور علامہ ابو نعیم ؒ نے حلیۃ الاولیاء میں بھی روایت کی ہے ان کی اسناد سے بھی حافظ ابن حجر ؒ نے نتائج الافکار میں نقل فرمائی ہے ،
    امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ حدیث معاویہ بن قرۃ سے صرف زید العمی نے روایت کی ہے ، سلام المدائنی اس میں متفرد ہے ’’
    اور حاٖفظ ابونعیم ؒ فرماتے ہیں :معاویہ بن قرہ کی اسناد سے منقول یہ حدیث غریب ہے ، اس میں زید العمی متفرد ہے ،اور زید کمزور راوی ہے ’’
    لیکن ابونعیم کے اس کلام پر تعاقب کرتے ہوئے حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں : زید العمی کے خراب حافظہ کے سبب اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ، اور زید العمی سے نقل کرنے والا راوی ۔۔ جس پر ابونعیم نے کوئی جرح نہیں ۔۔ وہ زید سے بھی کہیں بڑھ کر ضعیف ہے ، اور یہ حدیث اسی کے سبب نہایت ضعیف ہے ،


    شیخ سلیم الھلالی مزید لکھتے ہیں :

    وقال شيخنا العلامة الألباني - رحمه الله - في "الضعيفة" (3/ 171/ 1058): "وهذا إسناد موضوع؛ والمتهم به سلام المدائني وهو الطويل؛ وهو كذاب، وزيد العمي ضعيف".
    وقال في (2/ 114): "وهذا موضوع؛ سلام هو الطويل: كذاب" أ. هـ.


    وقال شيخنا العلامة الألباني - رحمه الله - في "الضعيفة" (2/ 114/ 660): "وهذا سند ضعيف جدًا من أجل كثير هذا، قال البخاري: "منكر الحديث"، وقال النسائي والأزدي: "متروك"، وضعفه غيرهم"
    وضعفه - أيضًا - في (3/ 171).
    قلت: وهو كما قالا - رحمهما الله -.

    وبالجملة؛ فالحديث ضعيف لا يصح بمجموع طرقه؛ نظرًا للضعف الشديد فيها، حاشا طريق البزار؛ فهو ضعيف فحسب، والله الموفق.

    یعنی ہمارے شیخ ناصر الدین الالبانی سلسلہ ضعیفہ میں اس حدیث کو موضوع کہتے ہیں ، اور فرماتے ہیں کہ :
    یہ اسناد موضوع ہے ،اور اس کے موضوع ہونے کی تہمت سلام المدائنی جس کا لقب طویل ہے اس پر ہے ، یہ کذاب راوی ہے ، اور اس میں دوسرا راوی زید العمی ضعیف ہے ، (سلسلة الأحاديث الضعيفة جلد سوم صفحہ ۱۷۱ )
    اور
    سلسلة الأحاديث الضعيفة کی دوسری جلد میں لکھتے ہیں : کہ طبرانی کی سند Eحدثنا بكر قال: نا عبد الله بن صالح قال: نا كثير بن سليم اليشكري، عن أنس بن مالك،
    اس میں کثیر بن سلیم واقع ہے ، جو بہت ضعیف راوی ہے ، امام بخاریؒ اسے منکر الحدیث بتاتے ہیں ، جبکہ امام نسائی ؒ اور ازدی اسے متروک کہتے ہیں ، اور دیگر محدثین بھی اسے ضعیف قرار دیتے ہیں ، اسلئے یہ اسناد بھی حد درجہ ضعیف ہے ،
    شیخ سلیم الھلالی فرماتے ہیں :خلاصہ یہ کہ یہ حدیث تمام طرق و اسانید سے ضعیف ہی مروی ہے اور ضعف بھی شدید ہے ’’
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏فروری 28، 2017
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 03، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    فرض نماز کے بعد ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دعا کرنا

    توحید ڈاٹ کام
    سوال : بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ فرض نماز سے سلام پھیرنے کے فوراً بعد اپنے ماتھے پر دایاں ہاتھ رکھ دیتے ہیں یا اسے پکڑ لیتے ہیں اور کوئی دعا پڑھتے رہتے ہیں۔ کیا اس عمل کی کوئی دلیل قرآن و سنت میں موجود ہے ؟ تحقیق کر کے جواب دیں، جزاکم اللہ خیراً
    الجواب :

    سلام الطّويل المدائني عن زيد العمي عن معاويه بن قرة عن انس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه سے روایت ہے کہ

    كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله تعالىٰ عليه وسلم إذا قضي صلاته مسح جبهته بيده اليمني ثم قال : أشهد أن لاإله إلا الله الرحمن الرحيم، اللهم اذهب عني الهم و الحزن
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز پوری کرتے (تو) اپنی پیشانی کو دائیں ہاتھ سے چھوتے پھر فرماتے : ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ رحمٰن و رحیم ہے۔ اے اللہ ! غم اور مصیبت مجھ سے دور کر دے۔ “
    [ عمل اليوم الليلة لابن السني : ح 112 واللفظ له، الطبراني فى الاوسط 243/3 ح 2520 دوسرا نسخه : 2499، كتاب الدعاء للطبراني 1096/2 ح 659، الأمالي لابن سمعون : ح 121، نتائج الافكار لابن حجر 301/2، حلية الاولياء لابي نعيم الاصبهاني 301، 302/2 ]

    ↰ اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے۔
    ➊ سلام الطّویل المدائنی : متروک ہے
    ◈ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا : تركوه [كتاب الضعفاء مع تحقيقي : تحفة الاقوياء ص 51 ت : 155 ]

    ◈ حاکم نیشاپوری نے کہا:
    ”اس نے حمید الطّویل، ابوعمرو بن العلاء اور ثور بن یزید سے موضوع احادیث بیان کی ہیں۔“ [المدخل الي الصحيح ص 144 ت : 73 ]

    ◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا:
    وقد أجمعوا على ضعفه ”اور اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔ “ [مجمع الزوائد ج 1 ص 212 ]

    ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رحمہ الله فرماتے ہیں :
    والحديث ضعيف جداً بسببه

    ”اور (یہ) حدیث سلام الطویل کے سبب کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔“ [نتائج الافكار 301/2 ]
    ➋ اس سند کا دوسرا راوی زید العمی : ضعیف ہے۔ [تقریب التہذیب : 2131]
    اسے جمہور (محدثین) نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزوائد 110/10، 260 ]
    ◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    وبقية رجال أحد إسنادي الطبراني ثقات وفي بعضهم خلاف

    اور طبرانی کی دو سندوں میں سے ایک سند کے بقیہ راوی ثقہ ہیں اور ان میں سے بعض میں اختلاف ہے۔ [مجمع الزوائد : 110/10 ]
    طبرانی والی دوسری سند تو کہیں نہیں ملی، غالباً حافظ ہیثمی رحمہ اللہ کا اشارہ البزار کی حدثنا الحارث بن الخضر العطار : ثنا عثمان ب ن فرقد عن زيد العمي عن معاوية بن قرة عن أنس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه… . . إلخ والی سند کی طرف ہے۔ [ديكهئے كشف الاستار 22/4 ح 3100 ]
    عرض ہے کہ الحارث بن الخضر العطار کے حالات کسی کتاب میں نہیں ملے اور یہ عین ممکن ہے کہ اس نے عثمان بن فرقد اور زید العمی کے درمیان سلام الطویل المدائنی کے واسطے کو گرا دیا ہو۔ اگر نہ بھی گرایا ہو تو یہ سند اس کے مجہول ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
    دوسری روایت :

    كثير بن سليم عن انس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه سے سند مروی ہے کہ :

    كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله تعالىٰ عليه وسلم إذا قضي صلاته مسح جبهته بيمينه ثم يقول : باسم الله الذى لا إله غيره، اللهم اذهب عني الهم و الحزن، ثلاثاً
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز پوری کرتے تو دائیں ہاتھ سے اپنی پیشانی کا مسح کر کے تین دفعہ فرماتے : ”اس اللہ کے نام کے ساتھ (شروع) جس کے علاوہ کوئی [برحق] الٰہ نہیں ہے، اے اللہ ! میرے غم اور مصیبت کو دور کر دے۔“ [الكامل لابن عدي 199/7 ترجمة كثير بن سليم، واللفظ له، الاوسط للطبراني 126/4 ح 3202 وكتاب الدعاء للطبراني 1095/2 ح 658، الأمالي للشجري 249/1 وتاريخ بغداد 480/12 و نتائج الافكار 302، 301/2 ]
    ↰ کثیر بن سلیم کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : منكر الحديث [كتاب الضعفاء بتحقيقي تحفة الاقوياء : 316]
    جسے امام بخاری رحمہ اللہ منکر الحدیث کہہ دیں، ان کے نزدیک اس راوی سے روایت حلال نہیں ہے۔ [ديكهئے لسان الميزان ج1 ص20]
    کثیر بن سلیم کے بارے میں امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : متروك الحديث [كتاب الضعفاء و المتروكين : 506 ]
    متروک راوی کی روایت شواہد و متابعات میں بھی معتبر نہیں ہے۔ دیکھئے اختصار علوم الحدیث للابن کثیر رحمہ اللہ [ص38، النوع الثاني، تعريفات اخري للحسن ]
    خلاصہ التحقیق :
    یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ سخت ضعیف ہے۔
    شیخ البانی رحمہ الله نے بھی اسے ضعيف جداً ”سخت ضعیف قرار دیا ہے۔“ [السلسة الضعيفة 114/2 ح 660 ]

    تنبیہ : سیوطی رحمہ الله نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [الجامع الصغير : 6741 ]
    محمد ارشاد قاسمی دیوبندی نے اسے بحوالہ الجامع الصغیر و مجمع الزوائد نقل کر کے ”بسند ضعیف“ لکھا ہے۔ (یعنی اس کی سند ضعیف ہے ) لیکن اس نے عربی عبارت (جس میں روایتِ مذکورہ پر جرح ہے ) کا ترجمہ نہیں لکھا، دیکھئے ”الدعاء المسنون“ [ص212 پسند كرده مفتي نظام الدين شامزئي ديوبندي ]
    دیوبندی و بریلوی حضرات سخت ضعیف و مردود روایات عوام کے سامنے پیش کر کے دھوکہ دے رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ اللہ کی پکڑ سے بےخوف ہیں ؟
    نماز کے بعد، ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دعا کرنے کا کوئی ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین و تابعین عظام رحمہم اللہ سے نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر عمل سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں